afghanistan

امریکہ افغانستان کی جان کب چھوڑے گا

EjazNews

دنیا بھر میں ایک نقطہ زیر بحث ہے۔ امریکہ افغانستان کی جان کب چھوڑے گا۔ کس طرح چھوڑے گا۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی پر عمل کیوں نہ کر سکی۔
کونسل آف فارن ریلیشن امریکی پالیسی ساز ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کونسل کے روبرو ڈیوڈ پیٹریا ڈ سٹینلے میٹ کرسچین ایک اہم رپورٹ میں افغانستان میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ اس سپیشل انویسٹر گیٹر کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے 57فیصد حصے پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہاں اسی کی حمایت یافتہ ہیں ۔ اس کے نمائندے نظام حکومت چلا رہے ہیں جبکہ مزید ایک حصے پر جزوی کنٹرول ہے۔ باقی ماندہ دس فیصدحصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔ اس قبضے کو امریکہ کو ایک لاکھ زمینی فوج کی ضرورت ہے۔امریکہ زمین فوج بھیجنے کا ناکام تجربہ کئی مرتبہ کر چکا ہے۔ جارج ڈبلیو بش کے زمانے میں امریکی فوجوں کو عراق میں استعمال کیا گیا۔ لیکن یہ داخلی صورتحال کو بہتر بنانے یا نظام حکومت چلانے میں قطعی طور پر ناکام رہے۔ اسی طرح باراک اوبامہ بھی امریکی فوجوں کی افغانستان میں پھیلاﺅ کے حق میں نہیںتھے۔ باراک اوبامہ افغانستان میں مزید فوجیں بھیج کر صورتحال کو پوری طرح منظم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ایسا نہ کر سکے۔ اس کے باوجود افغانستان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ کی دلچسپی کا سب سے بڑا مرکز رہا اور وہاں پر اوبامہ نے فوجوں میں کمی کے دعوﺅں سے پیچھے ہٹ گیا۔

یہ سوال صدر ٹرمپ نے بار بار اٹھایا۔ اگر ہم 8ہزار امریکی فوجی جنگ جیت نہیں سکتے طالبان کا خاتمہ نہیں کر سکتے تو ان کا مقصد کیا ۔ کیا امریکہ شام اور کوریا میں جنگ جیت سکتا ہے جبکہ انہی خطوں میں سابقوں جنگوں کے نتائج بھی اس کے سامنے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ٹرمپ نے بھی خفیہ طور پر امریکی فوجی بھیجے ہیں۔ یہ کس مشن پر بھیجے گئے ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ یہ بلیک واٹر ہیں یا وائٹ ، یہ طالبان کی طرف سے لڑیں گے یا عراقی یا کسی بھی فوج کی جانب سے کسی کو نہیں پتا امریکہ کی باتیں امریکہ جانے۔ لیکن اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ اسی لیے پچھلے روس نے بھی امریکی فضائی حدود کے قریب اپنے طیاروں کی خفیہ پروازیںکی ہیں۔ کم و بیش دو مرتبہ روسی طیاروں کو ایلاسکا میں امریکی اڈوں سے 3سو کلو میٹر کے فاصلے پر پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال نے امریکہ میں سرد جنگ کے تصور کودوبارہ بیدار کر دیا ہے۔ بعض امریکی دانشوروں کے مطابق افغانستان، شام اور عراق کی صورتحال میں سرد جنگ کو دوبارہ جنم لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بولٹن کے فلیٹس میں لگنے والی آگ کو 2سو فائر فائٹر ز نے پھیلنے سے روکا

امریکہ نے 2001ءمیں افغانستان پر فوج کشی کی اور اس پر عملی طور پر نیٹو کی مدد سے قابض ہوگیا۔

صدر ٹرمپ طالبان اور داعش کیخلا ف جنگ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے۔ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے گزشتہ سوموار کے روز امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین نے ا فغانستان میں مضبوط فوجی مداخلت پر زور دیا ہے ورنہ امریکہ یہ جنگ ہار سکتا ہے۔ ان مبصرین کے مطابق افغانستان میںامریکی فوجی ملکی دفاع اور حکومت کے قیام میں مدد دے رہے ہیں۔یہی فوجی کاﺅنٹر ٹیر ازم آپریشن کر رہے ہیں اور افغان فوجیوںکو تربیت بھی دے رہے ہیں۔ ان آپریشنز کے نگران نے ایک بیان میں کہا کہ ”مسئلے کو حل کر نے کے لیے مزید چند ہزار فوجی درکار ہیں“ اسٹیفن بڈل جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کے معروف پروفیسر ہیں کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں ایک لاکھ فوج بھیج کر جنگ کا پانسہ بدل سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے نیت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تا حال افغانستان کے بارے میں کسی واضح اور دو ٹوک پالیسی کا اعلان نہیں کیا لیکن سب سے پہلے امریکہ پر عمل کرنے کے لیے انہیں فوری طور پر مداخلت کرنا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم بیچ میں لٹک رہے ہیں۔ کانگریس یا تو اسے ختم کرے ورنہ افغانستان حکومت گر جائے گی اور ہم سب کچھ کھو دیں گے۔ ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے سابق مشیر مالکر ٹریجر بھی افغانستان میں مزید اور فوری مداخلت کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ افغان جنگ جیتنے کا واحد راستہ امریکی فوجوں کی واپسی نہیں بلکہ ان میں اضافہ ہے،ٹریجر نے کہاطالبان توصبر سے اسی لیے بیٹھے ہیں کہ وہ آپ کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں کہ آپ وہاں سے کب نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کا قیام متنازع ہے لیکن امریکی فوجی جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی تو ہیں قیام کا مطلب جنگ لڑنا نہیں بلکہ یہ کمٹمنٹ کا حصہ ہے۔ امریکہ میں فوجی مداخلت کے حوالے سے رائے عامہ تبدیل ہونے کے باعث صدر ٹرمپ کی جانب سے مزید فوجی بھیجنے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ خطے کے لیے کوئی اچھی علامت نہیں ہے اس سے پاکستان کو اس مسئلے کی طرف ابھی سے توجہ کرنی چاہئے۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات اس کے قابو سے باہر نکل جائیں پھر پچھتانے سے کچھ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس :ملائیشیا 18سے31مارچ تک پوری دنیا کیلئے بند رہے گا

امریکہ کی جانب سے ایک خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کسی سمت میں جارہے ہیں لیکن یہ مذاکرات کب کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ دونوں جانب اعتبار کا فقدان ہے۔

افغانستان میں 19 سال سے جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے طویل دور کے بعد رواں برس 29 فروری کو معاہدہ ہوا تھا۔معاہدے کے 2 اہم نکات میں غیر ملکی افواج کا افغان سرزمین سے انخلا اور بین الافغان مذاکرات کا ا?غاز تھا جس کا ا?غاز 12 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوچکا ہے۔

دوسری جانب افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے حال ہی میں پاکستان کا 3 روزہ اہم دورہ کیا تھا جس کے دوران ایک موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، افغانستان کا سرپرست نہیں دوست بننا چاہتا ہے، یہ تبدیلی کا نمونہ ہے اور اگر ہمیں امن کے ساتھ رہ کر مشترکہ مستقبل تعمیر کرنا ہے تو یہ اس بات کی پہچان کا نیا احساس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی تاریخ میں پہلی دفعہ کوئی خاتون سفیر مقرر