lahore_tigarat

1883-84ءمیں لاہور میں یورپی تجارت

EjazNews

فری میسن:
1869ءکے بعد لاہور فری میسن تحریک کے ہیڈ کوارٹرز کے طورپر کام کررہا ہے۔ ڈسٹرکٹ گرینڈ لاج  جسے عام طورپر جادو گھر کہا جاتا ہے  آگرہ بنک اور انارکلی کے ہائی سکول کے درمیان واقع ہے اس وسیع عمارت کا ہال اعلیٰ قسم کے فرنیچر سے آراستہ ہے۔ پنجاب میں 22 ذیلی لاج قائم ہیں اور اس تحریک کے ارکان کی تعداد 600 کے لگ بھگ ہے۔
فری میسن کے پاس پانچ ہزار روپے کا بہبود فنڈ ہے اور اس کے تمام ادارے عطیات سے چل رہے ہیں۔ اس وقت تحریک کے دیسی ارکان کے 24 یتیم بچوں کو تعلیم اور دیگر اخراجات کے لیے وظائف دیئے جارہے ہیں۔ 1884ءمیں فنڈ کی رقم 42,200 روپے تھی جس میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ سوسائٹی کے بیشتر ارکان یورپی ہیں تاہم ان میں پارسی‘ مسلمان اور چند ترقی پسند ہندو بھی شامل ہیں۔

تجارتی ادارے:
گزشتہ چند برسوں کے دوران لاہور میں کئی نجی تجارتی ادارے قائم ہوئے ہیں جن میں ریلوے سٹیشن کے قریب میسرز رابسن اینڈ کوز ورکشاپس‘ عجائب گھر کے نزدیک آئس مشین اور شہر کے شمال میں پنجاب ناردرن سٹیٹ ریلوے لائن کے عقب میں قائم پنجاب سٹیم ملز قابل ذکر ہیں۔ میسرز رابسن اینڈ کوز ورکشاپس وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ انہیں ایک چھوٹی لائن کے ذریعے سندھ پنجاب اینڈ دہلی ریلویز لائن سے ملایا گیا ہے۔یہاں چارٹن وزنی لوہے کو پگھلانے کی گنجائش موجود ہے۔ پیتل اور دوسری دھاتوں کی کاسٹنگ کے لیے ایک چھوٹی فاﺅنڈری بھی قائم کی گئی ہے۔ ورکشاپس میں جدید مشینری اور مختلف شاپس موجود ہیں۔ مشینیں چلانے کے لیے چودہ ہارس پاور کا انجن لگایا گیا ہے۔ یہاں ریلوے کے ڈبے اور سڑکیں بنانے کی مشینری تیار ہوتی ہے۔ مختلف شعبوں میں اڑھائی سو ملازم کام کرتے ہیں۔

لاہور آئس فیکٹری اپریل 1882 ءمیں قائم ہوئی۔ لاہور کے علاوہ دہلی اور ملتان میں 65 ہزار پاﺅنڈ سٹرلنگ کے سرمائے سے آئس فیکٹریاں قائم کی گئی ہیں۔ ہر حصص کی قیمت پانچ پاﺅنڈ ہے۔ فیکٹری میں روزانہ پانچ ٹن برف تیار کرنے کی گنجائش ہے۔گرمیوں اور موسم خزاں میں دن رات کام ہوتا ہے۔ فیکٹری میں سولہ ملازم ہیں البتہ سال کی باقی مدت میں ملازموں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کردی جاتی ہے۔ برف کی طلب میں اضافے کی صورت میں زیادہ برف تیار کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 15 سال کی کم ترین سطح پرآگئی

پنجاب سٹیم ملز کمپنی 1881ءمیں ایک لاکھ روپے کے سرمائے سے قائم کی گئی۔ ادارے میں چار ہائیڈرالک پریس اور چار فلور ملز شامل ہیں جو بھاپ سے چلتی ہیں۔ ان مشینوں میں روزانہ 35 من تیل اور 80 من آٹا تیار کرنے کی گنجائش ہے۔ یہاں دن میں نو گھنٹے تک کام ہوتا ہے اور ملازمین کی تعداد 40 سے 50 کے درمیان ہے۔

پرنٹنگ پریس :
لاہور میں موجود پرنٹنگ پریسوں کی فہرست درج ذیل ہے۔
پریس پروپرائٹر
۱-گورنمنٹ سول ڈپارٹمنٹ سیکرٹریٹ پریس پنجاب حکومت
۲-گورنمنٹ ڈی پی ڈبلیو سیکرٹریٹ پریس پنجاب حکومت
۳-گورنمنٹ ایجوکیشن پریس پنجاب حکومت
۴-سنٹرل جیل پریس پنجاب حکومت
۵-سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس جے واکر ڈبلیو ایچ ریٹی گن
جی ولیم۔ کرنل اے کوری اینڈ ڈی پی میسن
۶-پنجاب ٹریڈنگ کمپنی پریس ڈبلیو بال
۷-ٹریبیون پریس سردار دیال سنگھ مجٹھیا
۸-ایس پی اینڈ ڈی ریلوے پریس ایس پی اینڈ ڈی ریلوے کمپنی
۹-البرٹ پریس پوہلو مل
۰۱-آریہ پریس لالہ رام داس
۱۱-وکٹوریہ پریس چراغ الدین
۲۱-پنجابی پریس محمد عظیم
۳۱-قبلتہ المطعبی فیروز الدین
۴۱-محمدی پریس محمد دتو
۵۱-صدیقی پریس محی الدین
۶۱-ودیا پرکشک ہیر انند
۷۱-مفید عام گلاب سنگھ
۸۱-انجمن قصور انجمن قصور
۹۱-مصطفائی پریس ملک ہیرا
۰۲-آفتاب پنجاب دیوان بوٹا سنگھ
۱۲-کوہ نور منشی ہر سکھ رائے
۲۲-رپن پریس محمد حافظ
۳۲-سیفی پریس نادر علی
۴۲-ارجن پرکاش ساون سنگھ
۵۲-قادری پریس قادر بخش
۶۲-مترا ولاس مکند رام
۷۲-قانون ہند بڈھا مل
۸۲-گلزار محمدی گلزار بخش
۹۲-دہلی پنچ محمد فضل الدین
۰۳-گلشن رشیدی خواجہ رشید الدین
۱۳-تحفہ پنجاب نتھو رام اینڈ شب رام
۲۳-انجمن پنجاب انجمن پنجاب

یورپی دکانیں اور تاجر:
انارکلی اور مال روڈ پر میسرز گلن اینڈ کو جنرل مرچنٹس  جانسٹن اینڈ کو ٹیلرز  میسرز پلومر اینڈ کو کیمسٹس  بیرڈ اینڈ کو  برک اینڈ کو آکیشنرز ایلرڈاینڈ کو  فیلپ اینڈ کو ٹیلرز واٹس اینڈ کو  کراڈک اینڈ کو فوٹو گرافرز

یہ بھی پڑھیں:  تاریخی آیا صوفیا مسجد میں آج جمعہ کی نماز ادا کی جائے گی

دیسی تاجر:
مال روڈ پر جمشید جی اینڈ سنز  منوچہرجی مانک جی  ڈنشا اینڈ کو  نور حسن اینڈ کو  مول چند اینڈ کو  محمد رفیع اینڈ برادر  رحیم بخش اینڈ کو چھوٹا لال اینڈ کو  دینا ناتھ شال مرچنٹس اینڈ کنٹریکٹرز  رتن سنگھ وائن مرچنٹس‘ فیروز پور روڈ پر مسٹر پرائس کے جانشین افتخار الدین۔

بینک:
انارکلی میں آگرہ بینک  الائنس بینک آف شملہ (لاہور برانچ) اور بینک آف بنگال

خیراتی ادارے:
لاہور اور میاں میر کے گرجوں میں ہر ماہ جمع ہونے والے چند ے سے سینٹ جیمزسکول کے زیر انتظام ایک یتیم خانہ چلایا جارہا ہے جس میں غریب یوریشین اور یورپی بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ اجنبیوںاور بیوہ عورتوں کو امداد فراہم کرنے اور انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے روپیہ مہیا کرنے کی غرض سے بھی دو ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ سینٹ جیمز چرچ کے زیر نگرانی ایک سوسائٹی قائم ہے جو نادار عورتوں کو دستکاریوںکا منافع بخش کام مہیا کرتی ہے۔

کرائے کی گاڑیاں:
ان گاڑیوں کی حالت اب بھی بہت بری ہے البتہ انہیں بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کرائے کی شرح یہ ہے۔

درجہ اول :
پہلے گھنٹے کے لیے ایک روپیہ اور بعد میں آٹھ آنے فی گھنٹہ  پورے دن کے لیے زیادہ سے زیادہ چار روپے۔

درجہ دوم:
پہلے گھنٹے کے لیے آٹھ آنے اور بعد میں چار آنے فی گھنٹہ  پورے دن کے لیے دو روپے آٹھ آنے۔

ہوٹل :
نیڈوز سندھ اینڈ پنجاب ہوٹل‘ نیڈوز سندھ اینڈ پنجاب فیملی ہوٹل‘ کیورشم بورڈنگ ہاﺅس‘ نیو وکٹوریہ ہوٹل  کلارکس رائل وکٹوریہ ہوٹل  منٹگمری ہوٹل ایونیوہوٹل  پنجاب ہوٹل اور پنجاب ریلوے ہوٹل۔

سرائے:
سب سے بڑی سرائے ریلوے سٹیشن کے قریب لنڈا بازار میں محمد سلطان کی ہے۔ انارکلی میں محمد شفیع اور بیرون شاہ عالمی گیٹ میں رتن چند دھریوالہ کی سرائے ہے۔ پہلی دونوں سرائے گھوڑوں کے تاجروں کی ہیں۔

تالاب:
ریلوے سٹیشن کے قریب ایک بڑا پختہ تالاب ہے جس کے چاروں طرف برابر فاصلے پر ستون اور شمال میں کوارٹر بنائے گئے ہیں۔ اسے مشہور ٹھیکیدار میلارام نے 1874ءمیں تعمیر کرایا۔ تالاب میں نہر سے پانی آتا ہے۔ رتن چند کی سرائے سے ملحق بھی ایک پکا تالاب موجود ہے جس کے ساتھ ایک شوالہ تعمیر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کچھ ذکر فیض کی بذلہ سنجی کا

یورپی قبرستان:
یہ قبرستان ٹکسالی گیٹ کے قریب پشاور روڈ پر واقع ہے۔ قبرستان تفریح کی جگہ نہیں ہوتی خاص طورپر ہندوستان میں یورپی قبرستان کو دیکھ کر‘ جہاں عین شباب میں مرنے والے مردوں‘ عورتوں اور ننھے بچوں کی قبروں پر کتبے موجود ہیں‘ دل و دماغ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔لاہور کے قبرستان کو دیکھ کر بھی یہی کیفیت طاری ہوتی ہے البتہ اس قبرستان کی بہت زیادہ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ قبرستان کی دیکھ بھال کے لیے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے جس سے روشوں اور گراﺅنڈ میں پھول لگائے جاتے ہیں‘ انہیں پانی دیا جاتا ہے اور قبروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے انہیں پانی سے دھویا جاتا ہے۔ اس طرح وہاں صفائی ستھرائی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

لاہور میونسپلٹی اور ٹیکس:
لاہور کی میونسپلٹی اول درجے کی ہے جو 1867ءمیں قائم کی گئی تھی۔ میاں میر کنٹونمنٹ کا علاقہ میونسپلٹی کے حدود سے باہر ہے۔ لاہور کی موجودہ میونسپل کمیٹی میں 12 ہندو 9 مسلما ن اور 3 یورپی ارکان شامل ہیں اور ڈپٹی کمشنر اس کا صدر ہے 1881-82ءمیں ایک روپے سات آنے اور 1882-83 میں ایک روپیہ چار آنے فی کس کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ میونسپلٹی نے محصول چونگی اور کرائے کی گاڑیوں پر ٹیکس عائد کیے ہیں۔ 1882-83ءمیں آمدنی کی تفصیل یہ ہے:

محصول چونگی 2,49,953 روپے
کرائے کی گاڑیوں پرٹیکس 1292 روپے

میونسپلٹی کی آمدنی کے دوسرے ذرائع میں اراضی ٹیکس  پانی کی فروخت  کرایہ‘ باغات‘ عمارتوں کی فروخت‘ جرمانے اور قرضوں کی وصولی شامل ہے۔ 1882-83ءمیں میونسپلٹی کی آمدنی 3,64,079روپے اور اخراجات 4,98,359 روپے تھے۔ زیادہ تر رقم شہر میں سیوریج بچھانے اور سڑکوں کی تعمیر پر خرچ ہوئی۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے میونسپلٹی کو خصوصی طور پر قرضہ فراہم کیا۔ 1882-83ءمیں میونسپلٹی پر 16,80,859 روپے قرضہ تھا۔ یکم اپریل 1884ءمیں لوکل سیلف گورنمنٹ سکیم کے نفاذ کے بعد میونسپلٹی کی ہئیت تبدیل ہوجائے گی۔