islam_masjid

اللہ تعالیٰ جوچاہتا ہے، مشیت ایزدی

EjazNews

(سورۃ البقرۃ۲)
۲۰۔ قریب ہے کہ بجلی اچک لے جائے بصارت ان کی۔ جب ذرا بجلی چمکی تو چلنے لگتے ہیں اس (کی روشنی) میں اور جونہی اندھیرا چھا جاتا ہے ان پر تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو سلب کر لیتا ان کی سماعت اور بصارت ہی کو۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادرہے۔
۹۰۔ بہت بری ہے وہ چیز کہ بیچ دیا ہے انہوں نے اس کے بدلے میں اپنی جانوں کو۔وہ یہ کہ انکار کرتے ہیں وہ اس کا جو نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے محض اس ضد کی بنا پر کہ نازل کر رہا ہے اللہ تعالیٰ اپنا فضل جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، سو وہ گرفتار ہو ئے (اللہ تعالیٰ کے) پے در پے غضب میں اور کافروں کے لئے ہے عذاب ذلت آمیز ہے۔
۱۰۵۔ نہیں پسند کرتے وہ لوگ جو حاضر ہیں اہل کتا ب میں سے اور نہیں (پسند کرتے) مشرک اس بات کو کہ نازل ہو تم پر کئی خیر تمہارے رب کی طرف سے مگر اللہ تعالیٰ خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے اور اللہ تعالیٰ مالک ہے فضل عظیم کا ۔
۱۱۷۔ موجد بے مثال آسمانوں اور زمین کا اور جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا تو بس حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے ۔
۱۴۲۔ ضرور کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے پھیر دیا ہے مسلمانوں (کے رخ) کو ان کے اس قبلے سے کہ تھے پہلے یہ جس پر۔کہو (اے نبیﷺ) اللہ تعالیٰ ہی مشرق اور مغرب کو چلاتا ہے وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے پر۔
۲۱۳۔ تھے سب انسان ایک ہی امت ۔ (پھر ان میں اختلافات ہو گئے) تو بھیجے اللہ تعالیٰ نے انبیاء بشارت دینے والے اور خبردارکرنے والے۔ اور نازل کی ان کے ساتھ اپنی کتاب مبنی بر حق تاکہ فیصلہ کر لے وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا اختلاف کرتے تھے وہ جن میں اور نہیں اختلاف کیا کتاب میں مگر ان لوگوں نے جنہیں دی گئی تھی وہ اس کے بعد کہ آچکے تھے ان کے پاس واضح احکام۔ محض آپس کی ضد کی بنا پر پھر ہدایت دی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے (محمدﷺپر) ان باتوں میں جن میں اختلاف کیا کرتے تھے (پہلے لوگ) حق کی اپنے حکم سے اور اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے جسے چاہے سیدھے رستے کی۔
۲۲۰۔ امور دینی اور دنیوی کو۔ اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، بد نیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقینا اللہ تعالیٰ غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔
۲۴۷۔ اور کہا ان سے ان کے نبی نے کہ اللہ نے مقرر کیا ہے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ ، کہنے لگے ، کیونکر ہو سکتا ہے اسے حق حکمرانی ہم پر جبکہ ہم زیادہ حقدار ہیں ۔ حکمرانی کے اس سے اور نہیں دی گئی ہے اسے بہت سی دولت، نبی نے کہا بیشک اللہ نے فضیلت دی ہے اسے تم پر اور عطا فرمائی ہے اس کو فراوانی علم و عقل میں اور جسمانی طاقت میں اور اللہ عطا فرماتا ہے اپنا ملک جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہے وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا۔
۲۵۱۔پس شکست دے دی انہوں نے کافروں کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور قتل کر دیا دائود ؑ نے جالوت کو اور عطا کی اس کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا اس کو جو کچھ چاہا اور اگر نہ بٹاتا رہتا اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے تو نظام بگڑ جاتا زمین کا۔ لیکن اللہ بڑا مہربان ہے اہل علم پر۔
۲۵۳۔ یہ سب رسول ،فضیلت دی ہے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر۔ ان میں سے کوئی ایسا تھا جس سے ہم کلام ہو ا اللہ تعالیٰ اور بلند کئے بعض کے مرتبے اور عطا کیں ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی نشانیاں اور مدد کی ہم نے اس کی روح القدس سے اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو نہ لڑتے آپس میں وہ لوگ جو ان رسولوں کے بعد ہوئے۔ اس کے بعد کہ آچکی تھں ان کے پاس کھلی نشانیاں ۔ لیکن انہوں نے باہم اختلاف کیا۔ پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لے آیا اور کسی نے کفر اختیار کیا اور اگر چاہتا اللہ تو نہ لڑتے یہ لوگ آپس میں لیکن اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہی جو چاہتا ہے۔ [اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ مطلب اس کا یہ نہیں ہے کہ اللہ کے نازل کر دہ دین میں اختلاف پسندیدہ ہے۔ یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے اس کی پسند (رضا) تو یہ ہے کہ تمام انسان اس کی نازل کر دہ شریعت کو اپنا کر نار جہنم سے بچ جائیں۔ اسی لیے اس نے کتابیں اتاریں، انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ قائم کیا تاآنکہ نبی کریم ﷺ پر رسالت کا خاتمہ فرما دیا۔ تاہم اس کے بعد بھی خلفا اور علما ودعا ۃ کے ذریعے سے دعوت حق اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا سلسلہ جار ی رکھا گیا اور اس کی سخت اہمیت و تاکید بیان فرمائی گئی۔ کس لیے؟ اسی لیے تاکہ لوگ اللہ کے پسندیدہ راستے کو اختیار کریں۔ لیکن چونکہ اس نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کی نشاند ہی کر کے انسانوں کو کوئی ایک راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ بطور امتحان اسے اختیار اور ارادہ کی آزادی سے نوازا ہے ، اس لیے کوئی اس اختیار کا صحیح استعمال کر کے مومن بن جاتا ہے او کوئی اس اختیار و آزادی کا غلط استعمال کر کے کافر۔ یہ گویا اس کی حکمت و مشیت ہے، جو اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ (تفسیرنمبر ۱۳ از شاہ فہد قرآن)]
۲۵۵۔ اللہ تعالیٰ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے زندہ جاوید ہے، پوری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ نہیں آتی اس کو اونگھ اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں۔ کون ہے جو سفارش کر سکے اس کے حضور بغیر اس کی اجازت کے ۔ وہ جانتا ہے اسے بھی جو بندوں کے سامنے ہے اور وہ بھی جوان سے اوجھل ہے اور نہیں احاطہ کر سکتے وہ ذرا بھی اس کے علم میں سے مگر جس قدر وہ چاہے۔ حاوی ہے اس کی کرسی آسمانوں اورزمین پر اور نہیں تھکاتی اس کو نگہبانی ان دونوں کی اور وہی ہے برتر اور عظیم۔
۲۶۱۔ مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے ایک دانہ ، اگائے سات بالیں، ہر بالی میںہوں سو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور اللہ ہے بڑی و سعت والا اور سب کچھ جاننے والا۔
۲۶۹۔ عطا فرماتا ہے حکمت جسے چا ہے اور جسے مل گئی حکمت سو در حقیقت مل گئی اسے خیر کثیر اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر اہل عقل۔
۲۷۲۔ نہیں ہے تم پر (اے نبی ﷺ) ذمہ داری ان کو راہ پر لانے کی بلکہ اللہ تعالیٰ ہدایت بخشتا ہے جسے چاہتا ے اور جو بھی خرچ کرتے ہو تم کوئی مال (بطور خیرات) تو اس کا فائدہ تم ہی کو ہے اس لئے کہ نہیں خرچ کرتے ہو تم مگر حاصل کرنے کے لئے اللہ کی رضا اور جو بھی تم خرچ کرتے ہو کوئی مال (بطور خیرات)پورا پورا دے دیا جائے گا وہ تمہیں اور تمہاری حق تلفی نہ کی جائے گی۔
(سورۃ آل عمران ۳)
۴۔وہی تو ہے جو شکل و صورت بناتا ہے تمہاری مائوں کے پیٹ میں جیسی چاہے۔نہیں کوئی معبود سوائے اس کے۔ وہ سب پر غالب بڑی حکمت والا ہے۔
۱۳۔ بے شک تھی تمہارے لئے بڑی نشانی ان گروہوں میں جو ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ جنگ کر رہا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھ رہے تھے وہ ان کو (دوگنا) اپنے سے کھلی آنکھوں سے اور اللہ قوت بہم پہنچاتا ہے اپنی نصرت سے جس کو چاہے بے شک اس میں ایک بڑی سبق ہے دیدہ بینا ر کھنے والوں کے لئے۔
۲۶۔ کہہ دیجئے! اے اللہ مالک بادشاہی کے ۔ دیتا ہے تو حکومت جسے چاہے اور چھین لیتا ہے حکومت جس سے چاہے اور عزت د یتا ہے تو جسے چاہے اور ذلت دیتا ہے جسے چاہے۔ تیرے ہاتھ میں ہے خیر۔ بیشک تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
۲۷۔ داخل کرتا ہے تو رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور نکالتا ہے جاندار کو بے جان سے اور نکالتا ہے بے جان کو جاندار سے اور رزق دیتا ہے جسے چاہے تو بے حساب۔
۴۰۔زکریا نے کہا۔ اے میرے مالک! کیونکر ہوگا میرے ہاں لڑکا جبکہ میں ہوچکا ہوں بوڑھا اور بیوی میری بانجھ ہے۔ جواب دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہے۔
۴۵۔ اس وقت کہا تھا فرشتوں نے اے مریم! بیشک اللہ بشارت دیتا ہے تم کو کلمۃ من اللہ کی، جس کا نام مسیح عیسیٰ ا بن مریم ہوگا۔ذی وجاہت دنیا اور آخرت میں اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے وگا۔
۴۶۔ اور باتیں کرے گا لوگوں سے گہوارے میں بھی اور ادھیڑ عمر میں بھی اور صالحین میں ہوگا۔
۴۷۔ مریم نے کہا (ہائے) میرے رب! کہاں سے ہوگا میرے ہاں بچہ جبکہ نہیں چھوا ہے مجھے کسی مرد نے۔جواب دیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ جب فیصلہ کرلیتا ہے وہ کسی امر کا تو بس حکم دیتا ہے میرے ہاں بچہ جبکہ نہیں چھوا ہے مجھے کسی مرد نے۔ جواب دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ جب فیصلہ کر لیتا ہے وہ کسی امر کا تو بس حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔
۷۳۔ اور مت بات مانو ، مگر اس شخص کی جو کرتا ہو پیروی تمہارے دین کی (یہ یہود نے آپس میں کہا)۔ کہہ دو! بیشک حقیقی ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے (اور یہ اسی کی دین ہے) کہ دیا جائے کسی کو ویسا ہی جو (کبھی) تم کو دیا گیا تھا یا یہ کہ ان کو (تمہارے خلاف)قوی حجت مل جائے، تمہارے رب کے حضور سے۔ کہو ! فضل تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے وہ اپنا فضل جسے چاہے اور اللہ تعالیٰ وسعتوں کا مالک سب کچھ جاننے والا ہے۔
۷۴۔ وہ مختص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے لئے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ مالک ہے فضل عظیم کا۔
۱۲۸۔ نہیں ہے تمہیں (یہ خطاب حضور ﷺ کو ہے) اس معاملہ میں (اختیار) ذرا بھی۔ (سارا اختیار اللہ کے پاس ہے) چاہے تو وہ توبہ قبول کر ے ان کی اور چاہے تو عذاب دے انہیں کیونکہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
۱۲۹۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جوکچھ ہے زمین میں۔ بخش دے جسے چاہے اور عذاب دے جسے چاہے اور اللہ تعالیٰ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا بہت رحم کرنے والا۔
۱۷۹۔ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ چھوڑ دے مومنوں کو اس حالت میں کہ ہو تم جس میں۔ اور اللہ تعالیٰ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا بہت رحم کرنے والا۔
۱۷۹۔ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ چھوڑ دے مومنوں کو اس حالت میں کہ ہو تم جس میں۔ حتیٰ کہ الگ نہ کر دے ناپاک کو پاک سےاور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر۔ لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے (غیب کی باتیں بتانے کے لئے) لہٰذا ایمان رکھو تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان پر قائم رہے اور تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لئے ہے اجرعظیم۔

یہ بھی پڑھیں:  آداب ملاقات