حسین مجروح

حسین مجروح

EjazNews


جداگانہ شعری اکائی کو’’ فرد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اُردو اور پنجابی، دونوں زبانوں میں بلند پایہ شعراء نے اسے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے۔ پنجابی میں’’بیت‘‘ کو باقاعدہ صنفِ سخن تسلیم کر لیا گیا ہے، جب کہ اُردو میں ابھی تک یہ غیر روایتی سطح پر اپنا جداگانہ تشخّص برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ ادوار میں اُردو میں عارف عبدالمتین کا’’ فردیات‘‘ کے حوالے سے خصوصی طور پر نام لیا جاتا ہے، جب کہ پنجابی میں کئی صوفی شعراء نے بیت لکھے ہیں۔’’ ابیاتِ باہو‘‘ کی بات کریں، تو یہ نام یقیناً شاعری کی وجہ سے ہے، کیوں کہ بیت کا مطلب، الگ شعر ہے اور یوں اشعار کا مجموعہ،’’ ابیات‘‘ کہلاتا ہے۔ اس ضمن میں میاں محمّد بخش نے’’ قصّہ سیف الملوک‘‘ میں بیت کے انداز میں ایک اخلاقی کہانی یوں بیان کی ہے؎ ’’ لوئے لوئے بھَر لے کُڑئیے جے تُوں بھانڈا بھرناں…شام پئی بِن شام محمّد گھر جاندی نےڈرناں۔‘‘اِسی طرح اُردو سے بہت قبل پنجابی کے پہلے صوفی شاعر، بابا فرید کے’’ اشلوک‘‘ بھی دو مصرعوں پر مشتمل ہیں اور تمام اشلوک منفرد مضامین لیے ہوئے ہیں۔ حال میں کئی پنجابی شعراء نے اس صنف میں سخن آزمائی کی ہے، جن میں افضل ساحر کے اشلوک شعری خُوبیوں اور زبان کی چاشنی سے بھرپور نظر آتے ہیں۔نیز،مشتاق صوفی نے فلسفیانہ دانش میں رَچے اور دَھرتی کے دُکھ سُکھ سے ہم آہنگ بیت لکھے ہیں، لیکن اس صنف میں اِن دنوں سب سے زیادہ جس شاعر کا نام لیا جاتا ہے، وہ عبّاس مرزا ہیں۔ عبّاس مرزا نے اس صنفِ سخن کو خاص و عام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُن کی اب تک اس حوالے سے درجنوں کُتب منصۂ شہود پر آ چُکی ہیں۔
بہر حال، مختلف اصناف میں مشقِ سخن جاری ہے۔ آج کا ادیب اپنے ذاتی اور کائناتی معاملات کو شعری جمال میں ڈھال کر نت نئے تجربے کرتا، دانش اور فن کی بلندیوں کی طرف رواں ہے، لیکن دونوں سمتیں انتہا کو چُھوتی نظر آتی ہیں۔ جہاں وقت کی رہ گزر کو کمال اور جمال سے آراستہ شعر و سخن کی حامل ہستیاں جگمگا رہی ہیں، وہیں کچھ راہ چلتے لوگ، جن کا تخلیق اور شعری ذوق سے دُور کا بھی واسطہ نہیں، زور آزمائی پر تُلے ہیں، اس لیے اِن دنوں شاعری پر عجب وقت ہے۔ جسے دیکھو، کچّا پکّا، بے سلیقہ، بے ربط شعری مجموعہ اُٹھائے پِھرتا ہے یا اُسے چَھپوانے کی فکر میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ عشقِ سُخن سے کوئی علاقہ ہے نہ مطالعے اور زبان کے مطالبات سے کوئی سروکار۔ رہی سہی کسر فیس بُک جیسے سماجی رابطے کے ذرائع نے پوری کر دی، جہاں ایک ایک شعر، بلکہ ایک ایک مصرعے کی بے تحاشا نمائشیں لگی رہتی ہیں اور طرفہ تماشا یہ کہ اِن نام نہاد شعری کارروائیوں پر داد کے ڈونگرے برسانے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ یوں شعر و ادب کے معیار میں گراوٹ کے علاوہ، شاعری کے سنجیدہ قارئین کا دائرہ بھی روز بہ روز سُکڑتا جا رہا ہے۔
بدمذاقی کی اس عمومی فضا میں اُن جینوئن اور صاحبِ اُسلوب شعراء کا دَم غنیمت ہے، جو سخن کے معیار پر سمجھوتا کرتے ہیں اور نہ سَستی شہرت کے طلب گار ہیں۔ اُنہی میں ایک نام، حسین مجروح کا ہے، جنھیں زمانہ اُن کے بے لاگ تبصروں، جرأتِ اظہار اور لہجے کی نویکلتا کی وجہ سے خاص توقیر سے نوازتا ہے۔ اُن کا تازہ شعری کارنامہ، فردیات کا مجموعہ ہے، جسے اُنہوں نے ’’اشعار‘‘ کا نام دیا ہے، جب کہ ہم نے اُسے’’ مجروح اشعار‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ ایک تو یہ کہ اُنہیں حسین مجروح جیسے باکمال شاعر نے تخلیق کیا ہے اور دوسرے، اس مجموعے کے سبھی اشعار اکائی کی صُورت میں بھرپور تخلیق اور فکری احساس کی ترسیل کرتے ہیں۔ چند اشعار مطلعوں کی صُورت میں بھی ہیں جب کہ بیش تر اشعار، غزل کے متفرّق اشعار کی صُورت قرطاس کی زینت بنے ہیں۔ بہت سے اشعار پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ یہ ضرب المثل کی صُورت اختیار کر سکتے ہیں۔ حُسنِ مضامین، خیال کے اچھوتے پَن اور تازہ کاری کی نزاکت نے کیا کیا رنگ جمائے ہیں، ان کا بیان قلم کی محدودات سے باہر ہے۔ جہاں تک فردیات کی اشاعت کا تعلق ہے، کوئی رسمی شاعر ہوتا، تو ان میں سے اکثر شعروں کی بنیاد پر پانچ چھے مصرعوں کی عام سی غزل کہہ لیتا، مگر یہاں ایسا شاعر زیرِ بحث ہے، جس کی سرشت میں لفظ کی حُرمت اور فن کی تقدیس پر سمجھوتا ہے ہی نہیں۔ وہ نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کے فن پر کُھل کر داد تو دے سکتا ہے، مگر دوستوں کے کم زور اشعار پر واہ واہ نہیں کرسکتا۔ یہی معیار وہ اپنی ذات اور زندگی کے عمومی چلن کی بابت بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔
سرکار دربار اور ادب میں مفاد پرستی کے عمومی رجحان کے بالکل برعکس، حسین مجروح کا حریّت کیش کردار بھی فی زمانہ باعثِ حیرت ہی سمجھا جائے گا کہ اُس نے آج تک کسی منصب دار کی صدارت میں (خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو) مشاعرہ پڑھا، نہ کوئی مضمون۔ اُس کا ہمیشہ مؤقف یہ رہا کہ ادبی نشستوں کی صدارت کسی ادیب ہی کو کرنی چاہیے۔ اُس کے اِس حیرت انگیز ادبی کردار کا مظاہرہ چند برس قبل دیکھنے میں آیا، جب اُس نے اُس وقت کے جرنیل گورنر کے ہاتھوں ادبی بیٹھک کے افتتاح پر برملا اعتراض کیا اور اسی طرح اکادمی کے زیرِ اہتمام ہونے والی،’’ صوفی کانفرنس‘‘ کی صدارت اُس وقت کے وفاقی وزیرِ تعلیم کو سونپے جانے پر کُھلے بندوں احتجاج کیا۔ اُس کا مؤقف تھا کہ یہ ادیبوں کے ثقافتی مظاہر ہیں، تو اِن کی قیادت اور صدارت بھی ادیبوں کے سپرد ہونی چاہیے، نہ کہ وہ درباریوں کی طرح سامعین میں صف بستہ ہوں۔ اُس کے یہ دو شعر اسی مجاہدانہ کردار کی عکّاسی کرتے ہیں؎ ’’عطا کرے گا جو خلعت وہ یہ بھی چاہے گا…سُخن میں شاہی نوالے کو یاد رکھا جائے۔‘‘’’کچھ اس لیے بھی تو خلعت کو آرزو نہ کیا…کہ ہم نے حوضِ شہی پر کبھی وضُونہ کیا۔‘‘اس ضمن میں ہماری رائے یہ ہے کہ جب ہم نظام کے استحکام کی بات کرتے ہیں اور معاشرے کو علم و فن کے پرچار کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سرکار دربار کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ اگر رہنمائی لینے کے لیے نہیں، تو مشورہ اور صلاح دینے کے لیے ضرور اُنھیں وقت کے سوالات سے آگاہ کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے کی دَبی دَبی سِسکیاں اُن تک پہنچانی پڑتی ہیں، ورنہ اہلِ علم و ادب اور اہلِ سیاست الگ الگ راستوں پر چلتے رہیں گے اور بگاڑ بڑھتا رہے گا۔ تفہیم اور مشاورت کے ذریعے بہتری کی جانب مائل ہوا جاسکتا ہے، لیکن ادبی تقریبات کی صدارت ہر حال میں ادیب ہی کو کرنی چاہیے، تاہم حسین مجروح ایک نظریے کے ساتھ زندہ ہے اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ، جو اپنے نظریے کا پہرہ دیتے ہیں اور اپنی سمت درست رکھتے ہیں۔
ٹی ہائوس کی بندش کے خلاف اُس کے قائدانہ کردار اور’’ الائو‘‘ کے زیرِ اہتمام سماجی، ثقافتی آگہی کی سرگرمیاں تو کل کی بات ہیں۔ تاہم، ادب میں مزاحمتی رویّے پر اصرار کے باوجود، وہ اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی وضع دار اور ملنسار واقع ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کی تربیت اور رہنمائی میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔’’ حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ کی تنقیدی مجالس ہوں، پنجابی ادبی سنگت بیٹھکیں یا انجمن ترقّی پسند مصنّفین کے جلسے، حسین مجروح کی تنقیدی اور علمی گفتگو سننے کے لائق ہوتی ہے۔ اُس کی کتابوں ’’کشید‘‘، ’’مرطبان‘‘ اور ’’آواز‘‘ نے انفرادیت اور جدّت طرازی کا جو سِکّہ جمایا تھا، اُس کا تازہ مجموعۂ فردیات ’’اشعار‘‘ اُس تاثر اور تاثیر کو مزید مستحکم کرتا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے بیش تر اشعار میں تادیر زندہ رہنے اور ضرب المثل بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ ہوں؎ پہچان ہی نہ پائے ہمیں دِل کے بام و دَر…تیری گلی سے ہو کے جو ہم اپنے گھر گئے ؎جُھولا پڑا نہ چھائوں میں بیٹھا کوئی فقیر …شیشم کا پیڑ شہر میں ہے بے آبرُو ہُوا ؎ مَیں سینت سینت کے رکھتا ہوں اپنی گُم نامی …کہ کھو گئی تو دوبارہ نہیں ملے گی مجھے ؎ پانی میں بہتا پھول یہ کہتا ہے آنکھ سے… کوئی اُدھورا خواب ہے ندی کے اُس طرف ؎ وقفے وقفے سے تِری یاد کی دستک دِل پر … جیسے دروازہ کسی رات کُھلا رہ جائے ؎ ہم نے خاموشی کو دیکھا ہے محبّت کرتے…کم سُخن، آنکھ میں آواز لیے پِھرتی تھی؎ جب سے چکّھا ہے تِرے سانولے چہرے کا نمک … ذائقہ ہوتا نہیں کوئی سزاوارِ دَہَن۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ہم اپنے کرۂ ارض کورہنے کے قابل چھوڑیں گے

بشکریہ روزنامہ جنگ