world

دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے، چین اور امریکہ میں ؟

EjazNews

دنیا کے 180سے زائد ممالک اور جزائر کے باشندوں پر حکومت کرنے کا خواب کوئی نیا نہیں۔دنیا کے بہت سے ادوار میں یہ خواب بہت لوگ دیکھتے رہے ہیں اور کچھ نے تو حقیقت میں کسی حد تک دنیا کو اپنے قابو میں کر بھی لیا تھا لیکن اس وسیع دنیا میں مکمل طور پر کوئی بھی کبھی بھی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

پہلی جنگ عظیم ہو یا دوسری جنگ عظیم ، افغانستان میں امریکی مداخلت ہو یا عراق شام اور کویت کی جنگیں ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی ملک کا دنیا پربالادستی قائم رکھنے کا خواب ضرور پنہاں ہے۔ ہٹلر نے اسی بالادستی کے خواب کی خاطر عالمی امن کو تار تار کیا۔ یہی عالمی امن سرب جنگ کی شکل میں امریکہ اور روس کی رسہ کشی کا شکار بنے۔ جب ممالک خوفزدہ تھے کہ وہ امریکہ کی طرف جائیں یا روس کی طرف دیکھیں تو ایک قدم امریکہ کی طرف بڑھاتے تو روس دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ۔ دو قدم روس کی طرف بڑھاتے تو امریکہ دس قدم پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ خدا خدا کر کے سرد جنگ ختم ہوئی لیکن اب مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک جنگ کی چیرہ دستیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

چین کی ون بیلٹ ون روڈ کی تعمیر سے ایک مرتبہ پھر امریکی مبصرین کے کان کھڑے ہو گئے ۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے انہیں اندرونی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی سطح کے لیے سوچنے کا ان کے پاس شاید وقت ہی نہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ امریکی صدر عالمی پالیسیوں کے متعلق سوچتے ہیں یہ بھی کسی حد تک ٹھیک نہیں وہاں اور بھی بہت سے تھنک ٹینک موجود ہیں جن کا کام ہی عالمی منظر عامہ پر نظر رکھنا ہے اسی لیے امریکہ دنیا کے تقریباً ہر پھڈے میں اپنی ڈانگ اڑا کر بیٹھا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میڈ ان چائنہ 2025ء، کیا چین برطانیہ اور امریکہ کو ٹیکنالوجی میں پیچھے چھوڑ دے گا

عالمی مبصرین ون بیلٹ ون روڈ کو معاشی پلان آئزن ہاور انڈس سسٹم سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔ ان دونوں لیڈروں نے یورپی ممالک کو سڑک اور ریل کے راستے ملا کر امریکہ سے تجارتی تعلقات میں بہتری کے لیے اقدامات کیے۔ ان دونوں صدور کی کوششوں کے نتیجے میں یورپی ممالک کا دفاع امریکہ کے ہاتھ میں چلا گیا اور نیٹو کی شکل میں امریکہ یورپی ممالک کا سب سے بڑھا محاسب بن گیا۔اس طرح بین الاقوامی رابطہ سڑکوں اور ریلوے لائنوں نے جہاں ایک طرف معاشی رابطے قائم کیے وہاں دوسری طرف یہ پالیسی سٹرٹیجی سیاسی رابطے کا ذریعے بنی۔ چین نے ون بیلٹ ون روڈ کی شکل میں دنیا نے چین کو زندہ کر دیا ہے۔

102ممالک 5سو ارب کے اس منصوبے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امریکہ کی پریشانی اور عدم دلچسپی کے باوجود عالمی اداروں نے بھی اس منصوبے کے مقاصد کو تسلیم کر لیا ہے۔ امریکی مبصرین پریشان ہیں کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ کو امریکہ میں الجھا دیا ہے ۔ اندرونی اور داخلی مسائل انہیںباہر نکلنے کا موقع ہی مہیا نہیں کر رہے لیکن اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر چین اب یورپ اور ایشیا اور افریقی ممالک کو آپس میں براہ راست یا رابطہ سڑکوں کے ذریعے جوڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سلام ہے کشمیریوں پر جو نہیں جھکے، مسلسل لڑ رہے ہیں اپنی آزادی کیلئے

امریکہ کو 19ویں اور 20ویں صدی میں سڑکوں کی تعمیر سے سٹرٹیجک فائدے حاصل ہوئے تھے۔ ابھی ان سڑکوں کی تعمیر میں چین کو چھوٹے موٹے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ تاج برطانیہ نے بھی ایسی جنگوں سے محتاط اور آئزن ہاور اور معاشی پلان پر عملدآمد کے دوران بھی چھوٹی موٹی جنگیں ہوتی رہی ہیں اور بالآخر یہ منصوبے مکمل ہو گئے۔ اب چین کے صدر ثے ینگ ینگ کا منصوبہ بھی دنیا پر بالادستی قائم کرنے کا ہے چین اگرچہ جنگوں میں نہیں الجھتا ۔تاج برطانیہ کے برعکس اس کی ایسی کوئی کوشش نہیں لیکن افریقی اور ایشیائی ممالک میں اسے کہیں نہ کہیں ان طاقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا پھر بالآخر معاشی اہمیت اور انسانی ضرورت کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

مبصرین کے مطابق منصوبے کی تعمیر مکمل ہوتے ہی چین کو یورپ ، ایشیاءاور افریقہ میں وہ سٹرٹیجک اہمیت حاصل ہوگی جو اس وقت امریکہ کو ہے۔ وہ یورپی ممالک جو امریکہ کے خلاف کسی بھی روسی حملے کی صورت میں ڈھال کی طرح امریکہ کے تحفظ کے لیے کھڑے تھے مستقبل میں چین کے دست نظر ہوںگے۔ یوں بھی یورپ میں اندرونی تبدیلیاں امریکہ کے حق میں نہیں۔ یورپ میں ابھرنے والی نئی سوچ ، آزادی ، خود مختاری اور نیشنل ازم کے لیے ہے۔ ان ممالک میں امریکہ سے دوریاں برتی جارہی ہیں۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ سپر پاور میں ایک اور سپر پاور کا اضافہ کر دے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران کا ممکنہ اقدام کیا ہو سکتا ہے؟

اور یہی سے وہ کھیل دوبارہ شروع ہوتا ہوا نظر آتا ہے جو کبھی روس اور امریکہ کے درمیان تھا اور اس چکی میں پس غریب ممالک رہا تھے۔ امریکہ جس طرح انڈیا پر مہربان ہے اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انڈیا کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے اور عین ممکن ہے وہ یہ کر بھی جائے جس کے بھیانک نتائج اس خطے کو غارت کرنے کیلئے کافی ہوں گے ۔ شاید چین کا اس قدر نقصان نہ ہو اور یہ جنگ چین کے اندر تک بھی نہ پہنچ پائے لیکن انڈیا اس جنگ کے نتائج کو شاید اگلے کئی سو سال بعد تک پورا نہ کر سکے ۔
دنیا اس وقت واضح طور پر دھڑوں میں دوبارہ تقسیم ہو رہی ہے ۔ چین بھی امریکہ کے ہر اقدام کو دوبدو جواب دے رہا ہے محتاط انداز سے جبکہ امریکہ اب کھل کر چین کی مخالفت کر رہا ہے اور خاص کر کرونا وائرس کے بعد تو امریکہ نے چین کی بالکل اسی طرح مخالفت کی ہے جس طرح کبھی وہ روس کی کیا کرتا تھا۔