lahore-lahore

1883-84کے گزٹ کے مطابق جدید لاہور

EjazNews

پنجاب کا دارالحکومت اور ضلع کا صدر مقام لاہور راوی کے بائیں کنارے سے ایک میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کسی زمانے میں دریا شہر کے قریب بہتا تھا۔1662ءمیں شہر کی حفاظت کے لیے دریا کے ساتھ چار میل لمبا بند باندھا گیا تھیا۔ لیکن بندکی تعمیر کے فوراً بعددریا نے اپنا پرانا رخ تبدیل کر کے شمال کی جانب بہنا شروع کردیا۔ اس وقت سے دریا اسی سمت میں بہہ رہا ہے۔ بعض اوقات راوی سے نکلنے والے ندی نالے پرانے بہاﺅ کی جانب رخ کرلیتے ہیں۔ الحاق پنجاب کے وقت دریا کی ایک چھوٹی ندی قلعے کی دیواروں کے نیچے بہہ رہی تھی۔
لاہور شہر کی شکل مستادی العمودی ہے یعنی اس کے دو اطراف متوازی ہیں۔ اس کی سب سے لمبی سمت شمال کی جانب ہے۔ اس کے گرد پندرہ فٹ اونچی دیوار اور تیرہ دروازے ہیں۔ شمال کی طرف کوئی دروازہ نہیں بلکہ وہاں قلعہ او ر ملحقہ عمارتیں ہیں۔ شہر کی لمبائی سوا میل اور قلعہ سمیت چوڑائی پون میل اور قطر تین میل سے کم ہے۔ جنوب میں مساجد ¾ مقبروں اور دروازوں کے کھنڈرات اور بھٹے کی اینٹوں کے ملبے کے ڈھیر ہیں۔1849ءکے الحاق کے وقت شہر مکمل طورپر تباہ حال تھا لیکن اب علاقے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

مغرب کی جانب شہر کا لوہاری دروازہ انارکلی بازار سے جا ملتا ہے جہاں حکومت پنجاب کا سول سیکرٹریٹ واقع ہے۔ شہنشاہ جہانگیر نے اپنی کنیز انارکلی کی یاد میں یہاں ایک مقبرہ تعمیر کرایا تھا لیکن اب وہاں گرجا گھر قائم کردیا گیاہے۔ شمال مشرقی زاویے پر واقع سطح مرتفع پر قلعہ تعمیر کیا گیا ہے۔ شمال کی جانب دریائے راوی اور مغرب میں حضوری باغ اور بادشاہی مسجد واقع ہے۔ بیشتر مکانات 1847-48 میں چھاﺅنی کے قیام کے وقت تعمیر کیے گئے۔ سابق ریذیڈنسی کی جگہ پر سیکرٹریٹ‘ مالیاتی محکموں کے دفاتر اور چیف کورٹ قائم کی گئی ہے۔ انارکلی سے مشرق میں تقریباً تین میل دور لارنس گارڈن اور گورنمنٹ ہاﺅس واقع ہیں۔ مشرق کی جانب ڈونلڈ ٹاﺅن ہے جس کا نام لیفٹیننٹ گورنر سرڈونلڈ میکلوڈ سے منسوب ہے۔ یہ ٹاﺅن حال ہی میں تعمیر کی جانے والی مال روڈ کے ذریعے انارکلی سے منسلک ہے۔ ریلوے سٹیشن کے قریب وسیع بنگلے تعمیر کیے گئے ہیں جن میں زیادہ تر ریلوے ملازمین رہتے ہیں۔ سٹیشن کا یہ حصہ نولکھا کہلاتا ہے۔ مزنگ انارکلی کے جنوب میں واقع ہے۔ سول انتظامیہ کے کئی بنگلے مزنگ کے حدود میں بنائے گئے ہیں۔

انارکلی کے مقبرے میں چھاﺅنی قائم کی گئی لیکن فوجیوں کی خوفناک اموات کے پیش نظر 1851-52 ءمیں یہاں سے چھاﺅنی ہٹالی گئی۔ 1846-47 میں یہاں فی ہزار شرح اموات 85  1851-52 ءمیں ہر میجسٹی کی 96 رجمنٹ میں 132 اور فرسٹ بنگال فیوزلیئرز میں 216 رہی۔ صوبے کے موجودہ سینٹری کمشنر کے مطابق شرح اموات میں اضافہ صحت وصفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ہوا۔ اب اس علاقے میں بے شمار درخت اور باغات لگائے دئیے گئے ہیں۔ انارکلی میں چھاﺅنی ختم کرنے کے بعد اسے مسلمان بزرگ میاں میرؒ کے مزار کے قریب منتقل کردیا گیا جو یہاں سے چھ میل دور مشرق میں واقع ہے۔ چھاﺅنی اور شہر کے درمیان ایک بڑی نہر بہتی ہے جو راوی اور بیاس کے درمیانی علاقے کو سیراب کرتی ہے۔
لاہور شہر کے نواح میں کافی جنگلات موجود ہیں جن میں زیادہ تر کیکر کے درخت لگے ہیں۔ پرانے باغوں میں آم  پیپل اور کھجور کے پودے لگائے گئے ہیں۔ مغل شہنشاہوں کو قدرتی مناظر سے جو بے پناہ لگاﺅ تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے آباﺅ اجداد کا تعلق دریائے آمو کی حسین ترین وادیوں سے تھا اور یہ حسن ذوق انہیں ورثے میں ملا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بھی لاہور کی سر زمین کو دلفریب باغوں اور عمارتوں سے مزین کیا اور مرنے کے بعد بھی یہیں پیوند خاک ہوئے۔ ان کے بے شمار باغوں سے ایک شالا مار باغ نے ہندوستان سے باہر بھی بڑی شہرت پائی ہے۔

میاں میر چھاﺅنی:
یہ چھاﺅنی سول سٹیشن سے کوئی تین میل کے فاصلے پر مشرق میں واقع ہے۔ اسے انارکلی میں غیر صحت مندانہ ماحول کی وجہ سے یہاں منتقل کیا گیا۔ اس سے پہلے یہ ایک چٹیل میدانی علاقہ تھالیکن نہر سے پانی حاصل کر کے اب یہاں بے شمار درخت لگادیئے گئے ہیں اور یہ علاقہ سر سبز اور شاداب ہوگیا ہے۔ یہاں پنجاب کا خوبصورت ترین گرجاگھر موجود ہے۔ اس چھاﺅنی کا نام مسلمانوں کے عظیم صوفی بزرگ اورپیر میاں میرؒ کے نام نامی سے منسوب ہے جو بابا نانک کے ہم عصر تھے۔ آپ کا مزار چھاﺅنی کے مغرب میں نہر کے قریب میاں میرویسٹ ریلوے سٹیشن سے نصف میل کے فاصلے پر ہے۔ مزار کا گنبد سفید سنگ مرمر اور آگرہ کے سرخ پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے۔ مزار کے پاس ایک خوبصورت مسجد بنائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر کی تخت نشینی

زمین کی طبعی خصوصیات :
لاہور کی زمین ناہموار ہے اور اس کے نواح میں کاربونیٹ لائم اور کنکر پائے جاتے ہیں جن کی تہ دس سے بارہ فٹ موٹی ہے۔ کنکروں کے نیچے ریت اور ریت کے نیچے پانی ہے۔ زمین میں نمکیات کی مقدار بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہاں درخت اور فصلیں بہت کم اگتی ہیں۔ سوڈا اور کلورائیڈ آف سوڈیم کے علاوہ سوڈا کاربونیٹ یہاں بکثرت پایا جاتا ہے۔

سڑکیں:
لاہور کی میونسپل حدود میں 36 میل لمبی پختہ سڑکیں موجود ہیں جبکہ اندرون شہر پختہ سڑکوں کی لمبائی دس میل کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ اینٹوں کی 19 میل لمبی گلیاں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔

پانی :
1881ءتک لاہور میں پینے کے پانی کے لیے صرف کنوﺅں پر انحصار کیا جاتا تھا لیکن اسی سال جون میں یہاں شہریوں کو پانی سپلائی کرنے کی غرض سے واٹر ورکس کا افتتاح کیا گیا۔ شروع شروع میں پانی کے استعمال کے سلسلے میں ذات پات تعصب آڑے آیا لیکن اب یہ اثرات زائل ہوچکے ہیں اور لوگ کثافتوں سے پاک پانی کو پسند کرنے لگے ہیں اور یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ انہیں بھی جدید تہذیب کی نعمتوںسے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پینے کا صاف پانی قلعے کے نیچے اور پنجاب ناردرن سٹیٹ ریلوے لائن کے قریب کھودے گئے چھ کنوﺅں سے حاصل کیا جارہا ہے۔ ان تمام کنوﺅں کے پانی کو آپس میں ملادیا گیا ہے اور ان کا پانی دو انجنوں کے ذریعے (یہ انجن باری باری چلائے جاتے ہیں) پمپ کیا جاتا ہے۔ یہاں سے تمام آبادی کو دس گیلن فی کس یومیہ کے حساب سے پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔مین لائن کا قطر بیس انچ  لمبائی 3200 فٹ اور اونچائی 150 فٹ ہے۔ پائپوں کی کل لمبائی 22 میل ہے۔ پانی کی تقسیم کے لیے شہر کو پانچ ضلعوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں بڑے ذخیرہ سے پانی مہیا کیا جاتا ہے۔ ہر ضلع کے سروس پائپ مین لائن اور ملحقہ ضلعے سے منسلک ہیں۔ اس طرح ایک ضلع میں پانی کی سپلائی بند ہونے کی صورت میں اسے ملحقہ ضلعے سے پانی فراہم کیا جاسکتا ہے۔

بڑے ذخیرے کے لیے جگہ کا انتخاب شہر کے سب سے اونچے علاقے قلعے کے جنوب مشرق میں کیا گیا ہے۔ یہ واحد مقام ہے جہاں سے چالیس فٹ کے پریشر سے پورے سسٹم کو پانی سپلائی کیا جاسکتا ہے۔ شہر میں کئی دوسرے بلند مقامات بھی موجو د تھے۔ لیکن وہاں سے صرف گلیوں میں پانی جاسکتا ہے۔پانی کی سپلائی کے لیے گلیوں کو چوڑا کرنے کی ضرورت تھی لیکن اس مقصد کے لیے صرف ناگزیر زمین حاصل کی گئی اور پانی کا پائپ گلیوں کے کونے سے گزارا گیا۔ چونکہ شہر کی گلیاں تنگ و تاریک تھیں اور زمین بھی سخت تھی اس لیے پائپ لائن گزارنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت انارکلی  ڈونلڈ ٹاﺅن اور نولکھا کے علاقوں کو واٹر ورکس سے پانی سپلائی ہو رہا ہے۔
لاہور میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر بینٹن براﺅن نے لاہور کے دریا۔ نہر اور کنوﺅں کے پانی کا تجزیہ کرنے کے بعد جورپورٹ تیار کی ہے‘ یہاں ہم اس کے اقتباسات درج کرتے ہیں کیونکہ یہ تجزیہ نہایت کار آمد اور دلچسپ ہے۔

دریائی پانی کے اجزاءسال کے مختلف موسموں میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ میرے تجزیے کے مطابق اس پانی میں نمکیات کلورائیڈ  سوڈیم  پوٹاشیم  سوڈے اور لائم کے سلفیٹ اور لائم اور میگنیشیا کے کاربونیٹ شامل ہیں۔ یہ پانی آبپاشی کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس میں لائم اور ایلومینا کا سلیکیٹ اور کاربونیٹ کے علاوہ نامیاتی اجزاءشامل ہیں جو فصلوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔

لاہورکی نہر باری دو آب نہر کی شاخ ہے جو دریائے راوی سے مادھو پور کے قریب (لاہور سے ایک سو میل دور) پانی حاصل کرتی ہے۔ اس کے پانی کی خصوصیات بھی راوی کے پانی سے ملتی جلتی ہیں تاہم اس میں نمکیات اور شورہ کم ہے۔ نہر کا پانی قدرتی پانی کے مقابلے میں بہت زیادہ خالص ہے۔

”لاہور میں کنوﺅں کی اوسط گہرائی 45 سے 50 فٹ کے درمیان ہے۔ ان میں گرمیوں کے موسم میں صرف دو یا تین فٹ جبکہ بارشوں کے موسم میں 25 سے 30 فٹ تک پانی موجود ہوتا ہے۔ دریا کے نزدیک واقع کنوﺅں کی حیثیت ایک ندی جیسی ہوتی ہے کیونکہ ان میں دریا سے پانی رس رس کرآتا ہے البتہ دریا سے دور کنوﺅں کی خصوصیات بالکل مختلف ہوتی ہیں اور ان میں نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:  سلطنت دہلی کو استحکام کیسے ملا؟

نکاسی آب:
شروع میں یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ لاہور میں واٹر سپلائی کے ساتھ ہی نکاسی آب کا سسٹم بھی قائم کردیا جائے۔ مالی مشکلات کے باعث ابتدا میں صرف دو میل لمبا سیوریج بچھایا گیا۔ 1882-83 ءکے مالی سال کے دوران میونسپلٹی کے اسسٹنٹ سیکرٹری مسٹر بل کی نگرانی میں سیوریج بچھانے کا کام پورے زور و شور کے ساتھ شروع کردیا گیا اور سال کے آخر تک تقریباً پورے شہر میں گٹر ڈال دئیے گئے اور سڑکوں کو پختہ کردیا گیا۔ اس کے بعد صرف دہلی اور اکبری دروازے کے پلوں کے نیچے گٹر ڈالنے کا کام باقی رہ گیا تاہم 1883 ءمیں یہ کام بھی مکمل کرلیا گیا۔ اب پورے شہر کا استعمال شدہ پانی راوی میں گرتا ہے۔ ایک سیوریج لائن بھاٹی سے مستی دراوازے تک بچھائی گئی ہے۔ وہا ں سے گندہ پانی خضری دروازے سے روای تک لے جانے کی منصوبہ بندی کئی گئی لیکن کاشتکاروں نے اس پانی کو آگے نہ جانے دیا اور اس سے کھیت سیراب کرنے لگے۔ گرمیوں کے موسم میں تو زیادہ مشکلات پیش نہ آتیں لیکن بارشوں کے دنوںمیں گٹروں کا پانی جمع ہوجاتا جس سے شہریوں کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا۔ راوی میں سیلاب کی وجہ سے بھی صورت حال خطر ناک ہوجاتی۔ اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے اور واٹر ورکس کے کنوﺅں کو کثافتوں سے پاک رکھنے کے لیے اکبری سے مستی اور بھاٹی در وازے تک سیوریج بچھانے کا کام شروع کردیا گیا۔ اب یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے جس کے نتیجے میں پانی کی نکاسی کے عمل میں تیزی آگئی ہے طوفانی بارشوں میں پانی کے نکاس کے لیے مستی‘ کشمیری خضری  یکی اور دہلی دروازوں پر ڈرینج سسٹم تعمیر کیے گئے ہیں جن کے ذریعے بارشوں کا پانی راوی میں چلا جاتا ہے۔ گٹروں پر سیمنٹ کی تہہ چڑھا دی گئی ہے۔جس سے پانی کے اخراج کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔

یہ سسٹم شدید ترین بارش میںبھی کامیاب ثابت ہوا ہے۔ ایک مرتبہ سات اعشاریہ پانچ انچ بارش ہوئی لیکن بارش کا یہ پانی کسی رکاوٹ کے بغیر گٹروں کے ذریعے راوی میں چلا گیا اور لوگوں کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ اس انتظام سے شہریوں کی زندگی میں انقلاب آگیا ہے اور غلاظت اور تعفن ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے۔ واٹر سپلائی اور سیوریج سسٹم کی سکیموں کی تیاری کے وقت بعض گلیوں کو چوڑا کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہاں کے باشندوں کا تعصب تھا جو موجودہ صورت حال میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کے حق میں نہیں تھے۔ ایک اور مسئلہ گلیوں کے لیے زمین حاصل کرنے کا تھا۔ شہر کی گنجان آبادی میں مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے اور گو یہ مکان کئی کئی منزلہ تھے لیکن ان کا زیریں رقبہ بہت تنگ تھا۔گلیاں چوڑا کرنے کی صورت میں کئی لوگ بے گھر ہوجاتے جو ایک سنگین مسئلہ تھا۔ بہر حال حکومت اور میونسپلٹی کا اس نقطے پر اتفاق تھا کہ واٹر سپلائی اور سیوریج سسٹم کے لیے گلیوں کو چوڑا کرنے کی غرض سے کچھ نہ کچھ کرناپڑے گا چنانچہ شروع میں صرف ان گلیوں کی از سر نو فرش بندی کی گئی جہاں بڑی لائنیں بچھانا درکار تھیں۔ ابتدائی مرحلے میں جو گلیاں چوڑ ی کی گئیں ان کی تفصیل یہ ہے۔ ذخیرہ آب سے بھاٹی گیٹ  لوہاری گیٹ بازار  شاہ عالمی گیٹ بازار  پتولی بازار  ہیرا منڈی  واٹر ورکس سے دہلی گیٹ  یکی گیٹ اور موچی گیٹ سے رنگ محل‘ رنگ محل سے شمشیر سنگھ کی گلی  موچی گیٹ سے چوک وزیر خان لو ہاری منڈی سے ہیرا منڈی  سید مٹھا سے کسیرا بازار  گمٹی بازار سے چکلا بازار چکلا بازار سے پاپڑ منڈی اور کوچہ شمشیر سنگھ والا۔

صحت و صفائی اور بیماریاں:
ابتدائی مغل شہنشاہوں کے زمانے میں لاہور خوشگوار آب و ہوا کے لیے مشہور تھا اور جہانگیر بادشاہ کو خاص طورپر یہاں کا موسم بہت پسند تھا لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ یورپی فوجیوں میں ہیضے کی وباءپھوٹ پڑنے سے صحت کے حوالے سے لاہور بہت بد نام ہوگیاہے۔ ملیریا بھی عام ہے۔ سردیوں میں لوگ اکثر تپ دق اور نمونیئے کا شکار ہوجاتے ہیں البتہ ہندوستان کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں یہاں جگر  پیچش اور اسہال کی بیماریاں بہت کم ہیں۔ کئی سالوں سے لاہور اور میاں میر دونوں مقامات پر بارشوں کے موسم میں ہیضے کی وباءپھوٹ پڑتی ہے۔ 1861ءمیں 25 فی صدسے زیادہ یورپی فوجی ہیضے کا شکار ہوگئے تاہم اس سے یورپی افسروں اور یورپی آبادیوں میں ہلاکتوں کی شرح بہت کم رہی۔ بارشوں کے موسم کے آخری دنوں میں حکام کو صحت عامہ کے بارے میں بڑی تشویش ہوتی ہے لیکن جب موسم خشک ہوجائے تو بیماریوں کے حملے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چولستان …… داستانوں کا امین

لاہور میں نابیناﺅں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ آنکھوں کی بینائی مکمل طورپر زائل ہونے کے بعد اس کا علاج ممکن نہیں۔ بینائی ختم ہونے کی بیماری کو لاہور کے پانی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سینٹری کمشنر نے لاہور شہر کے بارے میں سال1881ءکی جو رپورٹ لکھی ہے اس کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
”موجودہ حالات میں بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ شہر میں پانی کے نکاس کے ناقص انتظامات ہیں۔ یہ سنگین مسئلہ پنجاب کے دارالحکومت کی بد نامی کا باعث ہے۔ اتنے بڑے شہر میں سیوریج کا کوئی سسٹم موجود نہیں۔ اس اہم ترین مسئلے کو حل کرنے کے لیے جو بھی اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں انہیں یا تو مکمل طورپر نظر انداز کردیا جاتا ہے یا لاپروائی اور نیم دلی کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے۔“

جب یہ سطور لکھی گئیں اس کے بعد شہر میں صحت و صفائی کی صورت حال مکمل طو رپر تبدیل ہوگئی ہے اور واٹر ورکس اور سیوریج سسٹم نے پوری طرح کام شروع کردیا ہے۔ گو سب لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی دستیاب ہے لیکن بد قسمتی سے کئی لوگ اب بھی شہر میں موجود 1059کنوﺅں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ افسوس کہ ان کنوﺅں کو بند کر نے کی تجویز پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔

انسانی فضلے کو شہر سے دور لے جانے کے خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ برسوں میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سابق کنٹریکٹ کی معیاد مارچ 1884ءمیں ختم ہوگی۔ اندرون شہر لوگوں کے استعمال کے لیے ایک بھی بیت الخلاءموجود نہیں۔ بعض لوگوں نے گھروں کی چھتوں پر بیت الخلاءبنائے ہیں جہاں سے غلاظت پر نالوں کے ذریعے گلیوں کے گٹروں میں گرتی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سسٹم انسانی صحت اور ماحول کے لیے کس قدر خطرناک ہے۔

فنون اور صنعت و حرفت:
پنجاب جن فنون اور صنعت و حرفت کے لیے مشہور ہے‘ لاہور میں ان میں چند ایک صنعتیں موجود ہیں لیکن ایسا کوئی ہنریہاں موجود نہیں جس کی وجہ سے شہر کو نمایاں شہرت اور مقام حاصل ہو۔ لاہور میں ریشم سازی اور اس سے متعلقہ صنعتیں قائم ہیں لیکن یہ صنعتیں ملتان  بہاولپور امرتسر اور دہلی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ کوفت گری (فولاد کی مصنوعات جن پر سونے کا کام ہوتا ہے۔) کی چیزیں‘ جو بیرونی گاہکوں کو فروخت کی جاتی ہیں‘ سیالکوٹ اور گجرات سے منگوائی جاتی ہیں۔ یہ فن شام کے شہر دمشق میں بھی موجود ہے لیکن صرف سامان حرب کی تیاری تک محدود ہے۔ اب اوتھیلو کے پیشے کے دن آچکے ہیں اس لیے اہل حرفہ نے اپنی توجہ طشتریوں  طباقوں  صندوقچوں  سنگھار دانوں  کنگنوں اور دوسرے زیورات کی تیاری کی طرف مبذول کردی ہے۔ یہ سارا کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے اس لیے مہنگا پڑتا ہے اور مقامی باشندے ان بیش بہا نوادر کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ لدھیانہ میں رام پور اور امرتسر میں کرمان کے طرز کی اونی شالیں تیار ہوتی ہیں۔ کشمیری دستکاریوں کے بہترین نمونے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ لاہور کے بازاروں میں یہ سب مصنوعات دستیاب ہیں۔ سب سے بہترین اشیا پاک پتن اور ڈیرہ جات سے منگوائی جاتی ہیں۔ ہاتھی دانت کی چیزیں دہلی  امرتسر اور پٹیالہ سے درآمد ہوتی ہیں۔ دہلی میں سونے کے تاروں سے کشیدہ کاری کا کام ہوتا ہے لیکن لاہور کے کندلا کش کا جواب نہیں جس میں طلائی اور نقرئی تاروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ لاہور اور امرتسرگلاب کے عطر کے لیے مشہور ہیں۔ ہر سال ہزاروں من دیسی گلاب سے بہترین عطرتیار کیا جاتا ہے جو چاندی کے برابر وزن کے عوض فروخت ہوتا ہے۔

لاہور میں فن تعمیر سے وابستہ فنون ماند پڑ گئے ہیں البتہ اب اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ تعمیراتی کاموں کے دوبارہ شروع ہونے سے ان فنون کی مانگ میں بتدریج اضافہ ہوجائے گا۔ ریلوے ورکشاپس کے قیام سے مکینیکل شعبے کی ترقی کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ پنجابی فطری اعتبار سے دوسری نسلوں کے مقابلے میں اناڑی اور کم ہنر مند ہیں۔ یہاں لکڑی بہت کم اور پتھر نایاب ہے۔ دکن اور ہندوستان کے دوسرے حصوں کے دیہات میں میناکاری کا جو کام سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ یہاں ناپید ہے کیونکہ یہاں زندگی کے ہر شعبے میں سادگی کا عنصر غالب ہے۔