پیغام

EjazNews

شام کے سائے آہستہ آہستہ شہر کی گلیوں میں اتررہے تھے۔ ہوا خلاف معمول کچھ زیادہ سرد تھی۔ دور سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر تیرہ چودہ سال کا ایک سیاہ فام لڑکا کسی گہری سوچ میں گم ایک طرف کو چلا جارہا تھا۔ اس کی چال سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ وہ بہت تھکا ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی اسے کہیں پہنچنے کی جلدی نہیں تھی دوپہر کو لچن برگ سے جانے والی گاڑی نے اسے جوہانسبرگ پہنچایا تھا اور اب شام ہونے کو آئی تھی۔ چلتے چلتے اس کی ٹانگیں دکھنے لگی تھیں۔ مگر اسے اب تک اپنی منزل کا پتہ کچھ نہیں تھا۔

شام گہری ہوتی جارہی تھی۔ سڑکوں پر لوگ پہلے سے بہت کم نظر آرہےتھے۔ ادھر کچھ عرصہ سے شہر میں اندھیرا ہونے کے بعد سفید فام فوجی گشت کیا کرتے تھے۔ جہاں کسی آدمی کو دیکھتے پوچھ گچھ شروع کر دیتے، جیسے وہ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہو۔ چنانچہ لوگ شام ہی سے اپنے اپنے گھروں میں قید ہو جاتے۔ یوں بھی انہیں قید و بند کی عادت سی پڑتی جارہی تھی۔ عرصہ ہوا ان کے گھر، گاﺅں ،شہر بلکہ ان کا پورا دیس سب چھوٹے جیل خانوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ جہاں وہ غلامی کی لمبی رات کاٹ رہے تھے۔ نئے قوانین نے تو ان کی زندگی کا دائرہ اوربھی تنگ کر دیا تھا ۔ دن بھر وہ معمولی اجرتوں پرزمرد اور سونے کی کانوں میں کام کرتے اور رات کو آسمانوں اورزمین کے خداﺅں کا شکر ادا کر کے سو جاتے کہ اس سے آگے سوچنا اور بولنا ان کے لئے ممنوع تھا۔ شاید اسی گھٹن نے آزادی کے نعروں کو جنم دیا ھتا۔ وہ جنہیں گورے حکمران زمین پر رینگنے والے کالے سیاہ کیڑے سمجھتے تھے انہی میں سے کچھ لوگ ظلم اور ستم کے خلاف آواز بن گئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے قسم کھائی تھی کہ جب تک دھرتی کے بیٹوں کو غلام بنانے والوں کے وجود سے دھرتی کو پاک نہیں کرلیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اندھیرا بڑھ رہا تھا اور شہر کی رونق بڑھ رہی تھی۔ وہ لڑکا چلتے چلتے ایک ویران سی گلی میں مڑ گیا۔ فٹ پاتھ کے لیمپ پوسٹ اچھی طرح روشن نہیں ہوئے تھے، وہاں عمارتوں کی کھڑکیوں سے باہر آتی ہوئی اکا دکا کرنیں گلی کےاندھیروں سے برسرپیکار تھیں۔ اس جھپٹے میں وہ لڑکا آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا چلا جارہاتھا کبھی کبھی وہ لڑکا رک کر مکانوں کی تختیاں دیکھ لیتا تھا۔ یکایک سفید رنگ کی ایک خوبصورت کار بڑی تیزی سے موڑ کاٹ کر گلی میں داخل ہوئی اندھیرا ہونے کے باوجود اس کی لائٹیں بالکل بند تھیں۔ لڑکا اس سے بےخبر اپنی دھن میں مست چلا جارہا تھا۔ وہ اس وقت چونکا جب کار سر پر آپہنچی تھی۔ اس نے گھبرا کے جلدی سے ایک طرف ہونے کی کوشش کی مگر کار اس کے اندازے سے زیادہ تیز تھی۔ بچتے بچتے بھی وہ اس سے ٹکرا گیا۔

گاڑی ایک دم رک گئی۔ اس کی ہیڈ لائٹس یوں جل اٹھیں جیسے کوئی سوتے میں آنکھیں کھول دے لڑکا سڑک پر بے ہوش پڑا تھا۔ کار کا دروازہ کھلا گوری چمڑی والا ایک شخص باہر نکلا، ہیڈ لائٹس کی تیز روشنی میں اس نے دیکھا فٹ پاتھ کی رگڑ سے لڑکے کے ماتھے پر چوٹ لگی تھی اور بائیں ٹانگ سے بھی خون جاری تھا۔

اوہ گاڈ۔ یہ تو آسانی سے مرتے بھی نہیں۔ اس نے ذرا جھنجلا کر منہ ہی منہ میں کہا اور ٹھو کر مار کر لڑکے کو راستے سے ہٹا نے لگا۔ چند ہی لمحوں بعد سفید مرسڈیز پھر اسی ر فتار سے سفر کرتی ہوئی گزر گئی۔
وہ ہسپتال کے برآمدے کے کھردرے فرش پر بیہوش پڑا تھا۔ غالباً رات کے پچھلے پہر کوئی اسے یہاں ڈال کر خود پوچھ گچھ کے خوف سے بھاگ گیا تھا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے ایک نرس نے اسے یہاں دیکھا تھا اور جلدی سے ڈاکٹر کوبلا لائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ بدر الدجی

ڈاکٹر نے دور کھڑے کھڑے اپنی عینک کے بھاری شیشوں کے پیچھے سے اس کا معائنہ کیا ۔ زخم گہرے نہیں تھے۔ ہڈی بھی ٹوٹی نہیں تھی۔ مگر زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو گیا تھا۔اس نے نرس کو اطمینان دلانے کے لئے سر ہلایا اور لڑکے کو ہاتھ لگائے بغیر اندر چلا گیا۔ سفید چمڑے والے سیاہ فاموں کو بلا ضرورت چھونا پسند نہیں کرتا۔ کہیں ان کی جلد کی کالک ان کے ہاتھوں کو نہ لگ جائے۔

اس کو ہوش آیا تو شام ہونے والی تھی۔ ہسپتال کے صحن میں لگے ہوئے گھنے درختوں پر چڑیاں شور مچا رہی تھیں۔ وہ ہسپتال کے پچھلے برآمدے میں ایک صاف ستھرے بستر پر لیٹا تھا۔ آنکھ کھلتے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر درد کی ٹیسوں نے اسے ذرا بھی نہ ہلنے دیا۔ وہ غور سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ اسے یاد آگیا۔ وہ کل ہی اپنے گاﺅں سے جوہانسبرگ آیا تھا۔ اور رات ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا گیا تھا۔ وہ انکل رابرٹ سے ملنے آیا تھا۔ انکل رابرٹ اپنا پرانا مکان چھوڑ گئے تھے اور ان کا نیا گھر ڈھونڈ رہا تھا۔ انکل رابرٹ اس کے حقیقی چچا تو نہیں تھے مگر ان سے ملنا بہت ضروری تھا۔ اس کے پاس ان کے لئے بہت اہم پیغام تھا۔

پیغام۔ ہاں پیغام ہی تو تھا اس نے سوچا۔
مگر وہ رومال کہاں گیا۔ اس نے اپنی جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ درد کے مارے اس کی چیخ نکل گئی۔
ایک نرس تیز تیز چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
اچھا تو تم جاگ اٹھے۔ ذرا صبر کرو ، میں تمہارے لئے ابھی گرم گرم سوپ لاتی ہوں۔
شایدیہ ہسپتال ہے۔ لڑکے نے سوچا۔ پھر بولا۔
سسٹر! ذرا میری جیب میں ایک رومال تھا۔

ہاں ! ہاں ! تمہاری جیب سے چند سکے اور ایک رومال ملا تھا۔ دونوں چیزیں تمہارے سرہانے رکھی ہیں۔ تم بالکل اطمینان سے لیٹے رہو، ورنہ زخم کھل جائیں گے۔ نرس یہ کہہ کر ایک طرف چل دی۔

لڑکے نے دانتوں کے درمیان زبان دبا کر درد برداشت کرتے ہوئے بڑی مشکل سے تکیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس کی انگلیاں کسی ریشمی کپڑے سے ٹکرا تیں اور چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ہاتھ میں ریشمی کڑھائی والا تہہ کیا ہوا سفید رومال تھا۔ اس نے ایک نظر رومال کو دیکھا پھر اسے اپنی قمیض کی جیب میں چھپا کر آنکھیں موند لیں۔

دودن کے اندر اس کی طبیعت ذرا سنبھل گئی۔ اس نے نرس سے دوستی کر لی تھی۔ شام کو وہ جب آئی تو حسب عادت پوچھنے لگی۔

اب تو تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا۔ ننھے میاں
جی اب ٹھیک ہے، سر میں ہلکا سا درد باقی ہے۔ اس نے جواب دیا۔
وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ نرس نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
اچھا یہ بتاﺅ، تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتے ہو۔
سب لوگ مجھے جونز کہتے ہیں۔ لچن برگ کے قریب میرا گاﺅں ہے۔ میں وہاں سے آیا ہوں۔مجھے ایک گاڑی نے ٹکر ماردی تھی۔
اچھا تم اپنے ابا امی کے ساتھ شہر کی سیر کرنے آئے ہو گے۔
نہیں سسٹر! میں اکیلا آیا ہوں ۔ میرے ابا امی نہیں ہیں۔ میں سیر کرنے نہیں بلکہ نوکری کرنے شہر آیا ہوں۔ لڑکے نے فخریہ انداز میں بتایا۔
بہت پہلے ایک بار میں اپنے ابا کے ساتھ یہاں آیا تھا مگر اب وہ مرچکے ہیں۔اوہو۔اچھا نرس نے افسوس کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مختصر اسلامی عقائد

سال بھر پہلے ایک دن انہیں فوجی پکڑ کر لے گئے تھے۔ پھر وہ واپس نہیں آئے۔ پتہ چلا کہ وہ جیل میں مرگئے ۔ لڑکے نے ٹوٹی ہوئی آواز میں بتایا۔
ان کے مرنے کے بعد میں اپنےچچا کے پاس رہا مگر میرے چچا بہت غریب ہیں وہ میراخرچ نہیں اٹھا سکتے۔ اب میں اپنی روزی کمانے خود شہر آگیا ہوں۔
اور تمہاری امی؟ نرس نے پوچھا۔
امی تو مجھے یاد ہی نہیں وہ تو بہت پہلے مر گئی تھیں۔
پھر تو تم بہت بہادر بچے ہو۔ اچھا اب یہ دوا اٹھالو۔ نرس نے دوا کھلائی اور دوسرے مریضوں کی طرف چلدی۔
اگلی صبح جب نرس آئی تو لڑکا بستر پر تکیہ کے سہارے بیٹھا ہوا تھا۔ نرس کو دیکھتے ہی بول پڑا۔ سسٹر! آپ مجھے جانے کی کب اجازت دیں گی۔
کیوں ! ننھے میاں، تمہیں کہاں جانے کی جلدی ہے، تمہارے زخم اچھے ہو جائیں تو پھر چلے جانا نرس نے بیتاب دیکھ کر کہا
ہاں کہو تو تمہارے گاﺅں اطلاع کردیں۔
نہیں سسٹر ! گاﺅں میں کسی کو میری فکر نہیں ہوگی مگر میرا جانا بہت ضروری ہے۔ مجھے ایک پیغام پہنچانا ہے۔ اس نے بتایا
کون سا پیغام۔۔۔کس کو پہنچانا ہے ؟نرس نے بے توجہی سے دوائیں الگ کرتے ہوئے پوچھا۔لڑکا بولتے بولتے یکدم رک گیا پھر دھیمی آوا ز میں کہنے لگا۔
آپ انکل رابرٹ کو نہیں جانتیں وہ ہمارے گاﺅں میں بچوں کو پڑھاتے تھے پھر وہ گاﺅں سے چلے گئے۔ ان کے جانے پر سب بچے بہت اداس تھے۔ جاتے جاتے انہوں نے ہمیں ایک گیت سنایا وہ مجھے اب بھی یاد ہے۔
آجاﺅ افریقہ آجاﺅ افریقہ۔
آجاﺅ میں نے دھول سے ماتھا اٹھالیا
آجاﺅ میں نے چھیل دی غم سے آنکھوں کی چھال
آجاﺅ میں نے درد سے بازو چھڑا لیا
آجاﺅ میں نے نوچ دیا ہے کسی کا جال
آجاﺅ افریقہ!
پھروہ جوہانسبرگ چلے آئے اور جب میں بھی یہاں آنے لگا تو گاﺅں والوں نے ان کیلئے ایک پیغام دیا۔ یہ پیغام آج شام تک ان کو پہنچانا ہے اور۔۔
اچھا اچھا ۔ مگر ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔ یہ کہہ کرنرس گیت کے الفاظ پر غور کرتی ہوئی دوسرے وارڈ میں چلی گئی۔
دوپہر کو وہ جب کھانا لے کر آئی تو جونز کا بستر کسی ویران گاﺅں کی طرح خالی پڑا ہوا تھا۔
یہ اسی دوپہر کا ذکر ہے۔ شہر کی ایک سرکاری عمارت میں ایک سفید فام افسر بیٹھا تھا فون پر کسی سے بات چیت کر رہا تھا۔
ہاں ہاں کہو ڈاکٹر اس نے ماﺅتھ پیس میں کہا
میں سن رہا ہوں
یہ تین چار روز پہلے کی بات ہے۔ دوسری طرف سے کسی نے کہا۔
ہمارے ہسپتال کے قریب ایک سیاہ فام لڑکا زخمی حالت میں پڑا ہوا ملا تھا ۔ ایک نرس کے اصرار پر ہم نے اسے ہسپتا ل میں داخل کرلیا تھا مگر چونکہ یہاں کالے مریضوں کاداخلہ ممنوع ہے اس لیے اسے پچھلے برآمد ے میں رکھا تھا۔ اس نے اپنا نام جونز بتایا وہ لچن برگ کے قریب کسی گاﺅں سے آیا تھا اور تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر مار دی تھی۔ میں نے نرس کو ذرا ڈرایا دھمکایا اس نے یہ بھی بتایاکہ وہ لڑکا کسی رابرٹ نامی شخص کے لئے خفیہ پیغام لایا تھا۔
کہیں وہ رابرٹ تو نہیں جو باغیوں کے ساتھ مل کر ہماری حکومت کے خلاف کام کر رہا ہے۔
افسر نے پوچھا
مجھے یہی شبہ ہوا ہے جناب! اسی لئے میں نے آپ کو فون کیا ہے۔ مگر لڑکے کے کہنے کے مطابق یہ رابرٹ اس کے گاﺅں میں بچوں کا استاد تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا۔
اچھا تم اس لڑکے کو یہاں بھیج دو۔ ہم خود معلوم کرلیں گے۔ افسر نے میز پر ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے کہا۔
وہ ہسپتال سے فرار ہوچکا ہے۔
کب
آج صبح
او گاڈ پھر تمہاری اس رپورٹ کا کیا فائدہ
جناب وہ زخمی ہے تیز نہیں چل سکتا۔ ہم اسے پکڑ سکتے ہیں۔
وی گڈ ڈاکٹر !اگر ایسی بات ہے تو ہم وہ خفیہ پیغام پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہمارے بہادر جوان جلد ہی اسے زندہ یا مردہ حالت میں پکڑ لیں گے۔ تھینک یو اینڈ گڈ بائی۔
اور بہادر جوانوں نے اس نہتے زخمی لڑکے کو جلد ہی پکڑ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  جہاں سورج غروب نہیں ہوتا

شام سے پہلے وہ انہیں شہر کے سر پر واقع ایک غیر آباد محلے میں لنگڑاتا ہوا مل گیا اس کے ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں ایک مڑی ہوئی لکڑی تھی جس کے سہارے وہ آہستہ آہستہ قدم بقدم بڑھتاجارہا تھا ۔ چلتے چلتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا سامنے والی دیوار کے سامنے والی دیوار کے پیچھے سے ایک عجیب سی چیز نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی۔

نہیں نہیں یہ بندوق نہیں ہوسکتی۔ وہ بڑ بڑایا مگر وہ بندوق کی نالی ہی تھی۔ اور اس کا رخ اسی کی طرف تھا وہ آگے بڑھا تو بندوق تنے ہوئے گورا فوجی پورے کا پورا اس کے سامنے آگیا۔ اس نے واپس پلٹنا چاہا ۔ پیچھے بالکل اسی کی طرح ایک اور فوجی بندوق لئے کھڑا تھا اس نے دائیں جانب دیکھا گلی کے سرے پر دو فوجی پوزیشن لیے کھڑے تھے۔ بائیں جانب سڑک کے کنارے کچھ گھنے درخت اور ایک خشک برساتی نالہ تھا۔

دہشت میں وہ اپنی زخمی ٹانگ کو بھول کر درختوں کی طرف بھاگا اسی لمحے فائر کی آوازیں آئیں چار خود کار بندوقیں ایک ساتھ چلیں اور جونز زمین پر گر پڑا۔
سورج ڈوب رہاتھا۔ آسمان پر شفق کی سرخی پھیلی ہوئی تھی گولیوں سے چھلنی اس کاجسم زمین پر پڑا تھا اور دھرتی کا سینہ اس کے خون سے لال ہوا جارہا تھا۔
دو ر گھنے درختوں کے درمیان کوئی من چلا گانے لگا
آجاﺅ میں نے سن لی ترے ڈھول کی ترنگ
آجاﺅ سست ہو گئی میرے لہو کی تان
آجاﺅ، افریقہ!

فوجیوں نے فوراً جونز کی تلاشی لی، اس کی جیبوں میں کچھ نہیں تھا۔ پیسے بھی نہیں تھے، ہاں ایک سفید رومال تھا جو خون سے سرخ ہو چکا تھا مگر اس پر ریشم سے گڑھے ہوئے حروف صاف پڑھے جارہے تھے۔
گائوں کے سب بچوں کی طرف سے ان کے پسندیدہ استاد انکل رابرٹ کو اکتیسویں سالگرہ مبارک ۔ وہ انکل رابرٹ تک یہ پیغام نہیں پہنچا سکا کہ غلام سرزمین پر نیک تمنائوں کے پیغامبر کا یہی انجام لکھا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے