طلسمی ٹوپی

EjazNews

قدیم جاپان میں ایک بڑے میاں رہتے تھے ۔ وہ بہت غریب لیکن ایماندار تھے اور محنت سے اپنی روزی کماتے تھے۔ ایک روز وہ اپنے گائو ں میں عبادت کررہے تھے کہ انہیں نیند کا جھونکا آگیا خواب میں انہیں ایک لمبی سی سفید داڑھی والے بزرگ نظر آئے جو کہہ رہے تھے۔

بڑے میاں میں تمہیں ایک سرخ ٹوپی دے رہا ہوں جو تمہاری محنت اور ایمانداری کا انعام ہے۔ جب تم اسے پہنو گے تو تم درختوں اور پرندوں کی باتیں بالکل اسی طرح سمجھ سکو گے جیسے انسانوں کی اس تحفے پر بڑے میاں ابھی بزرگ کا شکریہ ادا کر رہے تھے کہ وہ غائب ہو گئے۔ اور بڑے میاں کی آنکھ کھل گئی وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ خواب میں بزرگ کی دی ہوئی ٹوپی ان کی گود میں پڑی ہوئی ہے وہ بہت خوش ہوئے ٹوپی کو اپنے چوغے میں چھپا لیا اور گھر کو روانہ ہوئے۔ انہوں نے تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔ لیکن جلد ہی تھک گئے اور سڑک کے کنارے ایک درخت کی چھائوں میں سستانے کے لیے بیٹھ گئے اچانک ایک کوا مشرق کی جانب سے اڑتا ہوا آیا اور اس درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا پھر ایک اور کوا مغرب کی طرف سے آیا اور پہلے کوے کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔ بڑے میاں کو خیال آیا کہ ٹوپی کے کرشمے دیکھنے کا یہ اچھا موقع ہے۔

انہوں نے جھٹ ٹوپی نکال کر پہن لی۔ اور حیران رہ گئے کیونکہ کوئو ں کے درمیان ہونے والی باتیں آسانی سے ان کی سمجھ میں آرہی تھیں۔
ایک کوا دوسرے کوے سے کہہ رہا تھا اور سنائو مغرب کے کوے تم سے تو بہت دن بعد ملاقات ہوئی ہے۔ سب خیریت تو ہے نا؟ اور تمہارے ہا ں کی کیا خبریں ہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں:  چالاک لڑکا

واقعی مشرقی کوے بہت دن بعد ملاقات ہوئی ہے ۔ خبریں تو کوئی خاص نہیں ہیں۔ہاں ایک بات ہے ہمارے گائوں کا سردار بہت دنوں سے بیمار ہے دراصل اسے بیماری تو کوئی نہیں بلکہ ایک سانپ کی بددعا لگ گئی ہے۔ جو اس کے نئے گودام کی چھت کے شہتیروں میں اس دن سے پھنسا ہوا ہے جب سے وہ گودام بنا ہے۔ سانپ مسلسل شہتیروں سے باہر آنے کی کوشش میں ہے۔ اور اسے سخت تکلیف کا سامنا ہے مگر یہ انسان تو اس قدر بیوقوف ہوتے ہیں کہ ان کی سمجھ میں کوئی بات آتی ہی نہیں۔ افسوس کی بات ہے نا؟ اچھا تم سنائو تمہارے علاقے کی کیا خبریں ہیں۔ میری طرف بھی اسی طرح ملتے جلتے حالات ہیں۔ ہمارے گائوں کے سردار کی بیٹی بھی بیمار پڑی ہے۔

جب سردار نے کھانے کا نیا کمرہ بنوایا تا تو اس جگہ پر موجود نیم کے درخت کو گرا دیا تھا لیکن پیڑ کی جڑیں وہیں موجود ہیں اور جب بھی بارش ہوتی ہے ان میں نئی شاخیں نکلتی ہیں جو کہ فوری کاٹ دی جاتی ہیں ۔ بیچارہ درخت بہت تکلیف میں ہے نہ وہ زندہ رہ سکتا ہے نہ مر سکتا ہے اور اس کی ہی بددعا سے سردار کی بیٹی بیمار ہوئی ہے۔ لیکن انسان توبے وقوف ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔

کوئوں کی باتیں سن کر بڑے میاں بہت خوش ہوئے اور گھر کی طرف چل دئیے۔ اگلے روز وہ مغرب کی طرف گائوں کے سردار کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں قسمت کا حال بتاتا ہوں۔ سردار کا نوکر باہر آیا اور کہا کہ ہمارے سردار کی حالت بہتر ہی نہیں ہو رہی ۔ کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ اسے کیا ہوا ہے؟۔
بڑے میاں سردار کے کمرے میں گئے اور بظاہر منتر پڑھنے لگے تاکہ نفسیاتی طورپر سردار کو یقین آجائے۔ پھراچانک انہوں نے سردارسے پوچھا کہ کیاآپ نے حال ہی میں نیا گودام بنوایا ہے؟۔ اثبات میں جواب ملنے پر بڑے میاں نے بتایا کہ گودام میں چھت کے شہتیروں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا ہے اس کی تکلیف دور کرنے سے سردار کی بیماری دور ہو جائے گی ۔ سردار نے فوراً ترکان کو بلایا اور اس سے شہتیر ہٹوا دئیے۔ جونہی شہتیر ہٹے ایک دبلا پتلا اور بھوکا سانپ شہتیر سے نکل کر بھاگا ۔ ادھر سانپ کو آزادی ملی اور ادھر سردار کی بیماری ختم ہو گئی۔ اس نے خوش ہو کر بڑے میاں کو بہت سا انعام دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیر کی کارستانی

اگلے د ن بڑے میاں مشرقی گائوں گئے اور وہاں بھی اسی طریقے سے سردار کے گھر تک پہنچ گئے تاکہ اس کی بیٹی کی بیماری کی وجہ بتا سکیں۔
شام انہوں نے کھانے کے نئے کمرے میں ہی گزاری انہیں پتوں کی سرسراہٹ سنائی دی حالانکہ ہوا کانام و نشان بھی نہیں تھا۔ بڑے میاں کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا انہوں نے سرخ ٹوپی پہنی اور خاموشی سے دروازہ کھولا باہر باغ میں انہیں ایک چیڑ کے درخت کی آواز سنائی دی جو کہ نیم کے جڑوں کو دلاسہ دے رہا تھا کہ تم صبر اور ہمت سے کام لو خدا نے چاہا تو اس مرتبہ موسم بہار میں تمہاری تکلیف ضرور دور ہو جائے گی۔ اتنے میں بڑے میاں کو ایک اور درخت کی آواز آئی جو کہ نیم کی جڑوں کا حال پوچھ ہی رہا تھا اور ہمت بڑھا رہا تھا۔ تمام رات مختلف درخت نیم کی عیادت کرتے رہے اور اس کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پیارے بچو کیا آپ جانتے ہیں شور کیا ہوتا ہے؟

اپنی ٹوپی کی وجہ سے بڑے میاں ان کی تمام باتیں بڑی اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے سردار کے گھر والوں کو جمع کیا اور کہا کہ کھانے کے کمرے کے فرش میں جو نیم کی جڑیں رہ گئی ہیں ۔ انہیں کھود کر نکالو اور باغ میں کھلی جگہ پر لگا دو تاکہ پیڑ اگ سکے۔اس سے تمہارے سردار کی بیٹی فوراً ٹھیک ہو جائے گی۔ گھر والوں نے بڑے میاں کی ہدایت کے مطابق فرش کھود کر جڑیں باہر نکال لیں اور انہیں باغ میں کھلی جگہ پر دبا دیا۔ ایسا کرتے ہی سردار کی بیٹی حیرت انگیز طورپر فوراً ٹھیک ہو گئی جس سے سردار بہت خوش ہوا اس نے بڑے میاں کو مختلف تحائف اور انعام دے کر رخصت کر دیا۔

اب بڑے میاں کے پاس کافی دولت آگئی تھی۔ ان کے گھر میں خوشحالی کا دور دورہ تھا چنانچہ نیک دل بڑے میاں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سرخ ٹوپی کی مدد سے لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کہتے ہیں کہ بڑے میاں ساری عمر اپنے فیصلے پر کاربند رہے۔ بڑے میاں اکثر بچوں کو سمجھایا کرتے کہ دیکھو اگر انسان محنت کرتا ہے، ایمانداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور ناشکرا نہ ہو تو اسے ان اچھائیوں کا انعام کسی نہ کسی طور ضرور مل جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے