عقل مند فقیر

EjazNews

ایک مرتبہ ایک فقیر کسی میدان سے اکیلا گزر رہا تھا۔ اسے دو سوداگر نظر آئے۔ اس نے سوداگروں سے پوچھا : بھائیو! کیا تمہارااونٹ کھو گیا ہے ؟۔
سوداگر خوش ہوئے اور بولے تم نے دیکھا ہے کیا؟۔
فقیر نے کہا ، کانا تو نہیں تھا اور دائیں پیر سے لنگڑا تو نہیں تھا؟۔
ان سوداگروں کو یقین ہو گیا کہ اس نے اونٹ دیکھا ہے۔ لہٰذا اسی سے معلوم کیا جائے۔ وہ کہنے لگے ۔ بھائی یہ حقیقت ہے کہ وہ کانا اور لنگڑا تھا۔ مگر وہ گیا کہاں ؟۔
سوداگر جلدی سے بولے۔ یہی جناب یہی، اللہ کے واسطے پتا بتا دو۔کہاں دیکھا تھا؟
فقیر نے ایک مرتبہ پھر اسی انداز میں کہا ایک طرف شہد کے ڈبے اور دوسری طرف گندم کی بوری لدی ہوئی تھی۔
اب تو دونوں کو پکا یقین ہو گیا کہنے لگے۔ فقیر بابا ! اب جلدی سے چل کر ہمیں بتائیے کہ اونٹ کہاں ہے ؟۔
فقیر نے کہا، بھائی اگر سچ پوچھوتو نہ میں نے تمہارے اونٹ کو دیکھا ہے اور نہ اس کے بارے میں سنا ہے۔ میں ابھی تم لوگوں سے سن رہا ہوں کہ تمہارا اونٹ کھو گیا ہے۔
سوداگر حیران ہو گئے اور سمجھے کہ وہ ہم کو دھوکا دے رہا ہے۔ دھمکی دے کر کہنے لگے۔ اونٹ پر دوسرے سامان کے ساتھ ہمارے جواہرات بھی رکھے ہوئے ہیں۔ اگر نہیں بتائو گے تو تمہیں قید کرادیں گے۔
فقیر نے جواب دیا۔ بھئی مجھے دھمکی نہ دو۔ میں نے تمہارا اونٹ نہیں دیکھا۔
اس پر سوداگر فقیر کو پکڑ کر قاضی کے پاس لے گئے۔ قاضی کو بھی فقیر نے وہی بات بتائی۔
جب تم نے اوٹ دیکھا ہی نہیں تو اس کے بارے میں اتنی صحیح باتیں کیوں کر بتا رہے ہو۔ قاضی نے تعجب سے پوچھا۔
فقیر نے مسکرا کہا ۔ قاضی صاحب! آپ پریشان دیکھ کر مجھے ہنسی آرہی ہے۔ میری بات سن کر آپ ضرور شک میں مبتلا ہوں گے، لیکن اب میں آپ کو حقیقت بتاتا ہوں۔ جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو آنکھیں کھلی رکھتا ہوں۔ آج صبح میں ایک جگہ سے گزر ا تو میں نے دیکھا کہ ایک اونٹ کے پیروں کے نشان تو موجود ہیں لیکن کسی آدمی کے پیروں کے نشان نہیں ہیں جس سے میں سمجھا کہ یہ اونٹ رسی تڑا کر بھاگا ہے۔ پھر دیکھا تو ایک پائوں کے نشان تھے ہی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ لنگڑا ہے۔ پھر کیا دیکھتا ہوں کہ راستے کے ایک طرف گھاس چرنے کے نشان ہیں جس سے معلوم ہوا کہ وہ کانا ہے۔ دانت ٹوٹاہوا ہونے کا علم اس طرح ہوا کہ اس نے جس پودے کو کھانے کی کوشش کی، اس کے کچھ پتے باقی رہ گئے تھے اور سامان کا پتا اس طرح چلایا کہ ایک طرف چیونٹیوں کی آمدو رفت تھی جس سے معلوم ہوا کہ ایک طرف اناج ہے اور دوسری طرف شہد کی مکھیاں تھیں جس سے معلوم ہوا کہ وہاں ضرور شہد ہوگا۔
قاضی یہ بات سن کر دنگ رہ گیا اور فقیر کو شاباش دی۔ سوداگر بھی فقیر کے بتائے ہوئے راستے پر گئے اور اپنا کھویا ہوا اونٹ پا لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نظام شمسی اور ثناء کے سوالات
کیٹاگری میں : بچے