protest

کیا امریکی صدر واقعی انتخابات ملتوی کروانا چاہتے ہیں

EjazNews

یہ سوال اب دنیا بھر کے فہم و فکر رکھنے والوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا واقعی امریکی انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں۔ امریکی صدارتی امیدوار نے ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی انتخابات ملتوی کروانا چاہتے ہیں۔
اگر ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار کو دیکھیں تو جب سے وہ برسر اقتدار میں آئے ہیں متنازع شخصیت ہی رہے ہیں۔ ان کے انتخابات جیتتے ہی ایک بڑا تنازع کھڑا ہوا کہ روسی مداخلت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے ہیں اور یہ خبر بڑی شدت سے باز گشت کر تی رہی اور متعدد حلقے اسے سچ بھی ماننے لگے کہ روس نے ان دیکھی مداخلت کی ہے اس سلسلے میں کچھ گرفتاریاں بھی امریکہ میں ہوئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت سے لے کر اپنے اقتدار کے تمام سالوں میں میڈیا کے مخالف ہی رہے ہیں ۔امریکہ کا وہ معتبر میڈیا جو پوری دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے اپنے ہی صدر کی زبان سے جھوٹا کہلاتا رہا۔
اپنے اقتدار کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ امریکہ کو بھی متنازع بنا دیا ہے۔ اپنے سے پہلے اقتدار میں رہنے والے صدر کو انہوں نے بے وقوف قرار دے کر ایران سے کیے گئے اپنے معاہدے کو منسوخ کر دیا اور اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان زبان اور بارودی جنگ جاری رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  84سالہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا آپریشن کامیاب

ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے ساتھ بھی مذاکرات مذاکرات کھیلتے رہے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی کوریا روس کے ساتھ جا ملا.

ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ سپرمیسی بھی گاہے بگاہے سامنے آتی رہی اور جوں ہی الیکشن کے دن قریب آئے ہیں اس میں شدت آگئی ہے.

امریکی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں پولیس نے نسل پرستی اور پولیس زیادتیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے سینکڑوں مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے پھینکے اور درجنوں کو گرفتار کر لیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق پورٹ لینڈ میں ہفتے کی رات کو لوگ نسل پرستی اور پولیس زیادتیوں کے خلاف بلیک لائیوز میٹر کے مظاہروں کے 100 دن مکمل ہونے پر ریلی نکال رہے تھے۔جب مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پٹرول بم پھینکے گئے تو پولیس نے فوراً ہی ریلی کو ہنگامہ آرائی قرار دے دیا اور مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔
مظاہرین کا کہنا تھا یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم یہاں جمع ہو اور اپنی رائے کا اظہار کریں. ‘
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پرتشد رویے کا مظاہرہ کر رہے تھے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کر رہے تھے۔
رواں سال مئی میں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔
فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد پورے امریکہ میں مظاہرے ہوئے تھے لیکن چھ لاکھ پچاس ہزار آبادی والے شہر پورٹ لینڈ میں مظاہرین اس وقت سے اب تک انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے رات کے وقت سڑکوں پر رہے۔ خیال رہے پورٹ لینڈ میں 70 فیصد آبادی سفید فام افراد پر مشتمل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پورٹ لینڈ شہر غنڈوں کے نرغے میں ہے جو کہ اندورنی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ تاہم مظاہرین زیادہ تر وقت پرامن رہے ۔
شہر میں گزشتہ ہفتے تناؤ میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب ایک انتھائی دائیں بازو کے گروپ کے حامی شخص کو گولی مار کر قتل کیا گیا۔
39 سالہ شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا جب وہ ٹرمپ کے حمایتی مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گئے جو کہ شہر میں داخل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ٹرمپ کے حامیوں کی بلیک لائیوز میٹر کے مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوگئی تھیں۔
اس قتل کے مشتبہ ملزم مائیکل رینیوہل کو قریبی ریاست واشنگٹن میں اس وقت مارا گیا جب پولیس اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی۔
ملزم میں کن حالات میں مارا گیا اس کی اب تک تحقیقات ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ثبوت کہاں ہیں؟سکیورٹی کی وجہ سے نہیں دکھا سکتے:انڈین ائیر وائس مارشل