the hunter

ایک نو عمر شکاری کی رحم دلی

EjazNews

میں جب ایک چھوٹا سا لڑکا تھا اور نیٹا (افریقہ) میں رہتاتھا تو اس ضلع کے کسان ہر سال شکار کا انتظام کیا کرتے تھے ۔ یہ لوگ سو مقامی آدمیوں اور ان کے کتوں کو لے کر شکار کو ہنکاتے تھے ہنکانے والے، شکاری جانور کو ایک خاص مقام پر لے آتے تھے۔ جہاں شکاری اپنی بندو قیں لیں ان کا انتظار کرتے رہتے تھے۔

اس وادی میں جنگلی جانور بھرے پڑے تھے۔ وہاں بندر، بن مانس، ہرن اور چند تیندوے تھے، لیکن بیشتر شکاری جانور کی تاش میں رہتے تھے وہ چالاک چیتل، وہ بڑا تیز رفتار اور ہوشیار جانور تھا اور جب زخمی ہو جاتا یا پھنس جاتا تھا تو خطرناک بھی ہو جاتا تھا۔ وہاں ایک چیتل ایسا تھا جس کو ہم لوگ سفید داڑھی والا چیتل کہتے تھے۔ یہ بڑا شاندار جانور تھا اور برسوں سے شکاریوں کی بندوقوں سے بچتا چلا آرہا تھا۔ میں نے پہلی بار جب اس کو دیکھا تو میں دس برس کا تھا۔ و ہ نہایت شاہانہ انداز میں ایک کھلی ہوئی جگہ سے گزر رہا تھا۔ جب اس کے سینگ بہت لمبے اور تیز تھے ۔ اس کی کھال بھورے رنگ کی تھی۔ جس پر جا بجا سفید داغ تھے۔ ہر شکاری کی یہ آرزو تھی کہ اس کا شکار کرے جس دن سے میں نے اس کو دیکھا تھا ۔ میں اس کے سوا اور کسی بات کا خیال نہ کر سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس کا شکار کر کے میں ثابت کردوں گا کہ میں جوان ہو چکا ہوں۔

میرے والد نے کہا تھا کہ میں جب تک چودہ برس کا نہ ہو جائوں شکار نہ کروں۔ چنانچہ اگلے تین برس میں اسی خوف میں مبتلا رہا کہ کہیں کوئی دوسرا شکاری اس چیتل کو نہ ہلاک کر دے۔ مگر وہ کسی نہ کسی طرح بچ نکلا۔ ایک باروہ اس نوعمر چیتل کے پیچھے آہستہ آہستہ چلا جارہا تھاکہ اتنے میں گولیوں کی پوچھاڑ شروع ہو گئی۔ وہ نہایت تیزی سے چھلانک مار کر غائب ہو گیا اور شکاری اپنی بندوق میں گولی بھرتا ہی رہ گیا۔ ایک بار وہ دو ماہ چتیلوں کے درمیان نہایت تیزی سے گزر گیا۔ شکاری گولی نہ چلا سکے اس لئے کہ مادہ چیتل کو مارنا خلاف قانون تھا۔ تیسرے سال شکاری نے اس کا شکار کرنے کے لئے بڑی چالاکی سے اہتمام کیا۔ شکاری دریا اور وادی کے نشیبی حصے اور چٹانوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ اس طرح کوئی شکاربچ کر نہیں جا سکتا تھا۔ ہنکانے والوں نے ایک لمبی قطار بنا لی اور درختوں کے درمیان آگے بڑھنے لگے۔ پھر میں نے ان کے چلانے کی آواز سنی ۔ کیوں کہ انہوں نے چیتل کو دیکھ لیا تھا ۔ میں چٹان پر بیٹھاتھا۔ لہٰذا میں اچھی طرح دیکھ سکتا تھا۔ چیتل بھاگتا ہوا چلاجارہا تھا اور اس کے پیچھے کتے دوڑ رہے تھے۔ وہ بالکل اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں شکاری چھپے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اور گولی کی آواز کا انتظار کرنے لگے۔ میں ڈر رہا تھا کہ یہ لوگ کہیں اس کو مار نہ ڈالیں اور میں اسکا شکار نہ کر سکوں، مگر چیتل ایک دم مڑ گیا اور سیدھا ہنکانے والوں کی طرف دوڑا۔ ان لوگوں نے اپنے نیزے اور لاٹھیاں اس پر پھینکیں۔ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا ہوگا کہ اتنے میں کتوں کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ کتے کا پیچھا کرتے ہوئے جنگل کی طرف دوڑے۔ اس طرح اس چیتل نے پھر شکاریوں کو جل دیا۔ شام کو سب لوگ اسی چیتل کے بارے میں باتیں کر تے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انوکھا چور

پورے سال میں یہی سوچتا رہا کہ میں اس چیتل کے شکار میں کس طرح کامیاب ہوں، جب میرے والد نے مجھے بندوق دینے لگے تو میں بارہ بور کی بھاری بندوق پسند کی حالانکہ میرے جیسے چودہ برس کے لڑکے کے لئے بائیس بور کی ہلکی بندوق مناسب تھی۔ مگر میں چاہتا تھا کہ میری بندوق اس چیتل کے شایان شان ہو۔
جس دن شکار ہونے والا تھا۔ میں صبح تڑکے ہی اس وادی میں پہنچ جانا چاہتا تھا۔ مگرمیرے والد نے مجھے ناشتا کرنے پر مجبور کیا اور کہا تمہارے پہنچنے تک وہ چیتل وہاں موجود ہوگا۔ چنانچہ صبح کی دھندلی روشنی میں روشنی میں تمام شکاری اس وادی میں جمع ہو گئے۔ ہنکانے والوں کو روانہ کر دیا گیا اور ہم سب شکاری اپنی اپنی جگہوں کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگے۔ سب سے اچھی جگہ چٹانوں کے قریب تھی کیونکہ جب چیتل کو کتے دوڑاتے ہیں تو وہ اکثر چٹان پر چڑھ کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مجھے جب دریا کے قریب جگہ ملی تو میں بڑا مایوس ہوا ۔ اتنے میں مجھے اپنے والد کی آواز سنائی دی۔ ان کو اچھی جگہ مل گئی تھی۔ وہ بولے میں اپنی جگہ اپنے بیٹے سے تبدیل کئے لیتا ہوں۔ اس کا پہلا شکار ہے۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ اسے اچھی جگہ ملے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادی بدور

میں ڈھلوان پر چڑھ گیا اور سب سے اچھی جگہ تلاش کرنے لگا۔ میں نے ایک ٹوٹی ہوئی چٹان کو پسند کیا جس کے دونوں جانب جھاڑیاں تھیں۔ یہاں سے نشان اچھی طرح لیا جاسکتا تھا۔ بڑی دیر تک کوئی آواز نہ آئی۔ پھر ہانکنے والوں کا شور سنائی دیا۔ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ پہلے تو ایک مادہ چیتل آئی وہ میرے پاس سے گھبرا کر گزر گئی۔ پھر ایک بچہ گزرا۔ میں نے اسے چلا جانے دیا۔ میں سوچنے لگا کہ وہ چیتل دریا پار کر کے چلا گیا ہے یا پھر کسی شکاری کی گولی کا نشانہ بن گیا ہے کیونکہ میں نے دو ایک گولیوں کی آواز سنی تھی۔

پھر اچانک میرے سامنے کی جھاڑیاں ہلنے لگیں۔ تقریباً دس گز کے فاصلے پر چیتل درختوں کے جھنڈ سے نکل کر کھڑا تھا وہ خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا میں نے اپنی بندوق نیچے کی اور نشانہ لیا چیتل بالکل ساکت میرے سامنے کھڑا تھا۔ صر ف لبلبی دبانے کی دیر تھی کہ وہ گر پڑا ہوتا، لیکن نہ جانے کیا ہوا میں نے گولی نہیں چلائی۔ چیتل نے اب اپنا سر گھمایا اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سننے کے لئے اس کے بڑے بڑے کان ہلنے لگے۔ اس کی ناک تھر تھرانے لگی۔ اس کی چمکتی ہوئی بے خوف اور چوکنا آنکھیں مجھے گھورتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ وہ کچھ اس شان سے کھڑا تھا کہ میرے دل سے اس کو ہلاک کرنے کا خیال افور ہوگیا۔ کچھ دیر تک بالکل خاموشی چھائی رہی ۔ چیتل بالکل ساکت کھڑا رہا۔ پھر ہلکی ہوا جو چلی تو اس کو میری انسانی مہک محسوس ہو گئی اور وہ چھلانگیں مارکر جنگل میں غائب ہو گیا۔ میں جہاں تھا وہیں رہ گیا خاموش اور سحر زدہ۔

یہ بھی پڑھیں:  گنجے لنگور کا انجام

جب شکار ختم ہو گیا تو میرے و الد میرے پاس آئے ۔ میں نے بندوق سے گولیاں نکال کر اپنی پیٹی میں رکھ لیں۔ میرے والد نے دیکھا کہ میری پیٹی گولیوں سے بھری ہوئی ہے۔

کیا تم ناکام رہ گئے ؟ انہوں نے پوچھا میں نے سر ہلا دیا۔ وہ کہنے لگے ۔ تعجب ہے ہنکانے والوں نے چیتل کو اسی طرف آتے دیکھا تھا۔ دوسرے کسی شکاری نے اس کو نہیں دیکھا۔

میں نے اپنی نظر یں نیچی کر لیں ۔ میری خاموشی سے ان کو کچھ شبہ ہو گیا وہ آگے بڑھے اور چیتل کے پیروں کے نشانات کے پاس ٹھہر گئے۔ میں وہاں سے چل پڑا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ والد کی آنکھوں میں غصہ دیکھوں۔ ہم لوگ واپس ہونے لگے تو میں خوش ہو کر یہ سوچنے لگا کہ وہ چیتل اب سال بھر آرام سے زندہ رہے گا۔ مگر میرے والد کی خاموشی سے میں ذرا فکر مند ہوگیا۔آخر وہ بولے بیٹا ، آخر ہوا کیا ؟۔

میں نے شرمندہ ہو کر سارا واقعہ کہہ سنایا ۔ میں نے چیتل کو جس حالت میں دیکھا تھا وہ بیان کی اور بتایا کہ وہ کس شان سے کھڑا تھا۔ میں نے یہ بتانے کی بھی کوشش کی کہ جب موقع تھا تو میں نے گولی کیوں نہیں چلائی۔ میں سمجھ چکا تھا کہ اتنے شان دار جانور کو ہلاک کر دینا میرے بس میں نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ میں اپنے آپ کو ایک بڑا شکاری کہلوانا چاہتاتھا۔ پھر بھی میں اس کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔

میرے والد کچھ دیر خاموش رہے ۔ پھر انہوں نے آہستہ سے کہا۔ بیٹا، آج تم نے جو کچھ سیکھ لیاہے اس کو بہت سے لوگ برسوں میں بھی نہیں سمجھ پاتے۔ یہ کہہ کر انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے ہلاک کرنے کا طریقہ سیکھنا آسان ہے۔ مگر تم نے ر حم دلی سیکھی ہے۔

کیٹاگری میں : بچے