karachi_karachi

کراچی غیر قانونی تعمیرات کس کا کیا موقف ہے

EjazNews

1998ءکی مردم شماری کے مطابق 11کروڑ لوگ اپنے ہی ملک میں دوسرے شہروں میں رہ رہے تھے۔ یہ کل آبادی کا 8فیصد تھے۔ 2017ءکی مردم شماری کے اعداد و شمار ابھی اس طرح سے سامنے نہیں آئے۔ تاہم پنجاب کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے کہیں زیادہ لوگ دوسرے شہروں میں رہ رہے ہیں۔ کچھ روزگار کی تلاش میں کچھ شادی بیاہ کی وجہ سے اور کچھ ٹرانسفر پوسٹنگ کے باعث ، اپنا گھر بار چھوڑ کر الگ ہوئے۔ پنجاب میں اندرون شہر منتقلی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب خیبر پختونخوا، سندھ کے کئی شہر اب ایسے مقام پر آچکے ہیں جہاں کسی بھی موقع پر کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ شہری سہولتوں کے حوالے سے تقریباً کریش کرنے والے ہیں۔ اور اس کا عملی مظاہرہ ہم کراچی میں بارشوں کے بعد دیکھ بھی چکے ہیں۔ بجلی کی فراہمی ہو یا پانی کی فراہمی یہ سنگین صورتحال اختیار کرنے والے ہیں۔ ڈینسٹی 4سو افراد فی کلو میٹر ہے ،جو بہت زیادہ ہے۔ میونسپل سروسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر ہم 2050ءتک کا جائزہ لیں تو شہری آبادی تقریباً 63فیصد کے قریب ہو گی جو کہ بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ ہم ابھی موجودہ صورتحال میں ہی سہولیات مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 2030ءمیں کراچی کی آبادی 2کروڑ 80لاکھ، فیصل آباد کی 62لاکھ، راولپنڈی کی 42لاکھ ، ملتان کی 30لاکھ ، گوجرانوالہ 31.5لاکھ ، حیدر آباد کی 30لاکھ، اسلام آباد کی 32لاکھ، سرگودھا کی 11لاکھ، بہاولپور 19لاکھ، سیالکوٹ کی 11لاکھ، لاڑکانہ کی 12لاکھ اور شیخوپورہ کی 10لاکھ ہو گی۔ یہاںیہ سوال کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو رہائشی سہولتیں مہیا کر سکتے ہیں ۔ اربن جوانوں کو جو ضرورت ہے کیا اس کو وہ مہیا کرسکتے ہیں بظاہر ہم اپنی نئی نسل کو بونس کہتے ہیں۔ تو کیا ہم اس بونس سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ 2030ءمیں مردوں اور عورتوں کی اتنی بڑی تعداد روزگار کی متلاشی ہوگی جو ہم پوری ہی نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس وسائل ہی نہیں ہیں ۔ پاکستان کے اگر پاپولیشن کے پروفائل کو دیکھا جائے تو کم از کم ساڑھے چار کروڑ یوتھ شہروں میں رہتے ہیں اور یہ اربن آبادی کا 60فیصد ہیں۔ ہمارے پاس انہیں روزگار مہیا کرنے کیلئے وسائل ہی موجود نہیں۔ اس لیے ڈیمو گریفک کلیش آسکتاہے۔

پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں عوام کو طاقتور طبقات کی جانب سے انکروچیمنٹ کا سامنا ہے ۔ ناجائز زمینوں پرقبضے کے بعد با اثر لوگ ان زمینوں پر یا تو پلازے کھڑے کر دیتے ہیں یا پھر مارکیٹیں بنا کر بیچ دیتے ہیں۔ جس کے بعد ناجائز تعمیرات کا مسئلہ سنگین سماجی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ چھیڑو ، تو عوامی مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ خاموشی اختیار کرنے سے قانون شکنی میں اضافہ ہو نے لگتا ہے۔ ہم نے تو گزشتہ 7دہائیوں میںیہی دیکھاہے۔ کراچی سے خیبر تک کسی سڑک کاجائزہ لے لیں کہیں نہ کہیں ناجائز تعمیرات نظر آئیں گی۔ ابتداءمیں متعلقہ ترقیاتی ادارے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ ان کی آنکھیں بند کرنے سے ایک طاقتور کی آڑ میں 50نسبتاً کم طاقتور لوگ بھی فٹ پاتھوں کو اپنی جائیدادوں میں ہڑپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پٹرول پمپ مالکان اس کام میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ سب سے پہلے وہ پیٹرول پمپ سے ملحقہ فٹ پاتھ کو توڑ کر سولنگ کرتے ہیں اور پھر سولنگ کے بعد رکاوٹیں کھڑی کر کے سرکاری زمین ، سڑک یا فٹ پاتھ کو اپنی لیز یا جائیداد کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ یہ تو نقطہ آغاز ہے اگلے مرحلے میں آس پاس کی چھوٹی موٹی دکانیں بھی سرکاری سڑک پر اپنی مصنوعات رکھ کر اسے اپنا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہوٹل ، شادی ہال بعض تعلیمی ادارے اور حتیٰ کہ کلینکس تک بھی ناجائز زمینوں پر تعمیر کیے جارہے ہیں۔ یہ شاید ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ جب تک اپنی اراضی میں دوسروں کی زمین کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا شامل نہ کر لیں، دل کو چین آتا ہے نہ سکون ۔

ناجائز تجاوزات سرکاری اراضی پر قبضوں اور بغیر نقشوں کے مکانات کی تعمیرنے شہروں کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ ان کی حالت اس شہری کی سی ہے جس کے اچھے خاصے خوشنما بدن پر دیدہ زیب کپڑے ہوں مگر درزی نے سیتے وقت جا بجا تیل کے دھبے یا پیوند لگا دئیے ہوں۔ شہروں کی خوبصورتی گزشتہ کئی دہائیوں سے ہماری خواہش کا حصہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی تقریباً ایک دہائی سے کراچی اور لاہور کے حسن کی بحالی کیلئے ناجائز تعمیرات کیخلاف فیصلے سناتی رہی ہے۔ لاہور میں سپریم کورٹ کے حکم سے ایل ڈی اے سے منظوری کے بغیر بنائے گئے پلازے مسمار کر دئیے گئے۔ اس کام میں ایل ڈی اے کے کروڑوں روپے بھی ”مسمار“ ہوئے۔ قانون کے مطابق مسماری کے اخراجات ناجائز تعمیر کرنے والا برداشت کرتا ہے۔ مگر ان معاملات میں ناجائز تعمیرات کرنے والے طاقتور لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے اور کوئی بھی خرچہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ایل ڈی اے کے بلڈوزر ز ، عملہ تہہ بازاری اور دیگر مدوں میں اٹھنے والے اخراجات اب تک ایل ڈی اے پر بوجھ ہیں۔ اسی طرح کے کئی احکامات صوبہ سندھ میں مختلف حکومتی اداروں کے علاوہ سپریم کورٹ نے بھی جاری کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان میں پانی کی قلت کے خطرات

25جنوری 2009ءکو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے تمام ڈائریکٹروں کو کراچی میں تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا حکم جاری کیا۔ یہ حکم دراصل سپریم کورٹ کے 22جنوری کے فیصلے پر عملدرآمد کی ایک کڑی تھا جس میں ملک کی اعلیٰ عدالت نے رہائشی مکانوں پر کاروباری سرگرمیوں کو روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ نئے احکامات کی روشنی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے تمام اجازت نامے اور استثنات منسوخ کر دئیے۔ چنانچہ شادی ہال اور پلازے بھی اس کی زد میں آگئے۔ اس سلسلے میں 3دن کی مہلت دی گئی۔ جس کے بعد کراچی کا حسن کچھ حد تک بحال ہو جاتا۔ کراچی میں کم و بیش 930بڑے پلازے غیر قانونی طور پر رہائشی علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔ جبکہ کم از کم 5سو کاروباری مراکز سپریم کورٹ کے فیصلے کی زد میں آنے کی وجہ سے فوری طور پر گرایا جانا ضروری ہے۔ یہ تصویر کا ہلکا سا رخ ہے۔ تجاوزات کا مسئلہ اس سے کہیں سنگین تر ہے۔ تجاوزات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے تقریباً 2سال پہلے بھی ایک فیصلہ دیا تھا ۔ جس میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو شہری علاقوں میں 35ہزارسے زائد علاقوں میں تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے کا حکم شامل تھا۔ 2رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس گلزار احمد کر رہے تھے۔ 27نومبر 2017ءکو بینچ نے کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو تمام استثنات یا الاٹمنٹ منسوخ کر کے انکرو چمنٹ کے خاتمے کا حکم دیا۔ اب یہ کے ڈی اے کی ذمہ داری تھا کہ وہ تجاوزات کے خاتمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تہہ دل پر عملدرآمد کرتے۔ لیکن اس کے بعد حکومت اور کے ڈی اے کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوئی اور دونوں مل کر عدالت عظمیٰ میں حقیقی رپورٹیں پیش کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ کے ڈی اے کے چیف نے بیماری کا بہانہ بنا کر عدالت عظمیٰ میں پیش نہ ہونے کی ٹھان لی۔ لیکن جونہی عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر وہ فوری طور پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے جائیں گے۔ جس پر مسٹر صدیقی عدالت میں پیش ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 27غیر قانونی شادی ہالوں کو 2روز میں مسمار کر دیا گیا ہے ۔ مگر سپریم کورٹ نے کے ڈی اے افسر کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ مسٹر صدیقی نے خود ہی اپنی رپورٹ میں یہ افسوسناک اعتراف کیا تھاکہ چائنہ کٹنگ کے ذریعے سے 35ہزار پلاٹوں میں ناجائز تعمیرات کی گئی ہیں۔ بعد ازاں انہیں پلاٹوں یامکانات کی صورت میں بیج دیاگیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی میں اب تک 6ماسٹر پلان بن چکے ہیں مگر کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ بات ضرور کھل کر سامنے آئی کہ کراچی میں چائنہ کٹنگ ، ناجائز تعمیرات ، سرکاری زمینوں پرقبضے کا معاملہ کئی برس پرانا ہے۔ اور اس سلسلے میں 1992ءمیں بھی قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔ تاہم قوانین میں تبدیلی سے اس وقت تک کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک نیتیں تبدیل نہ کی جائیں۔ نیتوں میں تبدیلی کے بغیر یہ سب معاملات لا حاصل ہیں۔

کہاجاتا ہے کہ لاہور کو پیرس بنائیں گے مگر ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں کہاجاتا تھا کہ کراچی یورپ کے کسی بھی شہر کی طرح ہے۔ یہ لندن جیسا حسین اور منظم ہے۔ یہاں تعمیرات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوئیں۔ لیکن ایوب خان کا مارشل لاءختم ہوتے ہی قبضہ گروپوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ سیاسی سرپرستی میں ان لوگوں نے جہاں سرکاری زمینوں پر چائنہ کٹنگ کا آغاز کیا وہی نجی املکان کو بھی نقصان پہنچایا۔ قبضے کی زد میں آنے والی جائیدادیں اونے پونے داموں خریدی جانے لگیں حتیٰ کہ 2011ءتک کراچی شہر کا نقشہ لندن کی بجائے بھوٹان جیسے کسی شہر سے مماثل دکھائی دینے لگ پڑا۔ شریف شہریوں کو پلاٹ ایک جگہ الاٹ ہوتا تو طاقتور لوگ اسے کسی دوسری جگہ سستا سا پلاٹ الاٹ کر دیتے۔ہمارے موجودہ صدر عارف علوی بھی کراچی میں پلاٹوں کی ہیرا پھیری کا شکار ہوئے مگر عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ان کے پلاٹ کا معاملہ تیزی سے حل کی جانب بڑھا ہماری خواہش ہے کہ جس جس کے پلاٹ پر قبضہ ہے وہ کسی مناسب وقت پر صوبائی یا وفاقی وزیر ، صدر یا وزیراعظم بن جائیں تاکہ کم از کم اپنے پلاٹ پر قبضے یا پلاٹ کی عدم فراہمی کا مسئلہ تو حل کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  رمضان المبارک فضائل و مسائل

جنوری 2019ءکے چوتھے ہفتے کے آغاز میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس ساجد علی شاہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے تمام غیر قانونی شادی ہالز، شاپنگ پلازوں اور رہاشی مکانات کو گرانے کا حکم دیتے ہوئے کراچی کا قدیم 40سال پرانا حسن بحال کرنے کا حکم دیا۔ کراچی رجسٹری میں عدالت عظمی نے اپنے احکامات پر عملدرآمد کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو فی الفور کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ 30سے 40برسوں کے دوران ہونے والی ان ناجائز تعمیرات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ کاروباری مقصد کیلئے کسی عمارت کو ناتو گرایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی اندرونی یا بیرونی ساخت میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ماسٹر پلان کا حصہ سے باہر ہر عمارت کو فی الفور مسمار کرد یا جائے کیونکہ 40سال پہلے کراچی کا موازنہ لندن سے کیا جاتا تھا لاہور کو تو پپیرس بنانے کی باتیں بنائی جاتی تھیں شاید اس لیے کہ کراچی صحیح معنوں میں لندن کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مگر قانون کے کمزور ہاتھوں نے اور لالچی لوگوں کی دولت کی حوس نے اس خوبصورت شہر کو لینڈ مافیا کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا۔ بیشک عمارات کی تعداد خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو شہر کا حسن بحال کیا جائے۔ جسٹس احمد نے حکم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 8-8منزلہ عمارتیں ناجائز طور پر سرکاری کوارٹرز پر بنائی گئی ہیں۔ دولت کمانے کے کھیل میں ہر کسی نے اپنا حصہ ڈالا اور اس شہر کو برباد کر کے رکھ دیا۔ کیا یہ کسی کے باپ کا شہر ہے جو اس نے جیسا چاہا کر دیا۔ وہ کون ہے جو ہر گلی میں ہر سڑک پر شاپنگ سنٹر اور شادی ہال بنانے کی اجازت دے رہا ہے کیا یہ شہر ہم وفاقی حکومت کے حوالے کر دیں انہوں نے پوچھا۔ ایس سی بی اے کے سربراہ قائم خانی نے کہا کہ ہم نے ابتدائی انتظامات کر لیے ہیں۔ آپ کے احکامات پر عملدرآمد ہوگا۔ اس موقع پر عدالت عالیہ نے اشارةً یہ بات بھی کی کہ بعض لوگوں کے امریکہ اور دبئی میں بینک اکاﺅنٹس ہیں ۔ قائم خانی نے جواباً کہا کہ میں معافی چاہتا ہوں عدالت کے احکامات پر من و عن عمل ہوگا۔

بلا شبہ 2004ءسے 2019ءتک سندھ میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے بے تحاشا این او سی جاری کیے۔ رہائشی مکان کو کمرشل سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے یا پھر ایسے نقشوں کی منظوری بھی دی گئی جو کہ غیر قانونی تھے اور قواعد و ضوابط کے منافی تھے۔ ان عمارات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان عمارتوں کا خالی کرانے بجائے خود سنگین مسئلہ ہے۔ کیونکہ اب شادی ہالز، ہوٹل ، ہسپتال ، سکول ، پٹرول پمپ، سی این جی سٹیشنز ،ہاﺅسنگ سوسائٹیز اور دوسرے کاروباری ڈھانچے قانون کا منہ چڑھا رہے ہیں۔ ہجرت کالونی اور نیلم کالونی کی60بستیاں بھی اس حکم کی زد میں آتی ہیں۔ لینڈ مافیا نے کمال ہوشیاری کے ساتھ ایک خالص لا قانونیت اور قبضے کو انسانی مسئلہ بنا دیا اسی لیے سندھ حکومت کے وزیر سید غنی نے کہا کہ میں عمارتیں گرانے کی بجائے مستعفی ہونا پسند کروں گا۔ ان کی بات کو اگر وسیع تر معانوں میں لیا جائے تو بہت سے حقائق ہم پر عیاں ہوتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سید غنی کی باتوں کا مقصد یہی نکلتا ہے کہ غیر قانونی چیز اگر سرزد ہو جائے، عوامی سطح پر اسے کچھ پذیرائی مل جائے یا وہ اپنا ڈھانچہ قائم کر لے تو پھر اس کے قائم رکھنے کا جواز بن جاتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے بنی بنائی عمارتوں کو نا گرانے کا کہا۔ ذرا اس کی گہرائی میں جائیے جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں نظریہ ضرورت کیا تھا۔ ایک نظریہ تھا، جو قائم ہو گیا۔ ٹھوس اور جامع شکل میں ملک میں رائج ہوگیا۔ کیا اس کوجامع اور حقیقی مان لیا جائے کیا اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیا جائے ۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ جب کوئی سٹرکچر قائم ہو جاتا ہے تو پھر اسے گرانے سے بہتر قانونی جواز ڈھونڈنا بہتر رہتا ہے؟۔ یہی بات تو ایوب خان کے مارشل لاءکے زمانے میں بھی ہوئی تھی۔ مارشل لاءلگ گیا ، قائم ہوگیااس کے احکامات پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ اب اسے ہٹانے یا غیر قانونی قرار دینے کا جواز کیا ہے۔ اس بات کو محض سید غنی صاحب کی اس بات کے پس منظر میں لیا جائے کہ غیر قانونی طور پر بنائی جانے والی عمارات کو گرانا درست نہیں۔ میری رائے میں قانون قانون ہوتا ہے یہ اپنے راستے خود بناتا ہے۔ اور اگر ہم کسی جگہ پر قانون کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کریں گے تو ہم در حقیقت اپنے مستقبل کو تاریکیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے۔ ایک ایسے اندھیرے میں جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ ہوگی۔ جہاں نہ سوچ ہوگی اور نہ نظریہ ہوگا۔ کوئی فکر ہوگی اور نہ کوئی قانون ہوگا۔ صرف ”ہوگیا“ کی بالادستی ہوگی۔ یعنی جس نے جو کر دیا وہ ٹھیک ہے۔ سید غنی سے ملتی جلتی بات خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر نے بھی کی۔ یہ دونوں رہنما بھی بلا شرکت غیرے 1985ءسے کراچی کے حکمران ہیں۔ چائنہ کٹنگ ، چائنہ میں نہیں ہوئی ان کی آنکھوں کے سامنے کراچی میں ہوئی۔ ایک سیاسی جماعت کے دفاتر بھی چائنہ کٹنگ کے ذریعے قائم ہوئے۔ اب ان کا اپنے اختیارات کو رونا ٹھیک نہیں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو یہ لوگ کہاں تھے۔ ان کے اختیارات اس قدر زیادہ تھے کہ ایک آواز پر کراچی رک جاتا تھا۔ اس زمانے میں اگر ایم کیو ایم کا کوئی رہنما چائنہ کٹنگ روکنے کا ایک حکم جاری کر دیتا تو وہ وفاقی یا صوبائی حکم سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا اور اس پر منٹوں میں عملدرآمد ہوتا۔ عمارات خود بخود مسمار ہو جاتی۔ کاروبار جہاں تھے وہیں تھم جاتے۔ مگر ناجانے کیوں کراچی اور سندھ کی طاقتور جماعتوں نے سندھ میں یہ سب کچھ ہونے دیا۔ اسی لیے عدالت عظمیٰ نے ایک مرحلے پر یہ بات بھی سنائی دی کہ انہیں خالد مقبول صدیقی اور وسیم ظفر کے استعفوں کا انتظار ہے یہ دونوں استعفیٰ ابھی تک نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں:  پجاب میں اولیاء اللہ کے مزارا(۳)

اسی سے ملتی جلتی بات متحدہ قومی مومنٹ کے فاروق ستار نے کی۔ انہوں نے کہا کہ 10ہزار کے قریب مکانات گرائے جاچکے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے جب ملیر ندی کے ساتھ ساتھ بنائے گئے تمام نہیں تو اکثر مکانات غیر قانونی ہیں۔ کراچی کے ندی نالوں پر غیر قانونی طورپر مگر مچھوں نے رہائشی سکیمیں بنا لی ہیں انہیں گرانا یا انہیں بچانا انہی لوگوں کا کام ہے جو آج اس کے حق میں ۔ کراچی کی بڑی بڑی مارکیٹوں میں بھی انکروچیمنٹ کی گئی ہے۔ ڈرائے فروٹ ، کپڑے اور پرندوں کی چار بڑی مارکیٹیں بڑی حد تک غیر قانونی ہیں۔ ایمپریس مارکیٹ کا بڑا حصہ بھی غیر قانونی تھا۔ اب کراچی میں قانون کی بالادستی چاہنے و الے اور غیر قانونی عمارات کو تحفظ دینے والے دو متضاد نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ ایک کے خیال میں یہ شہری مسئلہ ہے لوگ کہاں جائیں گے ۔ حکومت انہیں رہنے کے لیے چھت مہیا کرے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام تو کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا تھا۔ کراچی کی شہری حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اس ضمن میں کیا اقدامات کیے تھے۔ جو صورتحال اب اس قدر سنگین ہو چکی ہے۔