covid-19-women

ایک خردبینی وائرس گھر میں قید کر کے ساری اکڑ نکال دیتا ہے

EjazNews

کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی پوری دنیا میں کسی حد تک کم ہو چکی ہے۔امریکہ جیسے ملک جہاں سب سے زیادہ اس کے متاثرین ہیں میں بھی سینما گھروں کو کھول دیا گیا ہے۔۔ چین سے شروع ہونے والی یہ وبا دنیا کے200 کے لگ بھگ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چُکی ہے اور تقریباً ہر جگہ سے کچھ نہ کچھ روزانہ ہلاکتوں کی خبریں ابھی آرہی ہیں۔

یہ ایک عالمی آفت اور وبا ہے، اِس لیے پوری دنیا مل کر اِس سے لڑ رہی ہے۔ دنیا کو آہستہ آہستہ یہ بھی اندازہ ہوتا جارہا ہے کہ اِس وبا سے نمٹنے کے لیے کون سی حکمت عملی بہتر ثابت ہو رہی ہے۔لاک ڈائون، معاشی پیکیجز اور آزمائشی علاج، جسے طبّی زبان میں’’کلینیکل ٹرائلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہر آزمائش کی طرح اِس بار بھی عام افراد ہی اس جنگ کا مرکزی کردار ہیں اور اُنہی کی قوتِ برداشت اور مزاحمت اس جنگ کا اہم ترین ہتھیار ہے۔ اِس عالمی جنگ میں دشمن کا مقابلہ میدانِ جنگ میں جا کر کرنے کی بجائے گھروں میں بند ہو کیاجارہا ہے۔ سماجی دُوری اِس جنگ کا سب سے اہم مورچہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران ایٹمی ہتھیار بنانے یا اُن کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا:آیت اللہ خامنہ ای

ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس کے بعد ایک نئی دنیا سامنے آئے گی، جس کے طور طریقے وہ نہیں ہوں گے، جو اب تک چلے آتے رہے۔ سب سے بڑی تبدیلی تو سماجی رویوں میں آئے گی، تاہم اِس عرصے میں دو باتیں خاص طور پر اہم رہی ہیں، جن کے مستقبل پر بھی اثرات مرتّب ہوں گے۔

کرونا وائرس نے انسانی جان کے بعد سب سے زیادہ عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ اِس نے دنیا تلپٹ ہی کر ڈالی ہے۔ یہ تباہی واضح پیغام ہے کہ اب ہر مُلک اپنی معاشی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو جائے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی پیش گوئی تھی کہ رواں برس عالمی معیشت ریکارڈ تین فیصد بڑھے گی، مگر اب منفی اشاریوں کی بات ہو رہی ہے۔ عالمی قیادت کو احساس ہو گیا ہوگا کہ آئندہ اقتصادی میدان میں مل جل کر چلنا ہوگا۔ عوام کو قابلِ ذکر ریلیف دینا ہوگا، جو مہینوں اور سالوں چلے گا، کیونکہ بے روز گاری کا عفریت سَر اُٹھانے کو ہے۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپ کو صرف اپنا ہی نہیں سوچنا، بلکہ ترقّی پذیر ممالک کو بھی سہارا دینا پڑے گا۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ابھی تک تو بڑے ممالک، چھوٹے اور ترقّی پذیر ممالک کو ساتھ لے کر چلنے پر متفق نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب میں تیل کی پائپ لائنوں پر حملہ

دوسری عالمی جنگ کے بعد’’مارشل پلان‘‘ جیسے منصوبوں نے یورپ کو تباہی سے نکالنے میں مدد دی تھی۔ 2008ء کے عالمی اقتصادی بحران میں مالیاتی اداروں نے جس برق رفتاری اور ہم آہنگی سے کام کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لہٰذا اس تناظر میں امید یہی ہے کہ دنیا موجودہ معاشی بحران پر بھی جلد قابو پا لے گی۔

حکومتوں کی ساری توجہ اپنے عوام کو اِس آزمائش سے نکالنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔اس لیے فی الحال تنازعات اور جنگیں بھی قرنطینہ کردی جائیں تو کیا ہی خوب بات ہو سکتی ہے۔ جب سب ٹھیک ہوجائے گا، تب اُنھیں بھی دیکھ لیں گے۔ فی الوقت تو اقتصادی عمل کے بحالی کے لیے امن ناگزیر ہے۔یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ ریاستیں ایک دوسرے سے دشمنیاں کرنے کی بجائے انسانی فلاح کے لیے عالمی سطح پر کام کریں، جس کا ذکر تو بہت ہوتا ہے، لیکن عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔انسان کی اوقات تو اتنی سی ہے کہ ایک خردبینی وائرس اسے گھر میں قید کر کے اُس کی ساری اکڑ نکال دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں عام انتخابات کا اعلان

اگر جنگوں کو چھوڑ کر امن ک طرف قدم بڑھایا جائے تو یہ ممکن ہے کہ عالمی معیشت میں بڑے ممالک کے ساتھ ساتھ وہ ممالک جو سنبھلنے میں بڑا وقت لیں گے وہاں کچھ نہ کچھ بہتری متوقع ہے۔ یہ دنیا سب کی ہے اگر غربت بڑھے گی تو اس کے اثرات بڑے ممالک پر بھی ضرور ہوں گے۔