lahore_masjid_wazir_khan

1883-84ءمیں مغلیہ دور کی لاہور میں باقیات

EjazNews

مغلیہ دور کی باقیات
سب سے پہلے شہنشاہ ہمایوں کے بھائی شہزادہ کامران نے‘ جب وہ لاہور کا منتظم اعلیٰ تھا‘ نولکھا کے قریب ایک محل اور باغ تعمیر کر کے لاہور میں تاریخی عمارتوں کی تعمیر کے کام کو مہمیز دی۔ یہ محل اور باغ راوی تک کے علاقے پر محیط تھے۔ بعد میں آصف خان نے اس جگہ پر قبضہ کرلیا۔ غالباً یہ وہی محل ہے جہاں ہمایوں نے تخت کے افغان دعویدار شیر شاہ سے پسپائی اختیار کرنے کے بعد اپنے دغا باز بھائی شہزادہ کامران کے ہاں قیام کیا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ہمایوں اپنے لاﺅ لشکر کے ساتھ مغرب کی سمت فرار ہونے کے لیے جب راوی کو پار کر رہا تھا تو اس کے بعض مشیروں نے یہ تجویز پیش کی کہ وہ اپنے بھائی کو لاہور سے باہر بھیج دے جس کی مکاری اور دھوکے دہی کے باعث اسے سخت مصائب برداشت کرنا پڑے تھے۔ لیکن بادشاہ یہ سن کر غضبناک ہوگیا اور اس نے یہ تجویز مسترد کری۔ کامران نے راوی میں ایک بارہ دری تعمیر کرائی جسے اب کشتیوں کے پل پرمحصول وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لاہور میں مغل فن تعمیر کا یہ قدیم ترین نمونہ ہے لیکن اب اس میں کئی تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ کامران کے محل میں اب صرف ایک بڑا محرابی دروازہ باقی رہ گیا ہے جولہنا سنگھ کی چھاﺅنی کے پاس واقع ہے۔ لاہور میں سب سے بہترین دور اکبر  جہانگیر‘ شاہ جہان اور اورنگ زیب عالمگیر کا ہے جس میں ہر طرف باغات  مقبرے  مسجدیں اور محل تعمیر کرائے گئے۔ آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور نواحی بستیاں تعمیر کی گئیں یہاں تک کہ ابو الفضل نے اسے تمام اقوام عالم کے لوگوں کا مسکن قرار دے دیا۔

اکبر اعظم نے چودہ برس تک لاہور کو اپنا دارالسلطنت بنائے رکھا۔ اس دوران اس نے قلعہ میں توسیع اور اس کی مرمت کروائی۔ شہر کے ارد گرد فصیل بنوائی جس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ رنجیت سنگھ نے اس صدی کے اوائل میں دیوار کو از سر نو تعمیر کرایا ہے۔ چند سال پہلے تک قلعے میں اکبر کی تیار کردہ بعض نادر عمارتیں موجود تھیں لیکن اب وہ بھی زمین بوس ہوچکی ہیں۔ اکبری محل گرادیا گیا ہے اور تاج پوشی کے کمرے میں اس قدر تبدیلیاں کردی گئی ہیں کہ اب اسے نادرالوجود عمارت قرارنہیں دیا جاسکتا۔اس عہد کی دوسری باقیات یہ ہیں۔ شاہ چراغ کا مزار جسے اب سرکاری دفتر کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ قاسم خان کا مقبرہ جو لاہور کے پہلوانوں کا اکھاڑہ تھا‘ اب وہ پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر کی رہائش گاہ ہے۔شاہ موسیٰ کا مزار اور لاہور سے میاں میر جانے والی سڑک کے دائیں طرف کالے خان کی مسجد۔

اکبر کے دور میں لاہور نے حجم اور آبادی کے لحاظ سے بہت ترقی کی۔ ایک ہندوستانی مورخ کے مطابق (امین احمد رازی جس نے 1032 ہجری/ 1624 عیسوی میں ہفت اقلیم لکھی) لاہور جو جھونپڑیوں پر مشتمل تھا ایک پر شکوہ شہر میں تبدیل ہوگیااور دیوار کے اندر شہر کے علاوہ بیرون شہر بڑے بڑے بازار اور گنجان آبادیاںوجود میں آگئیں۔ مشہور مورخ نظام الدین احمد نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اکبر کے آخری د ورمیں لاہورلنگر خان کی اقامت گاہ تک پھیل گیا تھا جو انارکلی کے موجودہ سول سیکرٹریٹ اور موضع مزنگ کے درمیان شہر سے ایک میل دور تھی(لنگر خان ہمایوں کے عہد میں ملتان کا گورنر تھا۔ ہمایوں نے اس کی خدمات کے عوض اسے لاہور میں رہائش گاہ دی جو اب بھی اس کے نام سے موسوم ہے)ابوالفضل نے آئین اکبری میں لاہور کے بارے میں لکھا ہے۔

”لاہور ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے۔ اس کا قلعہ اور محل اینٹوں اور چونے کے پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس شہر کو جب دارالسلطنت قرار دیا گیا تو وہاں کئی سرکاری عمارتیں بنائی گئیںاور عمدہ باغات لگائے گئے۔ غرض یہ شہر اقوالم عالم کے لوگوں کی آما جگاہ بن گیا۔ وہاں اعلیٰ پائے کی مصنوعات تیارہونے لگیں۔ شہنشاہ(اکبر) کی حوصلہ افزائی سے ایران اور توران سے باغبان یہاں لائے گئے جنہوں نے انواع اقسام کے انگور اور خربوزے کاشت کیے ہیں۔ کمخواب اور زربفت کے ساتھ ساتھ ریشم اور اون کے قالینوں کی صنعت کو فروغ دیا گیا۔ مختصر یہ کہ ایران اور توران کی ہر چیز یہاں آسانی سے دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ کو غیر قانونی رقوم کی منتقل روکنے کے لیے لائحہ عمل بنانا ہوگا :وزیراعظم عمران خان

جہانگیر نے لاہور میں اپنی خوابگاہ اور شاہی حرم کے لیے موتی مسجد تعمیر کروائی لیکن اب یہ مسجد سرکاری خزانے کے طورپر استعمال کی جارہی ہے۔ انارکلی کے مقبرے کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور اب وہاں پر سٹیشن چرچ قائم کردیا گیا ہے۔ دو انگریز تاجر رچرڈ سٹل اورجان گروتھر کاروبار کے سلسلے میں جہانگیر کے دور میں 1626 عیسوی میں پنجاب سے گزرے۔ انہوں نے لاہور کا احوال ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

”لاہور ہندوستان کا بہترین شہر ہے جہاں ہر چیز کی بہتات ہے۔ ماسٹر کوریاٹ کے بقول میں نے کرہ ارض پر ایسا حسین خطہ کہیں نہیں دیکھا۔ ہم آگرے سے بیس دن کے سفر کے بعد اس شہر میں پہنچے سڑک کے دونوں جانب قطاروں میں درخت لگے ہوئے تھے جن میں سے بیشتر شہتوت کے درخت تھے۔ سڑک پر رات کو سفر کرنا خطرناک ہے البتہ دن کا سفر محفوظ ہے۔ ہر پانچ چھ کوس کے فاصلے پر بادشاہ یا امراءنے مسافروں کے آرام کے لیے سرائے تعمیر کر رکھی ہے جنہیں ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ سرائے میں مسافروں کے کھانے اور سونے کے انتظام کے علاوہ گھوڑوں کے الگ اصطبل بنائے گئے ہیں جہاں وافر مقدار میں چارہ موجود ہوتا ہے البتہ بنیوںکی خورد بردکی وجہ سے بعض اوقات مسافروں کے لیے سامان خوردونوش کم پڑ جاتا ہے۔ ہندوستان کے کونے کونے سے تاجر لاہور آتے ہیں۔ یہاں سے بھاری مقدار میں سامان تجارت سندھ کے بڑے شہر ٹھٹھہ لے جایا جاتا ہے۔ ہر سال لاہور سے سامان سے لدے بارہ یا چودہ ہزار اونٹ قندھار کے راستے فارس جاتے ہیں۔“

شاہ جہان کے دور میں گو لاہور دارالحکومت نہیں تھا اس کے باوجود اس شہر کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ لاہور کشمیر جانے والی شاہی سڑک پر واقع ہے۔ شمال مغربی سرحدوں میں تعینات فوجوں کے لیے اسلحہ اور سامان حرب لاہور سے بھیجا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شہر دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ آصف خان نے محل میں توسیع کروا کر اس کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے کاشی کاری کا کام کرایا ہے۔ اس کی پر شکوہ عمارتوں میں شاہدرہ میں جہانگیر کاخوبصورت مقبرہ شہر کے جنوب میں مسجد وزیر خان‘ شالامار باغ‘ گلابی باغ کا محربی دروازہ‘ عید گاہ‘ میاں میرؒ کا مزار‘ وزیر خان کا گرمائی مکان( جو اب سٹیشن لائبریری کے طورپر استعمال ہوتا ہے)‘ زیب النساءکا محرابی دروازہ اور انارکلی اور شالا مار باغ کے درمیا ن سڑک پر واقع مقبرے شامل ہیں۔ جہانگیر نے محل کے مغربی گوشے میں خوابگاہ تعمیر کرائی جو مغل فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہاں سے راوی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ اندرونی حصے میں ایک باغ تھا جس کے سنگ مر مر کے فوارے عجب سماں پیدا کرتے۔ قیمتی پتھروں کے آرائشی برتنوں میں انواع و اقسام کے پھول سجائے جاتے۔محل کی دیواروں کے باہر چبوترے میں عرض بیگی نام سے نشست گاہ بنائی گئی تھی جہاں امراءبادشاہ کے احکامات وصول کرتے‘ بادشاہ ایک بلوریں جھروکے کے سامنے کھڑے ہو کر رونمائی کراتا(افسوس اب اس مقام پر اصطبل بنادیا گیا ہے۔)

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی عوام افغانستان کے عوام کی خواہش کو قبول کریں گے اور یہ ہمارے لیے اہم ہے

خوابگاہ کے بائیں طرف کئی عمارتیں ایستادہ ہیں جن کے اوپر ہشت پہلو برج تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک کا نام ثمن برج ہے جو بیش قیمت پتھروں اور سنگ مرمر سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری پر نو لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ ایک طرف شیش محل ہے جسے رنجیت سنگھ استقبالیہ کمرے کے طورپر استعمال کرتا تھا۔ اس محل کو اس اعتبار سے بھی تاریخی حیثیت حاصل ہے کہ پنجاب کو اسی محل میں باضابطہ طورپر برطانوی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔ بادشاہ کے جلوس کے لیے محل میں ہاتھی پاﺅں نامی دروازہ بنایا گیا جو اب قلعے میں داخل ہونے کا واحد راستہ ہے بادشاہ کا ہاتھی وسیع و عریض سیڑھیوں سے ہوتا ہوا باغ میں سے گزر کر محل میں داخل ہوتا۔ اس باغ کا موازنہ بابل کے معلق باغات سے کیا جاسکتا ہے۔جہانگیر کی خوابگاہ کے سامنے ایک حمام تعمیر کیا گیا ہے۔ قلعے کے عین وسط میں شاہ جہان کا تخت بچھا تھا۔ اب اسے ایک بیرک میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ تخت کے سامنے دیوان عام ہے جہاں بادشاہ رعایا کی شکایات سن کر فیصلے صادر کرتا تھا۔

بلا شبہ یہ محل اپنی وسعت اور اندرونی آرائش کے اعتبار سے کسی شہنشاہ کے شایان شان رہائش گاہ ہے۔ سامنے کا پانچ سو گز کا دالان دریا کی طرف کھلتا ہے جو اس وقت محل کے نیچے بہتا تھا البتہ محل کے لیے سرخ اینٹیں استعمال کی گئی ہیں جو شاہانہ مذاق کے منافی ہیں۔ محل کے پورے بیرونی حصے پر کاشی کاری کا کام کیا گیا ہے۔ محل میں اسلامی عقائد کے برعکس مصوری کی گئی ہے اور انسانوں  گھوڑوں اور ہاتھیوں کے علاوہ منطقہ البرج اور فرشتوں کی تصویریں بنائی گئی ہیں جو قدیم ایرانی روایات کے مطابق ہر ماہ اور سال کے ہر دن زمین پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ سب سے دلچسپ تصویریں چڑھتے سورج کی ہیں جوجہانگیر کے محل کے باہر بنائی گئی ہیں۔ غالباً یہ تصویریں جشن نوروز اور مہرگان کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ اسی طرح پھلوں اور پھولوں سے بھرے طباقوں کی تصویریں بنائی گئی ہیں جو شاہی تقریبات پر پیش کیے جاتے تھے۔ مغلیہ دور کے مقبروں کی دیواروں پر پانی کے خوبصورت کٹوروں اور کھانے پینے کی چیزوں کی تصویریں بکثرت دکھائی دیتی ہیں۔اس سلسلے میں جہانگیر کا مقبرہ خاص طورپر قابل ذکر ہے۔ قدیم ایرانی روایات کے مطابق کھانے پینے کی اشیاءگھروں کی چھتوں اور اونچی جگہوں پر رکھ دی جاتی تھیں کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے والوں کی روحیں اپنے گھروں میں آکر ان اشیاءسے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
یہ ڈیزائن دو وجوہ کی بنا پر دلچسپی کا باعث ہیں۔ اول یہ کہ ان تصویرورں سے ان اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے جن میں زندہ چیزوں کی تصویر کشی کی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب یہ تصویریں بنائی گئیں‘ اس وقت ایران کے قدیم ماورائے فطرت عقائد کا گہرا اثر تھا۔ اس صورت حال سے اس عہد کے مورخوں عبدالقادر  ابوالفضل اور دلندیزی مشنریوں کے بیانات کی بھی توثیق ہوتی ہے کہ صرف ہندوستان کے بادشاہ ہی نہیں ابتدائی مغل شہنشاہ بھی سورج اور دیوتاﺅں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ او دھے پور کے دربار میں بھی ایک دیوتا کی تصویر موجود ہے شیر اور سورج طویل عرصے تک ایرانی سلطنت کا طرئہ امتیاز رہے ہیں۔ اسی طرح امیر تیمور نے صاحب قراں یا مجمع النجم کا لقب اختیار کیا۔ بعد میں شاہ جہان نے بھی یہ لقب اپنا لیا۔ اس نے لاہور کے محل کے دروازے پر جو تحریر کندہ کرائی اس سے بھی اس کے زر تشت عقائد کی ترجمانی ہوتی ہے۔ سترہویں صدی کے ایک یورپی سیاح نے آگرہ سے لاہور تک شاہی سڑک کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے ”ایک مسلسل سیدھی شاہراہ جس کے دونوں طرف ناریل‘ کھجوروں شہتوت اور دوسرے درخت لگائے گئے ہیں۔“

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کا کراچی کیلئے 11 سو ارب کا پیکج تنقید نگاروں کی نظر سے

ایک ہسپانوی راہب کی یادداشتوں سے اقتباس:
ایک ہسپانوی راہب فراسیبطین مینرک 1641ءمیں شاہ جہان کے دور میں لاہور آیا۔ اس نے لاہور کے بارے میں جو دلچسپ یا دداشتیں قلمبند کیں اس کا ترجمہ یہاں پیش کیا جاتا ہے”آگرے سے روانگی کے اکیسویں روز ہم لاہور پہنچے۔ یہ ایک وسیع و عریض شہر ہے البتہ یہاں رہائشی مکانوں کی قلت ہے۔ کئی لوگ شہر سے نصف کوس کے فاصلے پر خیمہ زن تھے۔ یہ ایک دیدہ زیب شہر ہے جسے سلیقے سے بنایا گیا ہے۔ شہر میں بڑے بڑے دروازے اور رنگ برنگے چبوترے موجود ہیں۔ گلیوں میں لوگوں کی بڑی بھیڑ تھی۔ میں بمشکل شہر میں داخل ہوسکا۔ لوگ پیدل  اونٹوں  ہاتھیوں اور بیل گاڑیوں میں ہچکولے کھاتے سفر کر رہے تھے۔ ہر کوئی دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقت بادشاہ کے دربار میں حاضری کے لیے مقرر تھا۔ بعض امراءکے ساتھ پانچ پانچ سو گھڑ سوار تھے۔

راستے میں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے ہم نے اپنا راستہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ہجوم سے ہٹ کر شہرسے باہر درختوں کے نیچے کھڑے ہوگئے۔ یہاں لوگوں کا میلہ لگا ہواتھا۔ لوگ مختلف قسم کی مٹھائیاں اور کھانے تیار کر رہے تھے۔ بعض کھا رہے تھے‘ بعضوں نے دکانیں سجا رکھی تھیں اور کئی لوگ ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ مجھے تجسس ہوا اور میں بھی ہجوم سے گزرتا ہوا آخر کار بڑے بازار میں پہنچ گیا جہاں ہر طرف کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ دکانوں میں مختلف قسم کے پالتو اور جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت ہو رہا تھا۔ یہاں سور کا گوشت نہیں بکتا بلکہ اس کے بجائے گھوڑے کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ ہر قسم کے پرندے اور مرغ بھی دستیاب تھے۔ بازار میں ہر طبقے اور ہر مزاج کے لوگوں کے لیے چیزیں موجود تھیں مثلاً مکھن‘ تیل‘ عطریات‘ کےلے‘ امرود‘ سیب اور آم وغیرہ۔ بازار میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی یہاں تک کہ چاول جڑی بوٹیاں اور سبزیاں تک دستیاب تھیں۔ گیہوں کی روٹی لوہے کے توے پر پکائی جاتی ہے۔ کاروان کی صورت میں سفر کرنے والے لوگ کلچے کھاتے ہیں جو سفید آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔ روغنی روٹی گندم کے آٹے اور مکھن سے پکائی جاتی ہے۔ بازار میں بہت سی دوسری چیزیں بھی فروخت کی جارہی ہیں لیکن میں نے جن اشیاءکا تذکرہ کیا ہے وہ قارئین کی دلچسپی کے لیے کافی ہیں۔ میں ان کی ارزاں قیمتوں سے بے حد متاثر ہوا۔ ایک شخص پانچ پنس میں دن بھر شاہانہ طریقے سے کھا پی سکتا ہے۔

میں کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی اور گلیوںکی صفا ئی سے مبہوت ہوگیا۔ وہاں ہر طرف امن و سکون اور خاموشی تھی۔ کاروبار بڑے سلیقے سے چل رہا تھا۔ لوگ ایمانداری کے ساتھ لین دین کرتے۔ تاجر اور تجارت کا سامان چوروں سے مکمل طورپر محفوظ تھا۔

”لاہور شہر کا محل وقوع نہایت موزوں ہے۔ اس کے ایک طرف دریائے راوی واقع ہے جس میں کشمیر کے پہاڑوں سے آنے والا نیلگوںپانی بہتا ہے۔ یہ دریا زمینوں کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہوا ملتان پہنچ کر دریائے سندھ سے جا ملتا ہے۔ لاہور مغل سلطنت کا دوسرا شہر ہے جس میں ہرطرف باغات اور فوارے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاءکثرت سے دستیاب ہیں جن کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے۔ یہاں کا بڑا بازار کسی بھی یورپی مارکیٹ کا ہر اعتبار سے مقابلہ کرسکتا ہے۔“