violent

نوجوانوں کے پر تشدد رویے چند تجاویز

EjazNews

ماہرین کے مطابق لڑکپن میں پیدا ہونے والی عادات آگے چل کر پختہ ہو جاتی ہیں۔ بچپن کا خاتمہ اور لڑکپن کا آغاز ہی معاشرے کے لیے بہت اہم ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں کوئی جامع تشریح موجود نہیں لیکن عمومی تاثر یہ ہے کہ 11-12سال کی عمر کے بعد بچے کو بہت توجہ کی ضرورت ہے اور 16سال کی عمر میں اس کو تنہا چھوڑنا آسان نہیں اس میں خود اعتمادی پیدا کرنا والدین اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اس مرحلے پر والدین کا رویہ ہی بچے کے رویے کا تعین کرے گا۔ کیونکہ وہ گھر میں سب سے زیادہ انہی سے سیکھتے ہیں لیکن اب گھر میں رہتے ہوئے بھی موبائل سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

بچے کئی طرح سے والدین سے سیکھتے ہیں ۔ اول تو جین ہی جارحانہ رویے کی عکاس ہے۔ دوسرا یہ کہ دوران زچگی مائیں اور والد جس طرح کا رویہ اختیار کر تے ہیں یہ بھی بچے کی پیدائش کے عمل میں اس کی نشوونما پر اثر انداز ہو تا ہے۔ گھر کا جذباتی ماحول یقینی طور پر بچے کو اسی انداز میں پروان چڑھائے گا جبکہ ڈیمو گرافک عوامل بھی درجنوں تحقیقات میں بچے کے رجحانات کا تعین کرتے ہیں۔ گھریلو تشدد کو نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں۔ تعلیم یافتہ مائیں بچوں کی بہتر پرورش میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اسی لیے پڑھی لکھی ماﺅں کی اولاد بھی معاشرے میں بہتر انداز میں جینے کا گر جانتی ہے۔

نوجوانوں میں پر تشدد رویے پر عالمی ادارہ صحت کو بھی تشویش ہے۔ اپنی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کو مختلف معاشروں کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دوسرے طبقات کے پر تشدد رویے کے مقابلے میں نوجوانوں کا یہ رویہ بہت واضح ہے۔ نوجوان لوگوں کی زندگیں چھین رہے ہیں انہیں زخمی یا معزور بنا رہے ہیں ،جان لیوا یا غیر جان لیوا حملے روکنے کی جانب مناسب توجہ نہ دینا بھی خطرناک ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق نوجوانوں کا تشدد ناصرف مظلوم یا مقتول کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان کے دوستوں ، خاندانوں اور وسیع تر معنوں میں پورے معاشرے میں ہیبت ناک اثر مرتب کرتا ہے۔ پر تشدد رجحانات رکھنے والے نوجوانوں نے مختلف طرح کے مجرمانہ واقعات میں بھی حصہ لیا ۔ بلکہ 2000ءمیں دنیا بھر میں نوجوانوں نے ایک لاکھ ننانوے ہزار کو موت کے گھاٹ اتا ر دیا۔ یعنی نوجوانوں کے ہاتھوں روزانہ سینکڑوں افراد قتل ہو رہے ہیں ۔ دنیابھر میں روزانہ 565بچے اور 20سے 29سال کے نوجوان اپنے ہی نوجوانوں کے ہاتھوں موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ زیادہ تر ممالک میں نوجوانوں کا نشانہ خواتین ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے 1985ءسے 1994ءتک ایک وسیع البنیاد تحقیق کی۔ جس سے انہیں پتہ چلا کہ بندوق کا عام ہونا بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ بعض تو اتنی بے دردی سے مارتے ہیں کہ مضروب کو کم از کم 20زخم آتے ہیں۔ کئی عالمی اداروں نے نشہ کو اس کا ایک اہم سبب قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے نے 27اداروں سے تحقیق کے بعد بتایا کہ 13سال یا اس سے زائد کی عمر کے بچے بھی نشے کے باعث ایک دوسرے سے بڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  فیشن ڈیزائننگ

ماہر نفسیات کے مطابق ا معاشروں کو تشدد سے بچانے کیلئے چار سطحی اقدامات ناگزیر ہیں پہلا مرحلہ انفرادی نوعیت کے اقدامات کا ہے۔ انفرادی طور پر بچوں کو ہر قسم کی دھونس دھمکیوں سے بچانا چاہئے۔ اس سلسلے میں ووکیشنل ٹریننگ ، کاﺅنسلنگ سے تحفظ کا پروگرام شروع کر نا چاہئے ۔ایسا نہ کیا گیا تو خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں اہل خانہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ والدین کو گھر میں بچوں کی مانیٹرنگ کرنا چاہئے حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ گھریلو سطح پر بھی مختلف خاندانوں کو بچوں کی تر بیت کے پروگراموں سے آگاہ کرے۔ سماجی ماہرین نوجوانوں کو بتائیں کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کیسے کر سکتے ہیں۔

تیسری ذمہ داری برادری پر عائد ہوتی ہے۔ اساتذہ کی پریکٹس کا نظام قائم ہوناچاہئے۔ سکول میں سکیورٹی پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہئے۔ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی گہری نظر ہونا چاہئے۔ اور بچوں کو نشہ یا کسی بھی دوسرے گروپ کا حصہ بننے سے بچانے کیلئے پروگرام شروع کیے جانے چاہئے۔ ایمرجنسی خدمات کو بہتر بنا کر کسی بھی حادثے یا مشکل کی صورت میں فوری اقدام کرنا چاہئے۔ منشیات اور اسلحہ کی دستیابی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے برادری کو بھی کھڑے ہو جانا چاہئے۔ پاکستان میں تعلیمی اداروں اور دفاتر میں منشیات کی فراہمی معمول کی بات ہے بلکہ اب تو کئی جیلوں میںبھی منشیات ملنے کی اطلاعات ہمارے سامنے آئی ہیں۔ امریکہ میں 18فیصد بچے سکولوں میں ہتھیاروں کے ساتھ گھس جاتے ہیں ۔ پاکستان میں یہ تناسب انتہائی کم ہے۔ لیکن ہے۔ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنے پیسے کی حفاظت خود کرنا پڑتی ہے

چھوتھی ذمہ داری حکومت اور معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔ جس کے تحت عوامی معلوماتی پروگرام شروع کیے جانے چاہئے۔ ہر سطح پر اصلاحات لا کر لوگوں کے ذہنی دباﺅ میں اضافہ کرنے والے قواعد و ضوابط کو منسوخ کر دینا چاہئے۔ معاشرے میں غربت اور معاشی ناہمواری کے خاتمے والی پالیسیوں کو نافذ کر کے دولت کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے سے بھی ہم اس تشدد سے نجات پا سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا میں کئی ممالک نے بچپن اور لڑکپن میں ہی پر تشدد رجانات کے خاتمے کے لیے کمیشن بٹھائے تاکہ ان کی تجویز کی روشنی میں کوئی اقدا م کر سکیں۔ ایسے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بھی قابو میں کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اور ایک تحقیق نے واشگاف الفاظ میں لکھا کہ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، بد اخلاقی مختلف ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اور اب یہی نوجوانوں کے رجحانات کا تعین کر رہی ہے اس کو قابو کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے لا تعداد اداروں نے 2016ءمیں پانچ سو ارب ڈالر کے ایسے اشتہارات سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دئیے جن سے معاشرے میں امن و امان کو نقصان پہنچا۔ عزت نفس بھی انتہائی ضروری ہے اور ہمارے ہاں اس کا تحفظ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کی عزت نفس بحال کرے ،عوام کسی بھی ادارے میں جائیں ان کے کام ہوں یا نہ ہوں ان کو با عزت مقام ضرورت ملنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  آزادی کشمیر کا کٹھن سفر