pakistan_1965

1965ء کے بعد سے بھارت کبھی پاکستان سے میدان میں نہیں لڑا

EjazNews

یہ 1965ء کی بات ہے۔ جنگ جاری تھی اور انڈین کی ہر حرکت کی خبر پاکستانی فوج کی ٹیبلوں پرہوتی تھی۔ جب صدر ایوب خان کے برخوردار نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا اس کے بعد انڈیا میں فوجیوں کا کورٹ مارشل بھی ہوا ۔ جنگ 65ء سترہ روز تک جاری رہی۔ اس معرکہ میں بھارت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سترہ دنوں نے پوری قوم میں ایک عجیب جوش ولولہ پیدا کر دیا۔ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ تھی۔ وطن عزیز کے تمام شاعر‘ ادیب‘ موسیقار‘ گلوکار‘ علمائے کرام‘ شہری‘ سول ڈیفنس کے رضاکار ‘ پولیس اہلکار غرض کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایثار و قربانی کی ایک عظیم مثال پیش کی اور اپنی بہادر جانباز اور جذبہ شہادت سے سرشار افواج کی پشت پناہی حوصلہ افزائی اور اخلاقی و مادی امداد و حمایت کے لئے میدان میں اتر آئے۔ ان سترہ دنوں میں کوئی پنجابی تھا نہ بلوچی سندھی تھا نہ پٹھان بلکہ سب پاکستانی تھے۔

1965ء کی جنگ کے 17دنوں میں ہر شعبہ نے اپنے اپنے تئیں وہ کام کیا جس کی آج ہمیں اشد ترین ضرورت ہے۔ گلوکاروں نے اپنے فن کے ذریعے قوم میں جذبہ اجاگر کیا۔ شاعروں نے اپنے الفاظ میں وہ طاقت بھری جس کو گا کر گلوکاروں نے ان الفاظ کو امر کر دیا۔میڈیا میں اس وقت ریڈیو پاکستان اور اخبارات تھے ۔ ریڈیو پاکستان کی کارکردگی 1965ء میں اتنی شاندار تھی کہ جتنی تعریف کی جائے کم ہی ہوگی۔ اخبارات نے اپنے فرائض ادا کیے ۔پاکستانی قوم نے ستمبر 1965ء کی جنگ میں اپنا دفاع کر کے تمام دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک ناقابل تسخیر قوم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جنس اور صنفی کردار

ان 17دنوں میں کشمیر سے لے کر کھیم کرن تک ہر محاذ پر بے شمار ایسے معرکے لڑے گئے جو تاریخ کے اوراق پر جرات و بہادری کے بے شمار نقش چھوڑ گئے۔

امریکی اخبار ’’ ٹاپ آف نیوز واشنگٹن‘‘ نے بھی 10ستمبر 1965کو لکھا:’’پاکستانی فوجیوں سے مقابلہ کرنے والی پہلی بھارتی رجمنٹ جم کر مقابلہ نہ کر سکی،اور بھارتی فوج اپنا تمام سازوسامان ، توپ خانہ ،سپلائیز، دیگر سامان اور اپنے اضافی کپڑے تک چھوڑ کر بھاگ گئی‘‘۔اجتماعی اور انفرادی معرکوں کی ان گنت داستانیں رقم کی گئیں۔

1965ء میں بھارت کے مذموم عزائم کی فہرست میں چونڈہ پر قبضہ سب سے اہم تھا کہ پسرور کے راستے وہ گوجرانولہ جی ٹی روڈ کو منقطع کر کے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر سکیں۔ معرکہ چونڈہ میں بھارتی سپاہ کو اپنے بے پناہ طاقتور بکتر بند ددستوں کی مدد حاصل تھی اور یہ کہ خشک سالی کی وجہ سے علاقے کے تمام ندی نالے خشک پڑے تھے اور یہ اسی رخ پر بہہ رہے تھے جس رخ پر بھارت کے آرمڈ ڈویژن کو آگے بڑھنا تھا۔ اس لحاظ سے یہ نالے دشمن کو قدرتی ڈھال مہیا کر رہے تھے۔ حقیقت میں بھارتیوں کا منصوبہ بہترین تھا لیکن اس پر عمل درآمد بڑے بے ڈھنگے انداز میں کیا گیا۔ ان کو نہ صرف عددی اعتبار سے ان سے کہیں کم تر فوج نے کئی ہفتے روکے رکھا بلکہ صرف چند کلومیٹر سے زیادہ پاکستان کا بکتر بند ڈویژن جو 6آرمڈڈویژن کے نام سے جانا جاتا ہے اس کے پاس نہ تو ٹینک ہی کافی تھے اور نہ پیدل فوج کی اتنی نفری تھی کہ دشمن کا مقابلہ کر سکے۔ توپ خانے کی مدد بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ بلکہ اکھنور سے واپس آنے والے توپ خانے کو آرمڈ ڈویژن کی مدد کی اضافی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔بھارتیوں نے منصوبہ توبنایاتھا لیکن پاکستان کی بہادر سپاہ ہے جوان مردی سے بھارتیوں کے تمام حملوں کا نہ صرف سینہ تان کر مقابلہ کیا بلکہ جو ابی حملے کر کے دشمن کی پٹی سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ الہڑ پہ دشمن نے کئی دفعہ قبضہ کیا لیکن ہر بار جوابی حملہ کر کے پاکستان کی جری سپاہ نے اسے واپس چھین لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں بیوی کا رشتہ ایک مضبوط بندھن

جنگ کے تیرھویں روز 19ستمبر 1965کوبرطانوی اخبارسنڈے ٹائمزنے اپنی اشاعت میں لکھا:پاکستان کی فضائیہ، بھارتی فضائیہ کے جہازوں کو بھگا کر اور صحیح صحیح ہدف بنانے کے بعد مکمل طور پر فضائی برتری حاصل کرنے کے قابل ہو گئی تھی۔بھارتی پائلٹ، پاکستانی پائلٹوں اور افسروں کے مقابلہ میں احساسِ کم تری کا شکار ہوچکے تھے، اور اُ ن کی قیادت قابلِ صد افسوس تھی۔بھارت مکمل طور پرپاکستانی قوم کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو چکا تھا،جس کا آبادی کے لحاظ سے ایک اور 4 کا تناسب بنتا ہے، جبکہ مسلح افواج کی جسامت کے لحاظ سے تناسب ایک اور3 کا ہے۔

جنگ ستمبر میں بہت بڑا سبق جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ صرف عددی برتری ہی جنگ جیتنے کے لئے کافی نہی ہوتی بلکہ اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت حوصلہ اور میدان جنگ میں موقع کی مناسبت سے بہتر چال ہی فتح کا باعث بنتی ہے۔

1965ء کی جنگ کے بعد سے بھارت کبھی ہم سے میدان میں نہیں لڑا کیونکہ سے پتہ تھا کہ میدان میں لڑکر وہ ہارے گا ۔ بھارت نے 1965ء کے بعد سے چھپ کر وار کرنے شروع کیے۔جو آج تک جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  فزیو تھراپی بھی علاج ہی ہے