Erdogan

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے75ویں اجلاس میں ترک صدر نے کیا کہا ؟

EjazNews

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں اجلاس اس لحاظ سے انفرادیت کا حامل ہے کہ اس اجلاس میں عالمی رہنما بذات خود شرکت کرنے کے بجائے کرونا وائرس کی وجہ سے آن لائن خطاب کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا نسل پرستی، زینوفوبیا، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور تعصب اور جہالت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایسے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔اس بیانیے کی وجہ سے بنیادی طور پر سیاستدان ہیں جنہوں نے ووٹوں کی خاطر یہ مقبول بیانیہ اپنایا اور وہ مخصوص لوگ ہیں جنہوں نے آزادی اظہار کے نام پر نفرت آمیز بیانات کو صحیح قرار دیا۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 15مارچ کو نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف کیے گئے حملے کو اقوام متحدہ ‘اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کا دن قرار دے۔

یہ بھی پڑھیں:  شامی میں فوج اور باغیوں کی جھڑپوں میں 72افراد ہلاک

مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے صدر رجب کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے استحکام اور امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن اسے آج تک حل نہیں کیا جا سکا۔گزشتہ سال بھارت کی جانب سے 5اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خصوصاً کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک صدر نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف جغرافیائی لحاظ سے آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ چند ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے برخلاف القدس میں سفارتخانے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے مسئلہ فلسطین مزید پیچیدہ ہو گیا ہے لیکن ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جس میں فلسطینی عوام کی رضامندی شامل نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  ملکہ برطانیہ نے بیٹے کی جگہ پوتے کوبادشاہ نامزد کر دیا

صدرکا کہنا تھا مشرقی بحیرہ روم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک علاقائی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کر رہے ہیں جس میں خطے کے ممالک کے حقوق کو مدنظر رکھا جائے اور قبرصی ترکوں کو بھی اس میں جگہ دی جائے۔ مسئلہ قبرص کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یونان کا غیرمناسب رویہ اور پالیسی ہے۔ مسئلہ قبرص کو قبرصی ترکوں کی سلامتی اور ان کے تاریخی اور سیاسی حقوق کی مستقل ضمانت دے کر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔