health_women_sea

وہم چھوڑیں صحت اپنائیں

EjazNews

ہم مفروضات میں گھرے ہوئے لوگ ہیں، تقریباً ہر معاملے میں مفروضات کو اپنی زندگی میں داخل کر رکھ ہے مفروضات سے مرا د ایسی باتیں ہیں جو سچ تو نہیں ہیں مگر فرض کر لیا گیا ہے کہ ایسا ہوتا ہوگا۔ ذیل میں کچھ ایسے ہی طبی مفروضات پیش کئے جارہے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

صدمہ کی نیند:
اس طرح کی نیند کے لئے ہم فلموں کو مورد لزام ٹھہراتے ہیں اگر سر میں ہلکی سی چوٹ لگ جانے کی وجہ سے بندہ سو جائے تو اسے زندگی کے لئے خطرہ نہ سمجھا جائے جو کہ اکثر حالات میں ہو جاتا ہے۔ ایسے میں آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ بار بار اپنے بچے کے منہ پر چانٹا مار کر اسے جگائیں ہاں اگر وہ شرارت کریں تو الگ بات ہے یاد رہے کہ چوٹ کی وجہ سے جو نیند آتی ہے وہ کبھی کوما (غیر طبعی نیند) میں تبدیل نہیں ہوتی ہے تاہم اگر آپ کے یا کسی عزیز کے سر میں شدید قسم کی چوٹ لگے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ اطمینان ہو جائے کہ کچھ گڑ بڑ تو نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دل کا معاملہ ہے!ہارٹ اٹیک کی علامات نوٹ کرلیں

زخم کا چوسنا:
یہ بہت ہی بری عادت ہے۔ منہ بیکٹیریا (جراثیم) سے بھرا ہوتا ہے اور آپ منہ کو بہر حال ایک ستھرے ماحول والا حصہ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ انگلی کٹ جانے کی صورت میں نکلنے والے خون کو چوسنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ انفیکشن کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ مفروضہ کہاں سے اور کب آیا اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے مگر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ ایسی صورت حال میں لوگ خون چوسنے سے گریز کریں۔

چھینک کا حملہ:
یہ ایک ایسا مفروضہ ہے کہ جس کے اندر کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب آپ چھینکتے ہیں تو آپ کے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے جو کہ غلط ہے مگر اس مفروضہ کے وجود میں آنے کی و جہ شاید یہ ہو کہ چھینکنے کا عمل کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جس کے دوران دل کی دھڑکن آگے پیچھے ہو جاتی ہے اس کی وجہ محض سینے میں دبائو کی تبدیلی ہوتی ہے اور بس!۔

چاکلیٹ اور دانے:
روزانہ ہی بچوں کو تاکید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں چاکلیٹ اور مرغن اشیاء نہ کھائیں۔ تمہارے چہرے پہ دانے نکل آئیں گے۔ یہ کہہ کر انہیں خبر دار کیا جاتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ نہایت محتاط سائنسی انداز میں کئے گئے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ اشیاء سے بمشکل ہی دانے وغیرہ نکلتے ہیں۔ دو گروپ کے درمیان ایک ٹیسٹ کیا گیا ایک گروپ کو کھانے کو چاکلیٹ اور مرغن غذا بالکل ہی نہیں دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو غذائیں عام استعمال سے دس گنا زیادہ مقدار میں دی گئیں اور دونوں میں کوئی قابل ذکر فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔ تاہم یہ بت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ان دونوں اشیاء کی زیادتی موٹاپے کو جنم دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شام کی پرتکلف چائے اور ہماری صحت

دل کے ساتھ ساتھ:
پلپ فکش (Pulp Fiction) بہت شاندار فلم تھی مگر یہ ایک مفروضہ کوتقویت دینے کا باعث رہی۔ بد قسمتی سے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو فوری طبی امداد دینے کے لئے متاثرہ شخص کے دل میں براہ راست انجکشن لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک دوا کی خوراک زیادہ لینے کی صورت میں گردے کے غدود کے سکڑنے کاعمل ہے جس کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں اور دل کے ٹشوز متاثر ہوتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر مفروضہ پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر حضرات کبھی بھی کسی مریض کو براہ راست دل میں انجکشن نہیں لگاتے ہیں۔ بے شک ہارٹ اٹیک کی صورت میں ایڈر ینا لائن مریض کو دی جاتی ہے مگر اسے نس کے ذریعے دیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر حضرات سوئی کی نوک کو اس وقت دل کے قریب یا آس پاس لاتے ہیں جب زائد سیال مادہ کو خارج کرنا ہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمر کے ہر حصے میں صحت مند رہنے کیلئے عمر کے مطابق معمولات اپنائیں

بڑھاپے کی نیند:
مفروضہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے آپ کو نیند کی کم ضرورت ہوتی ہے مگر دیگر مفروضوں کی طرح یہ بھی ایک مفروضہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم جوانی میں نارمل نیند لیتے ہیں مگر جب ہم بڑھنے کی طرف گامزن ہونے لگتے ہیں تو ہمیں اورزیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس مفروضہ کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بوڑھے لوگ سونے میں دشواری محسوس کرتےہیں اور اس کی و جہ سے ان کی مجموعی نیند کے دورانیہ میں کمی ہو جاتی ہے مگر یہ تو نیند نہ آنے کا مسئلہ ہوا، اسے نیند کی کمی سے تعبیر کرنا غلط ہے۔

کیٹاگری میں : صحت