waqar ul hasan

موٹروے زیادتی کیس کا ملزم وقار الحسن تھانہ میں پیش جرم سے انکار

EjazNews

وزیر اعلیٰ پنجاب ، صوبائی وزیر قانون، اطلاعات اور آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ہم نے مجرموں کی شناخت کر لی ہے اور یہ مجرم اطلاعات لیک ہونے کی وجہ سے فرار ہو چکے ہیں ۔اب اطلاعات ظاہر ہے ان کے محکمے سے ہی لیک ہوئی ہیں۔ انہوں نےدعویٰ کیا کہ ہم 72گھنٹوں سے بھی کم وقت میں مجرموں تک پہنچ گئے ہیں۔ مجرموں کا کریمنل ریکارڈ بھی ہے اور اس سے پہلے بھی وہ متعدد جرائم میں ملوث رہ چکے ہیں ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مجرموں کی تصاویر بھی شیئر کیاور ان کے شناختی کارڈ بھی ۔

آئی جی پنجا بکے مطابق عابد شیخوورہ کے رہائشی ے اور چھاپہ جب مارا گیا تو وہ بیوی سمیت فرار ہو چکا تھاجبکہ اسی پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ عابد 2016ء میں چوری اور 2017ء میں زنا کے مقدمے میں بھی ملوث رہا ہے۔ جبکہ وقار کیخلاف بھی دو مقدمات ہیں اور وہ چند روز پہلے ہی رہا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا شوکت خانم فنڈ ریزنگ میں خطاب

اب پولیس کو ملزم تو نہیں ملا لیکن انہوں نے اس کی 4سالہ بیٹی کو تحویل میں لے لیا ہے اور اس کے ایک رشتہ دار کو بھی گرفتار کر چکی ہے ۔
اب اس کہانی کا ایک نیا رخ سامنے آیا ہے۔موٹروے زیادتی کیس کا ملزم وقار الحسن سی آئی اے ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن لاہور میں پیش ہوا جہاں اس نے صحت جرم سے انکار کر دیاہے۔

ہم نیوز پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وقار الحسن کا کہنا ہے کہ اس نے جرم نہیں کیا ہے اسی لیے وہ بذات خود تھانے میں پیش ہوا ہے۔ جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات کہتے ہیں ملزم وقار الحسن کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا تھا اور اس کے پاس گرفتاری دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہر ملزم صحت جرم سے انکار کرتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد چند گھنٹوں میں تمام صورتحال واضح ہو جائے گی۔ ملزم عابد کا انکشاف بھی سائنسی طریقے کار سے ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم سے آئی ایم ایف کی سربراہ کی ملاقات، بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت