women_weir

کیا حجاب عورت کا محافظ ہے؟

EjazNews

’’حجاب‘‘ عورت کی چادر و محافظت کی علامت، تحفّظ و وقار کی نشانی ہے، تو اسلامی معاشرے میں اس کی عزّت وشناخت، عظمت و تکریم کا استعارہ بھی ۔حجاب، عورت کو حیا کا پیکر بناتا ہے اورحیا سے مُراد صرف شرم و حیا ہی نہیں ، بلکہ اس کے معنی عزّت و خود داری کے بھی ہیں۔ ’’حیا‘‘عربی زبان کا لفظ ہے، جو’’حیات‘‘سے نکلا ہے اور حیات کا مطلب زندگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس معاشرے کے افراد باحیا، باکردار اور بااخلاق ہوں گے، وہی معاشرہ زندگی کی علامت قرار پائے گا۔ آپ ﷺ نے فرما یاہے،’’ایمان کی ستّر سےزائد شاخیں ہیں، جن میں سے ایک حیا ہے۔‘‘دینِ اسلام نے جو معاشرتی نظام تشکیل دیا ہے ،اس میں شرم و حیا اورعفّت و پاکیزگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔حیا وہ باطنی صفت ہے، جس کا ظاہری پیراہن حجاب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ’’اے نبیﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادروں کے پلّو لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے، تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب آیت 59)۔ فرمانِ نبویﷺ ہے،’’عورت پوشیدہ چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے، تو شیطان اس کی تاک جھانک میں لگا رہتا ہے‘‘ (ترمذی)۔دینِ اسلام نے تو حیا اور حجاب کو عورت کا تحفّظ قرار دے کر اُسے معاشرے کے لیے قابلِ احترام ہستی بنایا ہے، مگر افسوس کہ دَورِ رواں میں مغرب کی اندھی تقلید نے عورت کو حجاب سے دُور کرکے نہ صرف مسلم خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا، بلکہ جس طرح آزادی ٔنسواں کی آڑ میں بے حجابی کو فروغ دیاجارہا ہے،اس نے معاشرے میں عورت کی عزّت و توقیر گھٹا دی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ حجاب اگر حکمِ خداوندی ہے، تو عورت کی عظمت و شرافت کا آئینہ دار بھی،کیوںکہ جو عورت حیا کی چادر یا حجاب اوڑھ لیتی ہے،وہ لوگوں کی بُری نظروں اور عزائم سے بھی محفوظ ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنی جلد کی حفاظت کیجئے سخت موسموں سے

دینِ اسلام کا بنیادی وصف’’حیا‘‘ ہے۔ ہمارے دین میں تصوّرِحیا کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے ایمان کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ حدیثِ مبارکہﷺ ہے’’جس میں حیا نہیں، اس میں ایمان نہیں۔‘‘ایک اور حدیثِ مبارکہﷺ میں ارشاد ہوا کہ ’’حیا جس چیز میں بھی شامل ہو، اُسے زینت دیتی ہے۔‘‘اس کے ساتھ ہی حیا کے وسیع تصوّر کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا، ’’حیا یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دماغ میں گزرے، اس کے بارے میں تُو اپنے ربّ سے حیا کر اور جو کچھ تیرے پیٹ میں جائے، اس کے بارے میں اپنے ربّ سے حیا کر۔‘‘یہ حدیث اس تصوّر کو واضح کرتی ہے کہ مومن حیا کا پیکر ہے اور اس کی حیا کا سب سے پہلا حق دار اس کا خالق ہے کہ وہ اپنی کُل زندگی میں اسے اپنا نگران سمجھے اور اس بات سے حیا کرے کہ اس کی زندگی کا کوئی دائرہ ایسے اعمال پر مشتمل نہ ہو، جو اس کے رب کے نزدیک نا پسندیدہ ہوں۔
حجاب، درحقیقت حیا کے بیج سے پُھوٹنے والے شجر کا ایک پھل ہے۔ ہر دین کی تعلیمات اپنے پیروکاروں کی سیرت و کردار کو ایک خاص سانچے میں ڈھالتی اور اپنے شعائر سے پہچانی جاتی ہیں۔ حجاب، دینِ اسلام کا شعار ہے اور اس کی بُنت اسلام سے محبّت کا ثبوت ہے۔ قرآنِ پاک میں تصوّرِ حیا کو اُجاگر کرتے ہوئے مَرد و عورت دونوں کو غَضِّ بصر(نگاہ نیچی رکھنا)کا حکم دیا گیا، لیکن خواتین کو ایک اضافی حکم’’حجاب‘‘کی صُورت بھی دیا گیا کہ وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ربّ کا پسندیدہ ڈریس کوڈ اختیار کریں، تاکہ ’’پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔‘‘گویا حجاب بھی نماز، روزے کی طرح ربِّ کریم کی مرضی کے آگے سَرِ اطاعت خم کرنے کی ایمانی علامت ہے، جو اپنے اندر یہ اعلان رکھتی ہے کہ ’’مَیں اللہ تعالیٰ کی بندی ہوں، میرا ہر قدم اس کی اطاعت میں اُٹھے گا، کوئی مجھ سے غلط توقعات وابستہ نہ کرے۔‘‘ دُنیا کے کسی اعلیٰ ادارے سے منسلک ہوجانے والے افراد بڑے فخر سے اپنایونی فارم زیبِ تن کرتے اور اس پر ناز بھی کرتے ہیں، تو ایک مسلمان خاتون کے لیے یہ بات کتنی مسّرت انگیز ہے کہ جمال رکھنے اور جمال کو پسند کرنے والے ربّ نے اس کے وجود کے ہر رنگ کو پُرکشش بنایا اورپھر اس کشش کو نظرِبد سے بچانے کے لیےحجاب جیسا یونی فارم عطا کیا۔ دُنیا کی ہر قیمتی شے کو ایک ڈھال، غلاف یا حفاظتی تہہ عطا کی جاتی ہے اور ’’مسلم عورت‘‘ اللہ ربّ العالمین کے نزدیک اتنی قیمتی ہے کہ وہ اسے ’’حجاب‘‘ کے تحفّظ ہی میں دیکھنا پسندکرتا ہے کہ بھلا تخلیق کرنے والا اپنی تخلیق کو کیسے آلودہ دیکھ سکتا ہے؟ بلاشبہ حیا وحجاب کو پورے شعور سے اپنا شعار بنانے والی مسلمان عورت اس امر کو پالیتی ہے کہ اُس کا ربّ، اُسے ظاہر کو آراستہ کرنے کی فکر سے بےنیاز کرکے باطن کو مصفّا کرنے کے مشن پر گام زن کر رہا ہے،لہٰذا وہ اپنے کردار، وقت، توجّہ اورمحنت کوصدق و امانت، خدمت و دیانت، شجاعت و استقامت اور بُلند عزائم سے جگمگانے میں مصروف ہو جاتی ہے اور آنے والی نسل بھی اس سے تعمیرِکردار کا یہی سبق سیکھتی ہے۔’’حجاب‘‘وہ علامت ہے، جسے زیبِ تن کرتے ہی بندگی ٔربّ، تحفّظ، وقار اور آسودگی کے احساسات پروان چڑھتے ہیں۔ یہ عورت کی فطری پیاس ہے، تب ہی تو غیر مسلم خواتین بھی اسلام قبول کرتے ہی سب سے پہلے حجاب کو اپنا شعار بناتی ہیں اور مزاحمتوں کے باوجود اس پر جمی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین پر تشدداورمعاشرتی رویہ

ازل سے آدم و ابلیس کی جنگ جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ اس جنگ میں ابلیس نے پہلا وار’’حیا کے لبادے‘‘ہی پر کیا تھا،لہٰذا یہ بات گِرہ سے باندھ لیں کہ حجاب محض گز، ڈیڑھ گز کپڑے کا ٹکڑا نہیں، ایک پورے ’’طریقۂ زندگی‘‘ کا نام ہے۔ آج جب کہ عورت کو Women Empowerment کے خوش نُما نعرے سے بہلا کر ایک ایسے سراب کے پیچھے لگا دیا گیا ہے، جس کے اختتام پر تنہائی، عدم تحفّظ اور نا قدری کے سوا کچھ نہیں، تو یہ حجاب جیسی روحانی قدر اسے نظروں کی حفاظت و پاکیزگی، محرم و نامحرم کی تمیز، خاندان کی مرکزیت، نسلوں کی تربیت اور کردار کی استقامت کا سبق دیتی ہے۔ آج کی تعلیم یافتہ اور بہادر مسلمان عورت نے زندگی کے ہر دائرۂ عمل میں اپنی مؤثر شرکت سے ثابت کر دیا ہے کہ اُس کا حجاب اُس کی ترقّی کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں۔ یہ اگر رکاوٹ ہے تو سطحی جذبات کی پرورش، غیر مہذّب خیالات، نامناسب تعلقات کے جنم لینے اور اپنی دینی تعلیمات بُھلا کر محض نفسانی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔حجاب، اسلام کی ثقافت اور شعار ہے، جب کہ بے حجابی شیطانی ثقافت کا حصّہ۔ حجاب اسلام کے نظامِ عفّت و عصمت کی بنیاد ہے، جو عورت کو توقیر عطا کرتا ہے، خاندانوں کو محفوظ و مستحکم بناتا ہے، معاشرے کو پاکیزگی بخشتا ہےاور فریقین کے باہمی اعتماد کو پروان چڑھاتے ہوئے محبّتوں میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔ تو جس طرح ہر قوم اپنے شعائر پر فخر محسوس کرتی ہے، ہمیں بھی خالق کے عطا کردہ اس پروٹوکول پر فخرکرتے ہوئے تصوّرِ حیا پر کاربند رہنے میں فخر و امتیاز محسوس کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں عورتوں کے مسائل