babri masjid

بابری مسجد کوشہید کرنے والے تمام دہشت گرد رہا

EjazNews

6 دسمبر 1992 میں منظم ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا تھا اور اس کے نتیجے میں 3ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول وفاقی حکومت اور بعدازاں سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔

ایودھیا کے اس مقام پر کیا تعمیر ہونا چاہیے، اس حوالے سے مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کے افراد نے 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں جس کے بعد اس معاملے پر اسی سال 8 مارچ کو ثالثی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔اس تنازع کے باعث بھارت کی مسلمان اقلیت اور ہندو اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ میں مذہبی،تعصب کی بنیاد پر دہشت گردی کیخلاف قرار داد منظور

تاہم 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔جس کے بعدبھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا اور اس کے نتیجے میں مسلم کش فسادات میں 3 ہزار افراد مارے گئے تھے۔مقدمہ بھارتی عدالت میں 28 سال تک چلا اور اور پھر فیصلہ آیا جس نے شاید جوڈیشلی کی تاریخ کو شرمندہ نہیں شرمندہ کی انتہا پر پہنچایا ہے۔ لیکن اس فیصلے کی توقع انڈیا میں موجود اور باہر تمام لوگ کر رہے تھے۔یہ فیصلہ کوئی اچنبے والا نہیں ہے بی جے پی کی حکومت اگر یہ فیصلہ نہ کرواتی تو وہ اپنی سیاسی ساکھ کو نہیں بچا سکتی ۔ بی جے پی کی سیاست ہی ہندوستانی مسلمانوں سے دشمنی پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عراقی دانشوروں کاقتل

انڈین عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ مسجد کی شہادت باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کی گئی تھی۔ا س سے زیادہ شرمناک اور کیا بات ہوگی کہ جن لوگوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا وہ میڈیا میں آکر آن ریکارڈ یہ کھلم کھلا مانتے ہیں کہ ہم نے مسجد گرائی تھی اور ایسا ہم نے کیا تھا۔

اس کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے جج کے عہدے کی مدت میں توسیع بھی کی گئی جنہوں نے کہا کہ مسجد کو سماج مخالف عناصر نے منہدم کیا تھا اور جن رہنماو¿ں پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔

جج کا یہ بھی کہنا تھاکہ سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو شواہد کوئی سازش ثابت نہیں کرسکے جبکہ تقاریر کی آڈیو واضح نہیں تھی۔تفتیشی اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی، اور کلیان سنگھ سمیت 32 ملزمان اس اسٹیج کے قریب موجود تھے جہاں سیاسی، مذہبی اور مندر کے لیے مہم چلانے والوں نے تقاریر کیں اور ان تقاریر کی وجہ سے ہجوم مشتعل ہوا۔
اوما بھارتی تو انڈین ٹی وی چینل پر بیٹھ کر ڈھٹائی سے یہ کہتی ہوئی پائی گئی تھیں کہ ہم نے بابری مسجد کو شہید کیا ہے۔اب اس کے بعد اور کیا بات رہے جاتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین گجرات کے کوچنگ سنٹر میں آگ لگنے سے 20افراد ہلاک