imran_khan_interview

ریپ کرنے والوں کو کیمیائی یا سرجیکل طریقے سے نامرد بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے:وزیراعظم

EjazNews

معید پیرزادہ کوانٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے کرونا وائرس کے معاملے پر وہی غلطی کی جو پاکستان کی سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں، جب کرونا وائرس شروع ہوا تو ابتدائی دو ماہ کے دوران اپوزیشن مجھے مسلسل کہہ رہی تھی کہ ایک مکمل لاک ڈاون کرو جس طرح یورپ اور چین کے شہر ووہان میں تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرا یہ موقف تھا کہ ہمارا ایک بڑا طبقہ دہاڑی دار ہے جو صبح کماتے ہیں تو ان کے گھر میں شام کو چولھا جلتا ہے جبکہ بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچی آبادیاں ہیں لہٰذا میرا کہنا تھا کہ اگر ہم یورپ جیسا لاک ڈاون کرتے ہیں تو ان کا کیا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اپوزیشن، پیسے والے، اکیڈمی اور میڈیا کے ادارے ہم پر دباوڈال رہے تھے کہ اگر مکمل لاک ڈاون نہ کیا تو یہ پھیل جائے گی لیکن نریندر مودی اس دباو میں آگیا اور اس نے 4 گھنٹے کے نوٹس پر کرفیو لگا دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا اعتراض یہ تھا کہ جہاں اتنی غربت ہے وہاں مکمل لاک ڈاون نہیں کر سکتے اور جب مودی نے مکمل لاک ڈاون کیا تو ایسا ممکن نہ ہو سکا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے، پھر ہوا یہ کہ کرونا پھیلتا رہا اور جیسے ہی انہوں نے لاک ڈاون میں نرمی کی تو وہ پورے ملک میں پھیل گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے بہت جلدی فیصلہ کیا تھا کہ سخت لاک ڈاون نہیں کریں گے، ہم نے زراعت کھول دی، تعمیراتی صنعت کھول دی، پھر ہم نے ڈیٹا اکٹھا کر کے ہاٹ اسپاٹس دیکھے اور اسمارٹ لاک ڈاون کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی بدولت ہم وائرس پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔

کرونا وائرس پر بھارت سے تقابلی جائزے پر انہوں نے مزید کہا کہ مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے بھارت میں جو غربت آئی ہے اس کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کی معیشت کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا ہماری تعریف کررہی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سے سیکھو کیونکہ ہم دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہیں جنہوں نے سب سے بہتر انداز میں کرونا کا مقابلہ کیا۔

عمران خان نے اس موقع پر خبردار کیا کہ ہم کرونا پر کافی حد تک کامیابی سے قابو پا چکے ہیں لیکن سردیوں میں کرونا کی ایک اور شدید لہر آ سکتی ہے لہٰذا ابھی بھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جدوجہد آپ کو دباوجھیلنا سکھاتی ہے، جو ایک لیڈر کی سب سے بڑی صلاحیت ہوتی ہے اور اگر میں اپوزیشن کے دباو میں آجاتا تو آج ہمارا ہندوستان سے بھی برا حال ہوتا کیونکہ ہندوستان کے معاشی حالات تو ہم سے بہتر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن، میڈیا، دانشوروں اور چند ڈاکٹروں نے میرے خلاف جس طرح سے منظم مہم چلائی اور اگر میں ان کے دباومیں آجاتا تو پاکستان کا بیڑا غرق ہوجانا تھا کیونکہ ہماری معیشت بھی بیٹھ جاتی اور ہم وائرس پر بھی قابو نہیں پا رہے ہوتے اور لوگ کرونا سے مر رہے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ میری 22سال کی سیاسی جدوجہد نے مجھے ان 2 برسوں کے لیے تیار کیا کیونکہ اگر یہ جدوجہد نہ ہوتی تو میں ان دو برسوں کے دوران پڑنے والے دباو کو کبھی برداشت نہیں کر پاتا۔
لاہور۔سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ کے حوالے سے ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو ہلا دیا اور اتنی تکلیف ہوئی کہ سب نے کہا کہ اب اس معاملے پر کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دو سال قبل جب میں اقتدار میں آیا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جنسی زیادتی کے جرائم بڑھتے جارہے ہیں، صرف خواتین نہیں بلکہ بچوں کے خلاف بھی یہ بڑھتا جا رہا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ پاکستان چائلڈ پورنو گرافی میں دنیا میں سرفہرست ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی ہیکرز کے حملے :سرکاری محکموں اور اداروں سائبر سکیورٹی بڑھانے کیلئے ایڈوائزری جاری

وزیر اعظم نے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو مثالی سزا دینی چاہیے، میرے خیال میں اسے چوک پر سرعام پھانسی دینی چاہیے اور یہ سزا ریپ کرنے والوں اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کے لیے مخصوص ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جب ہم نے اس پر مباحثہ کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر سرعام پھانسی کی سزا قابل قبول نہیں ہو گی اور یورپی یونین کی جانب سے دیا جانے والا جی ایس پی پلس اسٹیٹس خطرے میں پڑے جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ریپ کرنے والوں کو کیمیائی یا سرجیکل طریقے سے نامرد بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے اور ایسا کئی ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ موٹر وے گینگ ریپ کا مرکزی ملزم 2013 میں بھی ایک گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے اور معاشرے کو اس طرح کے مجرموں سے مستقل بنیادوں پر پاک کرنے کے لیے ہمیں نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کا صرف پولیس نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مقابلہ کرنا چاہیے، دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب معاشرے میں فحاشی بڑھتی ہے تو دو چیزیں ہوتی ہیں، جنسی جرائم بڑھتے ہیں اور خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ میں فحاشی بڑھنے سے اس وقت طلاق کی شرح 70فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مغرب کے مقابلے میں ہمارا خاندانی نظام اچھا ہے تو ہم اپنا انصاف کا نظام اور ادارے بھی ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن اگر ہمارا خاندانی نظام تباہ ہو گیا تو ہم اس کو یکجا نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں تباہی دیکھی، 40سال پہلے کی ہندوستانی فلمیں دیکھ لیں اور آج کی فلمیں دیکھ لیں، دہلی دنیا میں ریپ کا دارالحکومت بن چکا ہے۔
اپنی ٹیم کی کامیابیوں کے حوالے سے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ میری ٹیم کی سب سے پہلی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، ہمارے ذخائر ختم ہو چکے تھے، ہم اپنے بیرون ملک قرضوں کی ادائیگیاں کر نہیں سکتے تھے، ہمیں چاروں طرف سے دباو کا سامنا تھا اور وہ بڑا مشکل وقت تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ ڈر تھا کہ اگر ہم اپنی رقم کی ادائیگیوں کے معاملے پر ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو اس کا اثر براہ راست روپے پر پڑنا تھا اور روپیہ جب گرتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں اور غربت بڑھ جاتی ہے جبکہ ملک میں کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں کرتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دوسرا دباویہ تھا کہ ساری اپوزیشن پہلے دن سے اکٹھی تھی اور پہلے دن سے کہا کہ حکومت ناکام ہو گئی، پہلے ملک کو کنگال کر کے چلے گئے اور پھر کہا کہ حکومت ناکام ہو گئی، ان کے ساتھ میڈیا کے کئی لوگ ملے ہوئے تھے اور افرا تفری مچائی ہوئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ایجنڈا ہے، یہ نیشنل ڈیموکریٹک اپوزیشن نہیں ہے کیونکہ وہ تو عوام کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، ان کا صرف ایک ایجنڈا ہے کہ ان کے لیڈرز کی کرپشن بچانے کے لیے کسی طرح حکومت کو بلیک میل کریں کہ عمران خان پر اتنا پریشر پڑ جائے کہ جس طرح مشرف نے دو این آر او دیے تھے، اسی طرح میں بھی دے دوں کیونکہ مشرف نے وہ این آر او دباو میں ہی دیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلا این آر او مشرف نے نواز شریف کو دیا جس میں 10سال کا معاہدہ کیا تھا کہ تم باہر چلے جاو تو ہم تمہارے حدیبیہ پیپر مل کے مقدمات بند کردیں گے اور دوسرا جب ججوں کی تحریک میں دباو پڑا تو انہوں نے کونڈا لیزا رائس سے دستخط کرائے، آصف زرداری کو این آر او دیا اور اپنی کرسی بچانے کے لیے ان کے سارے کیسز معاف کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کی نشاندہی

وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی یہ تنقید درست ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جلدی جانا چاہیے تھا لیکن ہم اس وقت کوشش میں تھے کہ ہمیں نہ جانا پڑے، پہلے کوشش تھی کہ ہمیں دوستوں سے اتنا پیسہ مل جائے کہ ہمیں جانا ہی نہ پڑے لیکن ہم نے سمجھ لیا کہ یہ ہی بڑی بات ہے کہ انہوں نے ہمیں پیسہ دیا کیونکہ اس کی بدولت ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے جبکہ میں مانتا ہوں کہ ہمیں تجربہ بھی نہیں تھا کیونکہ ہم جتنا توقع کر رہے تھے اتنا کوئی ملک بھی نہیں دیتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نیا پاکستان بنانا ایک پورا عمل ہے لیکن اپوزیشن نے پہلے دن سے حالات کا پورا فائدہ اٹھایا کیونکہ ان کا مفاد صرف بلیک میل کرنے میں تھا، انہوں نے ہمیں کرونا، ایف اے ٹی ایف، معیشت اور کشمیر پر بھی انہوں نے بلیک میل کیا اور سب کنٹینر پر چڑھ گئے۔
جب مجرم ملک کی سیاست میں آ جائیں تو وہ ملک کے بجائے اپنی ذات کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور وہ دشمن سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار کی صرف ایک کمزوری ہے جس کی وجہ سے انہیں نقصان ہوتا ہے اور ان کے مخالفین کے لیے ان کو نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے، وہ میڈیا میں زیادہ نظر نہیں آتے، وہ میڈیا پر آ کر اپنی صفائی پیش نہیں کر سکتے اور خود کو پروموٹ نہیں کر سکتے، وہ شہباز شریف کی طرح اربوں روپے اپنی پبلسٹی پر خرچ نہیں کرتے، وہ اشتہارات دے کر اپنے اوپر مثبت مضمون نہیں لکھواتے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی بھی نیا آتا ہے تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے، جب نواز شریف شروع میں آئے تھے تو جب تک لفافہ نہ چلا ہو اس وقت تک وہ پریس کانفرنس نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ لفافہ صحافت شروع بھی انہوں نے ہی کی تھی۔

انہوں نے عثمان بزدار کی ناکامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمارے بھی کچھ لوگ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی ان کو کمتر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک چیز جانتا ہوں کہ عثمان بزدار کرپٹ نہیں ہے، پنجاب میں حکومت کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ پنجاب کی بیورو کریسی اور پولیس سیاست کی نذر ہو چکی ہے اور یہ اس لیے ہوا کیونکہ 35سال سے ایک ہی پارٹی وہاں حکومت کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جب خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات کیں تو پہلے ڈیڑھ سے دو سال ہمارے لوگوں نے یہ تنقید کی کہ تھانوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے کام ہوجاتے ہیں اور ہمارے نہیں ہوتے حالانکہ وہ صرف 5سال طاقت میں رہے تھے اور یہ 30سال طاقت میں رہے۔
پنجاب میں آئی جی اور چیف سیکریٹریز کی مستقبل تبدیلیوں کے حوالے سے سوال پر انہوں کہا کہ کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ عثمان بزدار نے کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ آپ نے گورننس پہلے سے بہتر کی یا نہیں اور آپ نے غریب لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ نیا آئی جی چلے گا یا نہیں بلکہ کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کام کریں گے یا نہیں، اگر پنجاب میں جان و مال کی حفاظت نہ ہوئی تو لوگ شعیب دستگیر کو نہیں بلکہ عثمان بزدار اور عمران خان کو پکڑیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میری کابینہ اور وزرا میں سے کسی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لیکن نچلی سطح پر کرپشن جڑیں پکڑ چکی ہے۔
کسٹم میں ایک پول بنا ہوا ہے جس میں پیسہ آتا ہے اور سب میں وہ پیسہ تقسیم ہوتا ہے لیکن وہ اسے کرپٹ کہتے ہیں جو اس پول سے اوپر پیسہ بناتا ہے، یوٹیلٹی اسٹورز میں ہم خودکار نظام کے ذریعے ای گورننس لائے، ہم نے کسی کو ٹھیکا دیا، جس نے ٹھیکا جیتا اس نے کام شروع کیا تو یوٹیلٹی اسٹورز کے ملازمین نے عدالت سے حکم امتنازع لے کر جعلی کمپنی سے سستا ٹھیکا لے لیا، انہوں نے خود ہی سبوتاڑ کر دیا کیونکہ نیچے پورے سسٹم بنے ہوئے ہیں اور یہ خودکار نظام اور ای گورننس کے ذریعے ختم ہوں گے’۔
عمران خان نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جو لوکل گورنمنٹ سسٹم لا رہے ہیں یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلی مرتبہ بااختیار نظام آ رہا ہے، ہم نے بنا دیا ہے اور اس کا ایکٹ پاس ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ولیج کونسل کے الیکشن ہوں گے، براہ راست پیسہ گاوں تک جائے گا اور تحصیل ناظم کے الیکشن ہوں گے اور لندن کے میئر کی طرح لاہور کے میئر کے الیکشن ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں تباہی کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز بیٹھے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی کا سب سے اہم مسئلہ پانی کی فراہمی ہے اور اس کے لیے کے فور منصوبے کی ذمے داری وفاقی حکومت نے لی ہے، کچرے، نالوں، گٹر اور ٹرانسپورٹ یہ کراچی کے اہم مسائل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی صرف سندھ کا نہیں ہے بلکہ پاکستان کی ترقی کا مرکز ہے، کراچی کو اگر زکام ہوتا ہے تو پاکستان بیمار ہو جاتا ہے اور یہ ملک کا معاشی حب ہے لہٰذا صحیح کام کرنا پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔
متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات کی بحالی پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے اور میں اس پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتا کیونکہ ہر کسی کے اپنے مفادات اور مجبوریاں ہوتی ہیں۔
اس معاملے پر پاکستان کے موقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فلسطین کے عوام اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے، انہیں ان کا حق دینا ضروری ہیں، ان کی زمین سکڑ کر کہاں رہ گئی ہے اور جب بھی کوئی اسرائیل کو ملک تسلیم کرتا ہے تو وہ شور مچاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز اس معاملے کو نہیں مان رہے لہٰذا اگر دنیا مان بھی لے تو کیا فرق پڑتا ہے، جب تک وہ لوگ تسلیم کرتے اس وقت تک چاہے کوئی بھی ملک تسلیم کر لے کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا، انہیں علیحدہ ریاست دینا ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نریندر مودی کشمیر کے حوالے سے تاریخی غلطی کر گیا ہے، میرے خیال میں ان کے اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں، انہیں لگتا تھا کہ پاکستان خاموش رہے گا لیکن جب پاکستان نے اس پر ٹھوس موقف اپنایا تو یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھ گیا اور سلامتی کونسل میں آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین باؤلرز کی دھواں دار باؤلنگ،ساری ویسٹ انڈیز کی ٹیم 34ویں اوورمیں آؤٹ

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر کے عوام کو پوری کوشش کے باوجود دبا نہیں سکا اور انہیں جیسے ہی موقع ملا تو وہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم وہاں بھارت کی جانب سے نو آبادیاتی تبدیلی کے خطرے سے آگاہ ہیں اور اس حوالے سے حکمت عملی بنا رہے ہیں اور عالمی عدالت میں بھی جا سکتے ہیں کیونکہ چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت بھارت متنازع خطے میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو خطاب میں اصل ایجنڈا کشمیر ہے اور اس کے بعد ماحولیاتی تبدیلی ہے کیونکہ اس سے ہمارا ملک اور ہندوستان بہت بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔