Evening tea

شام کی پرتکلف چائے اور ہماری صحت

EjazNews

عموماً ہم کسی ملنے والے سے تفصیلی بات چیت کے لئے اسے شام کی چائے کی دعوت دے دیتے ہیں ۔ دنیا بھر کے غذائی ماہرین میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ عصرانہ یا شام کا ناشتہ کن کن چیزوں پر مشتمل ہونا چاہئے تاکہ ایک طرف تو یہ جسم کی ضروریات کوبھی پورا کر دے اور دوسری جانب جسم میں موٹاپے سے بھی بچائے ؟۔

پوری دنیا میں عصرانہ کا رواج پایا جاتا ہے۔ شام کی چائے کا مقصد کچھ ہلکی پھلکی خوراک لے کر رات کے کھانے تک جسم کو توانائی مہیا کرتے رہنے کابھی ذریعہ ہے ۔ ہمارے معاشرے میں عموماً شام کی چائے کے ہمراہ سموسے، کچوریاں ،پکڑے، سینڈوچیز، چپس اورسلائس وغیرہ کا استعمال عام سی بات ہے لیکن اب ماہرین خوراک کہہ رہے ہیں کہ ہمیں صبح کے ناشتہ کے مقابلے میں شام کی چائے میں زیادہ چربی پیدا کرنے والی چیزیں نہیں کھانی چاہئیں۔ جیسا کہ ہم عموماً صبح کے ناشتے میں جام، جیلی اور مکھن اور نشاستہ دار (کاروبا ہائیڈریٹس ) کی چیزوں پر مشتمل خوراک لیتے ہیں۔ یہ صبح کے لحاظ سے جسم کی ضرورت ہے۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ سے ان کی کیلوریز انسان کو توانائی بہم پہنچاتی رہتی ہیں۔ یوں جسم کے موٹاپے پر ان کا زیادہ اثر نہیں پڑتا ، تاہم اگر عصرانے میں بھی ان کا استعمال کیا جائے تو یہ نامناسب ہوگا ۔غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ چربی اور نشاستہ دار اشیاء کا استعمال عصرانہ میں نہ کیا جائے۔ شام کا وقت فرصت کا ہوتا ہے اور دوپہر کے بعد جو ںجوں دن ڈھلنے لگتا ہے مصروفیات میں بھی کمی آنے لگتی ہے، لہٰذا عصرانے میں اس طرح کی توانائی کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے لہٰذا یہ خوراک جسم میں چربی کی مقدار کوبڑھا کر آپ کو موٹاپے کی طرف گامزن کرنے لگتی ہے اور یوں غیر محسوس طور پر انسان موٹا ہونے لگتا ہے جو آگے چل کر اس کی صحت کے لئے سنجیدہ طبی مسائل بھی کھڑے کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیپاٹائٹس بھی خاموش قاتل ہے

برطانوی جریدے میں غذائی ماہر ڈاکٹر اینکس لکھتے ہیں کہ عصرانے میں آٹا، میدہ اور نشاستہ دار اشیاء اور تلی ہوئی چیزوں کے مقابلے میں ایسی چیزیں استعمال کرنا چاہئیں جو غیر ثقیل اور با آسانی ہضم ہو جانے والی ہوں۔ عصرانے میں پروٹین پر مشتمل خوراک مثلاً سبزیوں کی سلاد، پھل ، دودھ اور لسی پر مشتمل اشیائے خوراک سب سے بہترین چیز ہیں۔ یہ آپ کو رات کے کھانے تک نہ صرف توانرجی پہنچاتی رہتی ہیں بلکہ نہ تو معدے پر بوجھ بنتی ہیں اور نہ ان سے موٹاپے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

پاکستان سمیت برصغیر کے ماہرین غذائیت جو غذائی سفارت کرتے ہیں ان میں عالمی ماہرین غذا کی سفارش کر دہ کلوریز سے تین چوتھائی مقدار میں زیادہ کلوریز شامل ہوتی ہیں یہی وجہ ہے اس خطے میں لوگوں کے جسمانی وزن میں اضافہ عام سی بات ہے۔ جو لوگ اپنا وزن کم کرنے کے لئے ناشتہ نہیں کرتے یا رات کا کھانا ترک کر دیتے تو ماہرین کے مطابق یہ طریقہ بھی غلط ہے ہمیں صبح میں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا صبح کا ناشتہ پیٹ بھر کر کیا جائے ۔ اگر آپ متوازن خوراک استعمال کرتے ہیں تو پھر آپ کے لئے درست طریقہ یہ ہے کہ دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان وقفے یعنی عصرانے میں ایسی خوراک استعما ل کریں جو نہ صرف رات کے کھانے تک آ پ کوتوانائی بہم پہنچائے بلکہ بھوک بھی کھل کر لگے۔ اس کے برعکس نشاستہ دار اور تلی ہوئی چیزیں آپ کے کھانے کے اوقات میں ردو بدل کے ساتھ تک معدے پر گرانی اور نظام انہضام کو بھی خراب کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملیریا سے احتیاطی تدابیر اپنا کر حفاظت ممکن ہے

غذائی امور کے ماہر برطانوی ڈاکٹر ہال لکھتے ہیں نشاستے دارخوراک کا عصرانے میں استعمال اس لئے بھی مناسب نہیں کہ یہ دماغ کے ہارمون یا مادے سیروٹونین کے اخراج میں بھی اضافہ کر دیتی ہیں جس کے باعث ہم سستی کا شکار ہونے لگتے ہیں اور یوں ہمیں ایک بار پھر نشاستے دار غذا یا قوت پہنچانے والی شکر کے اجزاء پر مشتمل خوراک کی ضرورت محسوس ہونےلگتی ہے۔اگر عصرانے میں نشاستہ دار اور ثقیل خوراک کی عادت ایک بار آپ کا معمول بن گئی تو پھر عصرانہ کی یہ عادت آپ کے روز مرہ کے غذائی معمول کوبھی تبدیل کر نے کا باعث بن سکتی ہے۔

برطانوی ماہر ایان مار بر لکھتے ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ شام کی چائے کے ساتھ نشاستے والی غذائیں نہ لے کر وزن کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ شام میں اور جب ہم رات کو سونے کے لئے لیٹتے ہیں تو اس وقت ہمارے جسم میں میٹا بولک کی شرح قدر تی طور پر کم ہونے لگتی ہے۔ دن بھر کے کام کاج کے بعد ہمارے جس میں کارٹی سول مادے کی سطح کم ہو جاتی ہے اور ہم سست ہو جاتے ہیں اس لئے ہال کی بات سو فیصد درست ہے کہ شام کے وقت جب ہمارے جسم کو زیادہ توانائی کی ضرورت نہیں ہوتی اس وقت اگر ہم نشاستے اور چکنائی والی غذا زیادہ کھائیں گے تو پھر ان سے پیدا ہونے والی چربی توانائی کی ضرورت کے نہ ہونے کے باعث ہمارے جسم میں ذخیرہ ہوتی جائے گی جو بالآخر ہمیں غیر محسوس طورپر عمر اور قدکے لحاظ سے زیادہ موٹا بنا دے گی۔ لہٰذا شام کی چائے یا عصرانہ سادہ اشیائے خوراک پر مشتمل ہونا چاہئے اور اس وقت زیادہ خوراک بھی نہیں کھانی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  مساج یا مالش کی اہمیت

ہم اور ہمارا جسم صحت مند زندگی گزارنے کے دو لازم و ملزوم حصے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں غذائی شعور کی کافی کمی پائی جاتی ہے جس کے باث ہمارے صحت متوازن بنیادوں پر قائم نہیں رہ پاتی ہے۔ اگر صحت مند زندگی بسر کرنے کی خواہش ہے تو پھر اپنے غذائی معمول کو متوازن بنائیں ورنہ زائد وزن اور بیماریوں کے لئے تیار رہیں۔

کیٹاگری میں : صحت