Lahore-History

لاہورآخری مغل تاجداروں اور سکھوں کے دور میں

EjazNews

اورنگ زیب عالمگیر کی 1658 ءمیں تخت نشینی کے موقع پر لاہور کی دولت مندی اور آبادی سابق حکمرانوں کے دور کے مقابلے میں زوال پذیر تھی۔ دربار کی عدم موجودگی اور شاہ جہان آباد یا نئی دہلی کا سنگ بنیاد رکھنے کی وجہ سے ہنر مند اور تجارت پیشہ افراد بڑی تعداد میں لاہور سے وہاں چلے گئے چنانچہ برنیئر 1664ءمیں جب لاہور سے گزرا تویہاں کے مکان خستہ حال اور یہاں کے طویل گلی کوچے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے تھے۔ البتہ لاہور کو سلطنت کے سب سے اہم صوبے کا دارالحکومت ہونے کے ناطے اب بھی بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ بادشاہ موسم گرما میں دہلی سے کشمیر جاتے وقت لاہور میں قیام کرتا۔ اورنگ زیب کی تخت نشینی کے چار سال بعد راوی میں کٹاﺅ کی وجہ سے شہر کو نقصان پہنچنے لگا اور نقل مکانی شروع ہوگئی۔ اورنگ زیب نے راوی کے کنارے کے ساتھ ساتھ تین میل لمبا بند تعمیر کرایا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر کنوئیں کھدوائے گئے تھے۔ ان کنوﺅں کے ذریعے دریا کنارے لگائے جانے والے باغات کو راوی کے پانی سے سیراب کیا جاتا تھا۔ ایک مورخ نے اس بند کویاجوج ماجوج کی تباہ کاریوں سے بچنے کے ئے سکندر ذوالقرنین کی تعمیر کردہ شہر پناہ سے تشبیہ دی ہے۔ بند نے شہر کی فصیل کا کام دیا اور اس کی وجہ سے نہ صرف شہر بیرونی حملے کی تباہ کاریوں بلکہ دریا کی دست برد سے بھی محفوظ ہوگیا۔عالمگیر کے بنائے اس بند کے آثار اب بھی قلعے کے شمال مشرقی کونے اور موضع بھوگیوال کے درمیان نظر آتے ہیں۔ اس عہد کا سب سے رفیع الشان کارنامہ بادشاہی مسجد کی تعمیر ہے جس کے سفید سنگ مر مر کے گنبد اور قوی ہیکل مینار کئی میل سے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اورنگ زیب نے یہ مسجد اپنے بھائی داراشکوہ کے قتل پر اظہار تاسف اور کفارے کے لیے تعمیرکرائی تھی۔ ایک اور طبقے کا خیال ہے کہ یہ مسجد اس لیے بنوائی گئی تا کہ مسجد وزیر خان کا حسن ماند پڑجائے۔ اس کا معمار شاہی اسلحہ خانے کا منتظم اعلیٰ فدائی خان کوکا تھا۔ اس مسجد کی تکمیل کے ساتھ ہی لاہور میں مغلیہ فن تعمیر کی تاریخ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ بعد میں تعمیر ہونے والی مسجد بخاری خان اور بیگم پورہ میں خان بہادر کا محل اور مقبرہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی مغلیہ فن تعمیر بھی زوال پذیر ہوگیا۔ مخلوط طرز کی عمارتیں نصف اسلامی اور نصف ہندو طرز تعمیر کی ترجمانی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جنگ پلاسی کی اہمیت

لاہور سکھوں کے دور میں:
اس وقت سے لے کرپنجاب میں رنجیت سنگھ کی سکھوں کی حکومت کے قیام تک لاہور پر وقفوں وقفوں کے ساتھ حملے ہوتے رہے اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں لاہور ویران اور اس کی بستیاں سنسان ہونے لگیں اور لوگ نقل مکانی کر کے دوسرے علاقوں کا رخ کرنے لگے۔ شہر صرف چار دیواری کے اندر محصور ہو کر رہ گیا۔ گزر لنگر خان کے امراءاپنے پر تعیش محل چھوڑ کر سلامتی کی خاطر پرانے شہر میں منتقل ہوگئے۔ تاجر اور ہنر مند فرار ہو کر امرتسر چلے گئے۔ بعض اہل فن حملہ آورفوج کی واپسی پر اس کے ہمراہ کابل اور بعض ہندوستان کے دوسرے شہروںکی طرف نکل گئے۔ غرض شہر سمٹ کر اکبری فصیل تک محدود ہوگیا اور اس کے چاروں طرف تباہی اور بربادی کے آثار باقی رہ گئے۔ زندگی کے آثار صرف سکھوں کے ان دو قلعوں میں نظر آتے جو اردگرد کے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔شہر کے باہر صرف چند جھونپڑے رہ گئے جن میں ایک سخت جان بلوچ قبیلہ رہتا تھا جو خوشحالی کے دور میں لاہور میں آباد ہوگیا تھا۔ چند ایک کسان بھی باقی رہ گئے۔ یہ لوگ ہندوﺅں کے پرانے شہر سے چمٹے رہے۔ یہ تھی شہرکی اس وقت کی صورت حال‘ جب رنجیت سنگھ نے عنان حکومت اپنے ہاتھوں میں لی۔ ایک انگریز افسر نے‘ جس نے 1809ءمیں سکھوں کے دارالحکومت کا دورہ کیا‘ اپنی ڈائری میں شہر کی تباہی کا منظر ان لفظوں میں پیش کیا ہے۔

”24 مئی …. میں نے لاہور کی شاندار عمارتوں کے کھنڈرات دیکھے جس سے میں افسردہ ہوگیا۔ پچاس سال پہلے تعمیر کی جانے والی فلک بوس عمارتیں اور مسجدیں  جن پر یہاں کے باشندے فخر کرتے تھے  اب مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ نصف صدی سے بھی کم عرصے میں مزید عمارتیں زمین بوس ہو جائیں گی۔ میں نے کھنڈرات دیکھے تو وہاں ایک بھی انسان موجود نہیں تھا۔ ہر طرف خاموشی اور افسردگی طاری تھی۔“

یہ بھی پڑھیں:  ظہیر الدین بابر کا اپنے وقت میں برصغیر پاک و ہند پر کیا گیا تبصرہ

سکھوں کے دور حکومت میں اس صورت حال میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہ دیئے۔ ایک دہقانی نسل جس میں صرف فوجی جذبہ موجودتھا اور جو حروف ابجد تک سے نا آشنا تھی‘ بر سر اقتدار آچکی تھی جس میں تعمیراتی ذوق کا مکمل فقدان تھا۔ البتہ رنجیت سنگھ کو جو ایک غیر مہذب اور اکھڑ مزاج رکھتا تھا یہ خیال ضرور تھا کہ فن تعمیر ایک اچھی چیز ہے چنانچہ اس نے مسلمانوں کے مزاروںسے بیش قیمت ہیرے جواہرات اتروا کر امرتسر میں سکھوں کے گوردوارے کی آرائش کے لیے بھجوا دیئے۔ اس نے شالا مار باغ میں قیام کیا جسے احمد شاہ کے حملوں کے دوران سخت نقصان پہنچا تھا لیکن باغ کی مرمت کے بجائے اس کے بے رحم ہاتھوں نے وہاں کے چبوتروں سے سنگ مرمر اتروا کر وہاں اینٹیں اور پتھر بھروادیئے۔ قلعے اور محل کو جامع مسجد سے الگ کرنے والی سرائے کو نجی باغ میں تبدیل کردیا اور وہاں سنگ مرمر کی ایک عمارت بنوادی جو مخلوط طرز تعمیرکی علامت ہے(یہ عمارت مسلمانوں اور ہندوﺅں کے فنون تعمیر کو یکجا کر کے بنائی گئی۔ اس کا میٹریل شاہدرہ میں آصف خان اور جہانگیر اور نواکوٹ میں زبیدہ بیگم کے مقبروں سے حاصل کیا گیا۔ رنجیت سنگھ نے اس کے علاوہ اپنی ایک پسندیدہ بیوی یا رقاصہ لڑکی کی یاد میں چند ایک معمولی مندر تعمیر کروائے اور قلعے میں بدمذاقی سے کچھ اضافے کرائے۔ لاہور میں رنجیت سنگھ کے تعمیراتی کام صرف یہی ہیں۔ سکھوں کے دور کی ایک یادگار رنجیت سنگھ‘ اس کے بیٹے اور پوتے کی سمادھیاں ہیں۔یہ عمارت قریب سے جاذب نظر نہیں البتہ دور سے بھلی معلوم ہوتی ہے۔ایک کنول نما برتن کے چھت کے نیچے وہ جگہ ہے جہاں شیر لاہور کی راکھ پڑی ہے۔ اس کے اردگرد ان گیارہ عورتوں کی راکھ چھوٹے برتنوں میں رکھی گئی ہے جو رنجیت پر ستی ہوگئی تھیں۔(لاہور میں ستی کی آخری رسم مقتول دھیان سنگھ کی آخری رسوم کے موقع پر ادا کی گئی البتہ 1857ءمیں کشمیر میں دھیان سنگھ کے بھائی مہاراجہ گلاب سنگھ کی آخری رسومات کے موقع پر ستی کی کوشش کی گئی۔ ہزاروں افراد یہ منظر دیکھنے کے لیے جمع تھے اور ستی ہونے والی عورتیں بھی تیار تھیں لیکن سول کمشنر کیپٹن ار مسٹن نے بھرپور مزاحمت کر کے یہ رسم ادا نہ ہونے دی۔) سکھ امراءکے محل بھی ہندو اور مسلمان ڈیزائن کے ہیں۔ گرمیوں اوربارش میں ہوا کے لیے ان عمارتوں کے اوپر ہوا دان بنائے گئے ہیں جن سے ان عمارتوں کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے۔ دیواروں پر عامیانہ قسم کی تصویریں بنائی گئی ہیں جن میں بعض مذہبی اور بعض عسکری نوعیت کی ہیں۔اول الذکر تصویروں کا تعلق کرشن یا بابا نانک سے ہے جبکہ لڑائی کی تصویروں میں شمال مغربی سرحد کے پٹھانوں سے جنگوں کی منظر کشی کی گئی ہے لیکن ان میں کوئی بھی تصویر فنی نقطہ نظر سے قابل ذکر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کی انتظامیہ

یہاں نئی انتظامیہ کی تاریخ کا ذکر کرنا بے محل ہوگا۔29 مارچ کے پر آشوب واقعات کے بعد لاہور میں خاصی مادی ترقی ہوئی ہے۔1849 ءمیں یہاں ہر طرف کھنڈرات نظر آتے تھے اور مغلیہ عہد کا یہ قدیم شہر ویران اور سنسان تھا۔ پہلے ریذیڈنٹس کے مکانات اور دفاتر پرانی چھاﺅنیوں کے نواح میں شہر کے جنوب میں روای کے متوازی بنائے گئے تھے لیکن یورپی باشندوں کی آبادی میں اضافے کے ساتھ شہر نے مشرق کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے۔ یوں پرانے لاہور کے کھنڈرات اور قبرستان مغربی تہذیب و تمدن کے زیر اثر بتدریج جدید آبادیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ ملبے کے پرانے ڈھیروں پر پختہ سڑکیں جدید بنگلے اور باغات تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ابھی بہت سے کام باقی ہیں البتہ پنجاب کے دارالحکومت میں زندگی کی نئی آسائشوں سے استفادہ کرنے کا جو جذبہ موجودہے اسے بروئے کار لا کر یہ تمام مقاصد حاصل ہوجائیں گے۔