Wife_husband

سمجھ دار بیوی

EjazNews

کیرالہ کے ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک ہندو پجاری رہا کرتا تھا۔ اس کا نام تھا وشنوٹی وشنوص بح ہوتے ہی مندر چلا جاتا۔ وہ دن بھر وہاں پوجا کے لئے آنے والے یاتریوں کی خدمت کرتا اور شام کو تھکا مندہ گھر لوٹتا۔
وشنوب ڑا مہمان نواز تا۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی و زبردستی اپنے گھر لے آتا اور اسے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتا۔ وشنو کی بیوی لکشمی بڑی محنتی اور اطاعت گزار تھی۔ وہ اپنے شوہر کے مہمانوں کی خوب خاطر مدارت کرتی۔ وشنو اپنی بیوی سے بہت خوش تھا۔ ادھر اس غریب کا یہ حال تھا کہ وہ اکثر اپنے حصے کا کھانا بھی وشنو کے مہمانوں کو کھلا دیتی اسے اکثر بھوکا سونا پڑتا تھا۔ اس نے اپنے شوہر سے اس کی شکایت نہیں۔ وشنو کی آمدنی بہت کم تھی۔ اس میں صرف میاں بیوی ہی کا پیٹ بھر سکتا تھا ۔ روزانہ دو تین مہمانوں کی خاطر اس کے بس میں نہ تھی۔ ادھروشنو اپنے کھانے میں مہمانوں کی شرکت کو فرض سمجھتا تھا۔لکشمی کو اپنے شوہر سے بڑی محبت تھی۔ اس لئے وہ خاموش رہتی۔ اس نے پڑوسیوں سے مانگ مانگ کر مہمانوں کی خاطر جاری رکھی۔ لیکن آخر کب تک، ایک وقت ایسا آیا کہ پڑوسیوں نے اسے کچھ دینے سے صاف انکار کردیا۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ لکشمی ایک غریب عورت ہے، کیونکہ وہ ہر شام مہمانوں کو اس کے گھر آتا دیکھتے تھے۔
جب فاقے کرتے کرتے لکشمی کی حالت پتلی ہو گئی تو اس نے آخر ایک دن اپنے پجاری شوہر سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک رات جب وشنو مہمانو ں کو رخصت کر کے پانی چار پائی پر سو نے کے لئے لیٹنے لگا تو لکشمی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی ، مجھے آج آپ سے کچھ کہنا، یہ سنتے ہی وہ تن کر بیٹھ گیا اور حیرت سے لکشمی کو گھونے لگا۔ کیوں کہ اس نے اس سے آج تک ایسی بات نہیں کی تھی۔
لکشمی رونے لگی۔ ہچکیوں سے اس کی گھگھی بندھ گئی۔ وشنو یہ دیکھ کر سخت بے چین ہو گیا ۔ آخر کار لکشمی نے ساری کے پلو سے اپنے آنسو پونچے اور بولی ہمارے ہاں روز مہمان آتے ہیں دوسروں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرنا بڑی اچھی بات ہے لیکن آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ ہمارے پاس اتنا کہاں ہے کہ ہم دوسروں کی خاطر کر سکیں۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ مہمانوں کے لئے میں کھانا کہاں سے لائوں۔ آپ کے مہمان اکثر میرے حصے کا کھانا بھی کھا جاتے ہیں اور مجھے فاقے کرنے پڑتے ہیں اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا میرے سرتاج۔ مجھ پر رحم کیجئے۔ مہمانوں کو گھر لانے کا سلسلہ ختم کر دیجئے ۔
لکشمی کی یہ باتیں سن کر وشنو آگ بگولا ہو گیا۔ بیوی کی یہ مجال کیسے ہوئی کہ مہمانوں کو گھر لانے سے روک رہی ہے۔ پھر وہ سوچنے لگا، کیا بات ہے کہ کیا لکشمی کو اب مجھ سے محبت نہیں رہی؟ یا پھر ہو سکتا ہے یہ ساریباتیں اس نے بے وقوفی میں کہہ دی ہوں جس کا اسے بعد میں خود احساس ہو جائے گا۔
اس نے لکشمی کو اپنے قریب بلایا اور اس کی پیٹھ تھپک کربولا روئو نہیں میں تمہاری اس کغلطی کو معاف کیے دیتا ہوں۔ ہم تو زندہ ہی دوسروں کے لیے ہیں۔ دوسروں کو کھانا کھلا کر ہم بڑی نیکی کما رہے ہیں ۔ تماری یہ قربانی میرے لئے بھی اچھی ہے اور خود تمہارے حق میں بھی اچھی ثابت ہوگی۔ اگر تم دوسروں کو کھلا کر خود بھوک سے مرجائوں گی تو مجھ سے پہلے جنت میں جا پہنچوں گی ۔ کبھی تم نے اس پر بھی غور کیا؟ ۔بھروسا رکھو اور اپنے شوہر کی یوں ہی خدمت کر تی رہو۔یہ کہہ کر وہ لیٹ گیا اور خراٹے لینے لگا۔
لکشمی اس رتا ایک لمحےکے لئے بھی نہ سو سکی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس مصیبت سے کیسے چھٹکارا پائے۔
اگلی صبح وشنو پوٹی معمول کے مطابق اٹھ کر مندر چلا گیا۔ کھانے کے وقت وہ آج بھی روز کی طرح دو مہمانوں کو اپنے ساتھ لے آیا۔ لکشمی نے جب انہیں دور سے اپنے گھر کی پگڈنڈی پر آتے دیکھا تو پر یشان ہوگئی اور کوئی تدبیر سوچنے لگی۔
تھوڑی ہی دیر میں وشنو پوٹی اور اس کے مہمانوں کی باتوں کی آوازآنے لگی۔ اس کے مہمان بڑے خوش خوش چکتے چلے آرہے تھے۔ دونوں وشنو کی مہمان نوازی کے گن گا رہے تھے۔
گھر پہنچ کر وشنو نے مہمانوں کو کمر ے میں بٹھایا اور خود نہانے دھونے کے لئے لچا گیا۔ اس کے جاتے ہی لکشمی نے کمرے کے کونے میں رکھا لکڑی کا وہ لمبا، موٹا اورب ھاری موصل اٹھایا جس سے وہ اوکھلی میں دھان کوٹا کرتی تھی اس نے موصل کو بڑی احتیاط کے ساتھ دیوار سے کھڑا کیا۔ دئیے روشن کیے اور موصل کے اوپر ڈھیر سارے پھول ڈال کر اس کے سامنے آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی ۔ جیسے وہ اس کی پوجا کر رہی ہو ۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور مہمانوں کی طرف دیکھا وہ بہت ڈری سہمی نظر آرہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری تھے۔
مہمانوں نے یہ دیکھا تو ان کو بی حیرت ہوئی۔ دونوں نے اس سے پوچھا بہن کیا بات ہے ؟یہ موسل کی پوجا کیسی؟۔
لکشمی نے آنسو بہاتے ہوئے انکار میں سرہلایا اور بولی۔مجھے یہ بات بتانے کی اجازت نہیںہے۔ میں اپنے شوہر کے بارے میں کیسے کچھ کہہ سکتی ہوں، ویسے اس بات کا تعلق آپ دونوں کی خیریت سے ہے۔
یہ سنتے ہی دونوں مہمانوں کے تو اوسان خطان ہو گئے۔ آخر دونوں بولے بہن خدا کے لئے ہمیں بتا دو۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے شوہر سے اس کا ذکر تک نہیں کریں گے۔
تو آپ کا پکا وعدہ ہے؟ لکشمی بولی۔
ہاں ہاں یہ ہمارا پکا وعدہ ہے دونوں مہمان بولے۔
اس پر لکشمی بولی میرے شوہر بڑے مہربان اور رحم دل انسان ہیں وہ روزانہ ایک دو مہمانوں کو گھر لاتے ہیں ، لیکن ان کی ایک عادت بہت بری ہے۔ مہمانوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کے بعد وہ انہیں اس موسل سے خوب پیٹتے ہیں۔ مہمانوں کی اس ٹھکائی کو وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ میں مہمانوں کو بڑے چائو سے کھانا کھلاتی ہوں مگر ان کی پٹائی پر میرا دل بہت کڑھتا ہے اسی لئے میں پوجا کر رہی تھی کہ اس گناہ کی سزاسے میں محفوظ رہوں۔
یہ سنتے ہی مہمانوں کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور انہوں نے وہاں سے فوراً بھاگ نکلنے ہی میں خیریت جانی۔ آخر وشنو پوٹی کے غسل کرنے سے پہلے ہی وہ دونوں پچھلے دروازے سے چمپت ہو گئے۔
وشنو پوٹی نہا دھوکر کمرے میں جو آیا تو اس نے دونوں مہمانوں کو غائب پایا اس نے لکشمی سے پوچھا وہ میرے دونوں مہمان کہاں چلے گئے؟۔
لکشمی بڑے اداس لہجے میں بولی۔ سرتاج ، آپ مجھے معاف کر دیں مجھ سے بڑی غلطی سرزد ہوئی۔ دونوں مہمان مجھ سے یہ موسل بطور تحفہ مانگ رہے تھے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے گھر میں لے دے کر یہی ایک موصل ہے۔ میں نے انہیں یہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر وہ دونوں سخت ناراض ہوئے اور آپ کے آنے سے پہلے ہی غصے میں بھنا کر نکل گئے۔
یہ سنتے ہی وشنو پوٹی کا پارا ایک دم چڑھ گیا، وہ اپنی بیوی پر دھاڑا، تیری یہ مجال کہ تو نے میرے مہمانوں کو لکڑی کا یہ اونا موسل دینے سے انکار کر دیا۔ میرے مہمانوں کی بے عزتی کرنے کی تجھے جرات کیسے ہوئی۔ ہائیں ، تیری یہ مجال یہ کہہ کر اس نے سہمی ہو ئی لکشمی کے ہاتھ سے موصل چھینا اور اسے اٹھا کر مہمانوں کے پیچھے لپکا جو اس وقت پگڈنڈی پر بھاگے جارہے تھے۔ اب جو انہوں نے مڑ کر دیکھا تو پجاری موسل اٹھائے ان کے پیچھے دندناتا آرہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ پہلے سے زیادہ تیز بھاگنے لگے۔ دونوں کے سانس پھولے ہوئے تھے اور وہ زور زور سے چلا رہے تھے۔ بھاگو، وہ پٹائی کرنے موصل لئے آرہا ہے، دونوں اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے۔ وشنو پوٹی ان تک نہ پہنچ سکا اور آخر گرتا گراتا اپنے گھر لوٹ گیا۔
گائوں کے تمام لوگ اس وقت جمع ہو گئے تھے اور بھاگتے مہمانوں نے انہیں بتا دیا تھا کہ وہ کھانا کھلا کر اصل خاطر یوں کرتا ہے۔ اسی لئے وہ مہمانوں کو اپنے گھر بہلا پھسلا کر لے جاتا ہے۔ یہ بات پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور یوں بے چاری لکشمی کو پیٹ بھر کر کھانا ملنے لگا۔
کیرالہ کی لوک کہانی

یہ بھی پڑھیں:  چوتھے بھائی کی سرگزشت
کیٹاگری میں : بچے