teacher

محرومی

EjazNews

یری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر ہمیں یہاں کیوں اکٹھا کیا گیا ہے ؟ کافی طویل خاموشی سے گھبرا کر جوا د بولا۔
یقین جانو۔ مجھے خود بھی اس سلسلے میں کوئی علم نہیں۔ نوید ایک طویل سانس کھینچ کر بولا اور انگلیوں سے بالوں میں کنگھا کرنے لگا۔

میرا خیال ہے عمران کے پاس تم دونوں کے سوال کا جواب ہوگا۔ کونے میں بیٹھے عابد نے کھنکار کر کہا۔ تینوں کی نظریں عمران پرجم گئیں۔ اورعمران بوکھلا کر ان کے چہرے تکنے لگا۔ جواد، نوید ، عابد اور عمران اس وقت اپنے علاقے کی لائبریری میں تھے۔ سہ پہر تین بجے کے قریب عمران نے تینوں کو شام سات بجے لائبریری میں پہنچنے کو کہا تھا لیکن کیوں ؟۔ اس کا جواب شاید عمران کے پاس بھی نہیں تھا کیونکہ یہ پیغام اسے فہیم نے سب کو دینے کے لیے کہا تھا اور ابھی تک فہیم کا کوئی قتا نہیں تھا۔

یہ چاروں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ تھے۔ عمران ایک کامیاب ڈاکٹر تھا اور اس علاقے میں حال ہی میں آکر آباد ہوا تھا۔ جواد ایک ذہین وکیل اور ہنس مکھ جوان تھا۔ جبکہ عابد اور نوید مشہور بزنس مین تھے۔ یعنی کامیاب بیو پاری۔ حال ہی میں دونوں نے مل کر کپڑے کا کاروبار شروع کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کاروبار یں اس قدر کامیاب ہوئے کہ دوست رشک اور دشمن حسد کرنے لگے تھے۔ بہر حال دونوں بحیثیت دوست مختلف اور نیک تھے۔ البتہ سعود نے ان چاروں س الگ تھلگ راہ اپنائی تھی۔ وہ شعبہ تدریس سے وابستہ تھا اور علاقے کے سکول میں بحیثیت استاد اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔

ان پانچوں کی دوستی گزشتہ تین سالوں پر محیط تھی۔ مگر اس مدت میں ان کی گاڑھی ایسی چھننے لگی کہ کسی انجانے کو ان کے درمیان دوران گفتگو ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ بچپن کے دوست ہوں۔
تم گھبرا کیوں رہے ہو عمران ؟بتاتے کیوں نہیں؟ آخر کیوں بلایا ہے ؟ جواد عمران کو گھورتا ہوا بولا۔
بھئی، سچی بات تو یہ ہے کہ میں خود بھی تمہاری طرح لا علم ہوں۔

ماشاء اللہ ! یعنی تمہیں بھی علم نہیں تو ہم یہاں تمہارے فرشتے کے کہنے پر جمع ہو ئے ہیں۔
عابد قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے بولا۔
بہت نالائق ہو تم۔ جواد بولا۔ تمہیں ہم سے ایسا مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا۔
میری پوری بات توسن لو۔ عمران روہنا سا ہو گیا۔
ضرور۔ اب آپ تابوب میں آخری کیل ٹھونک دیں فرمائیے۔ نوید طنز یہ انداز میں بولا۔
میں اندر آسکتا ہوں حضرات ! اچانک ایک زندگی سے بھرپور آواز نے ان کو چونکا دیا۔
دروازے پر فہیم ہاتھ باندھے کھڑا چاروں کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
آئی آئیے !عمران کرسی سے اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ بڑا انتظار کرایا آپ نے ! انداز دوستانہ تھا۔
کیا مطلب! نوید حیران سے عمران کو تکتا ہوا بولا۔ یعنی تم نے فہیم کو بھی یہاں آنے کی دعوت دی تھی؟۔
نہیں ! فہیم جلدی سے بولا۔
بھئی عمران میر تم سے شرمند ہوں ۔ میری وجہ سے تمہیں خفت اٹھانی پڑی۔
بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی؟ سعود نے فہیم کو دیکھتے ہوئے کہا۔
بھلا تم عمران سے کیوں شرمندہ ہو؟۔
میری مکمل بات سن لیتے تو وجہ شرمندگی سے آگاہ ہو جاتے۔ عمران فہیم کو گھورتا ہوا بوال۔
انہی حضرت نے مجھے آپ لوگوں کویہاں جمع کرنے کے لئے کہا تھا۔
اں بھئی۔ مجھ خاکسار سے یہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔ امید ہے آپ لوگ مجھے معاف کر دیں گے۔
معافی تو بعد میں ملے گی۔ پہلے یہ بتائو کہ ہمیں کیوں بلایا ہے۔ مسعود بولا۔
بھئی آپ لوگ ناراض نہ ہوں۔ ابھی ساری بات بتا تا ہوں۔ پہلے مجھے یہ بتائو کہ تم لوگ حشمت سے واقف ہو؟۔
کیوں نہیں عمران اور مسعود ایک ساتھ بولے۔
وہی نا جو ہمارے سکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔
ہاں! فہیم نے اثبات میں سر ہلایا۔

با ت دراصل یہ ہے کہ میں نے چند مہینوں سے محسوس کیا تھا کہ سکول کی چھوٹی موٹی چیزیں اکثر غائب ہو جایا کرتی ہیں مثلاً کبھی چاک کا ڈبہ غائب ہوتا تو کبھی ڈسٹربلکہ ابھی چند ہفتوں قبل تو چھٹی جماعت کا بلیک بورڈ بھی غائب ہوگیا تھا۔
ہاں ، یاد آیا۔ مسعود جلدی سے بولا۔
مگر آج تک چور کا پتہ نہیں چل سکا۔ مجھے خود بھی حیرت تھی کہ آخر کون لے گیا۔
مگر مجھے افسوسے کہنا پڑ رہا ہے کہ تم نے آج تک سنجیدگی سے اس مسئلے کی جانب توجہ نہیں دی۔
ہاں مسعود نے سر ہلایا۔
میرا یہی خیال تھا کہ یہ چیزیں سکول کے بچے چپکے سے لے جاتے ہوں گے!۔
پہلے پہل میرا بھی یہی خیال تھا فہیم بات جاری رکھتے ہوئےبولا۔
مگر ابھی پچھلے ہفتے جب آفس سے گلوب غائب ہوگیا تو میں سخت الجھن کا شکار ہو گیا۔ آخر ایسا کون شخص ہے جو ہماری نگاہوں میں دھول جھونک کر چیزیں گھر لے جاتا ہے۔
واقعی، حیرت انگیز بات ہے۔ آخر ایسی چھوٹی موٹی چیزیں کون لے جاسکتا ہے ؟۔ عابد مسعود کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔

یہ بھی پڑھیں:  نمک کا تھیلا

چھوٹی موٹی چیزیں۔ بلیک بورڈ بھی غائب ہو چکا ہے اور گلوب بھی۔ جواد فکر مندانہ انداز میں بولا۔
جن دنوں گلوب چوری ہوا۔ ان دنو ں میں چھٹی پر تھا۔ اس لئے مجھے پتا نہیں چلا مسعود بولا۔
اب سب سے حیرت انگیز بات سنو فہیم بولا۔
ایک روز حسب معمول جب میں اپنی کلاس لے کر سٹاف روم کی طرف جارہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حشمت صاحب کلاس نہم سے سے چپکے سے نکلے۔ چونکہ ان کا انداز کچھ عجیب سا تھا اس لیے میں ان کے پیچھے ہو لیا۔ جب وہ سیڑھیاں اترنے لگے تو اچانک ان کے کوٹ سے کوئی چیز گری اور سیڑھیوں پر لڑکھتی ہوئی پھیل گئی اور اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ وہ چاک کے ٹکڑے تھے۔
نہیں۔۔۔!مسعود حیرت سے بولا۔
یقین نہیں آتا کہ حشمت صاحب ایسی حرکت کر سکتے ہیں ۔
بھلا انہیں ایسی چیزیں چرانے کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا وہ اسے سب کے سامنے نہیں لے جا سکتے آخر ہیڈ ماسٹر ہیں سکول کے ۔ انہیں کون منع کر سکتا ہے؟ جواد کہتا چلا گیا۔
یہاں تک میرا خیال ہے۔ انہوں نے ابھی حال ہی میں کوئی کتاب بھی لکھی ہے جس کا تین زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ نام مجھے ابھی یاد نہیں آرہا ہے !عابد بولا۔
بھئی حیرت تو مجھے بھی بہت ہوئی تھی فہیم بولا۔

پھر میں نے سوچا شاید یہ اتفاق ہو مگر شک کو رفع کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اس لئے میں نے ان کے ملازم سے راہ ہموار کی ۔ تم لوگوں کو تو معلوم ہی ہے کہ حشمت صاحب نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے اپنے گھر میں دو ملازموں کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہر حال میں نے ملازم کو صرف یہی بتایا تھا کہ مجھے ایک رجسٹرڈ کی ضرورت ہے جو غلطی سے فہیم صاحب لے آئے ہیں اس میں ابھی چند غلطیاں باقی ہیں۔ اگر میں نے درست نہ کیں تو میری ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ملازم بھی شاید کوئی اچھا ہی آدمی تھا۔ مان گیا اور ایک دن مجھے اس نے اطلاع دی کہ آج حشمت صاحب کسی دوست کی شادی میں جارہے ہیں رات گئے واپسی ہوگی میں ان کے گھر پہنچ گیا۔ پہلی مرتبہ ان کے گھر کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب سی ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے مدتوں سے خالی خالی رہا ہو۔ پھر میں نے ملازم کے جاتے ہی ان کے کمرے کی تلاشی لی مگر مجھے کوئی بھی قابل ذکر چیز نہ ملی۔ میں مایوس ہو گیا کہ شاید مجھے غلط فہمی ہی ہوئی ہے مگر خیال ہوا کہ اس قسم کی چیزیں حشمت صاحب نے یقینا کسی محفوظ جگہ رکھی ہو ں گی۔ بس یہی سوچ کر میں نے پھر ملازم کو جا کر کریدا ۔ کافی دیر تگ و دو کے بعد اس نے مجھے بتایا کہ صاحب اکثر پیچھے والے کمرے میں رہتے ہیں اور وہاں ہمیں جانے کی اجازت نہیں۔ میں اس کمرے تک پہنچا ۔ اتنی کامیابی حاصل کرنے کے بعد دروازے پر لگا قفل دیکھ کر میری امید دم توڑنے لگی۔ بہر کیف میں نے ہمت نہیں ہاری اور کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے لگا جس کی بدولت اندر کا جائزہ لے سکوں۔ بالکل مجھے ایک کھڑکی ایسی نظر آئی جو کہ میرے مطلب کی تھی یعنی اس میں اندے (آر پار نہ دکھائی دینے والے ) شیشے لگے ہوئے تھے۔ میں نے ایک جانب سے شیشہ توڑ دیا۔
اندر کے منظر نے میرے شک و شبہ کویقین کی منزل تک پہنچا دیا۔  کمرے میں نہ صرف چاک کے ڈبے اور ڈسٹر بلکہ سکول کی اور بھی چھوٹی موٹی چیزیں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں جو شاید ہمارے آنے سے قبل غائب ہوئی ہو ں گی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ حشمت صاحب نے ہی تمام چیزیں چرائی تھی۔ عابد استفہامہ انداز میں فہیم کو دیکھتے ہوئے بولا۔

یہ بھی پڑھیں:  محنت میں عظمت

کیا اب بھی تم لوگوں کو اس میں کوئی شک ہے ؟فہیم جھنجلا سا گیا۔
مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ انہیں یہ چیزیں چرانے کی کیا ضرورت ہے ؟ نوید بولا۔
اس کا جواب میں دوں گا! جواد کچھ سوچتا ہوا بولا۔
مجھے خوشی ہوگی اگر تم اس گھتی کو سلجھا دو! فہیم بولا۔
میں اس دن سے بہت الجھن میں ہوں۔ اس لئے میں نے عمران کے ہاتھ تم لوگوں کو یہاں جمع ہونے کا پیغام بھجوا یا تھا کہ ہم سب مل کر کسی نتیجے تک پہنچ سکیں۔
بھئی یہ ایک نفسیاتی کیس ہے جواد نے کہنا شروع کیا۔
جب کسی بچے کوبے چپن میں بے تحاشا چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے مایوس کیا جاتا ہے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور بچپن کی محرومیاں اس کے دماغ میں اس طرح گھر کر لیتی ہیں کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اسے نکال نہیں سکتا۔ رفتہ رفتہ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اس کی یہ محرومیا ں حسرت بن کر اس کے شعور سے لا شعور میں منتقل ہو جاتی ہیں اور جب وہ کسی قابل ہو جاتا ہے تو ایسی حرکتیں لا شعوری طور پر کرتا ہے اس طرح اسے تسکین ہی ملتی ہے مگر شعوری طورپر وہ اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

عجیب چکر ہے۔ عمران نے جواد کی وضاحت پر تبصرہ کیا۔ مگر اس کا کوئی حل بھی تو ہوگا۔
ہاں کیوں نہیں جواد سر ہلا کر بولا۔ ایسے لوگ محبت کے بھوکے ہوتے ہیں اگر انہیں محبت مل جائے تو لا شعور محرومیاں رفتہ رفتہ معدوم ہو جاتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر حشمت صاحب کو کسی سے محبت ہو جائے تو وہ چوری کرناترک کر دیں گے۔ عابد کچھ سوچتا ہوا بولا۔
بالکل جواد اطمینان سے بولا۔
میرا خیال ہے اس مسئلے کا جامع حل عمران بتا سکے گا کیونکہ اس نے بھی اس سلسلے میں کافی کتابیں پڑھی ہیں۔

اور میں نے حل سوچ بھی لیا ہے۔ عمران بولا۔
اس دفعہ معاف کر دو اب کبھی چوری نہیں کروں گا۔
ہر بار تو یہی کہتا ہے مگر اس مرتبہ میں تجھے معاف نہیں کرور گا۔ حشمت صاحب چلتے چلتے رک گئے۔ ا نہیں یوں لگا جیسے یہ آوازیں ان کے لئے نئی نہ ہوں۔ وہ ایسی آوازوں سے آشنا ہوں ماضی کے دھندلکو ں سے زندگ کی وہ یادیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ کبھی بھول نہیں سکتے۔ باوجود کوشش ۔
ہائے۔ مرگیا۔اچانک اس چیخ نے انہیں پھر حال میں لا دھکیلا ۔ وہ اس وقت سکول سے گھر جارہے تھے۔ راستے میں ایک چھوٹا سا بازار پڑتا تھا۔ جہاں ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں آسانی سے مل جاتی تھیں۔ حشمت صاحب نے چونک کر اس سمت دیکھا۔ دس بارہ سال کا سوکھا، سہما لڑکا جس کا ہاتھ سبزی والے نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا اور وہ بے تحاشا دوڑے جارہا تھا۔
کیا ہوا ۔ کیاکیا ہے۔ اس نے؟ حشمت صاحب تیزی سے اس جانب لپکے۔
ارے صاحب! ناک میں دم کر دیا ہے اس لڑکے نے سبزی والا حشمت صاحب کو دیکھ کر شرمندہ سا ہوتا ہوا بولا۔
ہر روز آجاتا ہے۔ آج ٹماٹر چوری کر رہا تھا۔ صاحب ہم بھی بال بچے والے ہیں۔ اگر ان جیسوں کو بانٹ دیں تو بچوں کو کیا کھلائیں گے؟۔

یہ بھی پڑھیں:  مختصر اسلامی عقائد

کتنا نقصان ہوا ہے تمہارا؟حشمت صاحب نے سبزی والے کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
چھوڑیں صاحب! آپ سے کیا لیا۔آخر میرے بچے آپ کے سکول میں پڑھتے ہیں۔
نہیں تم پیسے بتائو۔ حشمت صاحب نے بٹوا نکالتے ہوئے کہا۔
نہیں صاحب آپ سے نہیں لوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے لڑکے کا ہاتھ چھوڑ دیا اور بولا دیکھ آج تو میں تجھے صاحب کی وجہ سے چھوڑ رہا ہوں مگر آئندہ نظر نہ آئیو۔
کیا کرتے ہو تم ؟حشمت صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں وہ سسکتا ہوابولا۔
کہاں رہتے ہو؟
یہیں فٹ پاتھ پر۔
کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟۔
صاحب! کوئی کام نہیں دیتا سب مارتے ہیں گالیاں دیتے ہیں وہ پھر سسکیاں بھرنے لگا اور حشمت صاحب کو یوں محسوس ہوا کہ وہ اس جگہ بہ دست سوال ہوں۔
میرے ساتھ چلو تمہیں کام بھی ملے گا اور کھانا بھی۔
اس کے گندے ہاتھوں کو حشمت صاحب تھامتے ہوئے بولے۔
سچ صاحب ! آپ مجھے کام دیں گے! اس کی ویران آنکھوں میں خوشی کے موتی جھلملانے لگے۔
ہاں ہاں کیوں نہیں! حشمت صاحب بھراتی ہوئی آواز میں بولے۔
تمہارا نام کیا ہے بیٹے ! حشمت صاحب گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔
جس نام سے بھی بلائو۔ میراکوئی نام نہیں ہے۔ کوئی مجھے ابے کہتا ہے ۔کوئی اوے کہہ کر بلاتا ہے میں تو اپنا اصل نام بھول چکا ہوں۔ کوئی بھی نام دے دو صاحب۔
تم میری یادوں کے زندہ نشان ہو حشمت صاحب خود کلامی کے سے انداز میں بڑ بڑائے۔ تمہارانام علی ہونا چاہئے۔
بلند۔ برتر ۔ بالکل میری داستان حیات کی طرح۔ہاں آج سے تمہارانام علی ہے۔
سکول جائو گے تم ؟ انہوں نے بڑی امید سے پوچھا۔
کیا کروں گا پڑھ کرصا حب اورعلم کا فائدہ بھی کیا ہے؟ وہ علم جو پیسوں سے حاصل ہو؟۔
واہ بھئی تم تو فلسفہ بھی جانتے ہو وہ ہنس پڑے؟۔
نہیں تم ضرور پڑھو گے۔
ٹھیک ہے میں پڑھوں گا مگر اپنی محنت کمائی سے۔ وہ آہستہ سے بولا۔
نہیں آج سے تم میرے بیٹوں کی طرح خود کوسمجھو۔ میں تمہارا قرضدار ہوں۔ مجھے تمہارا اور تم جیسے بچوں کا قرض ادا کرنا ہے۔ میں زندگی کی روشنیوں میں ان تاریک راستوں کو بھول گیا تھا مگر اب مجھے راستہ مل گیا ہے جس کی شاید مدتوں سے مجھے تلاش تھی اور علی حیرت سے انہیں تکنے لگا۔
بھئی مان گیا تمہیں جواد عمران کو تحسین بھری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
آج وہ سب پھر لائبریری میں جمع تھے۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تمہاری تدبیر اس قدر جلد کامیاب ہوگی۔ نوید نے بھی عمران کو داد دی۔
بھئی میراخیال ہے کہ اب حشمت صاحب کو تمام بات بتا دینی چاہئے جواد بولا۔
نہیں یہاں مجھے تم سے اختلاف ہے۔ عمران بولا۔ اگر انہیں علم ہو گیا کہ ہم نے یہ سب ڈرامہ کیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ انہیں ٹھیس پہنچے اور وہ پھر اسی راستے پر چل پڑیں جس پر پہلے چل رہے تھے۔
عمران کی بات دل کو لگی ہے۔ عابد بولا مگر وہ لڑکا ہے کون؟۔
کون ہو سکتا ہے؟ عمران نے الٹا سوال کر ڈالا۔ پھر ہنستے ہوئے بولا۔
بھئی میں نے کافی تلاش کے بعد یتیم خانے سے اسے لایا تھا۔ مگر لانے سے پہلے تمام باتیں اچھی طرح ذہن نشین کرادی تھیں اور سبزی والے کو بھی اس ڈرامے کے لیے تیار کیا تھا۔
حشمت صاحب کو صحیح راستے پر لانے والے تم ہوئے یا بچہ؟

خود فیصلہ کر لو مگر ہاں تک میرا خیال ہے، سارا سہرا علی کے سر جاتا ہے۔ اس نے ان کے اندر کے جذبا ت کو اس طرح بھڑکایا کہ لا شعور کی تمام محرومیاں شعور میں آگئیں۔ اور میر ا خیال ہے کہ اب انہیں چوری کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
بھئی میں تو اس وقت حیران رہ گیا جب صبح میں نے آفس میں گلوب رکھا۔ فہیم بولا اور سب ہنسنے لگے۔

کیٹاگری میں : بچے