robot

مصنوعی ذہانت بتائے گی کہ انسان کا ذہن کیا ہے

EjazNews

انسانی ذہانت انتہائی محدود ہے۔ قدم قدم پر اسے اپنی کمی کا احساس ہوتاہے۔ مختلف چیزوں کی بھول جاتے اور کبھی یادداشت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ بہت سی باتیں ذہن سے ماﺅف ہوجاتی ہیں ۔ کبھی یہ کام بھول گیا کبھی یہ بھول گیا۔ لیکن مصنوعی ذہانت میں تو بھولنے والی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔

سائنسی جریدے میں ایک سائنسدان کہتا ہے مجھے دن میں تین مرتبہ Levetaنامی دوا لینا پڑتی ہے اس لیے کہ میرا دماغ ڈوما ٹین نامی پیدا نہیں کرتا۔ یعنی دماغ اس کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ اس کیمیکل کے بغیر اس کے ہاتھوں میں کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور چلنا پھر مشکل ہو جاتا ہے۔ڈیپا مین بیماری میں مبتلا بہت سے لوگ قبل از وقت مرجاتے ہیں ،لہٰذا مجھے اپنے دماغ کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے وٹامنز کی ضرورت ہے۔ یہ دوا پودو ں کی ایک قسم سے قدرتی طور پر حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے مالیکیول میرے دماغ میں مالیکیول کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے بغیر میں بے قوف اور گدھا دکھائی دیتا ہوں ۔ یہ الفاظ ایک معروف سائنسی شخصیت کے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قدرت کی 10 بھیانک آفتیں جو کیمرہ میں قید

20ویں صدی کے پہلے 50سالوں میں سائنس دان اس کیمیائی مادے کو مصنوعی طور پر پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ پارکسن ڈویس کا یہی ایک علاج ہے۔ تاکہ وہ اپنی ذہانت کو قائم رکھ سکے۔ 60سال پہلے ڈاکٹروں کے پاس اس مرض کا کوئی علاج نہ تھا مگر یہ کوئی بہتر علاج نہیں۔ ہر بار اسے دوا کیوں لینا پڑتی ہے۔ ہر بار اسے اپنے دماغ کو ڈوبا مین نامی کیمیکل سے بھرنا کیوں پڑ جاتا ہے۔ اس کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں اور ایسا تو ہر دوا میں ہوتا ہے۔ ہر دوا کے کچھ نہ کچھ ذیلی اور مصنوعی اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ کوفی میں کیفین اور ماری جونا میں پی ایچ سی نامی کیمیکل دماغ کے پیغام رسانی سسٹم کو جامد کر دیتے ہیں۔اسی لیے تو وہ مدہوشی کے عالم میں چلا جاتا ہے۔ اسکے کئی اور اثرات بھی ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی کیمسٹری ان کے مطابق ڈھلتی جاتی ہے۔ سالہا سال ڈوبا مین نامی مصنوعی کیمیکل لینے والوں میں ایک اور بیماری جنم لیتی ہے۔ اس کا اپنا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور اس کیلئے اسے مزید دواﺅں کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ یوں دن بھر میں کئی مرتبہ مریض کو اپنے منہ میں گولیاں بھرنا پڑتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑھاپے کو ٹالنے کے کچھ مشورے

جیمز ورٹس کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ پیچیدگیوں میں اپنے جسم میں سب سے برتر اور اعلیٰ چیز ہے۔ اور یہ اب تک دنیا کائنات میں جو کچھ دریافت ہوا ہے اس کی ایک حد ہے۔ دماغ میں اربوں کھربوں اقسا م کے دیگر خلیوں سے جڑے ہوئے ہیں ان کوسمجھنا انتہائی مشکل بلکہ شاید ناممکن ہے۔ان کا میکنزم تک پہنچنے کے لیے انسان کو ابھی بہت کچھ سیکھنا پڑے گا۔ سائنسدانوں نے انسانی دماغ پر بہت محنت کی ہے۔ اور نئے نئے افق تلاش کیے ہیں۔ لیکن ہر افق کی تلاش کے بعد مزید نئے افق سامنے آجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دماغ کو سمجھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنے دماغ کو شاید نہ سمجھ سکے۔ اب مستقبل میں کمپیوٹر ہی انسان کو بتائیں گے کہ اس کا ذہن کیا ہے ان کمپیوٹر کی مدد سے انسان اپنے آپ کو سمجھ پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد اور چند دلچسپ حقائق