islam_masjid

اللہ تعالیٰ بس باقی ہوس، ہر چیز فنا ہونے والی ہے ماسوا اللہ تعالیٰ

EjazNews

(سورۃ البقرۃ ۲)
۱۳۷۔ پھر اگر وہ ایمان لے آئیں وہ بھی اسی طرح جیسے ایمان لائے ہو تم تو ہدایت پا گئے وہ اور اگر انحراف کریں تو پھر اصل بات یہ ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں۔ سو کافی ہے تمہارے لیے ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اور و ہ ہر بات کا سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔[صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی اسی مذکورہ طریقے پر ایمان لائے تھے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مثال دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح اے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم! تم ایمان لائے ہو تو پھر یقیناً وہ ہدایت یافتہ ہو جائیں گے۔ اگر وہ ضد اور اختلاف سے منہ موڑیں گے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی سازش آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرنے والا ہے۔ چنانچہ چند سالوں میں ہی یہ وعدہ پوراہوا اور بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا گیا اور بنو قریظہ قتل کیے گئے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے وقت ایک مصحف عثمان ان کی اپنی گود میں تھا اور اس آیت کے جملہ پر ان کے خون کے چھینٹے گرے بلکہ دھار بھی۔ کہاجاتا ہے یہ مصحف آج بھی ترکی میں موجود ہے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

(سورۃ النساء۴)
۴۵۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کار ساز اور کافی ہے اللہ تعالیٰ مدد گار۔
۷۹۔ جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بھلائی سو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی برائی سو تمہارے نفس کی طرف سے ہے اور بھیجا ہے ہم نے تم کو (اے محمد ﷺ!) لوگوں کے لیے رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (اس بات پر) گواہ۔ [یعنی اس کے فضل و کرم سے ہے یعنی کسی نیکی یا اطاعت کا صلہ نہیں ہے ۔ کیونکہ نیکی کی توفیق بھی دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی نعمتیں اتنی بے پایاں ہیںکہ ایک انسان کی عبادت وا طاعت اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ اسی لیے ایک حدیث پاک میں نبی ﷺ نے فرمایا ’’جنت میں جو بھی جائے گا، محض اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جائے گا‘‘ (اپنے عمل کی وجہ سے نہیں ) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ہاں جب تک اللہ تعالیٰ مجھے بھی اپنے دامان رحمت میں نہیں ڈھانک لے گا جنت میں نہیں جائوں گا۔(تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

یہ بھی پڑھیں:  آداب ملاقات

(سورۃ الانفال ۸)
۶۲۔ اور اگر وہ تجھے دھوکا دینا چاہئیں تو اللہ تعالیٰ تجھے کافی ہوگا۔ اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تجھے قوت دی ہے۔
۶۴۔ اے نبی ! تجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے او روہ مومن جو تیری پیروی کرتے ہیں۔

(سورۃ التوبہ ۹)
۱۲۹۔ پھر بھی اگر وہ منہ موڑ لیتے ہیں تو کہہ دے ’’مجھے اللہ کافی ہے، جس کے سوا کوئی خدا نہیں، میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں کہ وہی بڑے تخت کا مالک ہے۔

(سورۃ یونس ۱۰)
۲۹۔ ہاں ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے ، ہم تو تمہاری عبادت سے بے خبر ہیں۔

(سورۃ ا لحجر ۱۵)
۹۵۔ آپ سے جو لوگ مسخر اپن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔

(سورۃ طہ۲۰)
۱۳۱۔ اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ا میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت ) بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ [اس سے مراد آخرت کا اجر و ثواب ہے جو دنیا کے مال واسباب سے بہتر بھی ہے اور اس کے مقابلے میں باقی رہنے والا بھی۔ حدیث ایلاء میں آتا ہے کہ حضر عمر ؓنبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ ایک کھری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور بے سروسامانی کا یہ عالم، کہ گھر میں چمڑے کی دو چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے ۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا، عمر کیا بات ہے ، روتے کیوں ہو؟ عرض کیا یارسول اللہ ! قیصر و کسریٰ، کس طرح آرام و راحت کی زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کا، باوجود اس بات کے کہ آپ افضل الخلق ہیں یہ حال ہے ؟۔ فرمایا ، عمر کیا تم اب تک شک میں ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے آرام کی چیزیں دنیا میں ہی دے دی گئی ہے۔‘‘ یعنی آخرت میں ان کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔(تفسیر از شاہ فہد قرآن)]، [یعنی اصناف و اقسام کفار یہود و انصاریٰ وغیرہ کو جو دنیاوی سازو سامان دیا ہے مومن کو چاہیے کہ اس کو استحسان و اعجاب کی نظر سے نہ دیکھے۔ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نافرمانوں کے طمطراق نہ دیکھو لیکن یہ دیکھو کہ گناہ ا ور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے۔(تفسیر از کنز الایمان)]

یہ بھی پڑھیں:  نوافل کی فضیلت

(سورۃ القصص۲۸)
۸۸۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اسی کا منہ (اور ذات) اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ الاحزاب۳۳)
۳۔ آپ اللہ تعالیٰ ہی پر توکل رکھیں، وہ کار سازی کے لیے کافی ہے۔
۲۵۔ اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرئے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائدہ نہیں پایا، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ [یعنی مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہوا اور فرشتوں کے ذریعے سے اپنے مومن بندوں کی مدد کا سامان بہم پہنچا دیا ۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ، اپنے بندو ں کی مدد کی ، اپنے لشکر کو سروخرو کیا، اور تمام گروہوں کو اکیلے اس نے ہی شکست دے دی، اس کے بعد کوئی شے نہیں۔ ‘‘ یہ دعا حج، عمرہ اور سفر سے واپسی پر بھی پڑھنی چاہیے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۳۹۔ یہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔
۴۸۔ اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے ! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیے رہیں اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کا بنانے والا۔

(سورۃ الزمر ۳۹)
۳۶۔کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ؟ یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔
۳۸۔اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے۔ آپ ان سے فرمائیے کہ اچھا یہ تو بتائو جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں ؟ یا اللہ تعالیٰ مجھے پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟۔ آ پ فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے، توکل کرنے والا اسی پر توکل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جھوٹ کے نقصانات

(سورۃ المومن۴۰)
۶۴۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں والا اللہ ہے سارے جہاں کا پرورش کرنے والا۔

(سورۃ الفتح ۴۸)
۲۸۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے والا۔

(سوۃ الرحمن ۵۵)
۲۶۔ زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ [یہاں سے آیت ۳۰ تک جن و انس کو دو حقیقتوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ نہ تم خود لافانی ہو اورنہ وہ سرو سامان لازوال ہے جس سے تم اس دنیا میں متمتع ہو رہے ہو۔ لافانی اور لازوال تو صرف اس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں۔ اب اگر تم میں سے کوئی شخص ہم چومن دیگرے نیست کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ محض اس کی کم ظرفی ہے۔ اپنے ذرا سے دائرہ اختیار میں کوئی بے وقوف کبریائی کے ڈنکے بجالے، یا چند بندے جو اس کے ہتھے چڑھیں۔ ان کا خدا بن بیٹھے تو یہ دھوکے کی ٹَٹّی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے۔ کائنات کی وسعتوں میں جس زمین کی حیثیت ایک مٹر کے دانے برابر بھی نہیں ہے، اس کے ایک کونے میں دس بیس یا پچاس ساٹھ برس جو خدائی اور کبریائی چلے اور پھر قصہ ماضی بن کر رہ جائے، وہ آخر کیا خدائی اور کیا کبریائی ہے جس پر کوئی پھولے۔ زمین سے آسمانوں تک اس ناپیدا کنار کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے، تنہا ایک خدا کے حکم سے ہو رہا ہے۔ (تفسیر از تفہیم القرآن) ]
۲۷۔ صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی۔