lahore_city

لاہور شہر ہندو، مسلمان اور انگریز ادوار میں

EjazNews

لاہورمیں نہ صرف تاریخ کے طالب علموں اور ہندوستان کے قدیم نوادرات کے متلاشی افراد بلکہ عام قارئین کے لیے بھی دلچسپی کے ہزاروں سامان موجود ہیں۔ یہ شہر اس خطے میں واقع ہے جس سے دنیا کی تمام قوموں کو گہری دلچسی ہے۔ لاہور سکندر اعظم کی مہم جوئی کا محور رہا ہے۔ پھر یہی خطہ ہندومت اور اسلام کی باہمی آویزشوں اور محاذ آرائی کا مرکز رہا جس کی وجہ سے ہندوستان کی ابتدائی تاریخ میں اسے زبردست اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ شہر اس کنفیڈریشن کا بھی مرکز رہا ہے جس نے دو سو سال تک کامیابی کے ساتھ اسلام کی مزاحمت کی تھی۔ غزنویوں سے لے کر مغلوں تک شمالی ہندوستان کا ہر مسلمان حکمران خاندان اس شہر کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں وابستہ رہا ہے۔ کئی مرتبہ یہ مسلمان حکمرانوں کا پایہ تخت بھی رہا۔ غرض اس شہر کو ہمیشہ سے بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ سکھوں کی تاریخ میں اسے ارجن کی شہادت اور رنجیت سنگھ کے دارالسلطنت کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ اس وقت بھی لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے جہاں ہندوستان کی سب سے زیادہ عسکری قوت موجود ہے۔ مشرق اور مغرب کے مورخ اور شاعر لاہور کی عظمت کے اعتراف میں مشترکہ طورپر رطب اللسان ہیں۔ ابو الغدا نے چودہویں صدی میں ابن العطیر کے صفحات میں لاہور کے بارے میں یہ پڑھا ”ہندوستان کے شہروں میں عظیم شہر ابوالفضل نے سولہویں صدی میں لاہور کو تمام قوموں کا پر شکوہ مسکن قرار دیا ہے۔ ایک مقامی ضرب المثل میں کہا گیا ہے کہ اگر شیراز اور اصفہان کو اکٹھا کیا جائے تو بھی ایک لاہور نہیں بن سکتا۔ تھیوناٹ نامی سیاح 1665 عیسوی میں اس وقت لاہور میں وارد ہوا جب یہ شہر زوال پذیر تھا۔ اس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ اس کی آمد سے تھوڑی دیر پہلے تک لاہور شہر اور اس کے نواحی علاقوں کی لمبائی تین میل کے برابر تھی۔ برنئیر نے اس شہر کے محل‘ گلیوں کی لمبائی اور مکانوں کی بلندی کا آگرہ اور دہلی سے موازنہ کیا ہے۔ ہمارے اپنے شاعر ملٹن نے ”جنت گم گشتہ “ میں لاہور کو قدیم اور جدید دور کا شہرت یافتہ اور دنیا کی طاقتور ترین سلطنتوں کا پایہ تخت قرار دیا ہے۔اپنے گناہوں سے تائب آدم ؑنے جنت کے پہاڑ سے اس شہر کا مشاہدہ کیا تھا۔ پیراڈائز لاسٹ بک 341,337 – I`XI ) مور نے لاہور کے شاہی محلات‘ مقبروں اور طلائی میناروں پر کھڑے ہو کر اسے طلسماتی شہر قرار دیا ہے جس کی فضائیں لالہ رخوں کے حسن سے معطر تھیں۔

روائتی تاریخ:
قدیم ہندو روایات کے مطابق لاہور کو ہندوستان کے کئی دوسرے شہروں کی طرح رامائن کے ہیرو اور ایودھیا(اودھ) کے بادشاہ راما سے منسوب کیا گیا ہے جس کے دو بیٹوں لوہ اور کشن نے لاہور اور قصور کے شہروں کی بنیاد رکھی تھی۔ لاہور صرف مقامی روایات کی رو سے ہی مشہور نہیں تھا بلکہ دور افتادہ ملکوں کی عسکری روایات اور بہادری کے کارناموں اور جنگوں کے حوالے سے بھی اسے زبردست شہرت حاصل تھی یونانیوں کے مطابق یہ شہر قدیم ہندو ریاستوں کا دارالسلطنت رہا ہے۔ کشمیر کی تاریخ راجہ ترنجنی میں لاہور کو ایک وسیع سلطنت کا پایہ تخت قرار دیا گیا ہے۔ جے پور کے فاضل راجہ جے سنگھ سوائی کے حکم پر مرتب کی جانے والی کتاب ”دیش وی بھاگا“ میں لکھا گیا ہے کہ دوا پر یاپیتل کے دور کے آخر میں بھیم سین نے دس ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ لاہور کے طاقتور شہزادے راجہ بن مل کے خلاف تین روز تک جنگ لڑنے کے بعد اسے قیدی اور اس کی سلطنت کو باجگزار بنالیا تھا۔ شمالی سرحد کی رزمیہ شاعری میں ”لاہور کے قریب جنگل“ کا بھی تذکرہ ملتا ہے جسے اس قت او دھے نگر کہا جاتا تھا۔ اس مقام پر سیالکوٹ کے ہیرو سال واہن کے بیٹے رسالو نے ظالم راکش کو شکست دے کر اسے موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ حالیہ تاریخ میں راجپوتانے کی ریاست میواڑکے حکمران راجپوت خاندان کا بانی کنکسن بھی لاہور سے ہجرت کر کے وہاں گیا تھا۔ انلہارہ پٹن اور جیسلمیر کے بھاٹی جن کے نا م سے اب بھی لاہور کا ایک دروازہ منسوب ہے لاہور کو اپنا اصل وطن قرار دیتے ہیں۔

مسلمانوں کی روایت :
اس کے برعکس مسلمانوں کی روایت ہے کہ لاہور کے موجودہ شہر اور قلعہ کی بنیاد محمود غزنوی کے دوست اور مشیر ملک ایاز نے رکھی تھی جس کا مقبرہ ٹکسالی دروازے کے قریب واقع ہے اور مسلمان لاہور کے محسن کے طور پر اس کی قبر کا احترام کرتے ہیں۔

ان روایات کا حاصل :
ان دونوں متضاد روایات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس جگہ پر ہندوﺅں کا شہر لاہور موجود تھا لیکن مسلمانوں نے حملہ کر کے شہر کو تباہ کردیا اور اس کے بعد نئے شہر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں مفروضے درست ہیں۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور کا پرانا شہر اچھرہ کے گاﺅں یا موجودہ شہر سے تین میل کے فاصلے پر آباد تھا۔ اچھرہ اور مزنگ گاﺅں کے باشندے اس روائت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس روایت کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اچھرے کا پرانا نام اچھرہ لاہور تھا۔ قدیم دستاویزات میں بھی یہی نام مرقوم ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوﺅں کے تمام مقدس مقامات اور عبادت گاہیں اسی علاقے میں واقع ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان قصے کہانیوں کو تاریخ کا درجہ نہیں دیا جاسکتا لیکن ان قصوں سے ہندوستان کی تاریخ کے نیم افسانوی دور سے لاہور کے قریبی تعلق کی عکاسی ہوتی ہے۔ قدیم سکوں پر ہونے والی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور میمندی اور اس کے جانشینوں کی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ اس کے بعد سکائتھ خاندان نے شہر پر قبضہ کرلیا اور آخر کار یہ شہر ساسانیوں کے ہاتھ میں چلا گیا جو چوتھی سے ساتویں صدی عیسوی کے درمیان لاہور پر حکومت کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سکائتھ خاندان کا کینکیس  جو پر نسپ کی تحقیق کے مطابق 100 عیسوی کے لگ بھگ حکمران تھا  میواڑ کا کینکسین یاکشمیر کا کنشکا ہو‘ ان دونوں صورتوں میں لاہور سکائتھ خاندان کا پایہ تخت رہا ہے۔ راجپوتوں کی بعض روایات سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لاہور کے بانیوں کا تعلق راجپوت نسل سے تھا اور لاہور ہندوستان کے مغرب میں واقع راجپوتوں کی مختلف ریاستوں کا دارالحکومت تھا۔ ہندوستان کی ابتدائی تاریخ سے بھی اس مفروضے کی توثیق ہوتی ہے کہ ساتویں اور دسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے حملوں سے پہلے لاہور ہندوﺅں کا اہم مرکز تھا جسے دوسری ریاستوں پر بالادستی حاصل تھی۔

لاہور کا نام:
لاہور (جو بلا شبہ اس کے افسانوی بانی راما کے بھائی کے نام سے منسوب ہے) صرف پنجاب کا دارالحکومت ہی نہیں بلکہ قدیم راجپوتوں کی نو آبادی افغانستان میں بھی لاہور موجود ہے۔ ایک اور لاہور ضلع پشاور میں ہے۔ تیسرا لاہور خاص ہندوستان میں ہے۔ راجپوتانے کی ریاست میواڑ میں لوہار ہے۔ مسلمان مورخوں نے لاہور کے مختلف نام لکھے ہیں جن میں لوہار لوہر  لہاور  لہ آور لوہاور  لہانور اور لاہور شامل ہیں۔ راجپوتانے کی تاریخ میں اسے لوہ کوٹ اور دیش وی بھاگا میں لوپور کے نام سے موسوم کیا گیا ہے(اردو ادب کے نامور ربانی امیر خسرو دہلوی نے تیرہویں صدی کے آخر میں لکھا ہے۔)

از حد سمانی تالہانور
ہیچ عمارت نیست مگردر قصور
لاہور کے قریب بہلول خان لودھی کے دور میں تعمیر کیے جانے والے ایک مقبرے پر لاہور کا نام لاھانور لکھا گیا ہے۔ دکنی زبان میں نگر کو اب بھی نور کہا جاتا ہے۔ جیسے کلانور اور کنانور وغیرہ۔ راہور کا نام غالباً مسلمانوں نے رکھا ہے جو اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ پٹھانوں اور مغلوں کے دور میں لاہور آگرے سے آنے والی عظیم جرنیلی سڑک پر واقع ہے۔ 1809ءکے سالانہ رجسٹر میں ایک گمنام مورخ نے لکھا ہے کہ (اسے لاہور میں یہ بتایا گیا ہے کہ لاہور کا قدیم نام اللہ نور تھا) ان میں لہ آور سب سے قدیم نام ہے اور بظاہر صحیح نام بھی یہی ہے۔ شہنشاہ محمود غزنوی کے ہم عصر اور ساتھی ابوریحان البیرونی نے‘ جسے ہندی ادب میں سند کا درجہ حاصل ہے‘ لاہور کا نام لہ آور ہی لکھا ہے۔ آور کی تشبیہ سنسکرت کے لفظ آورانا سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے ”قلعہ“ یا ”حصار“۔ راجپوتوں کے کئی شہروں مثلاً پشاور راجاور (جسے عام طورپر راجور کہتے ہیں) اور سوناور میں بھی آور کی تشبیہ شامل کی گئی ہے۔ اس طرح لوہاور کا مطلب ہے لوہ کا قلعہ۔ راجپوتانے کا شہر لوہ کوٹ بھی لہ آور سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

بنیادکی تاریخ:
لاہور شہر کے سنگ بنیاد رکھنے کی صحیح تاریخ کا تعین کرنا ممکن نہیں البتہ درج ذیل واقعات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس شہر کو کس دور میں عروج حاصل ہوا تھا۔ اس سے پہلے یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اس شہر کی بنیاد ساتویں صدی کے آخر میں رکھی گئی اور اسے ایک عظیم سلطنت کا پایہ تخت قرار دیا گیا۔ دوسری طرف اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پہلی صدی عیسوی میں اس شہر کا وجود ناپید تھا۔ یونانی مورخوں نے مشرق میں سکندر اعظم کی مہم جوئی کے سلسلے میں اس شہر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔برنیز نے سنگالہ نامی شہر کا ذکر کیا ہے جو اس کیتھری کا مضبوط قلعہ تھا جس نے لاہور اور اس کے گردو نواح کا علاقہ تسخیر کرلیا تھا۔اس نے لکھا ہے کہ سنگالہ شہر راوی سے تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سکندر اعظم نے لاہور کے قریب راوی کوپار کیا تھا۔ اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ جگہ جدید لاہور شہر ہی تھی تاہم اگر اس زمانے میں لاہور مشہور شہر ہوتا تو اس کا تذکرہ ضرور کیا جاتا۔ اس سے اگلے زمانے میں بھی لاہور کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ سٹر یبو نے بھی جس نے 66 قبل مسیح اور 24 عیسوی کے درمیان تاریخ لکھی ہے لاہور شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ پلسینی نے 22ءاور 79ءکے درمیان دریائے سندھ اور آلہ آباد کے درمیان واقع شاہی سڑک کی جو تفصیل لکھی ہے اس میں لاہور کا کوئی ذکر نہیں۔ گو لاہور منادر اور سکا ئتھ خاندانوں کا پایہ تخت رہا ہے لیکن لاہور سے انڈو بیکٹیرین یا انڈوسکائتھ دور کے کوئی سکے برآمد نہیں ہوئے۔ سو ہم پورے وثوق کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ لاہور کی بنیاد پہلی سے ساتویں صدی عیسوی کی درمیانی مدت میں رکھی گئی تھی۔
اسکندریہ میں 150 عیسوی میں تیار ہونے والے جغرافئے میں لبوکلا نامی شہر کا ذکر موجود ہے جو کسپیریا(کشمیر؟) کے اس علاقے میں دریائے سندھ اور پلیبوتھرا کے درمیان واقع تھا جس میں بداسیتز(جہلم) سندا بال (چندرا بھاگا یا چناب) اور آدریز(راوی) بہتے تھے۔ دلفورڈ نے اس جگہ کے نام اور مقام کے بارے میں تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ یہ شہر لاہور تھا۔ میجر جنرل کننگھم نے حال ہی میں لاہور سے 25 میل دور ایک تباہ شدہ شہر امپاکپی کا سراغ لگایا ہے۔ ٹاڈ کی تحقیق کے مطابق جس وقت اسکندریہ میں پٹولمی کا جغرافیہ لکھا گیا اس وقت لاہور کو ایک اہم شہر کی حیثیت حاصل تھی۔ ٹاڈ نے مزید لکھا ہے کہ شہزادہ کینکسین نے دوسری صدی عیسوی کے وسط میں لاہور سے ہجرت کی تھی۔ ان تمام روائتوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لاہور کی بنیاد پہلی صدی کے آخریا دوسری صدی کے شروع میں رکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد ریاستیں، کشمیر (۲)

لاہور  مسلمانوں کے حملے سے پہلے:
اس مفروضے سے قطع نظر کہ راجپوتوں نے لاہور کی بنیاد رکھی تھی‘ مسلمانوں کے حملے سے پہلے اس شہر کی موجودگی کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔ 203 عیسوی میں رومن سلطنت میں سیاحوں کے لیے جو قابل قدر ہدایت نامہ تیار کیا گیا اس میں تہورا نامی شہر کا ذکر موجود ہے جو دریائے سندھ سے گنگا کے راستے پر واقع تھا۔ یہ شہر ٹھیک اسی جگہ موجود تھا جہاں اب لاہور آباد ہے۔ اس ہدایت نامے میں سپتورا نامی شہر کا بھی تذکرہ موجود ہے جو دریائے چناب پر واقع تھا۔ سابق میجر جنرل کننگھم کا کہنا ہے کہ یہ لاہور شہر تھا تاہم دلفورڈ اسے تہارا قرار دیتے ہیں جو ستلج پر قدیم شہر تھا اور جس کا ذکر مہا بھارت میں کیا گیا ہے۔ فکری نقطہ نظر سے آخرالذکر کی تحقیق درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ یونانی یا لاطینی زبانوں میں سنسکرت کے لفظ اے کو اوپکارا جاتا ہے۔ جنرل کننگھم کے مطابق چین کے سیاح وان سانگ نے‘ جو 630 عیسوی میں پنجاب آیا  اپنی یادداشتوں میں لاہور کا مبہم تذکرہ کیا ہے۔ چینی سیاح کے مطابق پنجاب میں ایک ایسا شہر آباد تھا جس میں ہزاروں خاندان رہتے تھے جو زیادہ تر برہمن تھے۔ یہ شہر دریائے سندھ سے بیاس تک محیط چیکا سلطنت کی مشرقی سرحدوں پر واقع تھا۔ وہ اس شہر سے مشرق کی جانب سفر کرتا ہوا پہلے چینا پتی اور پھر جالندھرا یا جدید جالندھر شہر پہنچا۔ جالندھر لاہور کے مشرق میں واقع ہے اور دونوں شہروں کے درمیان آج بھی پتی نامی گاﺅں موجود ہے۔ ان شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ چینی سیاح نے جس شہر کا ذکر کیا ہے وہ لاہور ہی تھا۔

غالب امکان یہ ہے کہ مشرقی ریاستوں کی طرح لاہور کے حکمران بھی تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ لاہور کے ابتدائی راجپوت شہزادوں کا تعلق بھی اجودھیا سے ہو جو گجرات اور میواڑ پر حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد اقتدار سولنکی اور بھاٹی راجپوت قبیلوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ جب مسلمان پہلے پہل لاہور میں وارد ہوئے‘ اس وقت اجمیر کا ایک چوہان شہزادہ یہاں کا حکمران تھا لیکن دسویں صدی میں مسلمانوں کے حملے کے وقت لاہور کے ایک برہمن خاندان کی حکومت قائم تھی۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ محمود غزنوی کے قبضے سے پہلے لاہور ایک تباہ حال شہر تھا۔ اس کی وجہ حکمرانوں کی تبدیلی ہے۔ افغانستان سے ہندوستان آنے والی سڑک پر واقع ہونے کے باعث اس شہر کو بار بار شکست و ریخت اور بیرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مسلمان مورخ فرشتہ نے لاہور شہر اور صوبہ لاہور کو آپس میں خلط ملط کردیا ہے۔ مرتضیٰ حسین کی حدیقتہ الاقلیم میں بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے حملے سے پہلے پایہ تخت کو لاہور سے سیالکوٹ یا سلہوان پور منتقل کردیا گیا تھا لیکن غزنوی بادشاہ مسعود ثانینے لاہور کو دوبارہ دارالحکومت قرار دے دیا۔ بھاٹیوں کی اس روایت سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ لاہور کے حکمران تھے تو ان کا دارالسلطنت سلہوان پور تھا۔ البیرونی نے اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر لکھا ہے کہ محمود غزنوی کے حملے کے وقت لاہور شہر نہیں ایک علاقہ تھا جس کا دارالحکومت مادھو کور تھا۔ عربی زبان میں ایچ اور این اور آر اور ٹی میں مشابہت کی بناپر یہ مقام منکوٹ یا مندھ کوٹ ہے جو سیالکوٹ کے قریب واقع ہے۔ اس مفروضے کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ شیر شاہ‘ جسے نام نہاد غاصب کہا جاتا ہے لیکن اصل میں وہ مغلوں یا غیر ملکیوں کے مخالف دھڑے کا نمائندہ تھا‘ اپنے پایہ تخت کو لاہور سے اسی مقام پر منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا تھا جو آخری مقامی حکمران خاندان کا دارالسلطنت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نامور عرب جغرافیہ دان مسعودی نے‘ جس نے دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان کے بارے میںیادداشتیں قلمبند کیں اور جو خود چند روز تک ملتان میں قیام پذیر رہا (جو جدید لاہور سے تقریباً دو سو میل کے فاصلے پر ہے) لاہور کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

مسلمانوں کے حملے سے پہلے کے لاہور کے بارے میں اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس کا احوال ہم نے یکجا کردیا ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے۔ لاہور شہر کو جس کا سابق نام لوہاور ہے‘ راجپوتوں نے پہلی اور ساتویں صدی عیسوی میں آبادکیا۔ یہ شہر جلد ہی اہمیت حاصل کر گیا اور اسے دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔ بعد میں یہ شہر اجڑ گیا اور پایہ تخت کو سیالکوٹ منتقل کردیا گیا اور گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے حملے تک سیالکوٹ دارالسلطنت رہا۔ فاتح محمود غزنوی نے تباہ حال لاہور کو دوبارہ اپنا صدر مقام قرار دے دیا اور راجپوتوں کے قدیم کھنڈرات پر نئی دہلی کے پرانے قلعے کی طرز پر لاہور میں قلعہ تعمیر کرایا۔

لاہور جیسا کہ تھا:
جدید لاہور حجم اور آبادی کے لحاظ سے لکھنو  دہلی اور آگرے بلکہ امرتسر سے بھی چھوٹا شہر ہے۔ اس کا رقبہ تین میل پر محیط اور گزشتہ مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 97 ہزار ہے۔ اس کی گلیاں تنگ و تاریک اور ماسوائے شمالی حصے کے‘ اس کا بیرونی منظر نہ تو دلکش ہے اور نہ ہی خوبصورت۔ البتہ شہر کے اندر داخل ہونے سے پہلا تاثر زائل ہوجاتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ اندرونی شہر اپنے دامن میں بے پناہ رنگینیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ شہر کے گردونواح میں پائے جانے والے کھنڈرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرانے زمانے میں اس کا رقبہ اور آبادی آج سے کہیں زیادہ تھی۔ شہر کی فصیلوں سے شالا مار  میاں میر اور اچھرے تک کا نصف قطر تین چار میل پر محیط ہے۔ شہر کے گردا گرد زمین مسجدوں  مقبروں  محرابی دروازوں اور آرائشی محرابوں کے ملبے سے اٹی پڑی ہے۔ شہر کی عظمت رفتہ کا اندازہ اس حقیت سے لگایا جاسکتا ہے کہ پرانے زمانے میں یہ شہر 36 حصوں میں منقسم تھا جن میں اب صرف نو حصے باقی رہ گئے ہیں۔ جہاں موجودہ شہر ایستادہ ہے۔ بادشاہی مسجد یا مسجد وزیر خان کے کسی مینارے پر کھڑے ہو کر ارد گرد نظر ڈالیں تو ہر طرف تباہی اور بربادی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لاہور کا اصل آباد حصہ موجودہ حدوں سے کبھی متجاوز نہیں ہوا اور شہر کے نواح میں جو ملبہ بکھرا ہوا ہے وہ مسمار شدہ مقبروں اور باغ کی دیواروں کا ہے لیکن یہ مفروضہ درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ بعض مقامی اور یورپی عینی شاہدوں کے مطابق‘ جن میں برنیئر ٹیور نیئر اور تھیوناٹ شامل ہیں‘ گنجان آباد شہر کے نواح میںواقع نجی رہائش گاہوں میں کھودے گئے چھوٹے چھوٹے کنوﺅں کے آثار اور امرتسر جانے والی شاہراہ کے دائیں طرف مسلمانوں کے سالانہ تہوار کے مقام عید گاہ کی تباہ شدہ مسجد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمارتیں شہر کے اردگرد تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ جس وقت عید گاہ کی مسجد تعمیر ہوئی اس وقت لاہور کے نواح میں کئی آبادیاں موجود تھیں۔ اب شہر اس مقام سے تین میل کے فاصلے پر ہے اورمسلمانوں نے اس عید گاہ میں نماز ادا کرنا بند کردیا ہے۔ اکبری عہد کے ایک مسلمان مصنف نے لاہور کی بعض ایسی بستیوں کے نام گنوائے ہیں جو اب صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ لیکن اکبر کے زمانے میں یہ علاقے گنجان آباد تھے۔آخر میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کابل تبریز اور اصفہان سمیت کئی مشرقی شہروں کے نواح میں فصیل سے باہر آبادیاں موجود ہوتی تھیں جنہیں شہر کا اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ جہان کے دور میں‘ جب لاہور کے باشندے خوشحال اور متمول تھے‘ لاہور شہر 16 یا 17 میل کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ شہر کی فصیل سے باہر جو آبادیاں موجود تھیں وہ بازاروں کے ذریعے اصل شہر سے ملی ہوئی تھیں اور ان کے درمیان مقبرے ‘باغات اور مساجد تعمیر کی گئی تھیں جن کے آثار آج بھی وہاں موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ قدیم لاہور کا موتی محل یا ریجنٹ سٹریٹ موجودہ سول سٹیشن کے نواح میں واقع تھا۔ اب بھی شدید بارشوں کے موسم میں وہاں سے پرانے سکے اور زیورات برآمد ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ملکہ خیر النساء (گاماں بی بی)کی ذہانت

لاہور شہر کی شان و شوکت کا تعین کرنا اس کے حدود متعین کرنے سے کہیں مشکل کام ہے۔ انگریزوں کے حکومت سنبھالنے سے 120 سال پہلے اس شہر نے تباہی اور بربادی کے علاوہ طوائف الملوکی کے جو مناظر پیش کیے وہ دنیا کے شاید ہی کسی اور شہر میں رونما ہوئے ہوں۔ احمد شاہ ابدالی نے آٹھ مرتبہ لاہور کے راستے ہندوستان پر لشکر کشی کی۔ مرہٹوں اور سکھوں نے غارت گری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جس کے نتیجے میںیہاں کی بیشتر عمارتوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ہمارے قبضے میں موجود دستاویزات اور ہندوﺅں اور پٹھانوں کے ادوار کے آثار سے پتا چلتا ہے کہ مغلوں سے پہلے شہر میں تعمیراتی حسن ناپید تھا۔ یہ مغل ہی تھے جنہوں نے اعلیٰ تعمیراتی ذوق کو بروئے کار لا کر شہر میں مقبرے ¾ باغات‘ محل‘ مساجد‘ محرابی دروازے اور آرائشی محرابیں تعمیر کرائیں اور چمکدار ٹائیلوں کے استعمال اور تصویر کشی کے فن کو جلا بخشی اور اسلامی فن تعمیر کو نئے خطوط پر استوار کر کے اسے نئی ر فعتوں سے ہمکنار کیا۔ گو سرکاری عمارتوں کے اعتبار سے لاہور کبھی دہلی کا ہم پلہ نہیں رہا اس کے باوجود یہاں کی نجی عمارتوں سے دولت کی فراوانی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ  جہانگیر اور اس کے جانشین شاہ جہاں کے محلات  مسجد وزیر خان  موتی مسجد شالا مار باغ اور عالمگیر کی بادشاہی مسجد یہ وہ نادر عمارتیں ہیں جو دنیا بھر میں فن تعمیر کے بینظیر نمونے ہیں۔ شہر کے شمال مشرق میں واقع اورنگ زیب کی مسجد  سفید سنگ مر مر سے تعمیر کیے گئے گنبد اور فلک بوس مینار  رنجیت سنگھ کی سمادھی‘ اس کی پیچ و خم والی چھت اور شاندار بالکونیاں جو نصف اسلامی اور نصف ہندو طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں  ان کے سامنے مغلوں کے شاہی محلات اور وسیع و عریض میدان  ان سب عمارتوں کی بدولت لاہور شہنشاہوں کا شہر دکھائی دیتا ہے۔ سکھوں کے ہاتھوں خستہ حال اور انگریزوں کی طر ف سے ان میں اضافوں کے پس منظر میں دریائے راوی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نہایت دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔ حد نظر تک پھیلے ہوئے فن عمارت کے یہ انمول خزانے انسان کو مبہوت کردیتے ہیں۔ کثرت سے لگائے جانے والے باغات‘ منقش دروازے اور بارہ دریاں عجب بہار کا منظر پیش کرتی ہیں۔ یہ سب خوبیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ لاہور کسی زمانے میں واقعی ایک عظیم الشان شہر تھا۔

ہندو عہد کا لاہور:
لاہور میں ہندو طرز تعمیر کے کوئی آثار موجود نہیں۔ نہ ہی یہاں ہندوﺅں کی عمارتوں میں استعمال ہونے والے پتھر اور دوسرا عمارتی سامان پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً بیرونی حملے ہیں جن میں یہ عمارتیں نیست و نابود ہوگئیں۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ شمالی ہندوستان کے ہندوﺅںمیں مندر یا تاریخی عمارتیں تعمیر کرنے کا ذوق نہیں تھا۔ دہلی میں بھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے ایک ہزار سال پہلے اور ظہور سے ایک ہزار سال بعد تک ہندوﺅں کا پایہ تخت رہا ہے اور جہاں پتھربکثرت پائے جاتے ہیں دسویں یا گیارہ صدی عیسوی تک ہندوﺅں نے تاریخی اہمیت کی کوئی عمارت نہیں بنوائی۔ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ ہندو عہد کا لاہور اس جگہ پر آباد نہیں تھا جہاں آج شہر موجود ہے۔ قدیم روایات سے پتا چلتا ہے کہ ہندوﺅں کا لاہور اچھرہ گاﺅں کے نواح میں واقع تھا جو موجودہ شہر کے مغرب میں تین میل دور ہے۔ اس گاﺅں کا قدیم نام اچھرہ لاہور تھا۔ یہ نام اب بھی موجود ہے۔ پرانی دستاویزات  ہنڈیوں اور لاہور کے خزانے کی شرح تبادلہ میں یہی نام مرقوم ہے۔ اس کے علاوہ ہندوﺅں کے قدیم ترین اور مقدس مقامات بھی اچھرے میں ہی واقع ہیں جیسے بھیرو کا ستھان۔ جس طرح کشمیری دروازہ کشمیر کی جانب اور دہلی دروازہ دہلی کے رخ پر واقع ہے ٹھیک اسی طرح لوہاری گیٹ بھی لوہاور کے نام سے منسوب ہے جو قدیم لاہور کا نام تھا۔

پٹھانوں کے عہد کا لاہور:
لاہور میں نہ صرف ہندوﺅں کی تعمیر کردہ کوئی تاریخی عمارت موجود نہیں بلکہ شہر کے وسط میں واقع دو چھوٹی مسجدوں نمی والا مسجد اور شیرانوالی مسجد اور ایک یا دو مقبروں کے سوا ہمایوں کے دور تک کوئی قابل ذکر عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ اس حقیقت اور قدیم مورخوں کی اس بارے میں خاموشی سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ پٹھانوں کے دور میں گو لاہور کو خصوصی اہمیت حاصل تھی لیکن یہاں دیدہ زیب عمارتوں کا مکمل فقدان تھا۔ امیر خسرو نے جو تیرہویں صدی عیسوی میں یہاں وارد ہوئے‘ لاہور اور اس کے نواحی شہر قصور کا سرسری تذکرہ کیا ہے۔ ابن بطوطہ نے چودھویں صدی عیسوی کے وسط میں ملتان سے دہلی کا سفر کیا لیکن لاہور آنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ امیر تیمور نے خود یہاں آنے کے بجائے اپنے ایک نائب کو لاہور میں لوٹ مار کا فریضہ سونپ دیا۔ شہنشاہ بابر کو قابل دید مقامات دیکھنے کا شوق تھا۔ اس نے اپنی یادداشتوں میں کابل  سمر قند اور دہلی کے نوادرات کا تذکرہ کیا ہے لیکن لاہور کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ہفت اقلیم کے مصنف امین احمد رازی نے 1624ءمیں لکھا ہے کہ اکبر کے عہد تک لاہور صرف چند جھونپڑوں اور شکستہحال مکانوں پر مشتمل تھا۔

فن تعمیر کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو لاہور بنیادی طور پر مغلوں اور ان کے بعد آنے والے مسلمان حکمرانوں کا شہر ہے البتہ ریلوے سٹیشن کے قریب شاہ موسیٰ کا مزار پٹھانوں نے تعمیر کرایا ہے۔ قلعے کے مشرقی دروازے پر تعمیر کی جانے والی مریم مکانی یا مریم زمانی کی مسجد بھی پٹھانوں اور مغلوں کے مشترکہ فن تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ لاہور کے تین مقامات روایتی طورپر غزنوی دور سے وابستہ ہیں اور انہیں بڑی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان میں ملک ایاز کے مقبرے کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ اس نے لاہور کا قلعہ اور دیواریں معجزانہ طورپر ایک ہی رات میں تعمیر کرادی تھیں۔ اس کے علاوہ مسجد وزیر خان کے ایک گوشے میں سید اسحاق کا مقبرہ اور داتا گنج بخش ؒ کا مزار مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے‘ جو محمود غزنوی کی فاتح فوج کے ہمراہ لاہور تشریف لائے اور طویل زندگی کے بعد لاہور ہی میں فوت ہوئے‘ نے رشد و ہدایت کے سلسلے میں گرانقدر خدمات انجام دیں لیکن افسوس انہیں رابرٹ ویس جیسا سوانح نگار دستیاب نہ ہوا۔داتا گنج بخشؒ نے ”کشف المحجوب“ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے لیکن اس میں انہوں نے اپنے عہد کی تاریخ کا ایک بھی واقعہ قلمبند نہیں کیا۔

مغلوں نے بالائی ہندوستان کے بڑے شہروں میں تعمیرات کے حوالے سے تین اہم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انہوں نے فن تعمیر کا نیا اسلوب متعارف کرایاجو زیادہ محنت طلب اور پر شکوہ تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مغلوں کو فطری مناظر سے گہری دلچسپی تھی جو ان کے کردار کا نمایاں پہلو ہے۔ انہوں نے بے مثال فواروں  برگ و بار اور نقرئی آبشاروں سے مزین جو نفیس باغات تعمیر کرائے‘ مشرق کا سفر کرنے والے ہر سیاح نے ان کی دل کھول کر تحسین کی ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہندی زبان میں باغ کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں۔ باغ یا چمن کے الفاظ فارسی اور روضہ کا لفظ عربی ہے) بابر کو جو‘اُش اور اندے جان کے بہتے ہوئے جھرنوں سے بھری وادیوں اور سبزہ زاروں سے آیا تھا‘ پنجاب کے چٹیل میدانوں کو دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی چنانچہ اس نے اپنی یادداشتوں میں ہندوستان کے شہروں کی بدصورتی کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔” یہاں ایسا کوئی باغ نہیں جس کے چاروں طرف دیواریں بنی ہوں۔ نہ ہی مصنوعی آبشاریں بنائی گئی ہیں۔“ یہی وجہ ہے کہ اس نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر آگرہ میں ایک شاندار باغ تعمیر کرادیا۔ بابر نے آگے چل کر لکھا ہے”ہندوستان کے باشندوں نے اس سے پہلے ایسی خوبصورت عمارت کبھی نہیں دیکھی تھی چنانچہ انہوں نے جمنا کے کنارے تعمیر کرائے جانے والے محلات کو کابل کے نام سے پکارنا شروع کردیا ہے“ ان تاتاری النسل شہنشاہوں نے ہندوستان میں فطرت سے دل بستگی کے ہزاروں سامان پیدا کیے اور قدرتی مناظر سے والہانہ لگاﺅ کی بنا پر باغات میں گھرے مقبرے تعمیر کرائے جو ہر مغل شہر کا طرئہ امتیاز ہے۔

اپنے مقبرے خود تعمیر کرنے کی روایت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ ترک فرمانرواﺅں کو اپنے جانشینو ںپر اعتماد نہیں تھا۔ مشرق کے مطلق العنان حکمران غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے اپنی دولت کی تقسیم کے اندیشے کے پیش نظر اسے اپنی اولاد میں منتقل کرنے میں تذبذب سے کام لیتے تھے۔ امراءذاتی مراعات یا خوردبرد کے ذریعے دولت جمع کرتے اور ان کے مرنے کے ساتھ ہی اس دولت کا خاتمہ ہوجاتا اس طرح یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اپنی زندگی میں کامیاب ترین شخص مرنے کے بعد موزوں یادگار کے لیے اس قدرکیوں بیتاب ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے ہر تاتاری حکمران اپنی دولت کے برباد ہونے سے پہلے اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑنے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتا۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہورآخری مغل تاجداروں اور سکھوں کے دور میں

مغلیہ دور کی باقیات :
لاہور کو اپنے بے شمار باغات مقبروں اور منقش محرابی دروازوں کی بدولت ایک بیمثال ہند مغل شہر کا درجہ حاصل تھا اور گو وقت کے بے رحم ہاتھوں سے اس شہر کو کئی مرتبہ تباہی اور بربادی کا سامنا کرناپڑا ہے اس کے باوجود فن تعمیر کے نادر روز گار نمونے اب بھی یہاں موجود ہیں۔ قلعے کو جانے والے بلند و بالا محرابی دروازے اکبر کے مخصوص انداز جبکہ دوسری یادگار عمارتیں اس کے جانشینوں کے حسن ذوق کی ترجمانی کرتی ہیں۔ قلعے کے ایک گوشے میں منقش محرابوں اور سرخ پتھر کے ستونوں سے مزین جہانگیر کی خواب گاہ ہندو مسلم فن تعمیر کا لاجواب نمونہ ہے جو اکبری عہد کا خاصہ ہے۔

جہانگیر کی خوابگاہ کے تین اطراف برابر فاصلے پر ایک قطار میں سرخ پتھر کے ستون تعمیر کیے گئے ہیں(اسے عام طورپر موتی مندر کہا جاتا ہے) دیواروں پر موروں‘ ہاتھیوں اور گھوڑوں کی رنگین تصویریں بنائی گئی ہیں۔ خوابگاہ کی چوتھی جانب واقع گنبد سے راوی نظر آتا ہے۔ برآمدوں کے ستونوں پر ہندو طرز کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ ایک طرف باغ اور اس کے درمیان سنگ مرمر کا چبوترہ ہے۔ گرمی کی تپش سے بچنے کے لیے خواب گاہ کے نیچے زیرزمین خلوت گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ سکھوں اور یورپی باشندوں نے اس نادرالوجود عمارت کا حسن برباد کردیا ہے۔ گنبد دار عمارت کو میس روم میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ستونوں کے اندر دیواریں کھڑی کر کے وہاں رہائشی کوارٹر بنالیے گئے ہیں۔ البتہ دو خلوت گاہیں زمانے کی چیرہ دستیوں سے اب بھی محفوظ ہیں جو اکبری دور کے ہندو مسلم سٹائل کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
شاہدرہ میں جہانگیر کا مقبرہ  شہر کے جنوبی علاقے میں مسجد وزیر خان  قلعے میں موتی مسجد  تخت شاہی اور سنگ مر مر کی گنبد دار عمارت  آصف خان کا مقبرہ  شالا مار باغ  گلابی باغ  زیب النساءکا محرابی دروازہ اور اورنگزیب عالمگیر کی بادشاہی مسجد  یہ سب عمارتیں ہندو مغل طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہیں جس میں خمدار گنبد‘ جھکی ہوئی محرابیں‘ سنگ مر مر کے جھروکے اور نہایت عرق ریزی سے تیار کی گئی منقش دیواریں شامل ہیں جو فنی اعتبار سے دہلی‘ آگرے اور فتح پو رسیکری کی عمارتوں سے کسی طور کمتر نہیں البتہ لاہور کی عمارتوں کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی بیرونی آرائش کے لیے چمکدار رنگین ٹائلیں نہایت کاریگری کے ساتھ استعمال کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے دور کے معمار پتھروں کی نایابی کے باعث سنگ تراشی کے فن سے نا آشنا تھے جس کی وجہ سے ان کی تیار کردہ عمارتوں میں ذوق لطیف کا فقدان پایا جاتا تھا۔

کاشی کا کام:
آرائش کے اس فن کو مقامی زبان میں کاشی کاری کہا جاتا ہے۔ اس وقت تک یہ فن صرف سلطنت فارس میں موجود تھا۔ بابر نے سولہویں صدی عیسوی میں سمر قند کی ایک مسجد کا تذکرہ نہایت تعجب کے ساتھ ان الفاظ میں کیا ہے”مسجد کی عمارت چینی ٹائیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی “غالب امکان یہ ہے کہ مغل منقش ٹائلیں تیار کرنے کا فن چین سے فارس کے راستے ہندوستان کے اس حصے میں لائے تھے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ امیر تیمور کی ایک بیوی چین کی تھی جس کے اثرو رسوخ کی وجہ سے اسے یہ فن حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔ فرگوسن کے مطابق نقش و نگار سے مزین پہلی مسجد تیرہویں صدی کے آخر یا چودہویں صدی کے اوائل میں فارس پر مغلوں کی لشکر کشی کے فوراً بعد تبریز میں تعمیر کی گئی۔ اس کے بعد دوسری عمارت سلطانیہ میں محمد خدا بنداں کا مقبرہ ہے جو اس کے جانشین اور تبریز کی مسجد کے معمار غازان خان نے تعمیر کرایا تھا۔ اس وقت کے بعد پورے فارس میں چمکدار ٹائلیں استعمال ہونے لگیں البتہ ہندوستان میں یہ فن دو صدیوں کے بعد پہنچا۔

لاہور میں پہلے پہل اس فن کو شاہ موسیٰ کے مقبرے کی تعمیر کے وقت بروئے کار لایا گیا جو اکبری دور میں بنایا گیا تھا۔ اس قدیم عمارت کے رنگ جاذب نظر اور چمکدار ہیں۔ شاہ جہان کے زمانے میں اس فن کو عروج حاصل ہوا اور اسے ڈیزائن تیار کرنے کے لیے نئے طریقے کے ساتھ متعارف کرایا گیا اور اس مقصد کے لیے خاص قسم کا سیمنٹ تیار کیا گیا۔یہ ایک سستا طریقہ تھا اور کم لاگت کی بنا پر اسے بے حد پذیرائی ملی اور یوں کاشی کاری کا فن ایک نئی جہت میں فروغ پانے لگا۔ اس دور میں تعمیر ہونے والی شاید ہی ایسی کوئی مسجد  مقبرہ یا دروازہ ایسا ہوگا جس پر اس طرز کی ٹائلیں نہ لگی ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ شاہ جہان کے بعد اس فن نے دم توڑ دیا اور پنجاب میں اب اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ لاہور اور ملتان میں اب بھی رنگین ٹائلیں تیار ہوتی ہیں لیکن ان کا رنگ بہت مدھم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پلستر پر رنگین ڈیزائن سے کاشی کاری کا فن بھی نا پید ہوگیا ہے۔

کاشی کاری کا بہترین نمونہ مسجد وزیر خان میں نظر آتا ہے یہ مسجد چنیوٹ کے حکیم علی الدین وزیر خان نے 1634ءمیں تعمیر کرائی۔ وزیر خان گو پیدائشی طورپر پنجابی تھا لیکن روشن خیال شاہ جہان کے دور میں اسے لاہور کا گورنر اور شاہی طبیب مقرر کیا گیا۔ اس نے اعلیٰ مناصب پر فائز ہونے پر اظہار تشکر کے لیے کثیر رقم خرچ کر کے ایک قدیم غزنوی بزرگ کے خستہ حال مزار پر رفیع الشان مسجد تعمیر کرائی جو اس کے نام سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مسجد پر کاشی کاری چین سے منگوائے گئے کاریگروں سے کرائی گئی تھی۔ عہد حاضر کے ایک مورخ سوجان سنگھ نے اس مسجد کو لاہور شہر کے رخسار پر خوبصورت تل سے تشبیہ دی ہے ۔حکومت پنجاب کے کیمیکل ایگزامینر ڈاکٹر سنیٹر نے کاشی کاری کے کام کا بڑی عرق ریزی سے تجزیہ کرنے کے بعد درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں۔

”بنیادی طور پر یہ شیشے کی ایک تہہ ہوتی ہے جو سخت قسم کے پلاسٹر پر چڑھائی جاتی ہے۔ شیشے کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عام سلیکیٹ سے تیار کرلیا جاتا ہے جس پر اوکسائیڈ سے رنگ کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے پلاسٹر چونے کے پتھر اور سلیکا سینڈ کو حررات دے کر تیار کیاجاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گوتم بدھ کا ایک پرانا مجسمہ بھی انہی اشیا کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔ میں نے لاہور میں اس فن کے ایک بوڑھے ماہر کو تجربہ گاہ میں کام کرتے دیکھا ہے تاہم اس کی تیار کردہ اشیاءمعیاری نہ تھیں۔ پلاسٹر پرچمک لانے کے لیے پالش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس شخص نے اس کی بیرونی سطح کو پتھر کی مانند سخت بنادیا تھا۔ اس فن کا سب سے اعلیٰ نمونہ مسجد وزیر خانے میں پیش کیا گیا ہے جہاں چمک کا معیار نہایت عمدہ ہے البتہ ٹائیلوں کا پلاسٹر آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی جگہوں سے ٹائلیںٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔ کاشی کاری کا کام تین مرحلوں میں کیا جاتا ہے۔ پلاسٹرکو خمیر کہا جاتا ہے شیشے کو کانچ اور ان کے درمیان ڈالے جانے والے مٹیریل کو استر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں سلیکاسینڈ سٹون اور سوڈا کاربونیٹ کو پگھلایا جاتا ہے جس کے بعد اوکسائیڈز کے ذریعے شیشے کو رنگ کیا جاتا ہے۔ اجمیر میں پائی جانے والی بلیک سینڈ سے سیاہ سبز اور نیلا رنگ تیار ہوتا ہے۔ اس میں پتیل اور مقناطیسی لوہے کے اجزاءشامل ہوتے ہیں جو بھٹی میں پگھلانے سے اوکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ خمیر سلیکا سینڈ چونے کے پتھر اور پگھلے ہوئے شیشے سے تیار ہوتا ہے جس میں چاول کی پیچھ ڈال کر ایک پیسٹ تیار کرلی جاتی ہے اور بعد میں اسے مطلوبہ سائز کے مطابق کاٹ لیا جاتا ہے۔ استر کے لیے سیسے کا پتھر بڑی مقدار میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح ایک مائع آمیزہ تیار ہوجاتا ہے جسے پلاسٹر پر ڈال دیا جاتا ہے یہ محلول شیشے اور پلاسٹر کو باہم ملانے کا ذریعہ ہے۔ بعد میں اسے بھٹی پر چڑھا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ سطح پر موجود تمام شیشہ پگھل جاتا ہے۔“

اگرچہ یہ فن چین سے فارس کے راستے تیرہویں صدی عیسوی میں ہندوستان پہنچا لیکن دنیا کی بعض دوسری قوموں میں بھی زمانہ قدیم سے یہ فن مروج رہا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کاشی کا لفظ ہندی یا تاتاری زبان کا نہیں بلکہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربوں نے نویں صدی کے آخر میں یہ فن یورپ میں پہنچایا جہاں سے چودھویں صدی میں اطالوی قوم نے مجولیکا کے نام سے اس کے ذریعے مٹی کے برتن تیار کیے۔ اس طرح ہندوستان اور فارس نے اس فن کو تعمیرات میں استعمال کیا۔ یورپی اقوام اس فن کے ذریعے روز مرہ استعمال کی چیزیں تیار کرتی ہیں لیکن آج حالت یہ ہے کہ ہندوستان میں تو کاشی کاری ختم ہوچکی ہے لیکن یور پ اسے تیزی کے ساتھ ترقی دینے کے لیے کوشاں ہے۔