Food_health

غذائیت کا مفہوم

EjazNews

یہ تو ماہر غذائیت بھی آپ کو بتا سکتا ہے کہ ڈائیٹ کے نام پر آپ اپنے ساتھ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں۔ کھایا پیا چہرے سے نظر آتا ہے۔بزرگ یہ محاورہ یوں نہیں کہا کرتے ! اصناف کے دونوں گروہو ں کے لئے یہ بے حد اہم ہے کہ درست غذائیت کے مفہوم کو سمجھ کر غذا کا انتخاب کریں۔ اپنی خوراک کو تین جگہ چار سے پانچ میں تقسیم کر لیں تاکہ ہم غذائی جز بروقت جسم کا حصہ بن سکیں ۔ بے وقت کی بھوک تندرستی کی نہیں بلکہ جسم میں کسی ناگزیر وٹامن یا منرل کے کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔

چہرہ مجموعی صنعت کی عکاسی کرتا ہے آپ کتنے صحت مند ہیں یہ آپ کا چہرہ بتا دیتا ہے۔ کھانے پینے میں احتیاط کرنا اچھی بات ہے مگر کھانا نہ کھانا بہت سی بیماریوں اور خاص کر اعصابی اور جسمانی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ڈائیٹ کا مطلب خوراک میں سے چکنے، مرغ کھانے اور ڈیری پرڈکٹس کو ترک کرنا نہیں ہے یہ ایک اصطلاح ہے جو خوراک کے لئے استعمال کی جاتی ہے جبکہ ڈائیٹ کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا طرز خوراک ہے جس میں محدود اور مخصوص غذا استعمال کی جاتی ہے یا ہر قسم کے ایسے کھانوں سے پرہیز ضروری ہے جن میں چکائی شامل ہو یا پھر مرچ مصالحے ان کا خاص جز ہوں۔ ماہرین صحت بھی اس امر پر متفق ہیں کہ صحت مند جلد اور فزیکل فٹنس کادارومدار اچھی خوراک اور متوازن طرز زندگی پر انحصار کرتا ہے۔

ناشتہ:
انڈے میں شامل منرلز اور وٹامنز مجموعی صحت کے لئے ناگزیر ہیں ۔ یہ جلد کو نئی رعنائی دیتے ہیں، بالوں کی کھوئی ہوئی چمک بحال کرتے ہیں۔ ایک انڈہ (ابلا ہوا یا فرائی )، برائون بریڈ کے دو سے تین سلائس، ایک کپ دودھ یا جوس، یہ ناشتہ بھرپور غذائیت کا حامل ہے اور پور ے دن کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیلتھ گائیڈ

برنچ :(ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے درمیان وقفہ)
ایک سے دو پھل اور سادہ قہوہ۔ یہ چھوٹی سی بھرپور میل دوپہر کے کھانے تک چاق و چوبند رکھتی ہے۔ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

دوپہر کا کھانا:
ایک چپاتی یا ایک کپ چاول، فرائی سالن، دال، سبزی یا مچھلی کا ایک ٹکڑا (تکہ یا بھنا ہوا)، ایک پھل۔ دوپہر کے لئے یہ کھانا مثالی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لنچ کے لئے مختلف سبزیوں اور پھلوں کی سلاد اور دہی بھی کھائی جاسکتی ہے۔

شام کی چائے:
چائے؍کافی؍فلیورڈ دودھ یا ملک شیک اور لسی اس وقفے میں آپ ان لوازمات کے ساتھ بسکٹس ، پنیر یا چکن کا سینڈوچ ، میوہ یا پھل کچھ بھی موڈ کی مناسبت سے کھا سکتے ہیں۔

رات کا کھانا:
اس وقت جسم اور اس کے تمام نظام آرام کرنا چاہتے ہیں ۔ خاص طور پر نظام ہاضمہ کوئی بھی ثقیل غذا ہضم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ پتلی چپاتی یا چاول، شوربہ والا سالن، اسٹیمڈ یا بیکڈ مچھلی یا مرغی کا سلائس، کسی میٹھے کے تین کھانے کے چمچ رات کے کھانے میں نوش کئے جاسکتے ہیں۔

اوقات کار:
صبح کا ناشتہ، آٹھ بجے ، برنچ گیارہ بجے، دوپہر کا کھانا ایک بجے، شام کی چائے چار بجے، رات کا کھانا آٹھ بجے۔
بہت سے افراد کو رات کا کھانا جلد کھانے کے کچھ دیر بعد ہی بھوک ستانے لگتی ہے اگر آپ انڈر ویٹ ہیں تو بھوک لگنے کی صورت میں دس سے گیارہ کے درمیان ایک ہلکا اسنیک دودھ کے ساتھ لے سکتے ہیں ۔ بہترین صحت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر کام کی طرح کھانے کے اوقات کار بھی طے کر لئے جائیں ۔ جسم ایک مشنری ہے اور اس کے ہر پرزے کو کھانے کی شکل میں خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناسب یہی ہے کہ انہیں بروقت خوراک پہنچائی جائے۔ کم عمری میں ہی اچھی اور صحت بخش خوراک کا نظریہ سمجھ لینے میں ہی فائد ہے۔ جتنا ممکن ہو پھل اور سبزیوں کو غذا کا لازمی حصہ بنا لینا چاہئے۔ جوسس اور سادہ پانی جسم کے اندر سے تمام زہریلے مواد فضلہ کے ذریعے باہر خارج کر دیتے ہیں ۔ سبزیوں اور پھلوں کا قدرتی ریشہ جلد، بالوں اورناخنوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے یعنی یہ مجموعی صحت کے لئے ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹرانسپلانٹ ٹیشن کروانے والے جلدی کیوں مرجاتے ہیں

ورزش:
متوازن ڈائیٹ کے ساتھ ورزش بھی نہایت ضروری ہے۔ یہ ایک آرٹ ہے جس کے لئے کسی باقاعدہ ٹریننگ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہلکی پھلکی ورزشیں آپ خود بھی کرسکتے ہیں۔ٹیلی وژن پر بھی ایسے بہت سے چینلز ہیں جن میں ورزش کی آسان مشقیں دکھائی جاتی ہیں۔ باقاعدہ ورزش کے لئے ضروری نہیں کہ کسی جم کا رخ کیا جائے۔ یہ یاد رکھئے کہ جسمانی مشقت کے لئے کسی ایسی سرگرمی کا انتخاب کریں جو طویل عرصے یعنی عمر کے بڑھتے دور میں بھی قابل عمل رہے۔ جو گنگ ، سائیکلنگ ، واک، تیراکی وغیر ہ آسان ورزش کے زمرے میں آتے ہیں اور سب سےبڑھ کریہ کہ ان کے لئے خاص مشقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اچھی صحت کا دارو مدار درست غذائیت اور متوازن طرز زندگی پر انحصار کرتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ روزانہ کی روٹین اور کام کے اوقات کے درمیان کس طرح خود کو فٹ رکھ سکتے ہیں۔

پھل اور سبزیاں:
ماہرین غذائیت اس ضمن میں سبزیوں اور پھلوں کی بھرپور غذائیت سے فائدہ حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مختلف وٹامنز اور منرلز کی وافر مقدار کی موجودگی انہیں خوراک کا لازمی حصہ بناتی ہے۔ اپنی روزانہ کی ڈائیٹ اس طرح ترتیب دیں کہ دن میں کم سے کم تین مرتبہ پھل اور سبزیوں کی خاطر خواہ مقدار کھائی جاسکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ آلو کے چپس کھا کر یہ سمجھیں کہ ایک سبزی کھالی ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ سبزیوں کو پکانے کے لئے بھاپ کا طریقہ درست ہے باقی انہیں آئل میں فرائی کرنایا مختلف مصالحوں کے ساتھ مکس کر کے پکانے سے ان کی غذائیت زائل ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سردیوں میں صحت مند رہنے کیلئے خوراک کا انتخاب کریں

پھلوں اور سبزیوں کے رنگوں سے متعلق ہی جان لیجئے کہ یہ جس قدر اپنے رنگ میں ہوں گی اسی قدر ان کی غذائی افادیت بڑھ جائے گی یہ نیا خون بنانے اور توانائی کے فوری حصو ل کا ذریعہ ہیں۔ ان میں قدرتی طور پر بھرپور غذائیت کا خزانہ موجود ہے۔ ذائقے میں بھی یہ لذیذ ہیں۔ کھانے کی ہر میل میں ایک یا دو پھل کی مناسب مقدار ضرور شامل کرنی چاہئے۔ ان کی قدرتی مٹھاس ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی نقصان دہ نہیں ہوتی۔ قدرت کے خزانے میں پھلوں اور سبزیوں کی شکل میں بھرپور غذائیت موجود ہے یہ غذائیں بہت سی موذی بیماریوں سے حفاظت کرتی ہیں اور ان کے خلاف ڈھال کا کام بھی انجام دیتی ہیں۔

پانی:
آپ چاہیں ہائوس وائف ہوں یا ملازمت پیشہ خاتون اپنے کھانے پینے کی روٹین میں سادے پانی کو لازمی شامل کیجئے کہ از راہ صحت یہ عمل آپ کو بہت سی پیچیدہ بیماریوں سے محفوظ رکھے گا۔ سردی ہو یا گرمی دن بھر میں روزانہ آٹھ سے دس گلاس پانی ضرور استعمال کریں ۔ چائے اور دیگر مشروبات کو اس گنتی میں شامل نہ کریں کیونکہ یہ تمام لوازمات بہر حال سادے پانی جیسی غذائی افادیت نہیں رکھتے۔ قدرتی طور پر پانی کا فارمولہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ جسم میں موجود زہریلے مواد اور بخارات کی صفائی کردیتا ہے اور جسم میں نئی توانائی بھر کر اسے چاق چوبند کر دیتاہے۔

کیٹاگری میں : صحت