allama iqbal open

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی :حصول تعلیم کا آسان ذریعہ

EjazNews

تعلیم صرف مخصوص اداروں تک محدود تھی، لیکن اب اس کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور آج کا تعلیمی نظریہ یہ ہے کہ آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں، ہزاروں میل دُور بیٹھے بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں یا اپنی تعلیمی استعداد مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اس نظریے کو’’ Distance Learning System‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

فاصلاتی نظامِ تعلیم کا تصور نیا نہیں، گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ممالک میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ دراصل یہ نظام ان لوگوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے، جو معاشی اور سماجی مسائل یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے مروجہ نظامِ تعلیم کے تحت اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، تو ایسے بےشمار افراد ملیں گے، جو کسی وجہ سے تعلیمی سلسلہ درمیان ہی میں چھوڑنے پر مجبور ہوئے یا پھر سِرے سے تعلیم ہی حاصل نہ کر سکے۔ مثلاً کسی دفتر میں کام کرنے والا ملازم، جو کالج یا یونیورسٹی نہیں جاسکتا۔ ایسا شخص جس کی عُمر زیادہ ہوگئی ہو، نیز، ایسی بچّیاں جو مالی، سماجی اور آمد ورفت کے مسائل کی وجہ سے کالج یا یونیورسٹی نہیں جا سکتیں، فاصلاتی نظامِ تعلیم ایسے تمام افراد کو حصولِ تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اور یہ سب افراد گھر بیٹھے یا کچھ مخصوص دنوں میں کلاسز اٹینڈ کرکے اپنی تعلیمی استعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
1973 ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی قائم ہوئی اور اس کا پہلا نام’’ پیپلز اوپن یونیورسٹی‘‘ تھا۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس کا نام تبدیل کرکے علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور انڈیا کی ترقی کا راز

یونیورسٹی کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہے، لیکن اس کا دائرۂ کار پورے مُلک میں پھیلا ہوا ہے۔ خیبر سے کراچی تک، سیاچن کی برفانی چوٹیوں سے گوادر اور بدین کے ساحل، قبائلی علاقوں سے چولستان کے صحرائوں تک، علم کے لاکھوں متلاشی اس یونیورسٹی سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ مُلک کے 49بڑے شہروں میں یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر قائم ہیں اور بیش تر شہروں میں یونیورسٹی کی اپنی عمارتیں ہیں۔ اوپن یونیورسٹی کی اسناد کو وہی اہمیت حاصل ہے، جو کسی بھی ریگولر یونیورسٹیز کی ڈگریز کو ہے۔

حصول تعلیم سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ آگاہی بہت ضروری ہے۔ علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کی چار فیکلٹیز ہیں اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز ان میں سب سے بڑی ہے، جس کے 16شعبہ جات ہیں۔ ان میں ماس کمیونی کیشن، بزنس ایڈمنسٹریشن، لائبریری سائنس، کامرس، پاکستان اسٹڈیز، ہسٹری، اکنامکس اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ فیکلٹی آف ایجوکیشن میں ٹیچرز ٹریننگ، سیکنڈری ایجوکیشن، ایلیمینٹری ایجوکیشن، سائنس ایجوکیشن اور اسپیشل ایجوکیشن ہے۔ فیکلٹی آف عریبک اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں شعبۂ تفسیر، شعبۂ حدیث، شعبۂ عربی اور علومِ اسلامیہ جیسے شعبے کام کررہے ہیں۔اوپن یونیورسٹی کی فیکلٹیز کی تعداد 194ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عرضداشت اور دستخطی مہم سے بھی معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے

علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی اکثریت پہلے ہی برسر روزگار ہوتی ہے اور وہ محض اپنی تعلیمی استعداد میں اضافے کے لیے ہم سے رجوع کرتے ہیں۔ یعنی وہ ہماری جاری کردہ اسناد کے ذریعے ملازمت حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی ملازمت میں ترقّی کی منازل طے کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ اُن مَرد و خواتین کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں، جو ملازمت یا کسی اور مجبوری کے سبب مروّجہ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ ملازمت پیشہ افراد کی سہولت کی خاطر ورکشاپس اور کلاسز کا اہتمام شام کے اوقات میں کیا جاتا ہے۔

علّامہ اقبال یونیورسٹی کی فیسز دیگر جامعات کے مقابلے میں خاصی کم ہیں۔ اس غریب پرور یونیورسٹی نے اپنے دروازے ہر ایک کے لیے کھول رکھے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس بات کا احساس ہے کہ بےشمار ذہین طلبا و طالبات تعلیمی وسائل نہ ہونے کے باعث ہی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔لہٰذا، اوپن یونیورسٹی ان کو بہت کم فیس میں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا میں ضم شدہ علاقے آپ کی مزید توجہ کے طالب ہیں