Lahore_city

1883-84میں لاہور کے قریب چھوٹے شہر

EjazNews

1881ءکی مردم شماری میں پانچ ہزار سے زیادہ آبادی کے تمام شہروں اور میونسپلٹیوں  ضلعی صدر مقامات اور فوجی چوکیوں کو ٹاﺅن کا درجہ دے دیا گیا۔ اس قانون کے تحت ضلع لاہور کے درج ذیل شہروں کو ٹاﺅن کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔

Lahore_town

چونیاں:
قصور کی طرح چونیاں بھی دریائے بیاس کے کنارے فیروز پور سے ملتان جانے والی شاہراہ پر لاہور 38 سے میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 1881ءکی مردم شماری کے مطابق چونیاں کی آبادی 8122 نفوس پر مشتمل تھی جن میں 3835 ہندو 202 سکھ اور 4085 مسلمان تھے۔ شہر کے تین حصے ہیں جن میں سے ایک مکمل طورپر مسمار ہوچکا ہے۔ باقی دوحصے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔
چونیاں کی تاریخ میں قار ئین کی دلچسپی کے لیے کو ئی خاص بات موجود نہیں۔ اس شہر کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز اور اناج کی نقل و حمل کے سلسلے میں اہمیت حاصل ہے۔ شہر کو آٹھ میل کی پختہ سڑک کے ذریعے سندھ پنجاب اینڈ دہلی ریلوے کے چھانگا مانگا ریلوے سٹیشن کے ساتھ ملادیا گیا ہے۔ سرکاری عمارتوں میں تحصیل  تھانہ  سکول ڈسپنسری اور سول ریسٹ ہاﺅس شامل ہیں۔ میونسپل کمیٹی دس ارکان پر مشتمل ہے جن میں تین سرکاری افسر اور حکومت کے نامزد سات ارکان شامل ہیں۔ سرکاری افسر یہ ہیں: ڈپٹی کمشنر صدر  ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر  نائب صدر اور تحصیلدار۔ یہاں میونسپلٹی 1866ءمیں قائم ہوئی۔ اس کی آمدنی کے ذرائع یہ ہیں: محصول چونگی کوڑے کرکٹ کی فروخت  باغات  مختلف فیسیں جرمانے اور ضلع کے فنڈز سے ملنے والی رقوم۔

کھڈیاں:
یہ قصبہ گنڈا سنگھ والا کے مغرب میں دس میل دور ستلج کی وادی میں فیروز پور سے چونیاں کے راستے ملتان جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ 1881ءمیں یہاں کی آبادی 2917 افراد پر مشتمل تھی جن میں 1071  ہندو  152 سکھ اور 1694 مسلمان تھے۔ یہ ایک پرانا قصبہ ہے جس کے ارد گرد اینٹوں کی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔ بعض مکان بہت کشادہ ہیں۔ گلیاں پختہ کی گئی ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں میونسپل کمیٹی ہاﺅس  سکول اور پولیس چوکی شامل ہیں۔ کھڈیاں کے قریب ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات موجود ہیں۔ کٹورا نہر قریب سے گزرتی ہے۔ پولیس ریسٹ ہاﺅس بھی موجود ہے۔ 1874ءمیں اسے میونسپلٹی کا درجہ دیا گیا جو 9 ارکان پر مشتمل ہے۔ اس قصبے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

قصور:
لاہور کے بعدضلع میں یہ سب سے اہم شہر ہے۔ قصو ر لاہور کے جنوب مشرق میں 34 میل دور دریائے بیاس کے شمالی کنارے پر فیروز پور جانے والی گرنیڈ ٹرنک روڈ پر واقع ہے۔ 1881ءکی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 17336 نفوس پر مشتمل تھی جن میں 3074 ہندو‘ 442 سکھ‘ 168 جین اور 13852 مسلمان شامل ہیں۔ اسے تحصیل ہیڈ کوارٹرز کا درجہ حاصل ہے۔ شہر میں کئی قلعہ بند بستیاں ہیں جنہیں کوٹ کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں  کوٹ خواجہ حسین  قلعہ پختہ کوٹ غلام محی الدین کوٹ مراد خان  کوٹ عثمان خان  کوٹ بدر الدین خان کوٹ باقر الدین خان‘ کوٹ اعظم خان‘ کوٹ حاکم خان‘ کوٹ فتح الدین خان‘ پیراں کا کوٹ اور کوٹ عبدالغنی خان۔ اس وقت افغان آبادی زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ ان کی تعداد اگرچہ بہت زیادہ ہے تاہم وہ محض کاریگر ہیں۔ ان میں صرف ناصر خان کے پاس چھوٹی سی جاگیر ہے۔ بیشتر آبادی کھوجوں  کھتریوں اور اروڑوں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایسا دکھتا ہے کراچی بارشوں میں

پچھلے عہد میں قصور پٹھانوں کی نو آبادی تھا جس میں دریائے سندھ کے اس جانب پٹھانوں کی سب سے زیادہ تعداد آباد تھی۔ مسلمانوں کے حملوں سے بہت پہلے قصور پر راجپوتوں کا قبضہ تھا۔ جس طرح لاہور کا نام لہاور سے اخذ ہے اسی طرح قصور بھی کشاور کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔روایت ہے کہ اس شہر کی بنیاد رام کے بیٹے لوہ نے رکھی جس نے لاہور بسایا تھا۔ حقیقت کچھ بھی ہو مسلمانوں کے حملے سے پہلے تاریخ میں اس شہر کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔ پندرہویں صدی میں پٹھان یہاں آباد ہوگئے۔ یہ غالباً بابر کا زمانہ تھا۔ ایک روایت کے مطابق پٹھان 1560ءمیں اکبر کے پوتے کے دور میں قصور آئے۔ اس وقت شہر کی آبادی 3500 تھی۔ نو واردوں میں حسن زئی قبیلے کے لوگ بھی شامل تھے جن کی اولاد قصور کی حاکم بن گئی اور انہوں نے ستلج کے دونوں کناروں پر وسیع زمین پر قبضہ کرلیا۔ سکھوں کے دور اقتدار میں قصور کے پٹھانوں نے زبردست مزاحمت کی۔ بھنگی نسل کے سکھ سرداروں نے 1763ءاور پھر1770 عیسوی میں قصور پر حملے کر کے پورے علاقے پر قبضہ کرلیا۔اس موقع پر پٹھانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا۔ ممتاز پٹھان خاندان کے دو بھائی نظام الدین خان اور قطب الدین خان کچھ عرصے کے لیے سکھوں کی ملازمت کرتے رہے۔یہ دونوں بھائی بڑے دلیر تھے۔ انہوں نے 1794ءمیں سکھوں کو قصور سے نکال کر پٹھانوں کی حکومت دوبارہ قائم کرلی۔ و ہ1807ءتک سکھوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ آخر کار قطب الدین خان کو رنجیت سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے اور وہ ستلج پار کر کے ممدوٹ میں اپنی جاگیر پر چلا گیا جس کے بعد قصور پر سکھوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ قصور شہر کا محل وقوع پانی کے نکاس کے لیے نہایت موزوں ہے۔ شہر میں سڑکوں اور گلیوں کے درمیان اور کناروں پر پانی کے نکاس کے لیے پختہ نالیاں تعمیر کی گئی ہیں۔ قصور علاقے کی زرعی پیداوار کی تجارت کا اہم مرکز ہے البتہ اسے تجارتی شہر قرارنہیں دیاجاسکتا۔ یہاں صرف چمڑے کا سامان خاص طورپر گھوڑوں کی زینیں اور جوتے تیار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اسے خاص شہرت حاصل ہے۔ کیپٹن نسبت نے‘ جب وہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ یہاں ایک سکول آف انڈسٹریل آرٹ قائم کیا تھا جہاں ایرانی طرز کے قالین تیار ہوتے ہیں۔ پٹھان اب زوال پذیر ہیں اور بیشتر آبادی کھوجوں‘ کھتریوں اور اروڑوں پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان کے مسائل پر بلایا گیا تھا :مریم نواز\ ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئی ہیں:شیخ رشید

قصور سب ڈویژن کا انچارج ایک ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ہے۔ سرکاری عمارتوں میں کچہری  تھانہ سکول  ڈسپنسری  سول ریسٹ ہاﺅس اور روڈ بنگلہ شامل ہیں۔ قصور کو اب سندھ پنجاب اینڈ دہلی ریلوے کی رائے ونڈ برانچ کے ذریعے لاہور سے ملا دیا گیا ہے۔ ریلوے میں فیروز پور کے بالمقابل ستلج کے کنارے گنڈا سنگھ بندر تک توسیع کردی گئی ہے۔
قصور میونسپلٹی 1867ءمیں قائم کی گئی۔ اس وقت اس کے ارکان کی تعداد سولہ ہے۔ ان میں چار سرکاری عہدیدار اور حکومت کے نامزد بارہ ارکان شامل ہیں۔ سرکاری افسروں کے نام یہ ہیں: ڈپٹی کمشنر‘ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تحصیلدار اور اسسٹنٹ سرجن۔
پٹھانوں سے قصور شہر چھیننے کے بعد سکھ حکومت نے شہر کی زمین ضبط کرلی تھی۔ سکھوں کی طرف سے حکومت انگریزوں کے حوالے کرنے کے بعد بھی یہ زمین ان کی ملکیت رہی۔ گزشتہ سیٹلمتٹ کے وقت بھی مالکانہ حقوق حکومت وقت کے پاس تھے۔ یہ زمین اب بھی سرکاری ملکیت ہے جسے مزارعے کاشت کرتے ہیں۔

پتی:
تحصیل قصور کا یہ قصبہ لاہور کے جنوب مشرق میں 38 میل دور ستلج اور بیاس کے سنگھم پر واقع ہے۔ 1881ءمیں یہاں کی آبادی 6407 افراد پر مشتمل تھی جن میں 1943 ہندو‘ 174 سکھ‘ 421 جین اور 3869 مسلمان شامل ہیں۔ اس کا نام ہیبت خان پتی بھی ہے۔ قصبے کا نام ہیبت نامی فقیراور اس کی خادمہ پتی سے منسوب ہے۔ یہ ایک قدیم قصبہ ہے۔ چین کے سیاح ہون سانگ نے‘ جو 630ءمیں پنجاب آیا‘ اس قصبے کا چائنا پتی کے نام سے تذکرہ کیا ہے۔ پنجابیوں کے لیے یہاں کی آب و ہوا بہت مفید ہے۔ پتی کے باشندے صحت مند ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں اور ان کی اکثریت فوج میںبھرتی ہے۔ بیشتر آبادی مغلوں کی ہے۔ یہاں کے مکان پکی اینٹوں سے بنائے گئے ہیں۔ بازار بہت عمدہ ہے اور گلیاں پختہ کی گئی ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں تھانہ  ریسٹ ہاﺅس اور سکول شامل ہیں۔ تھانہ اور ریسٹ ہاﺅس پکے قلعے پر بنائے گئے ہیں۔ سکھوں کے دور میں رنجیت سنگھ نے اس قلعے کو گھوڑوں کی افزائش نسل کا مرکز قرار دے دیا تھا۔
پتی میں میونسپلٹی 1874ءمیں قائم ہوئی جو گیارہ ارکان پر مشتمل ہے۔ ڈپٹی کمشنر صدر اور ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نائب صدر ہے۔ یہاں ضلع کا سب سے وسیع پرائمری سکول موجود ہے۔ مڈل سکول کو جولائی 1883ءمیں سر سنگھ منتقل کردیا گیا تھا۔ پنجاب کے کئی دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی ایک نوگزا قبر موجود ہے۔ یہاں سے اناج امرتسر اور لاہور بھیجا جاتا ہے۔

کھیم کرن:
یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو قصور اور چونیاں کی طر ح ماجھے کے کنارے بیاس پر لاہور سے 34 میل دور واقع ہے۔ یہ تحصیل قصور میں پتی جانے والی سڑک پر سات میل کے فاصلے پر ہے۔ کھیم کرن کو پکی سڑک کے ذریعے قصور کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔1881ءمیں یہاں کی آبادی 5516 افراد پر مشتمل تھی جن میں 1650 ہندو ¾ 408 سکھ اور 3458 مسلمان تھے۔کسی زمانے میں یہ ایک بڑا شہر تھا جس کا اندازہ اس کے قرب و جوار میں پائے جانے والے کھنڈرات سے ہوتا ہے۔ قصبے کی گلیاں پختہ ہیں اور یہاں دوتین بازار ہیں۔ کھیم کرن میں ایک باﺅلی ہے۔کئی مکان نہایت عمدہ ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں میونسپل کمیٹی ہاﺅس‘ سکول اور پولیس چوکی شامل ہیں۔ باری دو آب نہر کی قصور برانچ کھیم کرن کے قریب سے گزرتی ہے۔ یہاں ایک کینال ریسٹ ہاﺅس بھی موجود ہے۔ یہاں میونسپلٹی 1869ءمیں قائم ہوئی جس کے ارکان کی تعداد دس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حیات بلوچ : انصاف ہوا اور سب کو نظر بھی آیا

راجہ جنگ:
رائے ونڈ سے تین میل دور واقع یہ ایک بڑا اور خوشحال گاﺅں ہے۔ 1881ءمیں یہاں کی آبادی 5187 نفوس پر مشتمل تھی جن میں 533 ہندو 1560 سکھ اور 3094 مسلمان تھے۔ لوئر باری دوآب کینال کی مین برانچ یہاں سے گزرتی ہے۔ یہاں کینال ریسٹ ہاﺅس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں کوئی میونسپلٹی قائم نہیں۔ راجہ جنگ میں ایک پرائمری ورنیکولر سکول قائم ہے۔

سر سنگھ :
تحصیل قصور کا یہ قصبہ فیروز پور سے امرتسر جانے والی شاہراہ پر کھیم کرن کے شمال میں 19 میل دور واقع ہے۔ 1881ءمیں یہاں کی آبادی 5104 تھی جن میں 1170 ہندو  1942 سکھ اور1992 مسلمان شامل تھے۔ زیادہ تر مکان کچی اینٹوں سے بنائے گئے ہیں۔ یہاں ایک مڈل سکول قائم ہے۔ سر سنگھ میں اعلیٰ قسم کی چھینٹ تیار ہوتی ہے۔ یہاں کوئی میونسپلٹی قائم نہیں۔

شرقپور:
یہ شہر راوی کے مغرب میں تین میل اور ڈیک کے جنوب میں ساڑھے چار میل کے فاصلے پر آباد ہے۔ 1881ءکی مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 4595 افراد پر مشتمل تھی جن میں 456 ہندو  196 سکھ اور 3853 مسلمان تھے۔ یہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہے۔ شرقپور کے ارد گرد مٹی اور گارے کی چوڑی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔ پکی اینٹوں سے پختہ گلیاں تعمیر کی گئی ہیں۔ بیشتر مکان ایک منزلہ اور پکی اینٹوں سے بنائے گئے ہیں۔
چند ایک مکانات بہت عمدہ ہیں۔ وسط میں چار سو گز لمبا بازار ہے ۔ سرکاری عمارتوں میں تحصیل  تھانہ  سکول اور ڈسپنسری شامل ہیں۔ تحصیل کے قریب برج میں یورپی باشندوں کے لیے رہائش گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ ایک عربی سکول بھی ہے جس میں ستر مسلمان طلبا زیر تعلیم ہیں۔ یہاں سب سے عمدہ چاول پیدا ہوتا ہے۔ راوی پار کے علاقے میں یہ واحد اہم قصبہ ہے۔ یہاں 1874ءمیں میونسپلٹی قائم کی گئی جس کے ارکان کی تعداد بارہ ہے۔