11 pakistani hindo killed

11پاکستانی ہندوئوں کی انڈیا میں ہلاکت کا حساب دو:رمیش کمار (سرپرست پاکستان ہندو کونسل)

EjazNews

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد انڈین ہائی کمیشن کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے یہ افراد دھرنا دے رہے ہیں ہندوستان کی موجودہ پر تشدد حکومت کیخلاف اور ان لوگوں کیلئے جو پاکستان یہ سمجھ کر انڈیا چلے گئے تھے کہ شاید وہاں زندگی بہتر ہو جائے گی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ جہنم کی طرف سفر کر رہے ہیں۔

پاکستان کے 11ہندو شہریوں کو بھارتی ریاست راجھستان میں قتل کیا گیا:ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان سے ہجرت کر کے جانے والے خاندان کے 11افراد کو بڑی درد ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مارنے والوں کا گمان تھا کہ یہ غریب ہندو ہیں کون ان کے حق میں بولے گا حالانکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ پاکستانی ہیں۔ انہی کے خاندان کی ایک بچی پاکستان میں ہے جس نے اصل کہانی کاکچھ رخ بتایا کہ کس طرح اس کے خاندان پر پریشر عائد کیا جارہا تھا کہ وہ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان کیخلاف بولیں ۔ ہندو توا کے ایجنڈے پر عمل کریں اور یہی جرم کہ وہ پاکستان کیخلاف نہیں بولے ان کے قتل کا ایک سبب ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر محترمہ بے نظیر ہوتیں تو کشمیر پر صورتحال کبھی ایسی نہ ہوتی
11 pakistani hino killed
مظاہرے میں شریک ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد احتجاج کرتے ہوئے

پاکستان ہندو کونسل کے زیرانتظام ہونے والے اس مظاہرے میں ملک بھر سے ہندو برادری کے لوگ شریک ہیں جن کا مطالبہ ہےکہ انڈیا میں گذشتہ ماہ جودھ پور میں 11پاکستانی ہندوئوں کو قتل کیا گیا ہے۔ان کو کس نے قتل کیا ہے اور ان کو کیوں قتل کیا گیا ہے معاملے کی تحقیقات سامنے لائی جائیں۔
مظاہرین کی جانب سے انڈیا کے حکومتی اداروں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے 11پاکستانیہندوؤں کو جودھ پور میں مبینہ طور پر زہر دے کر ہلاک کیا کیونکہ وہ پاکستان کے خلاف جاسوسی پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔

اگست کی 9تاریخ کو انڈیا کی ریاست راجستھان کے ضلع جودھپور میں ایک کھیت سے ایک ہی خاندان کے 11 ایسے افراد کی لاشیں ملی تھیں جو 2015میں پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا منتقل ہو گئے تھے۔

9اگست کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹوں میں کہا تھا کہ پاکستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے اس خاندان کے افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں 4پاکستانی زخمی ہوئے: ترجمان دفتر خارجہ

رمیش کمارکے مطابق دھرنا دینے والوں کا مطالبہ ہے کہ انڈیا کی ایکسٹرنل افیئر منسٹری پاکستان کی ایمبیسی سے رابطہ کرے اور انہیں تحقیقات تک رسائی دے اور اب تک ہونے والی تحقیقات سے آگاہ بھی کرے اور ہلاک ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی شئیر کرے۔اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان سے جانے والے باقی ہندو کس حال میں ہیں۔

انڈین حکومت کی طرف سے لائے گئے متنازع قانون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈین حکومت سٹیزن ایکٹ کا ڈرامہ کر کے پاکستانی ہندوؤں کو اپنی طرف بلاتے ہیں لیکن بعد میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کئی ہندو ہجرت کرکے انڈیا چلے گئے تھے مگر اب لوگ واپس آ رہے ہیں۔

مظاہرے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے کہا کہ بھارت کو پاکستانی ہندو برادری کے 11افراد کے ناحق خون کا حساب دینا ہوگا۔ہندو خاندان پاکستان سے گیا تھا ان کا پاکستان سے رشتہ ختم نہیں ہوا۔ حکومت پاکستان ہندو برادری کے دکھ میں شریک ہے۔ متاثرہ خاندان کی واحد قانونی وارث بچی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خاندان کو مجبور کیا جا رہا تھا کہ وہ آر ایس ایس کے حق میں بیان دیں اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بنیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیر کے لوگوں کی دلیری کو سلام پیش کرتا ہوں :وزیراعظم عمران خان

خیبر پختونخواہ سے آئے پنڈت رتن کمار پنڈتوں کے صوبائی کوآرڈینیٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں احتجاج ریکارڈ کروانے آئے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی سیکولرازم کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا یہ سیکولرازم ہے کہ زیارت کے لیے آنے والے لوگوں کو قتل کیا جائے اور پھر یہ الزام لگا دیں کہ انہوں نے خودکشی کی ہے؟

ڈاکٹر رمیش کمار نے ہندو برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11پاکستانی ہندوئو ں کے قتل کا حساب دینا ہوگا۔ وہ کیسے قتل ہوئے ، کن لوگوں نے انہیں قتل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے مکمل طور پر خاموشی ہے اور اس بارے میں کچھ بھی نہیں معلومات دی جارہی کہ کیا تحقیقات ہوئی ہیں۔