corona virus

کرونا وائرس: ذیابیطس اور بلند فشار خون والے خصوصی احتیاط کریں

EjazNews

دسمبر2019ء میں چین کے صوبے ،ہوبائی کے شہر ووہان سے رپورٹ ہونے والاکرونا وائرس اب تقریباًپوری دُنیا میں پھیل چُکا ہے۔ کووڈ19پر کی جانے والی تحقیقات کے مطابق یہ وائرس جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہونے والے وائرسز کاایک خاندان ہے۔اصل میں یہ وائرس پہلےصرف جانوروں ہی کو متاثر کرتا تھا، مگر اس میں ہونے والی بعض خطرناک تبدیلیوں کے سبب اب یہ انسانوں کو بھی ہلاک کررہا ہے۔حالانکہ جانوروں میں کئی اقسام کے کرونا وائرسز پائے جاتے ہیں، جن سے اب تک انسان محفوظ ہیں۔کرونا وائرس اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ یہ بہت تیزی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہو کر اپنا اثر دکھاتا ہے اور انفیکشن بڑھنے کی صُورت میں نمونیا، نظامِ تنفس میں شدید رکاوٹ کے علاوہ گُردےفیل ہوسکتے ہیں ،تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔اس وائرس کے پھیلائو کا سب سے بڑا ذریعہ آپس کا میل جول ہے. جب مریض سر ِعام چھینکتا یا کھانستا ہے،تو یہ وائرس آس پاس موجود صحت مند افراد کو بھی متاثر کردیتاہے۔دراصل متاثرہ فرد کے لعاب کے ذرّات میں موجود انتہائی چھوٹا ساوائرس قطرے کی صُورت اگلے فرد کے چہرے، جسم یا کپڑوں پر گر کر اُسے بیمار کرتاہے۔یہ چھوٹے قطرے ہوا میں ایک میٹر تک سفر طے کرسکتے ہیں۔کرونا وائرس کی علامات میں ابتداً معمولی سردی لگنا، آنکھوں کے پیچھے درد،نزلہ زکام(جب یہ علامات ظاہر ہوں، تو ایک بار طبیعت بہتر ہوجاتی ہے، مگر پھر جب دوبارہ نزلہ زکام ہو تو جلد افاقہ نہیں ہوتا)،کان کے مسائل، آواز کی خرابی، کمزوری، بے چینی اور سستی وغیرہ شامل ہیں۔تشخیص کے لیے دُنیا بَھر میں پی سی آر ٹیسٹ(Polymerase Chain Reaction Test) سب سے معیاری قرار دیا گیا ہے۔ہسپتال یا کلینک جاکر معائنہ کروانے والے مریض جوذیابطیس،دِل یا پھیپھڑوں کے دائمی امراض میں مبتلا ہوں اور حاملہ خواتین وغیرہ شامل ہیں۔مثلاً قرنطینہ میں تعینات عملہ یا جو کرونا وائرس کے شکار مریضوںکے ساتھ رابطے میں ہوں یا مُلک میں کرونا وائرس کی تحقیق میں شامل ہوں۔کووڈ19 کا کوئی مخصوص علاج نہیں، البتہ اس کی ویکسین کی تیاری کے لیے مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔ یہ ایک وائرل انفیکشن ہے، جس میں اینٹی بایوٹک ادویہ کا استعمال مفید ثابت نہیں ہوتا،جب کہ ازخود کوئی دوا بھی استعمال کرنے کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کووڈ19بہت تیزی سے پھیلتا ضرور ہے، مگر بہت زیادہ یہ خطرناک نہیں کہ تقریباً 96سے 98فیصد مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں، صرف 2سے 4فیصدوہ مریض، جن کی عُمر 50سال سے زائد ہو اور وہ کسی غیر متعدّی بیماری میں بھی مبتلا ہوں۔ مثلاً ذیابطیس، بُلند فشارِ خون ، سرطان، دِل، گُردے اور پھیپھڑوں کے امراض وغیرہ، زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اسموگ سے گھبرائیں نہیں بس احتیاط ضروری ہے

اس وقت معالجین اور پیرامیڈکس سٹاف بےخوف و خطر کرونا وائرس سے اگلے محاذ پر مقابلہ کر رہا ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران اپنی جان کی پروا نہ کرنے پر انہیں بَھرپور خراجِ تحسین بھی پیش کیا جارہا ہے، لیکن اس وقت ان کے لیے سب سے زیادہ ضروری ذاتی حفاظتی سامان یعنی “Personal Protection Equipment” ہے، جو مختلف جراثیم، وائرسز سے تحفّظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پی پی ای میں مخصوص لباس، حفاظتی ہیلمٹ، چشمے، دستانے اور جوتے وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ وہ معالجین جو کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا معائنہ نہیں کررہے، وہ بھی پی پی ای لازماً استعمال کریں، کیونکہ ضروری نہیں کہ کرونا وائرس کے مریضوں کی علامات فوری ظاہر ہوجائیں۔ لوگ وائرس سے متاثر ہونے کی باوجود خود بھی مرض سے آگاہ نہیں ہوتے۔ پھر ہمارے یہاں تشخیص کے لیے مخصوص کٹس اور وینٹی لیٹرز بھی بہت ہی کم تعداد میں موجودہیں۔ اس ضمن میں حکومت پر تو جو ذمّے داریاں عائد ہوتی ہیں، وہ اپنی جگہ، عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، جس کے لیے وقتی طور پر سوشل ایکٹیوٹیز ترک کرکے خود کو گھروں تک محدود رکھنا ہوگا،جب کہ سوشل میڈیا پر دی گئی افواہوں اور غلط مشوروں پر بھی ہر گز عمل نہ کیا جائے۔جب کہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کے ساتھ ساتھ ذاتی استعمال کی اشیا جیسے گلاس، پلیٹ، کپ، تولیا، موبائل فون اور قلم وغیرہ بھی کسی کو استعمال کے لیے نہ دیئے جائیں،تو بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دماغی بخار
کیٹاگری میں : صحت