gold

محنت سونے سے بہتر ہے

EjazNews

ایک زمانے میں یورپ کے باشندے جنوبی امریکہ اس لئے جایا کرتے تھے کہ وہاں کی زمین کھود کر اپنی قسمت آزممائی کریں۔ شاید کچھ مال و دولت مل جائے۔ یہی خواہش سپین کے ایک باشندے کو بھی ہوئی۔ اس نے اپنے بڑے بھائی کو منصوبہ بتایا اور درخواست کی کہ آپ میرے ساتھ چلیں جو دولت ہاتھ آئے گی اسے آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔

بڑا بھائی بہت سمجھدار آدمی تھی۔ اس نے تمام بات سن کر اور سمجھ کر کہا اس میں کامیابی کی امید بہت کم ہے۔ لیکن چھوٹے بھائی پر جب اپنی با ت کا کچھ اثر نہ دیکھا تو اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گیا ۔ اس نے کہا میں تمہاری دولت میں حصہ دار نہیں بننا چاہتا ۔ میں تو تھوڑے سے نوکر اور تھوڑا بہت سامان تم کو دے دوں گا باقی تم جانو اور تمہارا کام ۔

چھوٹے بھائی نے یہ بات مان لی اور سفر کی تیاری شروع کر دی اور اپنا سارا سامان بیچ کر ایک جہاز خرید لیا۔ جلد ہی سارے شہر میں خبر پھیل گئی اور کچھ اور مال و دولت کے لالچی اس کے ساتھ سفر کرنے کو تیار ہو گئے۔ بڑا بھائی بہت سے کاشت کاری کے اوزار اور غلے اور ترکاریوں کی بوریاں لایا اور اپنے چند نوکروں کے ساتھ اس کے جہاز پر سوار ہوگیا۔ چھوٹے بھائی کو یہ سارا کباڑ دیکھ کر غصہ تو بہت آیا مگر وہ بڑے بھائی سے بات کر چکا تھا، اس لئے کچھ نہ کہہ سکا۔

جہاز روانہ ہوا اور اللہ کے فضل سے ہوا ایسی موافق آئی کہ بغیر کسی پریشانی کے اپنی منزل پر پہنچ گیا سب مسافر خشکی پر اتر گئے۔ بڑے بھائی نے کچھ بھیڑیں اوربیل خریدے اور اپنے نوکروں اور سامان کو لے کرساحل کے قرب زمین کے عمدہ سے ٹکڑے پر جا پہنچا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہہ دیا میں یہاں نہ تو رہنے کے لئے آیا ہوں اور نہ دولت کا لالچ مجھ کو یہاں لایا ہے۔ میں توصرف تمہاراساتھ دینے کی وجہ سے آیا ہوں جب تم سونا لے کر آجائو گے تو میں تمہارے ساتھ وطن کو واپس چلو ں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  نمک کا تھیلا

سونے کے خواہش مند لوگوں نے کان کھودنے والے مزدور ساتھ لئے اوربہت سا ضروری سامان لے کر اس طرف چل پڑے جہاں سونا نکلتا تھا ۔ سفر کے دوران چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی ناسمجھی پر افسوس کر کے اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔ دیکھو حضرت نے بیل اور بھیڑیں خریدی ہیں پردیس میں آکر کاشت کاری کا کھڑاک پھیلا ہے ہم دیکھو تو اپنا قیمتی وقت یوں ضائع کرنا پسند نہیں کرتے۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو اتنا کما لائیں گے کہ پشتوں تک کافی ہوگا۔ اس کے سب ساتھیوں نے اس کی عقل مندی اور ہمت کی داد دی۔ لیکن ایک بوڑھے شخص نے سر ہلا کر کہا میاں! تمہارا بھائی ایسا نہیں ہے جیسا تم خیال کرتے ہو۔ وہ بہت ذہین اور سمجھدار آدمی ہے۔

غرض یہ قافلہ دریائوں کوپار کرتا۔ دشوار دروں سےگزرتا، سخت بارش اور تیز دھوپ کی تکلیف اٹھاتا سونے کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا ۔ آخراللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک جگہ انہیں سونا بہت بڑی مقدار میں مل گیا۔ اس کامیابی نے ایسا خوش کیا کہ جس قدر تکلیفیں اٹھائیں تھیں سب بھول گئے۔ کافی عرصے تک وہاں کام جاری رہا۔ لیکن غلے کا ذخیرہ تھوڑا تھا ۔ اس لئے خوراک میں کمی کرنی پڑی اور غلہ بالکل ختم ہوگیا تو بھی ان لوگوں نے دولت کی خوشی میں ہمت نہ ہاری۔ جنگل کی جڑی بوٹیاں کھا کر دن کاٹے اور زیادہ سے زیادہ سونا جمع کرتے رہے۔ آخر سب لوگ سونا لے کر بندرگاہ کی طرف چلے۔ لیکن ایک تو سفری تکلیفیں اوردوسرا فاقے ان سب نے ان کو جلد ہی نڈھا ل کر دیا کچھ لوگ تو راستے میں مرگئے۔

یہ بھی پڑھیں:  ماں کا دل آخر ماں کادل ہے

ادھر بڑے بھائی نے اپنے نوکروں کو ساتھ لگا کرزراعت شروع کر دی اس کی محنت، سلیقے اور تجربے نے جلد ہی اس ویران جنگل کو باغ و بہار بنا دیا۔ فصل بہت اچھی ہوئی۔ ہر قسم کا غلہ اور ترکاریا ں خوب پیدا ہوئیں۔ بھیڑوں نے اتنے بچے دئیے کہ ایک بڑا گلہ ہوگیا۔ دودھ، مکھن اور پنیر کی کمی نہ رہی۔ اس کے نوکروں نے فرصت کے وقت میں مچھلیوں کا شکار کیا اور انہیں سکھا کر ایک ڈھیر جمع کر لیا۔

جب چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے پاس پہنچا تو اس کی اور اس کے باقی ساتھیوں کی حالت بہت نازک تھی۔ دو روز سے فاقے پہ فاقے کیا تھا پہلی بات جو ان مصیبت کے ماروں نے کی وہ یہ تھی کہ ہمیں کھانا کھلا دو۔

بڑے بھائی نے ان کے واپس آنے سے خوشی تو ظاہر کی اور ان کوزندہ سلامت پہنچنے کی مبارکباد بھی دی ۔ مگر کھانے کا سوال سن کر روکھا سا جوا دیا۔ جب تمہاری دولت سے مجھ کو کوئی سروکار نہیں تو میری کمائی سے تم کو کیا واسطہ ؟ جو دانہ دنکا میں نے اپنے بازوئوں کی طاقت سے حاصل کیا ہے میں تم کو کیوں مفت میں دوں۔ اگر تم کو ایسی ہی ضرورت ہے تو سونا دواور کھانا لو۔

یہ بھی پڑھیں:  گمشدہ جہاز میں خزانہ

بڑے بھائی کی اس بے رحمی پر ان لوگوں کوبڑا غصہ آیا۔ مگر بھوک کے مارے دم نکلا جارہا تھا۔ اس لیے ناچار سونے کی ڈلیاں دے کر کھانا خریدا اور اپنی جان بچائی۔ اس طرح ہر روز خرید و فروخت کا معاملہ ہوتا رہا یہاں تک کہ ان کا تمام سونا صرف پیٹ بھرنے میں خرچ ہوگیا۔

جب بڑے بھائی کو معلوم ہوا کہ ان لوگوں کا سب سرمایہ ختم ہو چکا ہے تو اس نے کہا آج کل موسم اچھا ہے۔ ہوا بھی موافق چل رہی ہے بہتر ہے کہ یہاں سے جہاز کا لنگر اٹھائو اور وطن واپس پہنچ کر بال بچوں کی خبر لو۔ اللہ جانے ان پر کیا گزری اور تمہارے انتظار میں ان بے چاروں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
چھوٹے بھائی نے افسوس سے جواب دیا جو کچھ اپنی جان کھپا کر ہم نے کمایا وہ تو سب کا سب آپ کی نظر کر چکے۔ اب خالی ہاتھ کیا جائیں اور اپنوں بیگانوں کو کیا منہ دکھائیں؟۔ اور تم جیسے سنگ دل آدمی کے ساتھ جانے سے بہتر تو یہیں مر جانا ہے۔

چھوٹے بھائی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر بڑا بھائی ہنستا ہوا اٹھا اور سارا کا سارا سونا لا کر چھوٹے بھائی اور اس کے ساتھیوں کے حوالے کر دیا اور کہا لو تمہاری دولت تم کو مبارک ہو۔ مجھے اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے میں نے جو تم سے سلوک کیا اس میں یہ مصلحت تھی کہ تمہیں اپنی غلطی معلوم ہو جائے اور ہمیشہ اس نصیحت کو یاد رکھو ’’محنت سونے سے بہتر ہے۔‘‘۔

کیٹاگری میں : بچے