بدقسمتی سے کچھ لوگ مشکل حالات کو نیا پاکستان سے جوڑ رہے ہیں:وزیراعظم

EjazNews

راوی فرنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ راوی پھر سے دریا بنے گا اور لوگوں میں بیماریاں نہیں پھیلیں گی ہم نے راوی ریور منصوبہ ایک جامع پلان کے تحت شروع کیا۔ ریور منصوبے پر جو بھی مشکلات ہوں گی وفاق کی جانب سے ان کے حل کے لیے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر کے تحت بنے گا، پنجاب حکومت کا کام انفراسٹرکچر مکمل کرنا ہے۔
سابق حکمرانوں کی ترجیح پیسہ بنانا تھا، یہ لوگ ملک کو قرضوں کی دلدل میں چھوڑ کر چلے گئے، ان قرضوں کی واپسی کے لیے مشکل معاشی فیصلے کیے ہیں اس لیے مشکلات پیش آئی ہیں۔

بدقسمتی سے کچھ لوگ مشکل حالات کو نیا پاکستان سے جوڑ رہے ہیں۔ ایک گھر کو بھی ٹھیک کرنےمیں وقت لگتا ہےجس انسان کے خواب بڑے ہوتے ہیں وہی کامیاب ہوتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غریبوں کاخیال رکھنے کے لیے پناہ گاہ کا تصورلائے ہیں، پناہ گاہوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کریں گے۔ پہلی بار لوگوں کو اپنا گھر بنانے کا موقع دے رہے ہیں،غریب طبقے کے لیے ہاوَسنگ شعبے میں 30 ارب کی سبسڈی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  10اگست سے ایس او پیز کے تحت سمارٹ لاک ڈائون ختم

انہوں نے کہا کہ 40 فیصد لاہور میں کچی آبادیاں ہیں، ہم نےغریب لوگوں کے لیے نہیں سوچا،ماضی میں صرف ایک خاص طبقے کے لیے فیصلے کیےگئے۔ جب کرونا آیا تومجھے سخت لاک ڈاوَن لگانے کا کہا گیا، مجھے مزدور اورغریبوں لوگوں کی فکر تھی کہ جب انہیں گھر میں بند کر دیں گے تو ان کا کیا بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاون لگاتا توغریب طبقے کا بہت براحال ہوتا۔ ہندوستان میں غریب طبقے کا نہیں سوچا گیا جس کی وجہ سے وہاں آج بحران ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ طرز پر فلاحی ریاست بنائیں گے جہاں غریب طبقے کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ غریب طبقے کو ریلیف دینے کے لیے ہم نےسب سے پہلے ہیلتھ کارڈ دیا۔ خیبرپختونخوا میں تمام شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 31 سال پہلے جب شوکت خانم ہسپتال کے لیے زمین دی گئی تو وہاں صرف کھیت تھے اس کی تعمیر میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں اور نمل یونیورسٹی بناتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:  5اگست2020یو م استحصال کے طور پر منایا جائے گا:وزیر خارجہ