islam_quran_reading

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی نا فرمانی

EjazNews

(سورۃ النساء۴)
۱۴۔ اور جو نافرمانی کرے گا اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اور تجاوز کرے گا اس کی (مقرر کردہ) حدوں سے ، ڈالے گا اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں، پڑا رہے گا وہ اس میں ہمیشہ اور اس کے لئے عذاب ہے رسوا کن۔
۱۱۵۔ اور جس نے مخالفت کی رسول ﷺ کی اس کے بعد بھی کہ کل کر آچکی ہے اس کے سامنے ہدایت اور چلا اہل ایمان کی راہ کے خلاف تو چلنے دیں گے ہم اس کو اسی (راستے )پر جدھر وہ مڑ گیا اور ڈالیں گے ہم اسے جہنم میں اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
(سورۃ الانعام ۶)
۱۵۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
(سورۃ الانفال۸)
۱۳۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی سخت سزا دینے والا ہے۔
(سورۃ التوبہ ۹)
۲۴۔ کہو ! اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے تمہاری بھائی، تمہاری بیویاں،تمہاری برادری ، مال جو تم نے کمائے ہیں، تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم جاری کرے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔
۵۳۔ کہہ دیجئے! خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے قبول نہیں کیا جائے گا کہ تم نافرمان لوگ ہو۔
۵۹۔ مگر کاش! وہ اس پر جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں دیا خوش ہو جاتے اور کہتے، ہمیں اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے ، ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور دے گا اور اس کا رسولﷺ بھی، ہم اللہ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ (مگر وہ تو اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے اس لئے انہوں نے ایسا نہیں کیا)۔
۶۲۔ وہ تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی رکھیں لیکن اگر وہ مومن ہیں تو اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں راضی رکھا جائے۔
۶۳۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اس کے لئے دوزخ کی آگ ہو ۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہی بری رسوائی ہے۔
۸۱۔ پیچھے رہ جانے والے لوگ، رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انہوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کہا گرمی میں مت نکلو ۔ کہو، دوز خ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہو گی۔ کاش! وہ سوچ سکتے۔
۸۳۔ اب اگر اللہ تعالیٰ تجھے ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے جائے۔ پھر وہ تجھ سے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہنا، تم کبھی میرے ساتھ نہ نکلو گے اور کبھی میرے دشمن سے نہیں لڑو گے ۔ تم پہلی بار بیٹھے رہنے پر خوش ہو گئے تھے۔ اب پیچھے بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔
۹۶۔ جب تم ان کے پاس پلٹ کے جائو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھائیں گے ۔ تاکہ تم ان سے کنارا کر لو ۔ ہاں! تم ان سے کنارا ہی کر لو۔ بیشک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے ۔ اس کے بدلے میں جو وہ کماتے تھے۔
(سورۃ یونس۱۰)
۱۵۔ اور جب انہیں ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہمیں ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی قرآن لے۔ یا اسے بدل دے۔ کہو ! مجھے روا نہیں میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
۳۳۔ اس طرح تیرے رب کی بات نافرمانوں کے بارے میں سچ ہو گئی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔
۹۰۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار کر دیا۔ پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی کی اور دشمنی سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ وہ غرق ہو نے لگا تو بولا، میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اورمیں فرمانبرداروں میں ہوتا ہوں۔
۹۱۔ اب ! مگر پہلے تو تو نے نافرمانی کی اور تو فسادیوں میں تھا۔
(سورۃ ھود ۱۱)
۴۵۔ اور منہ میں اپنے رب کو پکارا اور کہا میرے رب ! میرا بیٹا میرے گھرانے میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو حاکموں کا بڑا حاکم ہے۔
۴۶۔ اس نے کہا نوح ؑ ! وہ تیرے گھرانے میں سے نہیں اس کا عمل نادرست تھا پس مجھ سے وہ نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو کہیں نادانوں میں نہ ہو جائے۔
۴۷۔ اس نے کہا میرے رب! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے وہ مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں ہو جائوں گا۔
۵۸۔ اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اپنی رحمت سے ھود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے بچا لیا۔
۵۹۔ اور یہ تھے عاد جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا، اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جابر دشمن خدا کے حکم پر چل پڑے۔
۶۰۔ اور ان کے پیچھے اس دنیا میں اور روز قیامت کو لعنت لگا دی گئی اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جابر دشمن خدا کے حکم پر چل پڑے۔
۶۳۔ اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا کی ہو تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو کون مجھے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں مدد دے گا۔(یہ حضرت صالحؑ نے اپنی قوم ثمود کو کہا )
۶۷۔ اور ظالموں کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا ، سو وہ اپنے گھروں میں یوں اوندھے پڑے رہ گئے۔
۶۸۔ گویا وہ کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے، سنو! ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سنو! دوردفع ہوئے ثمود۔
۷۷۔ اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے پریشان ہوا، مگر ان کے سامنے بے بس تھا۔ وہ کہنے لگا یہ تنگی کا دن ہے۔
۷۸۔ اور اس کی قوم اس کے پاس بے اختیار بھاگتی ہوئی آئی اور اس سے پہلے وہ برے کام کیا کرنے تھے اس نے کہا، اے میرقوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں؟۔
۷۹۔ وہ کہنے گے، تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں اور تو یقینا جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں۔
۸۰۔ وہ کہنے لگا، کاش! مجھ میں تمہارے مقابلے کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کے پاس جگہ پاتا۔
۸۱۔ وہ (فرشتے)بولے۔ لوط ! ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ وہ تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ تو اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کے ایک حصے میں چل پڑھ اور تم میں کوئی پیچھے نہ مڑے۔ مگر ہاں ! تیری بیوی کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آپہنچی ہے۔ ان کے وعدے کا وقت صبح ہے کیا صبح قریب ہی نہیں؟۔
۸۲۔ پھر جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اس (بستی) کو اوپر کو نیچے کر دیا اور اس پر تیرے رب کے ہاں سے (۸۳) نشان کئے ہوئے گھنگر والے پتھر تہ بہ تہ برسائے اور وہ جگہ ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں۔
۸۹۔ اور اے میری قوم ! میری مخالفت تمہیں یوں نہ اکسائے کہ تم پر ویسی ہی مصیبت آجائے جیسی قوم نوح یا قوم ھود یا قوم صالح پر پڑی تھی اور قوم لوط تم سے کچھ دور بھی نہیں۔ (یہ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم سے کہا)۔
۹۰۔ اور پنے رب سے بخشش مانگو۔ پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ میرا رب رحم کرنے والا محبت کرنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سونے و جاگنے کے آداب

۳۹۔ اور اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کرو میں بھی کام کرتا ہوں۔ تم جلدی جان لو گے کہ کس پر وہ عذاب جو اسے رسوا کرے اور دھیان رکھو میں بھی تمہارے ساتھ دھیان رکھتا ہوں۔
۴۹۔ اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب کو اوران کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اورظالموں کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
۵۹۔ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو ! دور دفع ہوئے مدین جیسے ثمود۔
(سورة الرعد ۳۱)
۸۱۔ جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حکم برداری نہ کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وہ سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں ، یہی ہیں جن کے لئے برا حساب ہے اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے۔
(سورة بنی اسرائیل۷۱)
۶۱۔ اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو (کچھ )حکم دیتے ہیں اوروہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ [اس میں وہ اصول بتلایا گیا ہے جس کی رو سے قوموں کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ان کا خوشحال طبقہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی شروع کر دیتا ہے اور انہی کی تقلید پھر دوسرے لوگ کرتے ہیں یوں اس قوم میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی عام ہو جاتی ہے اور وہ مستحق عذاب قرار پاجاتی ہے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
(سورة الکہف ۸۱)
۰۵۔ اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، یہ جنوں میں سے تھا، اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی، کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدل ہے۔
(سورة طہ ۰۲)
۷۱۱۔ تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کوجنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے۔
۸۱۱۔ یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا۔
۹۱۱۔ اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے۔
۰۲۱۔ لیکن شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا، کہنےلگا کہ کیا میں تجھے دائمی زندگ یکا درخت اور بادشاہت بتلاﺅں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو۔
۱۲۱ ۔ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھالیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام )نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس بہک گیا۔
(سورة الاحزاب ۳۳)
۶۳۔ اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کس یامر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (یاد رکھو )اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔ [ابن عباس ، مجاہد، قتادہ، عکرمہ اور مقاتل بن حیان کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لیے حضرت زینبؓ کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تھا اورزینبؓ اور ان کے رشتہ داروں نے اسے نامنظور کر دیا تھا۔ ابن عباسؓ کی روایت ہےکہ جب حضور ﷺ نے یہ پیغام دیا تو حضرت زینب نے کہا ”میں اس سے نسب میں بہتر ہوں “۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ انہوں نے جواب میں یہ بھی کہا تھا کہ ” میں اسے اپنے لیے پسند نہیں کرتی، میں قریش کی شریف زادی ہوں۔“ اسی طرح کا اظہار نارضامندی ان کے بھائی عبداللہ بن حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کیا تھا۔ اس لیے کہ حضرت زید نبیﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے اور حضرت زینبؓحضور ﷺ کی پھوپھی (امیمہ بنت عبدالمطلب ) کی صاحبزادی تھیں۔ ان لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ اتنے اونچے گھرانے کی لڑکی او وہ بھی کوئی غیر نہیں بلکہ حضور ﷺ کی اپنی پھوپھی زاد بہن ہے اور اس کا پیغام آپ ﷺ اپنے آزاد کردہ غلام کے لیے دے رہے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوءیاور اسے سنتے ہی حضور ﷺ کی اپنی پھوپھی زاد بہن ہے، اور اس کا پیغام آپ ﷺ اپنے آزاد کر دہ غلام کے لیے دے رہے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے سنتے ہی حضرت زینب ؓ اور ان کے سب خاندان والوں نے بلا تامل سر اطاعت ختم کر دیا۔ اس کے بعد نبیﷺ نے ان کا نکاح پڑھایا۔ خود حضرت زیدؓ کی طرف سے دس دینا اور ۰۲درہم مہر ادا کیا چڑھاوے کے کپڑے دئیے اور کچھ سامان خوراک گھر کے خرچ کے لیے بھجوادیا۔ یہ آیت اگرچہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی ہے مگر جو حکم اس میں بیان کیا گیا ہے وہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے اسلامی نظام زندگی پر ہوتا ہے۔ اس کی رو سے کسی مسلمان فرد، یا ادارے ، یا عدالت، یا پارلیمنٹ، یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہواس میں وہ خود اپنی آزادی رائے استعمال کرے۔ مسلمان ہونے کے معنی ہی خدا اور رسول ﷺ کے آگے اپنے آزادانہ اختیار سے دستبر دار ہو جانے کے ہیں۔ کسی شخص یا قوم کا مسلمان بھی ہونا اور اپنے لیے اس اختیار کو محفوظ بھی رکھنا، دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ کوئی ذی عقل انسان ان دونوں رویوں کو جمع کرے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ جسے مسلمان رہنا ہو اس کو لازماً حکم خدا اور رسول ﷺ کے آگے جھک جانا ہوگا۔ اور جسے نہ جھکنا ہو اس کو سیدھی طرح ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ نہ مانے گا تو چاہے اپنے مسلمان ہونے کا وہ کتنا ہی ڈھول پیٹے، خدا اور خل قدونوں کی نگاہ میں وہ منافق ہی قرار پا ئے۔ (تفسیر از تفہیم القرآن)]۔
(سورة الحجرات ۹۴)
۱۔ اے ایمان والے لوگو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔[حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریمﷺ پرایمان لانے کے بعد کسی کو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب کریم اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے ارشاد کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کوئی کام کرے۔ جب انسان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے توہ اس امر کا بھی اعلان کر تا ہوتا ہے کہ آج کے بعد اس کی خواہش، اس کی مرضی، اس کی مصلحت خدا اور اس کے رسول کے حکم پر بلا تامل قربان کر دی جائے گی۔ یہ ارشاد فقط اہل ایمان کی شخصی اورانفرادی زندگی تک ہی محدود نہیں بلکہ قومی اوراجتماعی زندگی کے تمام گوشوں، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی کو بھی محیط ہے۔ نہ کسی فرد کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا انفرادی زندگی تک ہی محدود نہیں بلکہ قومی اوراجتماعی زندگی کے تمام گوشوں، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی کو بھی محیط ہے۔ نہ کسی فرد کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو کتاب و سنت سے متصادم ہو اور نہ کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احکام شرعی کے برعکس کوئی فیصلہ کرے۔ (تفسیر از ضیاءالقرآن)]
(سورة الذریت ۱۵)
۶۴۔ اور نوح (علیہ السلام ) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وہ بھی بڑے نافرمان لوگ تھے۔
(سورة الحاقة ۹۶)
۵۲۔ لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی وہ تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی۔
۶۲۔ اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے۔
۷۲۔ کاش ! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی ۔
۸۲۔ میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔
۰۳۔ (حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنا دو۔
۱۳۔ پھر اسے دوزخ میں ڈال دو۔
۲۳۔ پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے، جکڑ دو۔
۳۳۔ بیشک یہ اللہ عظمت والے پر ایمان نہ رکھتا تھا۔
۴۳۔ اور مسکین کے کھلانے پررغبت نہ دلاتا تھا۔ [یعنی عبادت واطاعت کے ذریعے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا، جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ (تفسیر از شاہد فہد قرآن]
۵۳۔ پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے۔
۶۳۔ اور نہ سوائے پیپ کے اس کی کوئی غذا ہے۔
۷۳۔ جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔
(سورة الجن ۲۷)۔
۲۲۔ فرما دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناہ بھی پا نہیں سکتا۔
۳۲۔البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیںگے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں ظلم کا بیان