shibli_shah_asad_since

نوازشریف کی فوج مخالف تقریر ہندوستان کے اخباروں کی ہیڈلائنز بنی ہیں:وفاقی وزیر

EjazNews

اے پی سی پررد عمل دیتے ہوئے 4وفاقی وزراء نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ وزیر اطلاعات، وزیر خارجہ ، وزیر سائنس اور وزیر منصوبہ بندی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کسی اور کے بیانیے پر چل رہے ہیں، جو ادارہ نوازشریف کے کنٹرول میں نہیں آتا وہ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ نوازشریف فواد چودھری کی طرح تندرست لگ رہے تھے، ان کی صرف سیاست نہیں جائیدادیں بھی داوَ پر لگی ہیں۔وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھاوزیراعظم عمران خان نے پہلے کہا تھا کہ جب احتساب کا عمل آگے بڑھے گا تو یہ سب مل جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پالیسی کی وجہ سے ہم نے کرونا پر قابو پایا، عالمی رہنماوَں نےبھی پاکستان کے کرونا کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے مگر کل اے پی سی میں کرونا کا کوئی ذکر تک نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی بلیک میلنگ کی گئی۔وزیراعظم عمران خان کبھی بھی کسی کو این آراو نہیں دیں گے، نوازشریف کی کل کی فوج مخالف تقریر ہندوستان کے اخباروں کی ہیڈلائنز بنی ہیں۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کا اجلاس تضادات کا مجموعہ ہے، آل پارٹیز اجلاس میں مایوسی اور ناامیدی نظرآئی ہے۔ ن لیگ ملکی معیشت دیوالیہ کر کے گئی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو مشکل اقتصادی صورتحال سے باہر نکالا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کے پاس گئے، انہیں اندازہ تھا کہ حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں ہوں گے مگر اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف بل کی آڑ میں این آراو لینے کی کوشش کی۔ این آر او لینےکا مطلب نیب کو ختم کرنا تھا،ان کو اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ عمران خان کبھی این آراو نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلاول بھٹو زرداری میاںنواز شریف کی عیادت کریں گے

وزیر سائنس کہتے ہیں نوازشریف کس منہ سےوزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہےہیں،عدلیہ کےخلاف جتنی سازشیں ہوئیں، نوازشریف اس کا حصہ رہے ہیں۔ نوازشریف کےذہن میں ہمیشہ امیرالمومنین بننے کا خبط سوار رہا وہ جس بیانیے پرچل رہے ہیں اس کا فائدہ پاکستان دشمنوں کو ہو گا۔ نوازشریف کی اداروں سے کبھی نہیں بنی، جب آپ ادھر سے پیسہ چوری کر کے باہر لے کر جائیں گے تو کوئی ادارہ آپ کو تحفظ نہیں دے گا۔ 90 کی دہائی میں جب نوازشریف کی حکومت ختم ہوئی توعدلیہ نے بحال کیا، 1983 میں جنرل جیلانی نے پہلی بار نوازشریف کو کابینہ میں شامل کرایا، جنرل ضیا الحق بھی نوازشریف کو پروموٹ کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کوعوام نے منتخب کیا ہے، ہٹانےکا اختیار بھی عوام کے پاس ہے۔

وزیراطلاعات کہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا تھا کہ نواز شریف سے لیکر تمام اپوزیشن رہنماوں کی تقاریر کو براہ راست چلنے دیا جائے، جس پر ہم نے ان کی تعمیل کرتے ہوئے نواز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی تقریر نشر ہوئی۔تاہم انہوں نے کہا کہ فضل الرحمٰن کی تقریر ہم نے نہیں روکی بلکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ان کی تقریر نہیں جانے دی، ہم تو اس کے لیے تیار تھے کہ وہ بھی بات کرتے۔
ان کا کہنا تھا اے پی سی میں نواز شریف نے الیکشن کے عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش کی اور اس انتخابات کو دھاندلی زدہ بنانے کی کوشش کی، تاہم حقائق اور تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔نوازشریف ملک کے 3 مرتبہ وزیراعظم رہے تب تو وہ الیکشن ٹھیک تھے لیکن شاید انہیں صاف اور شفاف انتخابات کی عادت نہیں ہے اور اس مرتبہ صاف و شفاف الیکشن ہوئے اور اس میں وہ حکومت نہیں بناسکے اور حکومت بنانے جتنی نشستیں حاصل نہیں کرسکے تو اس پر وہ سیخ پا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان جمعہ کو کراچی میں بڑے منصوبوں کا اعلان کریں گے:وزیر اطلاعات

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا 2013 کے انتخابات میں ہماری جماعت نے یہ بات اٹھائی تھی کہ کچھ حلقوں کی دوبارہ گنتی کی جائے اور چار حلقوں کو کھول دیا جائے اگر وہاں نتائج ٹھیک ہوئے تو ہم آپ کے ساتھ تعاون کریں گے اور حکومت کو بھی چلنے دیں گے لیکن یہ پوری کوشش پر بھی عدالت عالیہ کے فیصلے پر کمیشن بنایا گیا اور تحقیق ہوئی۔ الیکشن کو متنازع بنانا ان کا وتیرہ دیکھا ہے، چیزیں ان کی منشا کے مطابق ہو تو ٹھیک ہے، عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے تو ٹھیک ہے ان کے خلاف دے تو ٹھیک نہیں ہے، جس انتخابات میں ان کی کامیابی ہو وہ ٹھیک ہے جس میں نہ ہو تو وہ ٹھیک نہیں ہے، اس قسم کی الجھن پھیلانا اور حقائق جانتے ہوئے چیزوں کو متنازع بنانے سے وہ نہ پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں نہ ہی جمہوریت کی، اس سے وہ ایک سیاسی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کو وہ خود اپناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اور کوئی اعتراضات تھے تو ان کے اراکین قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیز میں بھی موجود ہیں تو پھر یہ انتخابی اصلاحات کیوں نہیں کرتے، انہیں کی حکومت میں انتخابی اصلاحات ہوئی تھیں اگر انہیں اعتراض تھا تو اس میں شامل کردیتے۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے ہی نہیں، وہ تو ایسی تجاویز دیں گے جس سے اس موجودہ نظام میں ان کو نقصان ہو، تاہم اس انتخابات اور جمہوریت کو آپ متنازع نہ بنائیں، اس ملک نے آپ پر بہت احسانات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز آپ سب نے دیکھا ہوگا کہ نواز شریف بڑے توانا، تندرست، ہشاش بشاش لگ رہے تھے، آیا ان کا پاکستان آنے کا ارادہ ہے یا نہیں، آیا وہ ابھی بھی اس بات پر قائم ہیں کہ وہ بیمار ہیں، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات انہوں نے دینے ہوں گے۔
جبکہ وزیرخارجہ نے کہا کہ ‘کل کے اجلاس سے مجھے مایوسی کا اظہار دکھائی اور ناامیدی کی گردان دہرائی گئی اور تضادات کا مجموعہ ہے۔ ‘سب سے زیادہ شادیانے آپ کے پڑوس میں بجائے گئے کیونکہ اس ادارے کو نشانہ بنایا گیا جس ادارے سے وہ خائف ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس ادارے نے پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنا خون دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب بھر میں نیا بلدیاتی نظام نافذ

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ان اداروں نے جو کردار ادا کیا ہے آج دنیا اس کی تعریف کررہی ہے۔بہت سی امید لگا رکھی تھی کہ ہم نے معیشت کو اتنا دیوالیہ کردیا ہے کہ وہ چل نہیں پائیں گے اور وسائل کا خلا 20 ارب چھوڑ کر گئے اور دوست ممالک نے آڑھے وقت میں ساتھ دیا اور آئی ایم ایف کے قرض کے باعث ہم اس سے نکل آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے جانے سے پہلے ایسے مالی اعلانات کیے جس سے نئی حکومت کو باہر نکلنا مشکل تھا لیکن اب آہستہ آہستہ باہر آرہا ہے، کووڈکے چیلنج کے باوجود معاشی اشاریے مثبت ہورہے ہیں۔

یاد رہے: اے پی سی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں صوبائی دارالحکومتوں سمیت بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے۔ دسمبر میں ملک گیر ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے لیے متحدہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر تمام سیاسی اور آئینی آپشنز استعمال کرے گی۔ ان میں عدم اعتماد کی تحاریک اور اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہے۔