pigeon

آزاد فضا

EjazNews

مجھے نہیں معلوم کہ ہم وہاں کب سے رہ رہے تھے ۔ مگر جب میں نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو سرخ لکڑی سے بنے ہوئے اسی پنجرے میں پایا۔ وہاں ہمارا چھوٹا سا گھونسلا تھا جس میں میں اپنے دو بھائیو ں ،ابا اور اماں کے ساتھ رہتا تھا۔ ہمارا گھونسلا کافی محفوظ تھا۔ یہ لکڑی کے ایک تختے پر بنا ہوا تھا، اس کے اندر میرے بڑے بھائی نے سنہرے حروف والی تختی لگا رکھی تھی جس پر لکھا تھا : ’’گھر پیارا گھر‘‘ مگر ہمارے ابو کو اس تختی سے گویا چڑتھی وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔ قید خانہ ہے کبوتر کا گھر تو آزاد فضا ہے۔ جہاں وہ آزادی سے اڑتا رہتا ہے جب چاہے جہاں چاہے جائے۔

لیکن ہمیں تو آزاد فضا کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا۔ ہارے لئے تو یہ پنجرہ بھی آزاد فضا تھا۔ سر خ لکڑی کے اس پنجرے میں ہمارے گھونسلے کے علاوہ کئی اور چھوٹے چھوٹے گھونسلے بھی تھے جن میں کبوتر رہا کرتے تھے۔ کوئی بھورے رنگ کا تھا ، کوئی سفید رنگ کا اور کوئی سیاہ کسی کی آنکھ سبز تھی تو کسی کی سرخ۔ کوئی مڑی ہوئی چونچ والا تھا تو کوئی لمبی چونچ والا۔ ہمارے گھونسلے کے اوپر لکڑی کا ایک ڈبا لگا ہوا تھا۔ جس میں ایک نہایت موٹا تازہ سفید کبوتر رہتا تھا۔ اس کی ٹانگیں مڑی ہوئی تھیں اس لئے وہ چلنے میں ذرا پریشانی محسوس کرتا تھا۔ سب اسے دادا کبوتر کہتے تھے۔ ہم نے جب اڑنا سیکھا تو اکثر اسی کے گھرا میرا مطلب ہے اسی کے خانے میں جایا کرتے تھے۔

وہ ہمیں گزرے وقتوں کے قصے سناتا۔ اسی نے ہمیں بتایا تھا کہ ہمارے ابا اور وہ کسی اور زمانے میں گہرے دوست ہوا کرتے تھے پھر دادا نے یہ قصہ سنایا۔
’’ہم ایک سر سبز اور شاداب جنگل میں دوسرے کئی کبوتر وں کے ساتھ رہتے تھے اور صبح ہوتے ہی خوراک کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ۔ ہمیں آزاد فضا میں اڑنا بہت اچھا لگتا تھا۔حالانکہ اس میں شکاری پرندوں مثلاً عقاب اور باز وغیرہ کا ڈر ہوتا کہ نجانے کس سمت سے آدھمکیں مگر ہم نہایت بہادری کے ساتھ فضا میں اڑتے اور جنگل کے کئی چکر لگاتے۔
ایک دن جنگل میں بہت تیز بارش ہوئی۔ پورا جنگل پانی سے بھرگیا مگر وہ درخت پھر بھی محفوظ رہے جن پر ہمارے گھونسلے تھے ہم سیلا ب سے تو بچ گئے مگر دانے کا مسئلہ تو تھا۔ پھر بیس پچیس کبوتر نکل کھڑے ہوئے۔ ہم کافی دور نکل آئے ایک میدان میں ہمیں باجرے کے دانے زمین پر بکھرے نظر آئے۔ہم لوگ کافی تھک چکے تھے۔ چنانچہ خوراک دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے زمین پر اتر گئے۔ مگر وہاں تو شکاریوں نے جال بچھا رکھا تھا۔ ہم سب اس میں پھنس گئے اور بس اسی وقت سے یہاں قید ہیں۔ سچ پوچھو تو ہم یہاں بھی مزے میں ہیں۔ کھانے کو دانہ پینے کو پانی، رہنے کو یہ گھونسلے اور کیا چاہئے؟۔

بس اس بات پر دادا کبوتر اور ہمارے ابا میں اختلاف ہوگیا تھا۔ باقی سارے کبوتر خوش تھے مگر ابا کو یہ بات بہت بری لگتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ مفت کی کھا کھا کر ہم سب کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ جو مزہ آزاد فضا میں ہے وہ یہاں قید میں کہاں! اسی وجہ سے ابا اکثر کبوتروں کو جمع کر کے جوش سے تقریر کرتے۔ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے کہ ان کی منزل یہ چھوٹا سا پنجرہ نہیں ہے بلکہ وہ تو آزاد فضا کے پنچھی ہیں۔
ابا بڑے جوش سے کہتے :

یہ بھی پڑھیں:  سہیلیاں۔۔۔۔!

یہ صحیح ہے کہ ہمیں یہاں دانہ پانی ملتا ہے ، مگر جو مزہ اپنی کوشش اور جدوجہد سے دانہ پانی حاصل کرنے میں، گھونسلا بنانے میں ، اپنی مرضی سے جہاں دل چاہے جانے میں ہے وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔ ہمیں موقع ملتے ہی یہاں سے بھاگ جانا چاہئے۔ ہم غلامی کی زندگی نہیں گزاریں گے، کبھی نہیں۔
سارے کبوتر ابا کی تقریریں سن کر ادھر ادھر کھسک لیتے۔ ان میں سے کسی کو بھی آزادی کا مطلب معلوم نہیں تھا وہ تو یہی سمجھتے تھے کہ اچھی زندگی یہی ہے۔
پنجرے میں صبح ہوتے ہی دانہ پانی پر جھگڑا شروع ہو جاتا۔ برتن صرف دو تھے۔ ایک دانے کا اور دوسرا پانی کا جبکہ کبوتر کافی تھے ۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ وہ پہلے دانہ کھائے چنانچہ جھگڑا لو کبوتروں کو اس جنگ میں کامیابی ہوتی اور ہم جیسے کبوتروں کو بچا کھچا ہی مل پاتا دن بھر پنجرے میں شور شرابا رہتا۔ کہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا ہو رہا ہوتا۔ کہیں بزرگ کبوتروں کی محفل جمی ہوتی جس میں وہ پنجرے کے حالات اور امن و امان پر باتیں کرتے۔ کہیں غلطی سے انڈے ٹوٹنے پر ماتم ہو رہا ہوتا۔ غرض پنجرہ انسانوں کا مچھلی بازار بنا ہوتا ۔ شام کو ایک موٹا تازہ لڑکا آتا۔ وہ میلے اور پیوند لگے کپڑے پہنے رہتا تھا ۔ وہ لڑکا پنجرے کا دروازہ کھول کر پہلے تو دانہ ڈالتا پھر دو چار موٹے موٹے کبوتروں کو پکڑکرلے جاتا۔ جو کبوتر پنجرے سے جاتے وہ واپس نہ آتے تھے۔ پتا نہیں ان کے ساتھ کیا ہوتا تھا! لڑکا دوبارہ آتا اور دروازہ کھول کر ایک جگہ کھڑا ہو جاتا۔ سب کبوتر باہر نکل کر ادھر ادھر پھرنے لگتے۔ سب کبوتروں کے پر یا تو کٹے ہوتے یا بندھے ہوتے تھے۔ یعنی  کہ وہ اڑ سکتے تھے مگر زیادہ دور تک نہیں ۔ پھر یہ علاقہ ریگستانی تھا زیادہ دور جانے کی صورت میں پر کٹے ہونے کی وجہ سے راستے ہی میں کہیں گر جاتے اور بھوک پیاس سے مر جاتے۔ چنانچہ سب کبوتر اوپر ہی سے منڈلا کر واپس آجاتے اور پھر کسے پڑی تھی کہ دانہ پانی اور آرام دہ گھر کو چھوڑ کر مارا مارا پھرے۔

وہ سردیوں کی دوپہر تھی۔ زیادہ تر کبوتر اپنے گھونسلوں میں دبکے پڑے تھے۔ وہ موٹا تازہ لڑکا آیا اور پنجرے کا دروازہ کھول کر ایک کبوتر اندر دھکیل دیا۔ وہ بہت دبلا پتلا سا کبوتر تھا جس کے پر سفید اورسیاہ تھے ۔ اس کے ایک بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ سب کبوتر اس کے پاس جمع ہو گئے اور سب اسے برا بھلا کہنے لگے۔ یہ ہم سب کبوتروں کا طریقہ تھا کہ ہر نئے آنے والے کو کچھ دن تک برداشت نہیں کرتے تھے۔

مجھے خواہ مخواہ برا بھلا کیوں کہہ رہے ہو؟۔ زخمی کبوتر اپنی باریک آواز میں بولا۔
کیا کہا؟ ہم سے زبان لڑاتا ہے ! پنجرے کا جھگڑالو کبوتر آگے بڑھا اور پھر دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔ دادا کبوتر اور ہم لوگ وہاں پہنچے اور دونو ں کو بڑی مشکل سے الگ کیا۔ ہم اس نئے آنے والے کبوتر کو اپنے گھونسلے میں لے آئے اور اسے دانہ پانی دیا۔ کچھ دیر تو وہ خاموش رہا پھر دانہ کھانے لگا۔
تمہارا نام کیا ہے ؟ آخر دادا کبوتر نے اس سے پوچھا۔
مجھے کلو کہتے ہیں ، اس نے جوا ب دیا۔
ٹھیک ہے کلو، تم آرام کرو۔ شام کو بات ہو گی۔ دادا کبوتر یہ کہہ کر اپنے خانے میں چلے گئے۔ کلو کو بڑی مشکل سے پنجرے کے کونے میں جگہ مل سکی۔ مگر دوسرے اب بھی اسے غصے کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔
شام کو پنجرہ کھلنے پر ہم سب باہر آگئے۔ موٹا لڑکا ڈنڈا لئے ایک طرف کھڑا تھا۔ وہ سب کبوتروں کے پر دیکھ رہا تھا۔ جس کے پر اسے بڑھے ہوئے محسوس ہوتے وہ انہیں کا ٹ دیتا کلو ایک طرف افسردہ بیٹھا تھا۔
کیا بات ہے کلو؟ اداس کیوں ہو؟میں نے اس کے قریب جا کر پوچھا۔
مجھے غلامی پسند نہیں ہے۔ میں آزادی چاہتا ہوں۔ وہ بولا۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی پنجرے میں ابا کے بعد یہ دوسرا کبوتر تھا جو ایسی بات کر رہا تھا۔
پاگل مت بنو۔ تم زخمی ہو۔ اگر زخم صحیح ہوگیا تب بھی تمہارے پر تو کٹے ہوئے ہیں، کہاں تک اڑو گے ؟۔ دادا کبوتر نے کہا۔
زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ مر جائوں گا۔ مرنے کے بعد تو میں آزاد ہو ہی جائوں گا۔ کلو کسی فلسفی کی طرح بولا۔
شاباش بیٹا، تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ پتا نہیں کہاں سے ابا اچانک نمو دار ہو گئے تھے۔ کلو کی باتوں نے ان کے آزادی کے جذبے میں گویا نئی روح پھونک دی تھی۔
اللہ کے لئے اب تم کلو کو آزادی کا لیکچر نہ پلانا۔ دادا کبوتر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:  دوسرے قلندر کی آپ بیتی

ابا نے اس بات پر کوئی توجہ نہ کی۔ وہ بولے: میں آج رات تمام کبوتروں کو جمع کر کے ایک کوشش اور کروں گا۔ جو جو غلامی سے نکلنے کی ہامی بھرے گا ہم اس کے ساتھ مل کر کوئی ترکیب سوچیں گے یہ انسان بہت چالاک ہوتا ہے ۔ ہمیں سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔
اچانک ہی کبوتروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ کوئی پنجرے کی طرف بھاگا تو کوئی منڈیر پر چڑھ گیا۔ کبوتروں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ہم نے دیکھا ایک خوں خوار بلا اپنے منہ میں سفید کبوتر دبوچے ہوئے۔ موٹا لڑکا اس کے پیچھے ڈنڈا لے کر بھاگا۔ مگر بلا اس وقت تک بھاگ چکا تھا۔ دیکھ لیا تم نے ؟ یہ ہے غلامی! ابا طنز سے بولے۔ کسی نے ان کی بات کا جواب نہ دیا۔

رات کو ابا نے تمام کبوتروں کو جمع کر کے ایک زور دار تقریر کی۔ انہیں آزادی کے بارے میں بتایا۔ مگر کسی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ کچھ مز ے سے سوتے رہے اور کچھ آہستہ آہستہ ابا کو پاگل بے وقوف اور خبطی کہتے رہے۔ صرف دو کبوتر وں نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ پھر یہ طے ہوا کہ ابا ، اماں، ہم تینوں بھائی ، کلو اور دوسرے دو کبوتر یعنی کل آٹھ کبوتر یہاں سےفرار ہو ں گے۔ ایک کبوتر نے تجویز پیش کی کہ ہمیں مردہ بن جانا چاہئے۔ مگر یہ تجویز نا منظور کر دی گئی۔ کیونکہ مردہ کبوتروں کو بلی کے آگے ڈال دیا جاتا تھا۔ پھر فیصلہ ہوا کہ ہم سب اس وقت تک اپنے اپنے گھونسلوں میں چھپے بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے کٹے ہوئے پر دوبارہ نہ نکل آئیں۔ پنجرے میں کبوتر زیادہ تھے۔ لہٰذا ان کی گنتی نہیں کی جاتی تھی ۔ بس جو ہاتھ میں آتا اس کے پر دیکھے جاتے۔ اگر بڑے ہوتے تو کاٹ دئیے جاتے یا باندھ دئیے جاتے ۔ دو ہفتے تک ہم سب اپنے اپنے گھونسلوں میں چھپے رہے۔ اس دوران دادا کبوتر نے ہماری مدد کی۔

یہ بھی پڑھیں:  اندھا بابا

پھر آزادی کی گھڑی بھی آن پہنچی۔ شام کو موٹا لڑکا آگیا۔ وہ اندر ہاتھ ڈال کر ہر کبوتر کو پکڑتا، اس کے پر دیکھتا اور پھر اسے باہر جانے دیتا۔ ہم سب بھاگنے کے لئے تیار تھے۔ سب سے پہلے ہمارے ابا چلے۔ وہ دوسرے کبوتر کی آڑ میں پنجرے سے نکلنا چاہتے تھے مگر موٹے لڑکے نے دونوں کو پکڑ لیا۔ دوسرے کبوتر کو اس نے جانے دیاکیونکہ اس کے پر کافی چھوٹے تھے۔ لیکن ابا کو پکڑے رہا اور پھر قینچی نکال لی۔ اسی وقت ابا نے اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ لڑکے نے گھبرا کر ابا کو چھوڑ دیا۔ ابا ایک طرف بھاگ کھڑے ہوئے لڑکا ان کے پیچھے بھاگا۔ میدان صاف دیکھ کر ہم سب بھی پنجرے سے نکلے اور اڑ گئے۔

اللہ حافظ آزادی کے دیوانو! میں نے اڑنے سے پہلے دادا کبوتر کی آواز سنی۔ اگلے ہی لمحے ہم آسمان پر تھے۔ ابا بھی ہم سے آن ملے۔ ہم مزے سے فضا میں اڑ رہے تھے خوب قلا بازیاں کھا رہے تھے۔ غوطے لگا رہے تھے۔ واقعی آزادی ک ا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
کلو راستے سے اچھی طرح واقف تھا۔ وہ جلد ہی ہمیں ایک گھنے جنگل میں لے آیا۔ ہمیں بھوک لگ رہی تھی۔ اچانک ہمیں میدان میں باجرہ پڑا نظر آیا۔ ہم ن یچے اترنا چاہتے تھے مگر ابا بولے:

ٹھہرو ! جلدی نہ کرو۔ ہو سکتاہے یہاں جال ہو۔ ہم سب نے نیچے اترنے کا ارادہ ملتوی کر دیا مگر کلو اور دوسرے دو کبوتر نیچے اتر چکے تھے اور اب جال میں پھنسے پھڑ پھڑا رہے تھے۔
ہم سب نے کوشش کی کہ کسی طرح انہیں جال سے نکال لیں مگر بے کار۔ اسی لمحے شکاری جھاڑیوں سے نمودار ہوئے۔ انہوں نے ہم پر اپنی بندوقوں سے گولیاں چلا دیں ۔ ہم فوراً اڑنے لگے۔ اسی وقت ایک فائر ہوا اور ابا اڑتے اڑتے زور سے اچھلے ۔ انہیں گولی لگ چکی تھی۔ کسی نہ کسی طرح وہ ہمارے ساتھ کافی دور تک اڑے آخر کار نیچے آن گرے۔ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے اب ہمارے آنسوبھی انہیں نہیں بچا سکتے تھے۔ وہ مسکرا ر ہے تھے۔ میں نے سنا وہ کہہ رہے تھے :
میری بات یاد رکھنا۔ ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں اور آزاد ہی مریں گے۔ کوشش کرنا کہ جب موت آئے تو ہم آزاد ہی ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھیں بند کر لیں میں نے اوپر دیکھا۔ آزاد فضا ہماری منتظر تھی

کیٹاگری میں : بچے