دوسروں کے کام پر اپنا نام لکھنے والے ذہنی غلام

EjazNews

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ میں ایک مغل میوزم کی تعمیر ہو رہی ہے لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس کا نام مراٹھوں کے راجہ چھترپتی شوا جی کے نام پر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہیروز مغل کیسے ہو سکتے ہیں؟۔وزیر اعلی نے کہا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ قوم پرست نظریے کو فروغ دیا ہے اور جس چیز سے غلامی کی ذہنیت کی بو آتی ہو اسے ختم کر دیا جائے گا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مغل ہمارے ہیروز کیسے ہو سکتے ہیں؟ شوا جی کا نام ہی قوم پرستی اور خود پسندی کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔

اب یوگی ادیتہ ناتھ سے کوئی پوچھے کہ تاج محل شیوا جی نے بنوایا تھا یا مراٹھوں کی وہ کوئی نشانی ہے جس سے کروڑوں روپے کا کمائی ہوتی ہے۔ عجیب ہی منطق ہے تاج محل سے جو پوری دنیا میں انڈیا کی پہچان ہے وہاں سے یوگی جی کو غلامی کی ذہنیت یاد نہیں آتی لیکن اگر کوئی میوزم بننے لگے تو وہ فوراً غلام بن جاتے ہیں۔ خود انڈیا میں آج تک کچھ تعمیر تو کر نہیں سکے مغلوں کی بنی ہوئی چیزوں کے نام بدل بدل کر رکھنے والے غلامی اور آزادی کی بات کرتے ہوئے عجیب ہی لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس پوری دنیا کیلئے آزمائش بنا ہوا ہے

اس کے بعد اپنی ایک ٹویٹ میں وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ آگرے میں زیر تعمیر میوزیم کو چھترپتی شوا جی مہاراج کے نام سے جانا جائے گا۔ آپ کے نئے اترپردیش میں غلامی کی ذہنیت کی علامت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم سب کے ہیرو شیواجی مہاراج ہیں۔ جے ہند، جے بھارت۔

اب یہ وہ چورن ہے جسے چٹا چٹا کر یوگی ادیتا ناتھ جیسے لوگ اقتدار میں آگئے ہیں اور بھارت عالمی طور پر ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو دنیا اقلیتوں کیلئے دنیا کے خطرناک ممالک ہیں۔
اس سے قبل بھی یوگی آدتیہ ناتھ مغل سرائے کا نام بدل کر پنڈت دین دیال اپادھیائے رکھا جبکہ الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج رکھ دیا۔

اگر آپ میں کوئی قابلیت ہے تو نئے شہر بساﺅاور ان کے نام اپنی مرضی کے مطابق رکھو۔ اب مغل سرائے کو آپ مرضی کر لو تاریخ سے مٹا نہیں سکتے۔
مغل میوزیم کا پراجیکٹ اکھلیش یادو کی سربراہی والی سماجوادی پارٹی کی گذشتہ حکومت نے منظور کیا تھا اور یہ تاج محل کے قریب تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس میں مغل تہذیب و تمدن، مغل آرٹ کے نمونے، لباس اور دوسرے سازو سامان کے ساتھ مغل دور کے ہتھیاروں کی نمائش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر پرپاکستانی کوششیں رنگ لانے لگیں، 12سال بعد یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی

غلام ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ آپ دوسروں کی چیزوں کو اپنے نام کر لیتے ہیں جبکہ آزاد ذہنیت کے لوگ اپنی چیزوں کو بنا کر ان کا نام رکھتے ہیں۔ مغلوں سے آپ کی نفرت بجا ، آپ کا حق ہے جس سے چاہے نفرت کریں جس سے چاہے محبت کریں پر ان کی بنائی ہوئی چیزوں پر اپنے پیاروں کے نام رکھنا کہاں کی آزادی ہو گئی ۔