shibli faraz

اس سے بڑا جرم آپ کر نہیں سکتے، آپ نے بجلی کے ایسے معاہدے کیے جس کی وجہ سے آج بجلی مہنگی ہے:وزیراطلاعات

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ آپ اس بات پر بحث کریں کہ ایک شخص قانون سے بھاگا ہوا ہے اور عدالت نے کل ہی اپنے خیالات کا واضح انداز میں اظہار کیا ہے۔کیا ایسے شخص کی تقاریر جس میں وہ لوگوں کو بغاوت کے لیے اکسا رہے ہیں، کیا یہ قانون کے مطابق ہے اور انہیں اس کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں اس پر بحث کریں۔اس پر فیصلہ آپ اور ہم نے کرنا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ اس ملک میں بڑی مشکل کے بعد اس کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔یہ تقاریر ہورہی ہے اس کے ذریعے ملک سے بدلہ لیا جارہا ہے، ایک ایسے ملک سے بدلہ لیا جارہا ہے، جس نے اس شخص کو تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر براجمان کیا۔یہ شخص اس ملک کے خلاف وہ تقاریر کررہا ہے جس سے انہوں نے اربوں ڈالر کمائے اور بیرون ملک اثاثے بنائے اور اپنے خاندان کے کاروبار قائم کیے اور یہ سب اس ملک کی قیمت پر کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ آپ باتوں میں نہیں الجھائے اور صرف دو سوالوں کے جواب عدالتوں کو دے دیں کہ آپ نے اثاثے کیسے بنائے اور آپ اس کو باہر کیسے لے کر گئے۔جو سوال پوچھا جارہا ہے اس کے سوا باقی ساری باتیں کی ہیں، یہ سوال سادہ سے تھے، اسی طرح کے سوال عمران خان سے بھی کیے گئے لیکن انہوں نے منی ٹریل بھی دی اور جواب بھی عدالت کے اطمینان کے مطابق دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا کی چوتھی جیت

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اپنی ذات، اپنے اثاثے اور اپنے پیسوں کو بچانے کے لیے اس ملک کے تمام اداروں پر جو تنقید کی ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ خود کو بچانے کے لیے اس ملک کو داو پر لگا سکتے ہیں۔یہ سب ایک ایسا کہہ رہا ہے جو ملک کا تین مرتبہ وزیراعظم رہا ہے اور بڑے فخر سے کہتا بھی ہے، جب سوالوں کے جواب نہیں دینے ہوں تو آپ سیاسی معاملات اٹھائیں گے۔نواز شریف جس ملک نے آپ کو موقع دیا اس کے ادارے بنانے کے بجائے ان کو تباہ کیا، اس ملک میں آج عوام چاہے بجلی، مہنگائی یا قرضوں کی صورت میں ہو، آپ نے اس ملک کی معیشت اور اس ملک کے کردار کو آپ نے ستیاناس کردیا۔کردار کا ستیاناس اس طرح کیا کہ آپ نے نئی نسل کے لیے رول ماڈل ایسا دیا کہ ایسے لوگوں کی معاشرے مین شناخت یا ان کی عزت پیسہ ہے، آپ نے محنت اور غلط طریقوں سے پیسہ کمانے کے فرق کو ختم کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینٹ میں انسداد دہشت گردی اور اقوام متحدہ سے متعلق دو(ترمیمی) بل واضح اکثریت سے منظور

نواز شریف کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا جرم آپ کر نہیں سکتے، آپ نے بجلی کے ایسے معاہدے کیے جس کی وجہ سے آج بجلی مہنگی ہے، اس کے علاوہ ایسے اقدامات کیے جس سے ڈالر کو مصنوعی سطح پر رکھا، اس غریب ملک کے 23 ارب ڈالر مصنوعی طور پر برقرار رکھ کر معیشت تباہ و برباد کردیا۔آپ ان اعداد و شمار کی تصدیق اسٹیٹ بینک سے کروائیں اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو پھر میں آپ کے سامنے ہوں۔

ان کا کہنا تھا ان اقدامات سے درآمدات کی بھرمار کردی اور مقامی سطح کی صنعت بند ہوگئی کیونکہ مقامی طور پر بنانے سے درآمد کرنا سستا پڑتا تھا لیکن ملکی معاشی سرگرمیوں پر سمجھوتہ کیا۔ نواز شریف نے لوگوں پر پیسہ نہیں لگایا، تعلیم، صحت اور غریب لوگوں پر پیسہ نہیں لگایا کیونکہ وہ اپنے خاندان کے لیے پیسہ بنا رہے تھے۔اس ملک میں مہنگائی کی جڑ نواز شریف ہیں لیکن لندن میں پرتعیش ماحول میں بیٹھ کر منڈیلا بن کر خطاب کررہے ہیں کہ عوام کا بڑا دکھ ہے تاکہ عوام ایک مرتبہ پھر آپ کے جھانسے میں آئیں۔آپ ان اداروں کے خلاف تقاریر کر کے کیا پیغام دے رہے ہیں، وہی ادارے جو آپ کے ساتھ تھے تو ٹھیک تھے اور اب آپ اقتدار میں نہیں ہیں تو یہ ادارے خراب ہوگئے۔آپ باہر ملک میں کیا پیغام دے رہے ہیں، آپ کے اور الطاف حسین کے خطاب میں کوئی فرق نہیں رہا بس ایک نعرہ جو اس نے لگایا تھا اسی کی کمی تھی باقی تو آپ نے الطاف حسین ٹو اور اس کی نقل ہے۔کل عدالت نے کہا کہ انہوں نے قانون کی دھجیاں اور تمسخر اڑایا ہے، یہ تحریک انصاف نے نہیں بلکہ معزز جج نے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:  گاڑیوں پر فی سیٹ یا ٹوکن ٹیکسز نہیں بڑھائے گئے: ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب

ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والا شخص ایسا نہیں کرسکتا چاہے غلط مقدمے میں پھنسایا جائے۔