Lahore_city_of_history

لاہور شہر قدیم اور جدید

EjazNews

یہ شہر دو جانب سے متوازی شکل میں ہے۔ اس کا کل رقبہ 640 ایکڑ ہے۔ ریت اور مٹی پانی کے بہاﺅ کے ساتھ بہہ کر یہاں آتی ہے۔ صدیوں پرانے کھنڈرات کے ملبے سے شہر کی سطح راوی سے اونچی ہوگئی ہے۔ بعض عمارتیں پچاس فٹ اونچے ٹیلوں پر بنائی گئی ہیں۔ کئی مقامات پر زمین کی سطح بہت نیچی ہے۔ اس کی لمبائی سوا میل اور چوڑائی جس میں قلعہ بھی شامل ہے پون میل ہے۔ جنوب مغرب اور مشرق کی جانب اینٹوں کی دیوار کھڑی ہے جس کی اونچائی شروع میں تیس فٹ تھی لیکن اب یہ اونچائی کم ہو کر پندرہ فٹ رہ گئی ہے۔ شمال کی جانب شاہی محل جامع مسجد اور رنجیت سنگھ کی سمادھی اور ملحقہ عمارتیں ہیں۔ شہر کے باہر پرانے زمانے میں ایک گہری خندق تھی لیکن باری دو آب نہر میں لاہور تک توسیع کے بعد اس خندق کو جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی‘ بھر کر وہاں باغ بنادیا گیا ہے۔ لاہور کی دیوار اکبر اعظم نے 1584 ءاور 1598ءکے درمیان تعمیر کرائی تھی۔ بعد میں یہ دیوار گر گئی اور رنجیت سنگھ نے موجودہ صدی کے شروع میں اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ شہر کے بارہ (چھوٹے موری گیٹ سمیت تیرہ) دروازے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے
۱-مغرب کی جانب بھاٹی گیٹ…. یہ دروازہ ایک قدیم راجپوت قبیلے سے منسوب ہے جو لاہور پر حکمرانی کرتا تھا۔
۲-ٹکسالی گیٹ …. مسلمانوں کے دور میں یہاں ٹکسال لگی تھی۔ ٹیفنن تھیلر نامی سیاح کا خیال ہے کہ یہ دروازہ ٹیکسلا کے قدیم شہرسے منسوب ہے جو اس دروازے کے سامنے کے رخ پر واقع ہے لیکن اگر ٹیکسلا آثار قدیمہ کا شہر ہے تو راولپنڈی کے قریب شاہ کی ڈھیری کے آثار اس سے پہلے آتے ہیں۔ اس طرح یہ مفروضہ درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس دروازے کے اندر ایک مسمار شدہ مسجد موجود ہے جس کی دیواروں پر کاشی کاری کی گئی ہے۔
۳-شمال کی جانب روشنائی گیٹ
۴-کشمیری گیٹ
۵-مستی یامسجدی گیٹ جو مریم مکانی کی مسجد کا بگڑا ہوا نام ہے۔
۶-خضری گیٹ ….یہ دروازہ دریائے راوی کی طرف کھلتا ہے اور اسے خضر علیہ السلام کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جو اسلامی روایات کے مطابق دریاﺅں ¾ سمندروں اور آبی حیات کے نگہبان ہیں۔
۷-مشرق کی جانب یکی گیٹ ….جو ایک مسلمان بزرگ اکے شاہ سے منسوب ہے جن کا مزار دروازے کے قریب واقع ہے۔
۸-دہلی گیٹ ….لاہور سے دہلی جانے والی سڑک کے رخ پر کھلتا ہے۔
۹-انارکلی گیٹ
۰۱-جنوب کی جانب موچی گیٹ …. جو موتی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
۱۱-شاہ عالم گیٹ ….جو اورنگ زیب عالمگیر کے جانشین شاہ عالم بہادر شاہ سے منسوب ہے جس کا انتقال 1712ءمیں اس وقت ہوا جب وہ سکھوں کے لیڈر بندہ کی قیادت میں لڑنے والے سکھوں کے خلاف برسر پیکار تھا۔
۲۱-لوہاری گیٹ …. جو غالباً قدیم ہندو شہر لوہاور سے منسوب ہے۔
۳۱-موری گیٹ

شہر کا نظارہ کرنے کے لیے دہلی گیٹ کا راستہ اختیار کرنا سب سے موزوں ہے۔ اس دروازے کے بائیں جانب کچھ عرصہپہلے تک حمام موجود تھے لیکن اب میونسپلٹی نے نئے آنریری مجسٹریٹ کی کچہری قائم کرنے کے لیے انہیں گرا دیا ہے۔ پرانے زمانے میں لاہور اور اس کے نواح میں بے شمار حمام تعمیر کیے گئے تھے۔ تھیوناٹ نامی سیاح نے اپنی یادداشتوں میں ان حماموں کے بارے میںتفصیلات درج کی ہیں۔ دروازے کے بائیں طرف وزیر خان کی شاندار مسجد واقع ہے۔

مسجد وزیر خان اور اس سے ملحقہ عمارتیں:
مسجد وزیر خان کو چنیوٹ کے ایک پٹھان حکیم علی الدین نے‘ جو شاہ جہان کے دور میں وزیر کے عہدے پر فائز ہوا‘ 1634 عیسوی میں غزنی کے ایک مسلمان بزرگ کے مزار کے احاطے پر تعمیر کروایا۔اس مسجد کی دیواروں پر نقش و نگار کا بہترین کام ہوا ہے۔ روایت ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے کاریگر چین سے منگوائے گئے تھے تاہم اس بارے میں کوئی تاریخی سند موجود نہیں۔ مسجد کا ڈیزائن اور اس کی تعمیر بھی چینی اسلوب پر نہیں ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ رفیع الشان مسجد ایرانی کاریگروں کے دست قدرت کا شاہکار نمونہ ہے ۔ان ہنر مندوں کی اولاد اب بھی ایرانی النسل ہونے پر فخر کرتی ہے۔ عربی آیات سفید زمین پر بنائی گئی الگ الگ ٹائیل پرکمال خوبی سے کندہ کی گئی ہیں۔ نقش و نگار کے ضمن میں ایرانی ہندوستانی اور عربی سٹائل کی نہایت خوبصورتی کے ساتھ آمیزش کی گئی ہے۔سرامکس کا جو کام کیا گیا ہے وہ اب ناپید ہے جبکہ عہد حاضر میں اس مقصد کے لیے صرف رنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس فن کے معدوم ہونے کی بڑی وجہ ہنرمندوں کی نایابی بھاری اخراجات اور فنکاروں کی عرق ریزی کا فقدان ہے۔ گو یہ مسجد ایک پنجابی نے تعمیر کرائی لیکن اس میں ایرانی اور مغل طرز تعمیر کو اپنایا گیا ہے۔ مسجد کے سنگ بنیاد کی تاریخ کا تعین کرنے کے لیے دیواروں پر یہ دو عبارتیں مرقوم ہیں ”سجدہ گاہ اہل فضل “ اور” بانی مسجد وزیر خان“۔مسجد کے میناروں سے شہر کا پورا منظر دکھائی دیتا ہے۔

مسجد کے بائیں طرف گلی میں‘ جہاں منقش لکڑی کی بالکونیاں معلق ہیں سنہری مسجد واقع ہے جسے میر منو کی بیوہ کے ایک منظور نظر درباری بخاری خان نے1753 عیسوی میں تعمیر کیا تھا۔ یہ خاتون اپنے شوہر کی وفات کے بعد کچھ عرصے تک لاہور پر حکومت کرتی رہی اور اس نے اپنے دور میں احمد شاہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خاتون کسی بات پر بخاری خان سے ناراض ہوگئی اور اس نے مصاحب خواتین کے ہاتھوں جوتوں سے اس کی اتنی پٹائی کرائی کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ سنہری مسجد کے گنبد نہایت خوبصورت ہیں تاہم مسجد کی عمارت میں تعمیراتی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں۔

مسجد کے عقب میں ایک باﺅلی یا بڑا کنواں واقع ہے جس میں سیڑھیوں سے نیچے پانی تک اترا جاسکتا ہے۔ روایت ہے کہ یہ کنواں سکھوں کے پانچویں گورو ارجن نے کھدوایا تھا۔ کنوئیں کے اوپر کا ڈھانچہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کرایا۔ یہاں سے بل کھاتا ہوا راستہ ہیرا منڈی کی طرف نکلتا ہے۔ یہاں سے قلعے اور جامع مسجد کا منظر سامنے دکھائی دیتا ہے۔ دائیں طرف مڑیں تو حضوری باغ آجاتا ہے۔ ملحقہ محرابی دروازے کے پاس اب نارمل سکول قائم ہے۔ یہاں سے دائیں جانب مڑیں تو اکبری دروازہ نظر آتا ہے جسے اکبر نے تعمیر کروایا اور جو کسی زمانے میں قلعے میں داخلے کا راستہ تھا۔

بائیں طرف سرخ پتھر اور سنگ مرمر سے بنی جامع مسجد ہے جس کی سیڑھیوں پر کابل سے ابری نامی پتھر منگوا کر لگایا گیا ہے۔ یہ پتھر ضلع راولپنڈی میں کووا گار کے مقام پر بھی پایا جاتا ہے۔ مسلمان حکمران اس پتھر کو تاریخی عمارتوں کے فرش پر لگواتے۔ سامنے رنجیت سنگھ کی سمادھی نظر آتی ہے۔ مسلمانوں کے زمانہ عروج میں جامع مسجد میں نماز کے پر شکوہ اجتماعات ہوتے۔ مسجد کے سامنے باغ میں جو اس وقت انتہائی نگہداشت کے باوجود سنسان نظر آتا ہے ایک سرائے واقع تھی جہاں زرق برق لباس میں ملبوس مسلح افراد نگاہوں کو خیرہ کردینے والی مشرقی شاہانہ عظمت کے پھریرے اڑاتے تھے۔

رنجیت سنگھ تعمیراتی حسن کے اعلیٰ ذوق سے نا آشنا تھا البتہ اس نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ اس باغ میں ایک بارہ دری تعمیر کرائی لیکن اس کے لیے سنگ مر مر آصف خان اور جہانگیر کے مقبروں سے نہایت بیدردی سے کے ساتھ اکھڑوایا گیا۔ رنجیت کا یہ جرم ناقابل معافی ہے کہ اس نے ان عمارتوں کے حسن کو پامال کردیا جو اب کبھی تعمیر نہ ہوسکیں گی۔ رنجیت سنگھ اس بارہ دری میں بیٹھ کر امورسلطنت نمٹانے کے لیے کچہری لگاتا۔ اس نے مسلمانوں کی عظیم الشان عبادت گاہ جامع مسجد کو بارود خانے میں تبدیل کردیا۔ چند سال بعد شیر سنگھ نے تخت نشینی کی جنگ کے دوران قلعے کے چار روزہ محاصرہ میں مسجد پر گولہ باری کرائی جس کے نشان اب بھی موجود ہیں۔ جنونی سکھوں کے اکالی فرقے کے جنگجوﺅں کے ایک جتھے نے جب مسجد پر چڑھائی کرنے کا قصد کرلیا اور مسجد کے دروازے پر ہلہ بول دیا تو دروازے پر لگی انگورکی سوکھی بیل سے ایک انگور نما گولہ اکالیوں پر آگرا جس سے خوفزدہ ہو کر شیر سنگھ نے مسجد سے پسپائی اختیار کرلی۔

جامع مسجد:
ہندوستان میں مغلیہ خاندان کا ابتدائی شاہکار دہلی میں ہمایوں کا مقبرہ اور آخری تاریخی عمارت لاہور کی جامع مسجد ہے۔ اس کے سفید مرمریں گنبد اور پر شکوہ مینار کئی میل سے نظر آتے ہیں۔ لکھنو اور دوسرے مقامات پر اس کے بعد مسلمانوں نے جو عمارتیں تعمیر کروائیں‘ تعمیراتی حسن کے اعتبار سے وہ اس سے کہیں کم مرتبہ ہیں۔ صدر دروازے پر لکھی گئی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسجد فدائی خان کو کانے اورنگ زیب کے حکم پر 1084 ہجری یا 1674 عیسوی میں تعمیر کروائی۔ فدائی خان کے بارے میں برنیئر کا کہنا ہے کہ وہ سامان حرب کا زبردست ماہر تھا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے مسجد کے وسیع و عریض مستطیل شکل کے صحن میں پیپل کے دورویہ درخت لگائے گئے ہیں۔ یہ ایک اچھوتا خیال ہے کیونکہ مسجدوں میں عام طورپر کوئی درخت نہیں لگایا جاتا۔

آرٹ کے نقطہ نظر سے یہ مسجد دہلی کی بادشاہی مسجد کا مقابلہ نہیں کرسکتی گو دونوں مسجدوں میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ دہلی کی بادشاہی مسجد کو دیکھ کر دل میں اس کی عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے لیکن لاہور کی جامع مسجد سے دل و دماغ پر ہیبت چھا جاتی ہے اور سخت گیری کا احسا س پیدا ہوتا ہے۔1840عیسوی کے زلزلے میں مسجد کے میناروں کو سخت نقصان پہنچا جس کے بعد انہیں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ دور سے دیکھیں تو اس مسجد اور انگلستان کے بعض صنعتی شہروں کی عمارتوں میں خاصی مشابہت پائی جاتی ہے۔ حضوری باغ سے مسجد پر ایک نظر ڈالیںتو اس کے سفید سنگ مر مر کے گنبد اور سرخ پتھر کے مینارے اور وسیع و عریض دروازے سے مسجد کا تعمیری حسن دل پر گہرے نقوش ثبت کرتا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو بیشتر تعمیراتی نقائص کٹر مذہبی عقائد کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں نہ کہ ڈیزائنر کی بد ذوقی کے باعث۔ واقعہ یہ ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کے وقت مکہ کی مثالی الولیدمسجد کی تقلید کی گئی ہے جبکہ دہلی کی بادشاہی مسجد منفرد خصوصیات کی حامل ہے۔

رنجیت سنگھ کی سمادھی:
رنجیت سنگھ کی سمادھی حضوری باغ سے ملحق ہے۔ یہ عمارت ہندوﺅں اور مسلمانوں کے مخلوط فن تعمیر اور ہندوﺅں کی سمادھی اور مسلمانوں کے مزار کے درمیان معمولی فرق کی علامت ہے جس میں ایک محل جیسی شان و شوکت نظر آتی ہے اس کی چھت کو چھوٹے چھوٹے منقش شیشے جوڑ کر تیار کیا گیا ہے۔ اندرونی مرمریں محرابوں کی حالت مخدوش ہوچکی تھی کہ پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سرڈونلڈ میکڈ ونلڈ نے اس پر فوری توجہ دی اور اینٹوں چونم اور لوہے سے اسے سنبھالادے دیا۔ سمادھی کے اندر جائیں تو آپ کو مذہبی پیشوا سکھوں کی متبرک کتاب گرنتھ پڑھتے نظر آئیں گے۔ درمیان میں پتھر کے بنے پلیٹ فارم پر سنگ مرمر کا کنول نما پیالہ رکھا گیا ہے جس کے ارد گرد گیارہ چھوٹے برتن ہیں۔ مرکزی پھول میں مہاراجہ اور چھوٹے پھولوں میں اس کی چار بیویوں اور سات کنیزوں کی راکھ رکھی گئی ہے جو رنجیت سنگھ کے مرنے پر ستی ہوگئی تھیں۔ دیواروں پر ان ہندو دیوتاﺅں کی عامیانہ تصویریں بنائی گئی ہیں جنہیں ختم کرنا سکھ مت کا اصل مقصد تھا۔اس عمارت کے ساتھ کھڑک سنگھ اور نونہال سنگھ کی سمادھیاں بنائی گئی ہیں جن پر کثیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ رنجیت سنگھ کی سمادھی کے نیچے روشنی گیٹ سے باہر جانے والی سڑک پر سکھوں کے پانچویں گورو اور گرنتھ کے جامع ارجن مل کی سمادھی بنائی گئی ہے۔ سکھوں کی روایت کے مطابق اس مقام پر گورو ارجن مل معجزانہ طورپر راوی کے پانی میں غائب ہوگیا تھا جو جہانگیر کے دور میں قلعے کی دیواروں کے نیچے بہتا تھا۔ ایک اور روایت یہ ہے کہ گورو نے شہنشاہ کے وزیراعظم چندو شاہ کی دشمنی سے بچنے کے لیے خود کشی کرلی تھی۔ اس عمارت میں کوئی تعمیراتی حسن موجود نہیں۔ ارجن کی سمادھی کے قریب قلعے کا بڑا دروازہ ہے۔ عمارت کے اندر داخل ہوں تو اس کے دائیں جانب سیتا کا مندر ہے جو اب کھنڈر بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مندر قلعے کی تعمیر سے پہلے راوی کے کنارے اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں رام کی بیوی سیتا جلا وطنی کے زمانے میں لاہو اور کسو کو رامائن کے مصنف والمک کے گھر میں لے آئی تھی۔ بیرونی دروازے پر ایک برطانوی رجمنٹ کے سنتری پہرہ دے رہے ہیں۔ یہاں سے آگے گزریں تو اس تاریخی عمارت کے باہر رنگین کاشی کاری کا حیرت انگیز اور دلچسپ کام نظر آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  لگتا ہے کراچی کی سنی گئی ہے

قلعہ اور محل:
مشرق سے مغرب تک قلعے اور محل کے سامنے کا حصہ تقریباً پانچ سو فٹ چوڑا ہے۔ یہ عمارت چار بادشاہوں نے مکمل کی ہے۔ انتہائی مشرق کی جانب اکبری محل واقع ہے۔ اس سے آگے جہانگیر کا تعمیر کردہ حصہ ہے۔ دوسری تعمیرات شاہ جہان‘ اورنگ زیب اور سکھوں نے مکمل کرائی ہیں۔ سامنے کے حصے میں انسانوں گھوڑوں اور ہاتھیوں کی تصویریں بنائی گئی ہیں۔ جہانگیر کے محل کے سامنے طلوع آفتاب کی چار تصویریں ہیں۔ دوسری تصویروں میں پروں والے فرشتوں کو دکھایا گیا ہے اور غالبا یہ خیال پرتگالی مشنریوں کی طرف سے لاہور میں قائم کیے جانے والے مسیحی گرجا گھر سے مستعار لیا گیا ہے جو ان ڈیزائنوں کی تکمیل کے وقت زیر تعمیر تھا۔ برنیئر کے اس بیان سے بھی اس مفروضے کی تصدیق ہوتی ہے کہ جب وہ جہانگیر کے دربار میں حاضرہوا تو اس کے سامنے مریم علیہ السلام کی ایک تصویر پڑی تھی جو پرتگالی مشنریوں نے اسے پیش کی تھی۔

دیواروں کی آرائش سادگی کے ساتھ کی گئی ہے جو اطالوی نمونوں سے گہری مماثلت رکھتی ہے۔ بعض حصوں پر نقش و نگار بنائے گئے ہیں اور بعض پر پھلوں اور پھولوں کی تصویریں۔ مشرق کے قدیم متھرائی طرز عبادت کے علاوہ پرندوں سامان سے لدے ہوئے اونٹوں کے قافلوں رقص کرتی ہوئی لڑکیوں اور گھڑ سواروں کی بھی خوبصورتی کے ساتھ عکاسی کی گئی ہے۔ محل کے نیچے سنگ مرمر سے ایک چبوترہ بنایا گیا ہے جسے عرض بیگی کہا جاتا تھا۔ اس جگہ درباری امراءصبح سویرے بادشاہ کے احکامات وصول کرتے تھے۔

قلعے کے صدر دروازے کے بائیں جانب سنگ مرمر کا ایک اور دروازہ ہے جسے ہاتھی پاﺅں کہا جاتا ہے۔ شاہی خاندان کی عورتیں ہاتھیوں پر سوار ہو کر اس راستے سے ہوا خوری کے لیے باہر جاتی تھیں۔ یہاں سے بائیں جانب مڑنے والا راستہ‘ جو اب منہدم ہو چکا ہے‘ حرم کی طرف جاتا تھا۔ دروازے پر فارسی میں ایک تحریر کندہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”بادشاہ(شاہجہان) نے ایک ایسا مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا جس کی بلندی آسمانوں کو چھوئے اور آسمان کے نیچے اس کی خوبصورتی اور نفاست کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے۔“ اب قلعے پر جانے کے لیے جو سڑک استعمال کی جاتی ہے وہ انگریزوں نے تعمیر کرائی ہے۔ قلعے کی چھت کے اوپر چڑھ کر دیکھا جائے تو یہ عمارت ایک عام بیرک نظر آتی ہے۔ قلعے کے وسط میں شاہ جہان کا تخت تھا۔ بادشاہ ہر روز دیوان عام میں بیٹھتا۔ اس دوران نقار خانے میں بیٹھے موسیقار جنگی دھنیں بجانا شروع کردیتے۔ برنیئر کے مطابق گھوڑوں اور ہاتھیوں پر سوار فوجی دستے بادشاہ کو سلامی دیتے۔ تخت کے سامنے خالی مینارمیں ایک ملا ہمیشہ بیٹھا رہتا جو شاہ جہان کووقتاً فوقتاً یہ یاد دہانی کراتا کہ اسے بھی دوسروں کی طرح ایک روز موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ برنیئر کہتا ہے کہ شاہی دربار روزانہ ایک گھنٹے کے لیے سجایاجاتا۔ درباری تقریبات میں خاصا وقت ضائع ہوجاتا اس کے باوجود بادشاہ امور سلطنت نمٹا دیتا۔ حکومت کے داخلی معاملات پر اس کی گہری نظر تھی۔ اورنگ زیب عالمگیر کے بارے میں بتایا گیا ہے” وہ کسی ضلع کے ریونیو آفیسر یا کسی سرکاری دفتر کے کلرک کے تقرر سے بھی پوری طرح آگاہ رہتا۔ ہر فوجی مہم کی منصوبہ بندی خود کرتا۔ عسکری امور میں ہدایات جاری کرتا۔ حملے کا ہدف مقرر کرتا اور ہر فوجی دستے اور قافلے کی نقل و حرکت کے سلسلے میں احکامات خود صادر کرتا تھا۔“

عرض بیگی کے اوپر شاہجہان کی بے حد نفیس خواب گاہ ہے۔ اس عمارت کی دیواروں پر پردے لگے ہوئے ہیں بادشاہ یہاں سوتا اور صبح بیدار ہونے کے بعد مرمریں کھڑکی میں کھڑے ہو کر امرا کو ایک جھلک دکھاتا۔ قلعے کی دوسری عمارتوں کی طرح یہ عمارت بھی انگریزوں کے استعمال میں ہے۔ کسی زمانے میں یہاں گیریژن چرچ تھا اور سامنے والے حصے کو بپتسمہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

بیرکوں کے مغرب کی سمت تخت کے قریب ایک دیسی رجمنٹ کے پہریدار تعینات ہیں۔ یہ سرکاری خزانے کے اندر داخل ہونے کا راستہ ہے۔ مغلیہ دور میں شاہی حرم کی خواتین کے لیے یہاں موتی مسجد تعمیر کئی گئی جس کے گنبد سنگ مرمر کے ہیں۔ مسجد اور تخت کے درمیان ایک عمارت ہے جسے اب ہسپتال یا سونے کے کوارٹروں کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں یہاں حمام بنوایا گیا تھا۔

انگریزوں کی فوجی زندگی کی ضروریات نے عظمت رفتہ کے حامل قدیم آثار کی کوئی پروا نہیں کی اور اب قلعے اور محل کا صرف ایک ایسا حصہ باقی ہے جسے عملی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا۔ یہ ثمن برج ہے۔ اس عمارت پر کوئی عبارت نہیں لکھی گئی البتہ اس کے بغور جائزے سے بعض دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں یہاں سنگ مرمر کا ایک چبوترہ بنایا گیا ہے جس کی تیاری پر نو لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام نولکھا رکھا گیا ہے۔ یہ چبوترہ اورنگ زیب کے زمانے میں بنوایا گیا۔ افسوس کہ مغلیہ دور کی اس نادر یادگار کی مرمت کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

شیش محل‘ جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے‘ شیشوں سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف رنگوں کے شیشے سفید سیمنٹ پر لگائے گئے ہیں۔ یہ محل سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہ محل شاہ جہان اور اورنگ زیب نے مکمل کرایا البتہ بعد میں سکھوں نے اس میں کچھ بیہودہ اضافے کرائے۔ پنجاب کی آزاد ی اور خود مختاری اسی تاریخی عمارت میں برطانوی حکومت کو منتقل ہوئی تھی۔ رنجیت سنگھ بھی اس محل میں مہمانوں کو استقبالیہ دعوتیں دیا کرتا تھا۔ وہ اس محل کے مینار پر کھڑے ہو کر نیچے زمین پر فوج کی نقل و حرکت‘ جامع مسجد میں اسلحے اور گولہ بارود کے ڈھیر اور قلعے اور شہر میں روز مرہ زندگی کا مشاہدہ کرتا۔اس عمارت کی چوبی چھت قاہرہ اور دوسرے مشرقی شہروں کی تاریخی عمارتوں کی چھت کی طرح لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر تیار کی گئی ہے جن پر بڑی عرق ریزی کے ساتھ خوبصورت رنگ کیا گیا ہے۔ بعد میں ان ٹکڑوں کو باہم ملا کر چھت تیار کی گئی ہے۔ اس عمل میں طویل مدت اور سرمایہ صرف ہوا۔ شیش محل کی چھت سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ صاف موسم میں یہاں سے ہمالیہ کا منظر بھی دکھائی دیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک پیغمبر اسلام ﷺ کے وہ تبرکات قلعے میں رکھے گئے تھے جو امیر تیمور ہندوستان لایا تھا۔ اب یہ تبرکات لاہور کی انجمن اسلامیہ کے سپرد کردیئے گئے ہیں جس نے انہیں بادشاہی مسجد میں محفوظ کردیا ہے۔

اسلحہ خانہ:
شیش محل کے سامنے وسیع و عریض اسلحہ خانہ ہے جس میں سکھ فوج کے زیر استعمال ہتھیار اوروردیاں رکھی گئی ہیں۔ ان ہتھیاروں میں قدیم اور جدید دور کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ اسلحہ خانہ میںمختلف قسم کی تلواریں نیزے بھالے زرہ بکتر اور بندوقیں رکھی گئی ہیں۔ رنجیت سنگھ کے ذاتی ہتھیاروں کے علاوہ ان اطالوی اور فرانسیسی فوجی افسروں کے فولادی خود وردیاں اور زریں بھی یہاں محفوظ ہیں جو سکھ حکمرانوں کی فوج میں ملازم تھے۔ یہاں اس زمانے کی گھومنے والی بندوقیں بھی موجود ہیں جب یورپ میں اس قسم کی بندوقیں تیار نہیں ہوئی تھیں۔ گورو گوبند سنگھ کا جنگی کلہاڑا بھی اسلحہ خانہ میں موجود ہے۔ توڑے دار بندوقیں اور کئی اقسام کی تلواریں اور خنجر بھی رکھے گئے ہیں۔ سب سے دلچسپ وہ تلواریں اور کرچ ہیں جن پر نہایت عرق ریزی کے ساتھ نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ لوہے کی ان تلوروں کے دستے پیتل سے تیار کیے گئے ہیں۔ ایک طرف افغانوں کے لمبے اور زہر آلود چاقو رکھے گئے ہیں۔ ہندی کٹار تیر کمان کاربین اور پستول بھی اسلحہ خانہ میں موجود ہیں۔ عمارت کے ایک کونے میں زمزمہ توپ رکھی گئی ہے۔ ان کے علاوہ پہاڑوں پر جنگ کے لیے تیار کی جانے والی گلاب سنگھ کی چھوٹی توپیں بھی ہیں جنہیں ایک آدمی یا بکری اٹھا کر چل پھر سکتی ہے۔

عجائب گھر:
یہ عمارت انار کلی گارڈن اور جنرل پوسٹ آفس کے احاطے کے قریب واقع ہے۔ عجائب گھر کی عمارت 1864ءمیں پنجاب کی نمائش کے لیے عجلت میں عارضی طورپر تعمیر کی گئی تھیں لیکن بعد میں فنڈز کی کمی کے باعث کوئی اور موزوں اور متبادل عمارت تعمیر نہیں کی جاسکی۔ عجائب گھر کے سامنے مشہور زمزمہ توپ ایک چبوترے پر رکھی گئی ہے سکھ اسے بھنگیاں والی توپ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ توپ جو ہندوستان میں تیار ہونے والی سب سے بڑی توپ ہے احمد شاہ درانی کے وزیر شاہ ولی خان نے 1761عیسوی میں بنوائی اور اسے پانی پت کی جنگ میں استعمال کیا گیا۔ احمد شاہ درانی نے واپسی پراس توپ کو بھنگی مسل کے سکھ سرداروں کی تحویل میں دے دیا( اسی مناسب سے اس کا نام بھنگیوں والی توپ ہے) اس توپ سے کئی طلسماتی قصے کہانیاں منسوب ہیں۔ آخر کار رنجیت سنگھ نے اس توپ پر قبضہ کرلیا اور 1818ءمیں ملتان کے محاصرے کے دوران اسے استعمال کیا۔ اس کے بعد یہ توپ لاہور کے دہلی دروازے پر پڑی رہی توپ کے اوپر یہ عبارت درج ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سانحہ آرمی پبلک سکول:انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا

”شہنشاہ(احمد شاہ) کے حکم پر وزیر دُرِ دوراں شاہ ولی خان نے زمزمہ نام کی یہ توپ بنوائی۔ اس کام کو شاہ نذر نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔“
اس کے بعد کئی اشعار درج کیے گئے ہیں جن کا ترجمہ ڈاکٹر تھارٹن کی گائیڈ بک کے صفحات 60-61 پر درج ہے آخری سطر میں توپ کی تیاری کا سال 1174 ہجری یا 1761 عیسوی درج ہے۔ گزٹیئر سیریز کی صوبائی جلدمیں اس عجائب گھر کے بارے میں مکمل تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ میوزیم کو ہر سال بے شمار لوگ دیکھنے آتے ہیں جن میں زیادہ ترتعداد مقامی باشندوں کی ہوتی ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔
1877-78 …….. 1,61,216 افراد
1878-79 …….. 1,64,922 //
1879-80 …….. 1,67,469 //
1880-81 …….. 2,64,665 //
1881-82 …….. 1,84,573 //

چوبرجی:
اولڈ مال کے آخر میں ملتان روڈ کے دائیں جانب چوبرجی واقع ہے۔ یہ چوبرجی شاہ جہان کی عالم فاضل بیٹی زیبندہ بیگم کے باغ میں داخلے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ زیبندہ بیگم نے دریائے راوی کے کنارے اپنے خلوت کدے میںبیٹھ کر صوفیانہ کلام پر مبنی دیوان مخفی لکھا جسے پنجاب اور ہندوستان بھر میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ اب اس ٹوٹی پھوٹی عمارت کی مرمت کردی گئی ہے۔

ریلوے سٹیشن:
لاہور کا ریلوے سٹیشن پنجاب ناردرن سٹیٹ ریلوے کے ذیلی ادارے سندھ پنجاب اینڈ دہلی ریلوے کمپنی کے زیر انتظام کام کررہا ہے۔ یہاں سے پشاور ملتان وادی سندھ کراچی‘ دہلی اور ہندوستان کے دوسرے اہم مقامات کے لیے ٹرینیں چلتی ہیں۔ یہ بے حد مصروف سٹیشن ہے۔ ریلوے سٹیشن کی عمارت کا شمار ہندوستان میں اینٹوں سے بنی خوبصورت ترین عمارتوں میں ہوتا ہے۔ اس کا ڈیزائن مسٹر ڈبلیو بمٹن نے تیار کیا اور اس پر پانچ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ ریلوے سٹیشن کی عمارت اس طرح تعمیر کی گئی ہے کہ اسے ضرورت پڑنے پر دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ افغان جنگ کے زمانے میں چوبیس گھنٹوں میں 75 ٹرینیں لاہور سٹیشن پر آتی اور یہاں سے دوسرے شہروں کو جاتی تھیں۔

ریلوے ورکشاپ اور کوارٹرز:
لاہور چونکہ پنجاب ریلوے سسٹم کا مرکز ہے اس لیے یہاں وسیع ورکشاپس قائم کی گئی ہیں۔ یہ ورکشاپس 126 ایکڑ رقبے پر تعمیر کی گئی ہیں۔ ریلوے ورکشاپس میں ملازمین کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے جن میں سے بیشتر یورپی یورشین اورپارسی ہیں۔ یہاں 150 لوکو انجنوں اور چار ہزار گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کی گنجائش موجود ہے۔ ورکشاپس کی عمارت پر پندرہ لاکھ روپے اور مشینری پر دس لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ورکشاپس کے لیے انگلستان سے جدید ترین مشینری درآمد کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لوہے اور فولاد کو کاٹنے کے لیے شیئرنگ مشین منگوائی گئی ہے۔ ریلوے فیکٹر ی ہر لحاظ سے ہندوستان کی مکمل فیکٹری ہے۔محکمہ ریلوے کو درکار کوئی چیز ایسی نہیں جو یہاں دستیاب نہ ہو۔ مشینری شاپ کے ایک حصے کو 6 برش الیکٹرک لائٹ مشین سے روشن کیا گیا ہے جہاں دن کی طرح رات کو بھی کام جاری رہتا ہے۔ فیکٹری میں سٹیم پریس لگائے گئے ہیں۔ کمپنی کے پاس ایک ائیل ملز بھی ہے جس میں دو سے تین ٹن فی گھنٹہ کے حساب سے خالص کیسٹر آئیل نکالنے کی گنجائش ہے۔یہ تیل بازار کے مقابلے میں بہت سستا ہے۔ پچھلے تین چار سال کے دورا ن پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر کے لیے کمپنی کی ورکشاپس میں تین ڈبوں پر مشتمل خوبصورت سوٹ‘ شمال مغربی سرحدی صوبوں کے لیفٹیننٹ گورنر کے لیے ایک ڈبہ اور مرکزی اور صوبائی ریلویز کے لیے بڑی مقدار میں ضروری سامان تیار کیا گیا ہے۔

مقامی باشندوں کا مکینیکل آرٹس کی طرف خاصا لگاﺅ ہے اور پچھلے بیس برسوں میں ریلوے ورکشاپس نے صوبے میں ہنر مندوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ پنجابیوں کو مراٹھیوں گجراتیوں اور گوا کے باشندوں کے مقابلے میں دھات سازی کے فن پر بہت کم عبور حاصل ہے۔ انہیں صرف لکڑی کے کام کا تجربہ ہے۔ اب وہ اس ہنر کو انگریز ماہرین کی وجہ سے بہتر طورپر استعمال کر رہے ہیں اور دھات سازی میں بھی دلچسپی لینے لگے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو پہیوں والی گاڑی جو اس سے پہلے صرف بنگال اور بمبئی میں نظر آتی تھی اب پنجاب کی سڑکوں اور ریلوے میں باقاعدگی کے ساتھ استعمال ہو رہی ہے۔ غرض ریلوے فیکٹری میں ہر قسم کا سامان تیار کرنے کے لیے دن رات کام ہو رہا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں اور اجنبیوں نے اس سے پہلے پنجاب کے لوگوں کو بازار میں دیکھا ہے اب انہیں ورکشاپوں میں جانشفانی سے کام کرتے دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔ پنجاب کے لوگ یہاں دیو ہیکل مشینوں پر اس قدر مستعدی کے ساتھ کام کرتے نظر آتے ہیں جس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ریلوے کمپنی اپنے ہزاروں ملازمین کے آرام و آسائش سے غافل نہیں ہے چنانچہ کمپنی نے سٹیشن کے قریب لائن کے شمال میں ریلوے فورمینوں ڈرائیوروں گارڈوں فائر مینوں اور مکینکوں کی رہائش کے لیے کوارٹرز تعمیر کیے ہیں جس میں ان کا اپنا انسٹی ٹیوٹ لائبریری سوئمنگ باتھ تھیٹر اور کواپریٹو سٹورز قائم کیے گئے ہیں۔ کواپریٹو سٹور ز سے ملازمین کو بہت سہولت حاصل ہے اور وہاں سے سبزیاں‘ گوشت اور بازار کی دوسری اشیائے صرف کے علاوہ برطانوی ملبوسات ڈبل روٹی اور سوڈا واٹر بھی دستیاب ہے۔ ریلوے کوارٹروں میں پینے کے لیے واٹر ورکس اور آبپاشی کے لیے نہر کے پانی کا انتظام موجود ہے۔ کوارٹروں میں ایک گرجا گھر تعمیر کیا گیا ہے اور چرچ مشنری سوسائٹی کے پادری کو بلا معاوضہ رہائش گاہ فراہم کی گئی ہے۔ انارکلی کے سینٹ جیمز چرچ کی طرح یہ گرجا گھر بھی مسلمانوں کے ایک مزار پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں 80 افراد عبادت کرسکتے ہیں۔ گرجا گھر کے قریب شہنشاہ شاہ جہاں کی دایہ کے نام سے منسوب 1621 عیسوی میں جو دائی انگنا مسجدتعمیر کی گئیتھی اسے شروع شروع میں رہائش کیلئے استعمال کیا گیا لیکن اب وہاں سندھ‘ پنجاب اور دہلی ریلوے کے ٹریفک منیجر کا دفتر قائم کردیا گیا ہے۔ اس قدیم مسجد کے اندرونی حصے میں کاشی کاری کا بہترین کام کیا گیا ہے۔

جنرل پوسٹ آفس:
لاہور میں جنرل پوسٹ آفس 1849ءمیں تعمیر کیا گیا جس کے بعد اس میں کئی اضافے کیے گئے ہیں۔ یہ عمارت انارکلی میں عجائب گھر کے قریب واقع ہے۔ ریلوے سٹیشن  لوہاری منڈی اور موتی بازار میں تین برانچ پوسٹ آفس قائم ہیں۔ شہر میں کئی لیٹر باکس بھی رکھے گئے ہیں جہاں سے دن میں تین مرتبہ ڈاک باہر بھیجی جاتی ہے۔ اتوار  سال نو  گڈ فرائیڈے  ملکہ کی سالگرہ اور کرسمس پر یہاں چھٹی ہوتی ہے۔

لارنس گارڈن:
مال روڈ کے دائیں طرف انارکلی ‘ لارنس اور منٹگمری ہال کے درمیان واقع یہ باغ جو لاہور کا کینسٹنگٹن گارڈن ہے‘ 112 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ باغ کے لیے جو جگہ حاصل کی گئی ہے وہ 1860ءمیں بالکل سنسان تھی۔ اس سال باغ لگانے کا کام شروع کیا گیا اور 1868ءمیں اس میں مزید توسیع کی گئی۔ قلعے کے قریب بادامی باغ کی فروخت سے جو رقم حاصل ہوئی‘ اس سے یہ جگہ خریدی گئی۔ اس کے ایک حصے پر ایگری ہارٹیکلچرل سوسائٹی آف پنجاب کا قبضہ ہے جہاں کیو کے ایک ماہر کی نگرانی میں نباتات کا باغ قائم ہے۔ باقی حصہ میونسپلٹی اور عوام کی سیرو تفریح کے لیے مخصوص ہے۔

باغ کو باری دو آب نہر کی لاہور شاخ سے پانی دیا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً اسی ہزار درخت اور چھ سو قسم کے چھوٹے پودے لگائے گئے ہیں جن میں ہندوستان کے میدانی علاقوں کے درخت  چیل اور آسٹریلیا  شام اور جنوبی یورپ کے درخت شامل ہیں۔ اس باغ کے لیے اخراجات میونسپلٹی عطیات اور صوبائی حکومت کی گرانٹ سے پورے کیے جاتے ہیں۔

لارنس اور منٹگمری ہال :
لارنس گارڈن میں لارنس ہال اور منٹگمری ہال تعمیر کیے گئے ہیں۔ لارنس ہال سرجان لارنس کی یاد میں 1861-62ءمیں تعمیر کیا گیا۔ اس کے لیے بیشتر سرمایہ یورپی باشندوں کے عطیات سے جمع کیا گیا۔ ہال کا ڈیزائن مسٹر جی سٹون نے تیار کیا۔ منٹگمری ہال 1866ءمیں تعمیر کیا گیا اور اس کے لیے سرمایہ مقامی عمائدین نے اکٹھا کیاجن کے نام اس عمارت میں موجود کتبے پر درج ہیں۔ یہ ہال سررابرٹ منٹگمری کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا۔ اس کا ڈیزائن آنجہانی گورڈن نے تیار کیا۔ اس ہال کی تعمیر کلاسیکل انداز میں ہوئی ہے تاہم عمارت کی شان و شوکت کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہاں لاہور اور میاں میر انسٹی ٹیوٹ ٹینس کلب اور سٹیشن لائبریری بھی موجود ہے۔اب وہاں ایک وسیع ریڈنگ روم تعمیر کیا گیا ہے جو دونوں عمارتوں کے درمیان برآمدے کا کام دیتا ہے۔ 1876ءمیں ہزرائل ہائی ہنس پرنس آف ویلز کے دورہ پنجاب سے پہلے منٹگمری ہال کی چھت دوبارہ تیار کی گئی اور ہال میں ساگوان کی لکڑی کا فرش بچھایا گیا جو رقص کے لیے نہایت موزوں ہے۔ لارنس ہال عوامی اہمیت کے اجتماعات اور تفریحی تھیٹر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دونوں عمارتوں کی دیکھ بھال کے فرائض میونسپلٹی انجام دیتی ہیں۔

گورنمنٹ ہاﺅس :
گورنمنٹ ہاﺅس میاں میر جاتے ہوئے مال روڈ کے بائیں طرف لارنس گارڈن کے سامنے واقع ہے۔ اصل میں یہاں محمد قاسم خان(اکبر اعظم کا ماموں زاد) کا مقبرہ تھا جس کا شاہ جہاں کے عہد میں انتقال ہوگیا تھا۔ محمد قاسم خان پہلوانوں کا بہت بڑا سرپرست تھا۔ اسی مناسبت سے سکھوں کے دور تک اس مقبرے کو کشتی والا گنبد کہا جاتا تھا۔ بعد میں سکھ جرنیل تیج سنگھ کے چچا خوشحال سنگھ نے یہاں رہائش اختیار کرلی۔ سرہنری لارنس نے دیوان حاکم رائے کے ضبط شدہ مکان کے تبادلے میں خوشحال سنگھ سے یہ جگہ سرکاری دفاتر کے لیے حاصل کرلی۔ وسطی ہال اور اس کی دیواروں کو مسجد وزیر خان کی طرز پر منقش کیا گیا ہے یہ کام کرنل ہائیڈ کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ عمارت کے چاروں طرف عمدہ درخت لگائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان جونیئر ایشیا ہاکی کپ کے فائنل میں پہنچ گیا

شالا مار باغ:
یہ باغ شہر سے چار میل دور امرتسر روڈ پر واقع ہے۔ تقریباً نصف فاصلے پر گلابی باغ کا دروازہ ہے۔ یہ باغ اب معدوم ہوچکا ہے اور اس کے دروازے پر‘ جس پر کاشی کاری کا نفیس کام ہوا ہے‘ پولیس پوسٹ قائم کردی گئی ہے۔ گلابی باغ سلطان بیگ نامی ایرانی شخص نے 1655 عیسوی میں تعمیر کرایا جو شہنشاہ شاہ جہان کے داماد کے اثر ورسوخ کی وجہ سے شاہی فوج میں امیر البحر مقرر ہوگیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسے کھیلوں سے بے حد لگاﺅ تھا۔ وہ شیخوپورہ میں انگریزی نسل کے اس گھوڑے سے گر کر مرگیا جو شاہ جہان سے اسے پیش کیا تھا۔
گلابی باغ کے دروازے پر مسجد وزیر خان جیسے نقش و نگار بنائے گئے ہیں شالامار باغ کے راستے میں بائیں طرف بیگم پورہ گاﺅں آتا ہے۔ شالامارباغ سے پہلے گلابی باغ کے سامنے نہروں کے نامور انجینئر‘ دہلی کی نہر کے خالق اور پنجاب کو شالا مار کی طرز پر گل و گلزار بنانے کے منصوبہ ساز علی مراد خان کا مقبرہ ہے۔ شالامار باغ 1667عیسوی میں شاہ جہان کے حکم پر تعمیر کیا گیا۔ ایک مقامی روایت کے مطابق شا ہ جہان ایک رات شاہدرہ میں جہانگیر کے مقبرے کے پاس سویا ہوا تھا جسے بیوہ ملکہ نورجہاں نے ابھی ابھی مکمل کیا تھا۔ اس نے خواب میں ایک جنت نظیر باغ دیکھا جس میں طلائی پھل۔ سنگ مر مر کے فوارے گہرے سایہ دار درخت اور سبز برگ وبار موجود تھے۔ بادشاہ خواب سے بیدار ہوا تو اس نے علی مردان خان اور نواب فضل خان کو طلب کر کے اس خواب کی تعبیر کے لیے ایک جنت نشان باغ تعمیر کرنے کا حکم دے دیا چنانچہ انہوں نے یہ بینظیر باغ تعمیر کروا دیا جس میں جنت کی طرح سات درجے بنائے گئے۔ ان میں پانچ حصے تباہ ہوچکے ہیں۔ اب باغ میں صرف دو حصے رہ گئے ہیں جو تقریباً اسی ایکڑ رقبے پر محیط ہیں۔ لفظ شالامار کا ماخذ اور اس کا اصل مطلب واضح نہیں ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ شالیمار (انسانی خواہشات کا مرقع ہے)اور شاہی عمارت سے اخذ کیا گیا ہے لیکن یہ کوئی اطمینان بخش توجیہہ نہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق یہ لفظ فارسی کے شعلہ مہ(ماہتاب کی روشنی) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس روایت کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ کشمیر میں اس باغ کے نام کو آخری حرف ”ر“کے بغیر صرف ”شالاما“ لکھا جاتا ہے۔

شالامار باغ کو مربع شکل میں تقسیم کیا گیا ہے اور وسط میں ایک تالاب بنایا گیا ہے جس میں ایک آبشار کے ذریعے پانی گرتا ہے۔احمد شاہ کے پر آشوب دور میں اس باغ کو بری طرح نظر انداز کردیا گیا اور بعض آرائشی کاموں کو تباہ کردیا گیا۔ رنجیت سنگھ نے انہیں بحال کرایا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے بے رحم ہاتھوں نے مرکزی تالاب کے گرد مرمریں چبوتروں کو اکھڑوا کر انہیں امرتسر کے رام باغ میں لگوا دیا اور خالی جگہ کو اینٹوں اور چونے سے بھردیا۔ شالامار باغ تفریح اور پکنک کے لیے بہترین جگہ ہے۔ اس میں آم اور سنگترے کے بے شمار درخت اور فوارے ہیں جن سے باغ کا حسن دو چند ہوگیا ہے۔چونکہ باغ کی سطح نیچی ہے اس لیے بارشوں اور سیلاب کے موسم میں وہاں پانی بھر جاتا ہے جس سے اس کا تعمیراتی حسن ماند پڑ گیاہے۔ تاہم 1882-83 ءمیں اس کے فواروں اور چبوتروں کی بڑی محنت سے مرمت کرائی گئی اور بعض اضافے کیے گئے۔ میونسپلٹی کی توجہ بھی باغ کی طرف مبذول کرائی گئی ہے اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ باغ میں وہ فصلیں کاشت نہ کی جائیں جنہیں پانی سے سیراب کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر مغلیہ دور کی اس انمٹ یادگار کا تحفظ ممکن نہیں۔

شاہدرہ:
شاہدرہ دریائے راوی کے شمالی کنارے پر لاہور سے چھ میل دور پنجاب ناردرن سٹیٹ ریلوے کا دوسرا سٹیشن ہے۔ پشاور کو جانے والی گرنیڈ ٹرنک روڈ بھی وہاں سے گزرتی ہے۔ پنجاب ناردرن سٹیٹ ریلوے کی تعمیرکے دوران اس کی سرائے کو ریلوے کے مینوفیکچرنگ ڈپوکے طورپر استعمال کیا گیا۔ جہانگیر کی آخری آرام گاہ کی حیثیت سے شاہدرہ کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔ ثمن برج سے مقبرے کے چار بے حد خوبصورت مرمریں مینار نظر آتے ہیں جن سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ شاہدرہ سے مراد وہ شاہی درہ یا سڑک ہے جو جہانگیر اور نورجہاں اور اس کے برادر نسبتی عزیز خان کے مقبروں کے بیچ گزرتی ہے۔ جہانگیر نے 1627عیسوی میں کشمیر کے مقام راجوری میں انتقال کے وقت اس خواہش کااظہار کیا تھا کہ اسے لاہور میں دفن کیا جائے۔ چنانچہ اس کی محبوب بیوی نورجہاں نے اپنے شوہر کی اس خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے وہاں ایک یاد گار مقبرہ تعمیر کروایا۔ جہانگیر کی وفات کے بعد نور جہاں کے لیے اڑھائی لاکھ پاﺅنڈ سالانہ وظیفہ مقرر کردیا گیا۔ وہ امور سلطنت سے سبکدوش ہوگئی اور بیوہ ہونے کی علامت کے طورپر سفید ملبوسات پہننا شروع کردیئے البتہ بعد میں مرحوم شہنشاہ کی ایک اور بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والے سب سے چھوٹے بیٹے شہر یار کی تخت نشینی کے لیے سرگرم ہوگئی جس کی شادی اس کے پہلے شوہر سے پیدا ہونے والی بیٹی کے ساتھ ہوئی تھی۔ اپنے داماد کی وفات کے بعد اس کی امیدیں دم توڑ گئیں اور وہ سیاسی ریشہ دوانیوں سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہوگئی۔

نور جہاں میں بے پناہ حسن کے علاوہ اعلیٰ خصوصیات موجود تھیں۔ وہ اپنے شوہر کی بے عتدالیوں اور سخت گیری پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوگئی۔ گلاب کے پھولوں سے عطر کشید کرنے کا طریقہ اسی نے دریافت کیا۔ جہانگیر پر اس کا بہت زیادہ اثر تھا جس کا اظہار طلائی سکوں پر کندہ اس عبارت سے ہوتا ہے”شہنشاہ جہانگیر کے حکم پر ملکہ نور جہاں کے نام کی بدولت سونے کی قیمت میں کئی صد گنا اضافہ ہوگیا ہے۔“حن کے زوال پذیر ہونے کے باوجودذاتی محاسن کی بدولت وہ مسلسل سولہ برس تک حکمرانی کرتی رہی۔ا س نے اظہار عشق کے لیے کمال عرق ریزی سے جولافانی یاد گار تعمیر کرائی‘ اسے مسلمانوں نے جزوی طورپر اور رنجیت سنگھ نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ قدیم شاہی خادموں کا کہنا ہے کہ مقبرے کی چھت کے وسط میں سنگ مرمر کا ایک شاہکار قبہ اور اس کے اوپر سونے کے کپڑے کا سایہ بان بنایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وسطی مینار اور قبہ اورنگ زیب کا بیٹا بہادر شاہ‘ مقبرے کے زیریں حصے سے منقش چوبی دروازے احمد شاہ درانی اور سنگ مرمر اور قیمتی پتھر رنجیت سنگھ لے گیا۔ الحاق پنجاب کے وقت مقبرے کی حالت خراب تھی تاہم اب برطانوی حکومت نے اس کی مناسب مرمت کرادی ہے۔ مقبرے کا باغ طویل عرصے سے کاشتکاروں کے قبضے میں ہے اور کئی دروازے زمین بوس ہوچکے ہیں۔ مقبرے کے اندر جانے کے لیے باغ کے راستے میں چار برآمدے ہیں جن میں سے تین سنگ مرمر کی جالیوں سے بند کردیئے گئے ہیں۔ لحدکا تعویذ بھی سنگ مرمر سے بنایا گیا ہے۔ مقبرے کے دونوں جانب اللہ تعالیٰ کے 99 اسماءاور اوپر قرآن حکیم کی ایک آیت کندہ کی گئی ہے۔ مقبرے کے اوپر فارسی میں یہ عبارت درج ہے ”مرقد منور جہاں پناہ نورالدین جہانگیر بادشاہ‘1037 ہجری “ (1628عیسوی)یہ مقبرے کی تکمیل کا سال ہے او رقرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہانگیر کا انتقال 1036 ہجری (1627عیسوی) میں ہوا تھا۔

1882ءمیں مقبرے کی خصوصی مرمت کا کام شروع کیا گیا اور سنگ مرمر کے دالانوں اور مقبرے کے میناروں کو از سر نو تعمیر کیا گیا۔ جہانگیر کے وزیراعظم  نورجہاں کے بھائی اور شاہ جہاں کے سسر آصف جاہ اور شالامار روڈ پر واقع گلابی باغ کے دروازے اور علی مردان خان کے مقبرے کی بھی مرمت کی گئی۔

مقبرہ انارکلی:
انارکلی کا مقبرہ جہاں اب سٹیشن چرچ بنادیا گیا ہے‘ اکبر اعظم کی چہیتی لونڈی نادرہ بیگم یا شریف النساءکے نام سے منسوب ہے جسے اکبر نے اپنے بیٹے جہانگیر کی مسکراہٹ کا اسی انداز میں جواب دینے پر زمین میں زندہ دفن کروا دیا تھا۔ انارکلی کا مقبرہ جہانگیر نے 1600عیسوی میں تعمیر کرایا۔ مقبرے پر درج ذیل فارسی شعر کندہ ہے۔
آہ گرمن باز بینم روئے یار خویش را!
تاقیامت شکر گویم کرد گار خویش را!

وزیر خان کی بارہ دری:
یہ خوبصورت عمارت عجائب گھر اور پوسٹ آفس کے قریب انارکلی میں واقع ہے۔ اس میں بارہ گنبد تعمیر کیے گئے ہیں اور یہ اسلامی فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ کسی زمانے میں یہاں عجائب گھر قائم تھا۔ بعد میں یہ عمارت لائبریری اور بک کلب کے ریڈنگ روم کے طورپر استعمال کی گئی تاہم اب یہ ریڈنگ روم منٹگمری ہال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ اور یہ عمارت ملحقہ سکول آف آرٹ کے پرنسپل کے سپرد کردی گئی ہے۔

دیگر سرکاری عمارتیں اور ادارے:
دوسری اہم عمارتوں میں 1855ءمیں تعمیر کی گئی چیف کورٹ‘ 1845ءمیں تعمیر ہونے والا سول سیکرٹریٹ‘ انارکلی کا مقبرہ پبلک ورکس سیکرٹریٹ‘ 1867ءمیں تعمیر کیا جانے والا فنانشل کمشنرز آفس اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس(شاہ چراغ)‘ کمشنرز کورٹ اور آفس ڈسٹرکٹ کورٹ ہاﺅسز اور خزانہ‘ پنجاب یونیورسٹی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا سینٹ ہال میو ہسپتال میڈیکل کالج سکول آف آرٹ رابرٹس انسٹی ٹیوٹ سنٹرل جیل اور فری میسن ہال شامل ہیں۔ 1882-83ءمیں مال روڈ پر اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس کے قریب چیف کورٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور یہ کام تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے۔یہ عمارت ہندوستانی اور اسلامی فن تعمیر کا خوبصورت امتزاج ہوگی اور تکمیل کے بعد اس کا شمار پنجاب کی شاہکار عمارتوں میں ہوگا۔

رابرٹس انسٹی ٹیوٹ انارکلی میں یونیورسٹی سینٹ ہال کے عقب میں اور سکول آف آرٹ کے سامنے واقع ہے۔ مسٹر رابرٹس نے‘ جب وہ صوبے کے جوڈیشل کمشنر تھے‘ یہ ادارہ کلرکوں اور یورپی سوسائٹی کے نچلے طبقے کی تفریح کے لیے قائم کیا تھا۔ یہاں بلئیرڈ روم‘ چھوٹا سٹیج اور ٹینس گراﺅنڈ موجود ہے۔