blind old man

اندھا بابا

EjazNews

عرفی کو سکول سے واپسی میں دیر ہو گئی تھی وہ نیل آنکھوں اور گھنگریالے بالوں والا سفید رنگت کالڑکا تھا۔ روزانہ سکول میں چھٹی کا گھنٹہ بجتے ہی وہ گھر کا رستہ لیتا۔ اس کے دوسرے ساتھی عدیل، آصف، عدنان وغیرہ کچھ دیر پارک میں بھی گزارتے تھے جہاں مصنوعی جھیل میں بطخیں تیرتی رہتی تھیں۔ وہاں کھیلتے اور درختوں پر چڑھتے تھے۔ لیکن عرفی کبھی ان کے ساتھ نہ پارک میں گیا تھا اور نہ ہی ان دلچسپ کھیلوں میں شریک ہوا تھا۔ اس کا جی تو بہت چاہتا تھا لیکن اس نے کبھی ایسا کیا نہیں تھا۔ اسے بادل اچھے لگتے تھے۔ درخت اچھے لگتے تھے۔ بطخیں اچھی لگتی تھیں ۔ پارک میں جانا بھی اچھا لگتا تھا اور کیوں نہ اچھا لگتا۔ آخر وہ بچہ تھااوربچوں کو یہ چیزیں اچھی لگتی ہیں لیکن اسے ڈر لگتا تھا کیونکہ اس کی امی نے بتایا تھا کہ جو بچے رستے میں رک کر کھیلتے ہیں انہیں اندھا بابا اٹھا لے جاتا ہے۔ اس نے کبھی اندھ بابا کو دیکھا نہیں تھا۔ امی نے بتایا تھا کہ وہ لمبا سا چوغہ پہنے ہوتا ہے۔ بال لمبے اور شانوں پر بکھرے ہوتے ہیں۔ وہ گندے بچوں کو اٹھاکر اپنے چوغے میں چھپا لیتا ہے اور پھر تیز تیز قدمو ں سے اپنی کٹیا کی طرف چل دیتا ہے۔ جہاں پہنچ کے وہ انہیں کھا لیتا ہے اس نے امی کی بات پر یقین کرلیا تھا۔ لیکن اس کی سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا تھا کہ اس کے دوست جو پارک میں کھیلتے ہیں اور دیر سے گھر پہنچتے ہیں انہیں اندھا بابا کیوں نہیں ملا۔ کئی بار اس کا جی چاہا کہ امی سے پوچھے لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی ایسی بات درمیان میں آگئی کہ اسے پوچھنا یاد ہی نہ رہا۔ لیکن یہ خیال روز واپسی پر ضرور ستاتا جب وہ اپنے دوستوں کو پارک کی طرف جاتا دیکھتا تھا۔ اگلے روز اگر عدنان آصف یا عدیل میں سے کوئی غیر حاضر رہتا یا ان میں سے کسی کو سکول پہنچنے میں تاخیر ہو جاتی تو وہ دل ہی دل میں سمجھ بیٹھتا کہ ہو نہ ہو کل اندھا بابا اٹھا لے گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ خیال غلط ثابت ہوتا جب وہ تینوں کواکٹھا دیکھ لیتا۔ شاید اس کی امی جھوٹ بولتی ہیں۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا۔ لیکن پھر جلد ہی اسے اس خیال پہ شرمندگی ہوئی۔ کیونکہ اس کی امی بہت اچھی تھیں اور اس نے انہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں سناتھا۔

یہ بھی پڑھیں:  بلی کی کہانی

آج جب وہ سکول سے گھر کے لئے روانہ ہوا تو آصف دور سے اسے دیکھ کر چیخا ۔عرفی پارک چلو گے ؟
نہیں۔ میں گھر جائوں گا اس نے بھی تقریباً چلا کر جواب دیا۔
تم بالکل بدھو ، ہو عرفی۔ چلتے کیوں نہیں بہت مزہ آئے گا ۔ عدیل نے بھی آصف کی ہاں میں ہاں ملائی۔
تم لوگ جائو میں توگھر جائوں گا ۔ عرفی نے مضبوطی سے کہا۔ حالانکہ اس کا دل بہت چاہ ر ہا تھا اس نے کبھی جھیل نہیں دیکھی تھی۔ اس کی امی اسے پارک نہیں لے جاتی تھیں۔

اگر ابو ساتھ ر ہتے تو شا ید وہ ان کے ہمراہ پارک کی سیر کرنے جا سکتا تھا۔ لیکن وہ عرصہ دراز سے ملک سے باہر تھے۔ جہاں سے ان کے خط باقاعدگی سے آتے تھے یا پھر کبھی کبھار وہ اس کے لئے مختلف قسم کے کھلونے بھیج دیتے تھے۔ جن سے وہ کھیلتا رہتا تھا۔ چھوٹی سی بندوق، خوبصورت سا بلا اور گیند اور اس طرح کی دوسری چیزیں ۔ لیکن وہ ان سے کھیل کھیل کے تنگ آچکا تھا۔ آخر وہ ان سے کب تک کھیلتا۔ وہ تو اس پارک میں جا کے مصنوعی جھیل کے نیلے پانیو ں میں بطخوں کو تیرتے، ہرنیوں کو چوکڑیاں بھرتے اور لمبی گردن والے زرافے کو دیکھناچاہتا تھا۔ یوں بھی یہ پارک۔ پارک کے علاوہ اچھا بھلا چڑیا گھر بھی تھا اور جب عدیل اور آصف نے اسے چلنے پہ اصرار کیا تو ایک لمح کے لئے تیار بھی ہوگ یا تھا۔ لیکن پھر اسے ایک دم امی کا کہا یاد آگیا۔ اور وہ ان کے ساتھ چلنے کے خیال کو ذہن سے جھٹک کر گھر کی طرف چل دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  دکھ بھری داستان

پیلی عمارت والی سڑک کو عبور کرتے ہوئے اس نے ایک عجیب منظر دیکھا کہ ایک دراز قد قامت بوڑھا جس نے رنگ برنگے کپڑے کے ٹکڑوں سے بنا ہوا لمبا چوغہ پہن رکھا ہے اور جس کےبال سفید الجھے ہوئے اور کسی قدر بڑے ہیں اپنے ہاتھ میں چھڑی لیے کھڑا ہے۔
خوف کی سرد لہر عرفی کی رگوں میں سرایت کر گئی۔ اندھا بابا۔ بے ساختہ ایک ہی خیال اس کے ذہن میں آیا۔ مگر وہ تو پارک نہیں گیا۔ لیکن وہ جانا تو چاہتا تھا۔ اس نے ارادہ تو کیا تھا۔ اس کے ذہن میں خیالوں کا ہجوم تھا۔ خوف تھا اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کرے اور جب وہ سڑک عبور کر کے دوسری طرف پہنچا تو اس وقت تک اندھا بابا اس کے سر پہ آپہنچاتھا۔ وہ لاٹھی ٹیکتا ہوا آیا تھا اس کی رفتار بھی تیز تھی۔

اب یہ ضرور مجھے اٹھ کے اپنے چوغے میں چھپا لے گا ۔ عرفی نے یہ سوچا اور چاہا کہ بھاگنا شروع کر دے، چلانا شروع کر دے۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ کوئی قدم اٹھاتا اس کے کانوں میں آواز آئی۔
سننا بیٹا! عرفی ٹھٹھک گیا۔ آواز ملائم اور شفیق تھی۔ اس سن کربالکل بھی خوف نہیں آیا اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔ بوڑھے کی آنکھیں بے نور تھیں اور چہرے پر بے پناہ جھریاں تھیں۔
بیٹا ! مجھے سڑک تو پار کرا دینا!
عرفی کے لئے فیصلہ کرنا دشوار ہو گیا ۔ کہیں یہ اندھے بابا کی کوئی چال تو نہیں، سڑک پار کرتے ہی وہ اسے اٹھا کے اپنے چوغے میں چھپا کر بھاگ تو نہیں جائے گا۔ ابھی اس قسم کے خیالات اس کے ذہن میں تیزی سے آرہے تھے۔ اس نے بوڑھے کی طرف غور سے دیکھا وہ ایک پریشان حال قسم کے چہرہ تھا ۔ اسے وہ نظم یاد آئی جس میں ایک جگنو نے اندھیری رات میں بلبل کو اس کے آشیانے تک پہنچایا تھا۔ عرفی نے آگے بڑھ کے بوڑھے کی لاٹھی تھام لی اور سڑک کے دونوں طرف دیکھتے ہوئے اس پار چل دیا۔
عرفی جب گھر پہنچا تو اسے دیر ہوگئی تھی۔ زیادہ نہیں تھوڑی سی دیر لیکن وہ بہت خوش تھا اس نے امی سے کہا
امی پتا ہے آ ج کیا ہوا؟
کیا ہوا؟ امی نے اس کے گلے سے بستہ نکالتے ہوئے پوچھا
آج مجھے اندھا بابا ملا تھا؟
کیا تم پارک گئے تھے ؟
نہیں وہ مجھے رستے میں ملا تھا ، آپ تو کہتی تھیں کہ وہ بچوں کو کھا لیتا ہے لیکن اس نے تو میرے سر پہ ہاتھ پھیرا اور مجھے دعائیں دیں۔
اچھا امی نے دلچسپی سے کہا۔
ہاں میں نے اسے سڑک پار کرائی وہ دیکھ نہیں سکتا تھا۔
تم نے اچھا کیا عرفی۔ مگر اب تم جلدی سے کپڑے بدل لو، کھانا پہلے ہی ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
امی یہ کہہ کر باورچی خان ے کی طرف چل دیں۔
عرفی کو محسوس ہوا کہ وہ اب بڑا ہوگیا ہے۔کیونکہ آج اس نے ایک بڑا کام کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ماں باپ بچوں سے کتنا پیار کرتے ہیں؟
کیٹاگری میں : بچے