children_health

بچے کو الرجی سے بچائیں

EjazNews

اکثر والدین اس لئے پریشان ہوتے ہیں کہ ان کے بچے سکول نہیں جاتے ہیں، ان کی ماہانہ یا سالانہ رپورٹ بہت ہی معمولی ہوتی ہے، پڑھائی میں ان کا دل نہیں لگتا ہے۔ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں ان کا بچہ بہر حال کمزور ہوتاہے۔

ایک تحقیق سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ الرجی بچوں میں پایا جانے والا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ہے۔ والدین یہ نہیں جانتے کہ ان کے بچے کی تعلیمی کارکردگی اسی الرجی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے ۔ یہ تحقیق ماہر اطفال کی جانب سے کی گئی تھی۔ الرجی نے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی 25فیصد آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ الرجی کچھ کم تماشے نہیں دکھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی الرجی کے حوالے سے یہی تناسب ہے۔

پوری دنیا میں پھیلنے اور اضافہ کرنے میں الرجی کو پندرہ سے بیس سال کا وقت لگا ہے۔ اس کی غالباً عام وجہ سامنے آئی ہے وہ یہی ہے کہ افراد ان ہی عناصر سے متاثرہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ان کو یہ الرجی ہوتی ہے۔

روز مرہ کی بنیاد پر بچوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ سکول نہیں جاپاتے، ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے ۔ظاہر ہے کہ اس کا اثر سیدھا بچے کی تعلیم ، اس کے مستقبل اور معیار زندگی پر لازمی پڑے گا۔ اب الرجی سے نمٹنا زیادہ مشکل نہیں رہا ہے۔جدید ترین تشخیصی ٹیسٹ کے ذریعے اس کی شناخت کے ساتھ ساتھ علا ج بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کے اثرات کو بھی زائل کیا جاسکتا ہے۔

الرجی کی خاص قسم کے مریضوں کے لئے ان کی دوائوں کی خوراک میں کسی حد تک اضافہ کر دیا جاتا ہے تاکہ الرجی کا باعث بننے والے عنصر کو غیر موثر کیا جاسکے۔اس طریقہ علاج کو ایمنو تھراپی (Immuno therapy)کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ علاج تین سال تک جاری رہتا ہے۔ بچوں کے لئے اس طریقہ علاج میں ان کی زبان کے نیچے دوا کے قطرے ٹپکائے جاتے ہیں اس عمل کو ’’سب لنگول ایمنو تھراپی‘‘ کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ملیریا عالمی طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے

الرجی کیا ہے ؟:
الرجی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ہمارے جس میں کوئی ایسی چیز داخل ہو گئی ہے ، جس کو ہمارا جسم اور ہمارا جسمانی نظام کسی طور قبول نہیں کر رہا ہے۔ انسانی جسم میں ناقابل قبول شے کا دخول کو الرجی کی زد میں لے آتا ہے ۔ اب یہ چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ انڈا، گھاس پھونس، دھول مٹی، کوئی دوا، عام افراد میں ان سب اشیاء کا اتنا گہرا اثر نہیں پایا جاتا ہے لیکن ضرورت سے زیادہ حساس افراد میں ان ناقابل قبول چیزوں کا دخول الرجی کے رد عمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری دنیا میں ایسے لا تعداد عناصر ہیں جو الرجی کا موجب بنتے ہیں ان عناصر کاہمارے جس میں داخل ہونے کے لئے کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ یہ مختلف صورتوں میں ہمارے جسم میں گھستے ہیں جیسے گھریلو صفائی کے دوران اٹھنے والا گردو غبار، باغ کی صفائی کرتے ہوئے گھاس پھونس، خشک پتے، جانوروں کی غلاظت (سانس کے ذریعہ جسم میں داخل ہو سکتی ہے) گائے کا دودھ، نٹس، انڈے (غذا کے طور پر) ہمارے جسم میں چلے جاتے ہیں اس کے علاوہ شہد کی مکھی یا کوئی کیڑا ڈنک مار دے تب بھی ہم الرجی ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی اور عام وجہ گھریلو گردو غبار ہے۔

الرجی کی اقسام:
بچوں کو کئی اقسام کی الرجی متاثر کر سکتی ہے اور اس کی علامات میں جوڑوں میں درد ،بہتی ناک، چھینکیں اور آنکھوں سے پانی بہنا ہیں، اسے الرجک راثناٹس (یعنی ناک کی بلغمی جھلی کا ورم) بھی کہا جاتا ہے۔ خارش، جلد کا سوجھنا، جلد سے پانی کا اخراج بھی الرجی کی ہی ایک قسم ہے۔ جس کو ایگزیما کہتے ہیں اور ان سب کو مجموعی طور پر ایٹوپی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ خود الرجی بھی ہوتی ہے اس قسم میں ڈائریا، پیٹ میں درد اور وزن میں کمی واقع ہو جاتی ہے جلد ڈرگ الرجی کا شکار بھی ہو سکتی ہے اور خارش یا کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کی وجہ سے بھی الرجی کی زد میں آسکتی ہے۔
الرجی کی تمام اقسام کافی تکلیف د ہ علامات کے ساتھ سامنے آتی ہیں لیکن ہر حال یہ انسانی زندگی کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی دوا یا نٹس (مونگ پھلی، بادام، اخروٹ یا کیڑے کے کاٹنے سے صورتحال خراب ہو جاتی ہے اور جس جھٹکے بھی لینے لگے اگر کبھی بھی ایسا ہو جائے تو فوری طور پر طبی امداد طلب کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  پتے کی پتھری علامات اور بچاو

الرجی کی تشخیص:
الرجی کی قسم کی تشخیص کرنے کے لئے مخصوص ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کے نتائج سامنے آنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ واقعی الرجی ہے یا نہیں؟۔ اور آیا کہ متاثرہ الرجی کا ہی شکار ہے ؟ یا اس کے جسم میں کوئی اتار چڑھائو آنے کی وجہ سے وہ ایسی صورتحال سے دو چار ہوا ہے۔ بچوں میں اگر الرجی ہو جائے تو اس کی تشخیص لازمی کروانی چاہیے کیونکہ بچوں کا مدافعی نظام بہت کمزور ہوتا ہے اور وہ بآسانی الرجی سے متاثر ہو جاتے ہیں اور لا علمی کے باعث اس الرجی کے ساتھ بڑے ہو جاتے ہیں۔

الرجی کی ایک وجہ حساسیت بھی ہو سکتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ حساس بچہ پیدا ہونے سے قبل ہی ماں کے پیٹ میں ا لرجی کا شکار بن سکتا ہے۔ غذا کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے مادے اینٹی جن کی وجہ سے ہوتا ہے یہ مادہ خون کے ذریعے جسم میں داخل ہو تا ہے اور جسم کی فطرت کے خلاف کام کرتا ہے اور پھر یہ مادا شکم میں موجود بچے سے جڑے ہوئے عضو پلاسنٹا سے ہوتا ہوا بچے تک پہنچتا ہے۔ زیادہ حساس بچوں میں الرجی پیدا کرنے والے عناصر لمحوں میں وار کر دیتا ہیں۔ جو بچے کم حساس ہوتے ہیں، ان میں اثر دکھانے میں کم از کم گھنٹہ لگاتے ہیں۔

اس کی تشخیص کے لئے وسیع بنیاد پر کیا جانے والا ٹیسٹ ہے ۔سکن ٹیسٹ، اس کے لئے پن نما آلے کی مدد سے جلد میں سوراخ کیا جاتا ہے خون حاصل کر کے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک نئی تکنیک سامنے آئی ہے جو کم تکلیف دہ ہے اور اتنی ہی تکلیف دیتی ہے جو بچہ آسانی سے برداشت کر لے۔ جلد پر سوراخ کرنے کے لئے سوئی کے بجائے پلاسٹک بار استعمال کی جاتی ہے ۔ خون کے کئی اقسام کے ٹیسٹ اس لئے کئے جاتے ہیںکہ یہ پتہ چل سکے کہ الرجی کی وجہ کیا ہے ؟۔کچھ کھانے پینے کی وجہ سے یا سانس کے ذریعے یا پھر کسی کیڑے کے کاٹنے کی وجہ سے یہ الرجی ہوتی ہے ؟ فی الوقت جو طریقہ رائج ہے اس میں خاندانی پس منظر کے بارے میں معلومات لے کر جلد اور خون کے خاص قسم کے ٹیسٹ کروائے جائیں ۔ ان کے ذریعے ہی ڈاکٹر کو الرجی کے سبب کا علم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کان کے مسائل :بروقت علاج سے بہتری ممکن ہے

حکمت عملی:
سب سے پہلا اور ضروری امر یہ ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ الرجی کا سبب کیا ہے؟اور اس کا سدباب کیا اور کیسے کیا جائے ؟پہلا قدم یہی ہونا چاہئے اگر اس کا علم ہو جائے تو تکلیف اور الرجی دونوں ہی سے بچا جاسکتا ہے۔اگر بچے کسی بھی قسم کی الرجی کی زد میں ہیں تو والدین کا فرض یہی ہے کہ مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اس حوالے سے کچھ ضروری امور یہ ہیں:
الرجی پیدا کرنے والے عناصر کی شناخت کی جائے، ان سے بچنے کی کوشش کریں یا کچھ کچھ ایسا ضرور کریں کہ ان سے کم سے کم ٹکرائو ہو۔ اپنے ماحول کو صاف رکھیں ۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد الرجی کی اسی قسم سے متعلقہ ادویات کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ اس سے ہونے والی جلن اور خارش کو کم یا ختم کیا جاسکے۔ یہ خارش یا جلن الرجی کا رد عمل ہے۔ ایمونو تھراپی تب ہی کروائی جائے۔ جب بچے میں الرجی کی شدت زیادہ ہو، ابتداء میں کروانے کے بھی فوائد نہیں۔ بچے اور اس کے والدین کو الرجی کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات دی جائیں۔

کیٹاگری میں : صحت