imran_khan_domastic-1

خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں کو کہہ رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلیں:وزیراعظم

EjazNews

اسلام آباد میں آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی اور ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ میں نے انتخابات سے پہلے مدینے کی ریاست کا ذکر اس لیے نہیں کرتا تھا کیونکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں جیت کےلیے یہ بات کررہا ہوں لیکن حکومت میں آنے کے بعد بار بار اس کا ذکر کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ وقت بڑا فیصلہ کن ہے، یہ جو بے روزگار سیاست دان اکٹھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے، اصل میں کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں اور جواب دہ نہیں ہیں، ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے اور اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو وہ انتقامی کارروائی ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کے پورے دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے اور اگلا کہتا ہے مجھے کیوں نکالا اور پاکستان کے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتا کہتا کہ مجھے کیوں نکالا اور اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اس کا خاندان بھی نہیں مانتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قانون ہمارے لیے نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں میں نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف کی آواز تو آپ نے بند کردی لیکن نواز شریف کا مقدمہ گھر، گھر اور گلی، گلی پہنچ چکا ہے:مریم نواز

انہوں نے کہا کہ لوگ کسی مقصد اور نظریے،ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلتےہیں، لوگ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے، خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں کو کہہ رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلیں لیکن ان کو قیمے کے نان بھی کھلائیں تب بھی نہیں نکلیں گے، مجھے معلوم ہے کہ وہ پیسہ بھی چلانے کی کوشش کریں گے لیکن میں ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ پیسے لو، قیمے کے نان بھی کھائیں اور آرام سے گھر بیٹھیں۔

محمد زبیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیر کے ایک بھائی ہیں انہوں نے ٹی وی پروگرام میں نواز شریف کو آیت اللہ خمینی سے ملادیا، کہتا ہے کہ آیت اللہ خمینی بھی ملک سے باہر گیا تھا لیکن میں سوچتا ہوں کہ اس طرح کیا لوگوں کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے کہ خمینی باہر گیا تھا، آیت اللہ خمینی کو زبردستی بندوق کی نوک پر باہر بھیجا گیا تھا جبکہ یہاں منتیں کرکے باہر چلے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کابینہ کا اجلاس ہورہا تھا، ہمیں ایک عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو کچھ ہوگیا تو حکومت ذمہ دار ہوگی، اب عدالت کا بھی احترام کرتے ہیں، کابینہ کا 6 گھنٹے کا اجلاس ہوا جہاں ڈاکٹر بیٹھے ہوئے ہیں اور بیماریاں بتارہے ہیں، ہم سب پریشان ہیں ایک آدمی کو اتنی ساری بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ جب اس کی ساری بیماری بتائی گئیں تو ہماری انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اگر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آئیں تو سوچیں کس طرح کی بیماریاں ہمیں بتائی گئی ہوں گی، ہمیں خوف آگیا کہ یہ جہاز کی سیڑھیوں پر بھی چڑھ سکے گا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا حکومت نے تین وزراء سے قلمدان واپس لے لیے

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے لندن کی ہوا لگی ہے ایک اور نواز شریف نکلا ہے اور زبیر اس کا مقابلہ آیت اللہ خمینی سے کررہے ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ تین دفعہ کا وزیراعظم اپنی جائیداد سے متعلق ایک مصدقہ دستاویز نہیں دکھا سکا کہ یہ اربوں روپے باہر کیسے گئے، اگر میں ایک کرکٹر ہوکر 40 سال پہلے کا معاہدہ عدالت کو دکھا سکتا ہوں لیکن وہ ایک دستاویز نہیں دکھا سکا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک غریب ملک سے پیسہ باہر لے کر گیا، میں نے سوچا کہ کوئی اتنا بڑا ڈفر ہوگا اور وہ سمجھے گا کہ واقعی وہ ایمان دار ہے لیکن پھر چند دن پہلے میں نے دیکھا کہ ان کا ایک سینئر عہدیدار صبح کے 3 بجے ایک خاتون کے گھر تنظیم سازی کرنے چلاگیا۔حیران ہوا کہ اس خاتون کے بھائیوں نے اس کو کیوں مارا تو پھر میں نے سوچا کہ کہ ان کی پارٹی میں واقعی ایسے لوگ ہوں گے جو سمجھتے ہیں کہ ایمان داری سے پیسہ باہر لے کر گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایوی ایشن کا طیارہ گر کر تباہ ، 18افراد جاں بحق

پاکستان کو بڑے مشکلوں سے نکالا، شروع میں ڈیفالٹ سے بچے، کرونا سے نکلا، عالمی ادارہ صحت کہتا ہے کہ پاکستان دنیا میں ان چار ممالک میں شامل ہے جو کرونا سے نکلا۔ اس سے نکلے تو ڈاکووں کے اتحاد نے ہمیں ایف اے ٹی ایف کے قانون میں پھنسانے کی کوشش کی، انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں پھنس جاتے ہیں تو دیوالیہ ہوجائیں گے اور معیشت تباہ ہوجائے گی۔ این آر او لینے کے لیے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی، اور منافقت ہے کہ کوئی این آر او نہیں مانگا حالانکہ انہوں نے 38 میں سے 34 شقوں کو تبدیل کرنے پر حمایت کی بات کی۔ ادھر سے نکلے تو اب یہ گھبرائے ہیں کیونکہ اب پاکستان اوپر جارہا ہے، ساری دنیا میں مشکل حالات ہیں لیکن پاکستان میں پچھلے مہینے سیمنٹ کی فروخت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے مہینے موٹرسائیکلوں کی فروخت بھی ریکارڈ ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک آگے نکل رہا ہے اور اہم بحران سے نکل رہے ہیں، اس لیے انہیں حکومت تبدیل کرنے کی جلدی ہے۔