trump

کیا امریکی فوج ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالف ہے؟

EjazNews

سی این این میں پینٹا گان کی رپورٹنگ کرنے والی باربرا سٹار نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کیخلاف فوج کی کوئی منظم اپوزیشن نہیں ہے مگر دن بدن جنرل اور ایڈمرل براہ راست امریکی عوام کو اپنے خیالات اور تصورات سے آگاہ کر رہے ہیں اور یہ خیالات کمانڈر ان چیف کے خیالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسا ہی ائیر فورس اکیڈیمی میں لیفٹیننٹ جنرل جے سلوریا کی تقریر میں سامنے آئی جے سلوریا نے اپنی تقریر میں امریکہ میں پائے جانے والے نسل پرستوں کی نفی کی ہے۔ ائیر فورس اکیڈیمی کی تیاری کرانے والے سکول میں 5سیاہ فام کیڈیٹوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر لیفٹیننٹ جنرل جے سلوریا نے امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں اگر آ پ کسی کو عزت و وقار نہیں دے سکتے تو پھر تمہیں نکال باہر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تم کسی دوسری صنف سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کر سکتے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش نہیں آسکتے تو تمہیں ہی نکال باہر کرنے کی ضرورت ہے۔اگر تم کسی کو بھی کسی بھی طریقے سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہو تو تمہیں نکال باہر دینے کی ضرورت ہے۔ اور اگر تم کسی بھی رنگ ، نسل یا قوم سے تعلق رکھنے والے کو عزت و وقار نہیں دے سکتے تو تمہیں نکال باہر دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات برہم جنرل نے اپنے دستوں سے کہی۔ بظاہر ان کا مخاطب ان کے نوجوان کیڈٹ تھے۔ لیکن اصل میں ان کا ٹارگٹ کوئی اور تھا۔ یہ نوجوان کیڈٹ نہ تو پالیسی ساز ہیں اور نہ ہی کسی کو عزت و وقار دے سکتے ہیں۔ اور نہ ہی چھین سکتے ہیں یہ رنگ ، نسل ، مذہب ، عورت اور مرد کی بنیاد پر امتیازات امریکی سیاست میں انتخابات کے بعد شامل ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  میک ان انڈیا کی بجائے ریپ ان انڈیا ہورہا ہے:راہول گاندھی

جب امریکہ میں سفید فاموں کی حکومت برسر اقتدار آئی اور اس وقت امریکہ میں مقیم تمام چھوٹی قومیں کونے کدھروں میں چھپی ہوئی ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ پلوٹو ریکو اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ اسی طرح کی ایک بات پلوٹو ریکو نے ایک اور امریکی جنرل لیفٹیننٹ بوکا نند کر چکے ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ پاکستان کی طرح پیوٹر رکنز کو بھی ڈو مور ڈومور کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن امریکہ کے لیفٹیننٹ جنرل اپنے خطاب میں اس سے الگ پالیسی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے پلو ٹو ریکو پہنچتے ہی جیفے بوکا نے کہا کہ انہیں امن و امان کے لیے یہاں مزید فوج بھیجنے کی ضرورت ہے۔ جتنی فوج یہاں موجود ہے وہ ناکافی ہے اور ہم مزید فوج بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزید دور دراز کے علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچائی جائے گی، مقامی ٹرک ایسا نہیں کر سکتے۔ اسی لیفٹیننٹ جنرل نے حال ہی میں امریکہ میں آنے والے طوفانوں میں لاکھوں امریکیوں کی مدد کی۔ اور انہوں نے سرعام وائٹ ہاﺅس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ دو مزید تبصرے بھی اہمیت کے حامل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ میں اس وقت قیادت کا بحران ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا انڈیا اپنے شہریوں کی پکار سنے گا ؟

چارلٹ ویلز واقع کے بعد ایک فورسٹار جنرل نے اپنا الگ ہی نقطہ نظر بیان کیا۔ امریکہ کی بحریہ ،آرمی، بری ، ائیر فورس اور میرین کور کے سربراہوں نے الگ الگ ٹویٹ کیے۔ ان چاروں سربراہوں کے ٹویٹ میں نسل پرستی کے بارے میں زیرو ٹولرینس کی بات کی گئی تھی۔ ان فوجی سربراہوں نے چارلس ویٹ میں ہونے والے قتل کو برداشت نہ کرنے کے بارے میں ٹویٹ دیا تھا۔ اگرچہ نجی طور پر وہ چاروں سربراہان اپنے ٹویٹ کو صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کا جواب قرار نہیں دیتے لیکن اس میں کسی کو شک نہیں کہ جوائنٹ چیف آف سٹاف کے ممبران موجودہ سیاسی ماحول سے الگ ہی آپریٹ کر رہے ہیں۔ پھر صدر ٹرمپ پلوٹر ریکو کے بارے میں ٹویٹ کیا کہ جعلی خبریں پلوٹوریکو کے بارے میں پھیلائی جارہی ہیں۔ جنرل جوزف ڈن فورٹ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ہیں۔ وہ بھی اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کر رہے ہیں۔کانگریس کے حوالے سے انہوں نے صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کیا ۔ صدر ٹرمپ فوج میں ٹرانس جینڈر پر مکمل پابندی عائد کرناچاہتے ہیں ۔چیئرمین جوائنٹ آف چیف سٹاف نے اس کی مخالفت کر دی ۔میں یہ کہنا چاہوں گا بلکہ میرا ایمان ہے کہ جو بھی جسمانی اور ذہنی معیار پر پورا اترتا ہے اسے فوج میں شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسے خدمت کرنے کا موقع ملنا چاہیے جبکہ صدر ٹرمپ اسے خدمت کا موقع دینے سے گریزاں ہیں۔

سی این این کی باربرا سٹار نے جرنیلوں کے اس بیان کو کھلی بغاوت سے تعبیر نہیں کیا۔ یہ سب اتنا اہم کیوں ہے یہ کوئی کھلی بغاوت تو نہیں۔ کیونکہ حقیقت میں فوج ٹرمپ کو سپورٹ بھی کرتی ہے اور وہ آپریشنوں میں ان کے احکامات کی پابند ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ہمیں اپنے اعلیٰ فوجی افسران سے کس قسم کی توقع ہے۔ یہی نہ کہ وہ صاحب اقتدار کے سامنے سچ بولیں اور صرف اپنے صدر کے سامنے ہی نہیں اپنے عوام کے سامنے بھی سچ بولیں۔ اگر چہ پہلے ایسا نہیں ہوا مگر اب یہ جرنیل تبدیلی کا اشارہ ہیں۔ ریٹائرڈ کرنل اسٹی وارن جیمز سٹیمنز کے ترجمان ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیردفاع کا عہدہ انتہائی نازک جگہ ہے۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ نے عوام میں پریس کو اپنا دشمن قرار دیاہے۔ لیکن اس کے برعکس میں سمجھتا ہوں کہ وزیر دفاع پینٹا گان کی پوزیشن کو سمجھتے ہیں۔ یہ پینٹا گان ہر سال نصف ٹریلین ڈالر خرچ کرتا ہے۔ 5لاکھ امریکی بیٹے اور بیٹیوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین الیکشن میں جوتے اور تھپڑ بڑھتے جارہے ہیں

ان تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ میٹس اور ان کے جنرل صدر ٹرمپ کو اپ سیٹ نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن حقیقت ماحول میں جگہ پارہی ہے اور سچ زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکے گا۔ سینٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہ جان میکن وزیردفاع میٹس اور جنرل ڈین فورٹ کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے بھی پینٹا گان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے افغانستان کی جنگ کے تمام پہلوﺅں سے کانگریس کو آگاہ نہیں کیا یعنی معلومات افشاں نہ کرنے کی شکایت پریس کے علاوہ خود ریپبلکن پارٹی کے سربراہان کو بھی ہے۔