Quran_islam_muslim

اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کا فرمان سنو اور مانو

EjazNews

( سورۃ التغابن۶۴)
۱۲۔ لوگو! اللہ کا کہنا مانو اور رسول ﷺ کا کہنا مانو پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
۱۶۔ پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جائو اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے۔ [یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لیے کہ صرف سن لینا بے فائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔(تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کو ایذا دینا

(سورۃ الاحزاب۳۳)
۵۷۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے نہایت رسوا کن عذاب ہے ۔ [اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے کا مطلب ان افعال کا ارتکاب ہے جسے وہ ناپسند فرماتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے ؟جیسے مشرکین ، یہود اور نصاری وغیرہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے ، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات اور دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے۔‘‘یعنی یہ کہا کہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کر دیا، یہ صحیح نہیں، اس لیے کہ افعال اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ زمانے یا فلک کے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچانا، آپ ﷺ کی تکذیب، آپﷺ کو شاعر ، کذاب، ساحر وغیرہ کہنا ہے۔ علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایذا پہنچانے اور ان کی تنقیص و اہانت کو بھی آپﷺ نے ایذا قرار دیا ہے۔ لعنت کا مطلب، اللہ تعالی کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن )]

یہ بھی پڑھیں:  محرم الحرام کی فضیلت

اللہ تعالیٰ باریک بین ہے

(سور ۃ لقمان ۳۱)
۱۶۔ پیارے بیٹے ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ (بھی) خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبر دار ہے۔
(سورۃ الشوریٰ ۴۲)
۲۷۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وہ زمین میں فساد برپا کر دیتے لیکن وہ اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے وہ اپنے بندوں سے پورا خبر دار اور خوب دیکھنے والا ہے۔
(سورۃ التغابن ۶۴)
۱۱۔ کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی ، جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کوخوب جاننے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
(سورۃ الحدید۵۷)
۲۸۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پرایمان لائو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گاجس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا،اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
(سورۃ المنافقون۶۳)
۴۔ جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باقی کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقت دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔
۵۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں۔[علامہ قرطبی نے ایک بڑی بصیرت افروز بات لکھی ہے کہ عبد اللہ بن ابی کو جب اس کے قبیلہ والوں نے سمجھایا کہ اب بھی حاضر خدمت ہو کر معافی مانگ لو۔ حضور تیری بخشش کے لیے دعا فرما ئیں گے۔ تیری شقاوت ، سعادت سے بدل جائے گی تو اس نے از راہ کبر و نخت نفی میں سرہلایا اور کہنے لگا ۔’’امر تمونی ان او من فقد امنت و ان اعطی زکوٰۃ مالی فقد اعطیت فما بقی الا ان اسجد لمحمد (ﷺ) ‘‘یعنی تم نے مجھے ایمان لانے کا حکم دیا تو میں ایمان لے آیا ۔ تم نے مجھے اپنے مال کی زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تو میں نے زکوٰۃ بھی ادا کر دی۔ اب ایک ہی بات باقی ہے کہ میں محمد (ﷺ) کو سجدہ کروں۔ میں یہ نہیں کروں گا۔ اس روایت میں آپ غور کریں۔ منافق کا ذہن کس طرح غلط راہ پر چلتا ہے اس کی سوچ میں کس قدر بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ بارگاہ نبوت میں حاضری اور اللہ تعالیٰ کے محبوب سے اپنی مغفرت کی دعا کرانے میں اس کو صریح شرک نظر آنے لگتا ہے۔ وہ اپنے اعمال، نماز،زکوٰۃ وغیرہ پر ہی نازا ں رہتا ہے اور یہ ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب سے اپنی مغفرت کی دعا کرانے میں اس کو صریح شرک نظرآنے لگتا ہے۔ وہ اپنے اعمال، نماز، زکوٰۃ وغیرہ پر ہی نازاں رہتا ہے اور یہ ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے حبیب کے درکرم پر حاضر ہو کر اس کی رحمتوں سے اپنے دامن کو لبریز کرے۔ اس زمانہ میں بھی ہمیں ایسے لوگ نظرآتے ہیں جنہیں بارگاہ رسالت میں حاضری شرک اوربدعت معلوم ہوتی ہے۔ خود بھی اس سعادت سے بہرہ ور نہیں ہوتے اور لوگوں کوبھی محروم رکھنے میں ایڑی چوٹی کا ز ور صرف کرتے ہیں اور اس کو اپنے موحد ہونے کا معیار قرار دیتے ہیں۔ وہ ذرا اس آیت میں اور اس روایت میں تو غور کریں کہیں ان کا رویہ منافقین کے رویہ سے مشابہت تو نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے حجابوں سے بچائے اپنے محبوب کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری کی سعادت نصیب فرمائے ۔ حضور کی دعا برکت سے ہمارے گناہوں کو بخشے اور ہمیں دونوں جہاں کی سعادت سے بہرہ ور فرمائے۔ آمین ثم آمین (از تفسیر نمبر ۹ضیاء القرآن)]
۶۔ ان کے حق میں آپ کا استغفارکرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہ بخشے گا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ (ایسے) نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [اس آیت میں دومضمون بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ دعائے مغفرت صرف ہدایت یافتہ لوگوں ہی کے حق میں مفید ہو سکتی ہے۔ جو شخص ہدایت سے پھر گیا ہو اور جس نے اطاعت کی بجائے فسق و نافرمانی کی راہ اختیار کرلی ہو ، اس کے لیے کوئی عام آدمی تو درکنار، خود اللہ کا رسول بھی مغفرت کی دعا کرے تو اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے یہ کہ ایسے لوگوں کو ہدایت بخشنا اللہ کا طریقہ نہیں ہے جو اس کی ہدایت کے طالب نہ ہوں۔ اگر ایک بندہ خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے منہ موڑ رہا ہو ، بلکہ ہدایت کی طرف اسے بلایا جائے تو سر جھٹک کر غرور کے ساتھ اس دعوت کو رد کر دے، تو اللہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے اپنی ہدایت لیے پھر ے اور خوشامد کر کے اسے راہ راست پر لائے ۔ (از تفسیرنبر ۱۴ تفہیم القرآن)]۔
(سورۃ الملک ۶۷)
۱۲۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ثواب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مذمت دنیا