people of pakistan

پاکستان کے عوام کہاں رہیں؟

EjazNews

پاکستان کے عوام کہاں رہیں، کوئی جگہ ہے جو حکومت نے انہیں مہیا کر رکھی ہے، اپنے ہی پرانے تین مرلہ کے مکان پر ایک پورشن ڈال لے یا حکومت ان کیلئے کوئی اچھی بستی بسانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹیں دیکھیں تو لگتا ہے پاکستان میں اگلے چند برسوں میں دودھ اور شہد کی نہروں کے ساتھ ساتھ مکانات کے بھی ”دریا بہنا شروع ہو جائیں گے“ یعنی مکانات کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ لوگ اپنی چوائس کے مکان میں رہیں گے۔ یہ رپورٹیں کیا رنگ لائیں گی اس کے بارے میں ہم تو ذہنی طور پر کلیئر ہیں لیکن آپ کو کسی شش و پنج میں ڈ النے سے پہلے تھوڑا سا ماضی کا احوال آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا 1976ءمیں وینکواوور کانفرنس ہوئی تھی جس کے اعلامیے کو وینکواوٹ ڈیکلریشن آن ہیومن سیٹلمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی جس کا مقصد لوگوں کو رہائشی سہولتیں مہیا کرنا تھا۔ اسی کانفرنس کے نتیجے میں اقوام متحدہ میں اپنا ایک زیریں ادارہ قائم کیا اور پھر معاملات آگے بڑھنا شروع ہوئے ۔دوسری کانفرنس استنبول میں ہوئی ،جون 1996ءمیں اس کا مقصد مناسب چھت سب کیلئے تھا۔ پاکستان بھی اس محفل میں شریک تھاہم پر بھی یہ فرض ڈالا کہ ہم بھی لوگوں کو مناسب چھت مہیا کریں گے۔ اسی کانفرنس میں یہ بتایا گیا کہ دنیا کی 54فیصد آبادی شہروں میں مقیم ہے۔ ہم نے اس کانفرنس میںیہ نہیں بتایا کہ اس وقت ہماری 70فیصد آبادی دیہات میں مقیم تھی اور جو 30فیصد آبادی شہروں میں تھی اس کی حالت بھی یورپ کے دیہات سے بدتر تھی۔ گیس تھی نہ پانی اور نہ ہی سیوریج کی کوئی سہولت۔ اس سلسلے کی تیسری کانفرنس اکتوبر 2016 ءمیں ایک نئے اربن ایجنڈے کے ساتھ منعقد ہوئے۔ اس کا مقصد تمام ممالک میں اپنے نئے شہروں کا ایجنڈا تیار کرنا تھا۔ ہمارے ہاں اربن یونٹ کی تشکیل اسی لیے کی گئی تھی۔ پاکستان اپنے آپ کو یونائیٹڈ نیشن ہیبٹاٹ کے بانیوں میں سمجھتا ہے وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ لوگوں کو رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے اس نے کئی وزارتیں بھی قائم کر رکھی ہیں اور نیو اربن ایجنڈا اس کے مشن میں شامل ہے۔ لیکن ہم نے کبھی اس کے رہنما خطوط اور تقاضوں پر غور نہیں فرمایا۔ پیشگی اربن پلاننگ نیو اربن ایجنڈے کے نکات میں شامل تھی۔ اربن گورننس اور قانون سازی دوسرے نمبر پر تھی۔ مقامی حکومتوں کو مستحکم بنانے، مناسب فنڈز مہیا کرنا اور اربنائزیشن کو نچلی ترین سطح پر منتقل کر نا اس اربن کانفرنس کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہم ایسا کچھ نہ کر سکے۔ نیو اربن ایجنڈے میں مکانات کی فراہمی اور بنیادی ضرورتوں کے ڈھانچوں کی تشکیل کا کام بنیادی سطح پر نچلی ترین سطح پر ہی ہونا تھا مگر ہمارے ارباب اختیار نے عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے رہنماﺅں کو ایسے چکمے دئیے کہ وہ آج تک منہ پھاڑے ہمیں تک رہے ہیں۔ اور سوچ رہے ہیں کہ جو فلم ہمارے سامنے چلائی وہ کہانی تو کچھ اور تھی۔ جو فلم اب مختلف شہروں میں چل رہی ہے وہ دکھائی گئی کہانی سے بہت مختلف ہے۔ ہمارے رہنماﺅں نے جنوبی ایشیا کاپاکستان کو سب سے زیادہ اربنائز ملک قرار دیا۔ اقوام متحدہ کو یہ بھی بتایا کہ ہماری شہری آبادی 1998ءسے 2014ءتک 4کروڑ 30لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے سات کروڑ ہو چکی ہے یعنی دگنی سے کچھ کم ہے۔ اور 2025ءتک ہم یقینی طور پر انتہائی اربنائز ممالک میں شمار ہوں گے۔ ہم نے اقوام متحدہ کے ممالک کو یہ بھی بتایا کہ ہمارے ہاں 47فیصد شہری آبادی 9بڑے شہروں میں رہتی ہے۔ ہر ایک کی آبادی 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایسا نقل مکانی کی وجہ سے ہوا۔ لیکن ہم نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ شہری آبادی کا پھیلاﺅ کس قدر بے ہنگم ، غیر منظم اور بڑی حد تک غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپریل فول

پاکستان کی تقریباً 68فیصد آبادی بچوں اورنوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یعنی ان کی عمریں 30سال سے کم ہیں۔ لہٰذا ہم اس جوان قوم سے 2045ءتک بہت کام لے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کو ہم نے بتایا کہ ہم نے اپنی اس آبادی کو اپنے بہترین منافع کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ 2045ءتک یہ آبادی ہمارے لیے بونس ہوگی ، ترقی کا بونس ، خوشحالی کا پیغام ۔ لیکن ہم یہ بتانا بھول گئے کہ ہم نے اس تمام عرصے میں اس نسل کے ایک محدود سے حصے کو لیپ ٹاپ دینے کے علاوہ اور کیا کیا ہے۔ ایک چپڑاسی اور کلرک کی درخواست کیلئے ڈگری ہولڈرز کی درخواستیں اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہیں۔

ہم نے ماضی میں اربنائزیشن کو فروغ دینے کیلئے کئی اقدامات کیے۔ سی پیک سے لا تعداد امیدیں وابستہ کر لیں ۔ یہ امیدیں ابھی تشنہ طلب ہیں۔ فی الحال تو ہم شادی کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ کئی شہروں میں بہتر منصوبہ بندی کیلئے ماسٹر پلان بنائے۔ ایک بھی ماسٹر پلان پائیہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ کسی کو ناقص کہہ کر مسترد کر دیا گیا اور کوئی ماسٹر پلان قابل عمل نہ تھا کسی پر عملدرآمد کیلئے پیسے نہ تھے۔ چنانچہ 1998ءکے بعد اربنائزیشن کے عمل میں سستی آگئی جہاں اس میں اضافہ کی شرح 3.5فیصد تھی وہاں یہ گر کر 2013ءمیں 3.3فیصد رہ گئی۔ ٹاﺅن پلاننگ کی کوششیں ہوئیں ، کئی بائی لاز بنے مگر سب بیکار ۔ شہر آلودگی کا شکار ہونے لگے ، کروڑسے زائد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں نے کراچی اور لاہور کو دھواں دھواں کر دیا۔ قدرتی آفات الگ مسئلہ رہے ۔ زندگی ، ہوا، آندھی ، بارش ، پانی اور سیلاب کی زد میں رہے۔ کئی لاکھ لوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے۔ 2005ءکے زلزلے سے ملک میں رہائشی سہولتوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔74ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ 35لاکھ بے گھر اور 6لاکھ مکان تباہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  سٹیزن پورٹل

کام ہو یا نہ ہو ، مقصد پورا ہو یا نہ ہو ، منصوبہ بندی کرنے میں کیا حرج ہے۔ کاغذ پر دو چار لکیریں مار لینے سے فوری طور پر قوم کی تسلی تو ہو جاتی ہے ۔ ماضی میں ایسا ہی ہوا۔ مستقبل میں ہم اچھے کیلئے امید رکھ سکتے ہیں پوری ہو یا نہ ہو کچھ کہہ نہیں سکتے وقت بتائے گا ۔ پہلے بتایا گیا تھا کہ ملک میں 90لاکھ مکانات کی کمی ہے جبکہ 1998ءمیں صرف 43لاکھ مکانات کی کمی تھی۔ مکانات میں کمی ڈیڑھ لاکھ سالانہ کی رفتار سے ہو رہی ہے۔ پھر شہروں کی 50فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے، ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ اس پر قابو پانے کیلئے سابقہ دور میں پنجاب میں اپنا گھر سکیم شروع ہو ئی۔ سندھ میں بہن بے نظیر بستی اور شہید بے نظیر بھٹو ہاﺅسنگ سکیم شروع ہوئی ، تینوں سکیموں کا مقصد سیاسی تھا۔ اپنا گھر کس کو ملا اور گھر بانٹنے والوں نے سندھ میں کس کو بے نظیر کا بھائی یا بہن سمجھا یہ لوگ نہیں جانتے ۔ لیکن شہید بے نظیر بھٹو ہاﺅسنگ سکیم اور بہن بے نظیر بھٹو سکیم بری طرح ناکام ہوئے۔ تب کہیں جا کر حکومت نے کچی آبادیوں کیلئے پہلی پالیسی بنائے۔ جسے نیشنل پالیسی آف کچی آبادی کا نام دیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد مزید کچی آبادیوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے پرانی کچی آبادیوں کو پکی آبادیوں میں تبدیل کرناتھا کیونکہ اسے 2006ءمیں جاری کر دہ پاکستان نیشنل سینیٹیشن پالیسی سے جوڑ دیا گیا۔ اسے سے ملتی جلتی ایک اور پالیسی جاری ہوئی جو PATS کہلائی۔ اس کا تعلق پاکستان عوامی تحریک یا طاہر القادری سے ہر گز نہیں بلکہ یہ ہر گھر کو نکاسی آب کی سہولت مہیا کرنے سے متعلق ایک پروگرام کا نام تھا۔ اسی پروگرام کو انرجی پروگرام سے جوڑ دیا گیا اور پھر سی پیک اس کا حصہ بنا۔

یہ بھی پڑھیں:  23مارچ 1940ء ایک عہد کی تکمیل

اقوام متحدہ نے اچھی رہائشی سہولتوں کیلئے 12اعشارئیے طے کیے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس کسی ایک کے بھی مکمل اور جامع اعدادو شمار دستیاب نہیں ہے۔ البتہ حکوحت مانتی ہے کہ اس کے پاس 8اعشاریوں کے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ مگر ان میں سے بھی کچھ پرانے ہیں۔ یہ 1996ءسے2013ءتک کے ہیں۔ جو مختلف رپورٹوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اربن آبادی 1981ءمیں 4.4فیصد ، 1998ءمیں 3.5فیصد اور 2013ءمیں 3.3فیصد کی رفتار سے بڑھی اور اب اس کا تناسب مجموعی طور پر 39فیصد بتایا جاتا ہے۔ سابق ادوار کے آخر میں تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 75شہروں کی آبادی 1لاکھ سے 10لاکھ کے درمیان تھی جبکہ 448چھوٹے شہر یا قصبات اس کے علاوہ تھے۔ ان کی آبادی 1لاکھ سے کم تھی۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، اس کی 20فیصد آبادی شہری ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کی 15فیصد اور راولپنڈی ، ملتان ، حیدر آباد اور گوجرانوالہ کی 12فیصد آبادی شہری ہے۔ جبکہ باقی ماندہ علاقوں کی بہت محدود سی تعداد شہری سہولتوں سے مستفید ہو رہی ہے۔ بڑے شہروں کی آبادی میں اضافہ بھی بڑی رفتارسے ہو رہا ہے اور 1998ءکے بعد سے یہ ساڑھے چار فیصد کی رفتار پر گیالیکن بعد میں اس میں کمی آئی۔ 1981ءکے بعد سے کراچی کی آبادی میں اضافہ کی رفتار 3.5فیصد ، لاہور کی 3.3، فیصل آباد کی 3.6، راولپنڈی کی 3.5، ملتان کی 3.6، حیدر آباد 3.6، گوجرانوالہ 3.8، پشاور 3.3، کوئٹہ 4 اور اسلام آباد کی آبادی کی شرح نمو پونے چھ فیصد تھی۔