qutub_minar

قطب مینارکس کی ملکیت ہے ؟، پہلے بھی سوال اٹھ چکے ہیں ؟

EjazNews

قطب مینار کس نے بنایا ، کیوں بنایا ، یہ ملکیت کس کی ہونا چاہئے اس بارے میں 13ویں صدی عیسوی میں مسلمان اور بعض ہندو مفکرین اور مورخین نے کئی تنازعات کھڑے کر دئیے۔ کسی نے اسے مسلمانوں کی مسجد قرار دیا تو کسی نے قطب مینار کو سلطنت غلاماں کی یادگار قرار دیا۔ سب سے اہم نقطہ سر سید احمد خان نے اپنی تصنیف آثار سنادیب میں اٹھایا ۔ انہو ں نے مسلمانوں کی مساجد ، ہندوﺅں کے مندر اور کئی دوسرے حوالوں سے قطب مینار کو پرتھوی راج کی ملکیت قرار دیا۔ اپنے زمانے میں یہ معاملہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ انگریز سرکار کو بھی تشویش لاحق ہو گئی۔ اس سے سالانہ آمدنی کا تخمینہ کروڑوں روپے تھا۔ ابتدائی سالوں میں بھی 2لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ تک افراد اس تاریخی مینار کو دیکھنے کیلئے آتے تھے۔ سیاحوں کیلئے قطب مینار میں بہت کشش تھی۔ مردوں کے ہجوم کے پیش نظر انگریزوں نے ایک دن خواتین کیلئے بھی مخصوص کر دیا۔ 6-7ہزار سے زائد خواتین بھی یومیہ قطب مینار کی تاریخی حیثیت سے لطف اندوز ہو تی تھیں۔

جب قطب مینار کی ملکیت کا معاملہ سنگین تھا اور یہ گورنر جنرل تک پہنچا ، گورنر جنرل نے انتہائی قابل افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائی جس میں مسلمانوں اور ہندوﺅں کے طرز تعمیر ، سر سید کے دلائل ، ہندوﺅں کے نقاط اور ابن بطوطہ تک کے زمانے میں لکھی جانے والی تاریخی کتب کے حوالے سے ایک ایک بات کو گھنگالا۔ بالآخر انگریزوں نے اپنی انکوائری کمیٹی میں قطب مینار کو مسلمانوں کی ملکیت قرار دیااور حکم دیا کہ اس کی طرز تعمیر خالصتاً اسلامی ہے جس کا ہندوﺅں سے کوئی تعلق نہیں یوں یہ معاملہ اپنے انجام کو پہنچا۔ انکوائری رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔

قطب مینار اپنے زمانے سے ہی عظیم الشان تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ آج بھی یہ مقامی اور عالمی سیاحوںکی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی طرز تعمیر ، تعمیر کی وجوہات اور ملکیت کا جائزہ لینے کے پیش نظر انگریزوں نے رستم جی نسروان جی منشی پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائی۔ ممبئی میں تشکیل پانے والی اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ 1911ءمیں گورنر جنرل کو پیش کر دی۔ اس رپورٹ کا انتساب ممبئی کے گورنر جارج سنڈین ہین کلارک George Sydenham Clarke،کئی تمغات کے حامل جارج کلارک ممبئی کے بڑے طاقتور گورنر تھے۔ انہوں نے بھی اپنے ریمارکس میں رستم جی منشی کی رپورٹ کو سراہا۔ 111صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے کل 10باب ہیں ۔ ہر باب میں مینار کی الگ الگ حیثیت کو تاریخ کے سانچے کو پرکھا گیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے دیباچے میں رستم جی منشی لکھتے ہیں ۔

”لگ بھگ 11مہینے پرانی بات ہے مجھے دہلی میں کتب مینار کی حیثیت کا پتہ چلانے کا انتہائی دلچسپ ٹاسک ملا۔ مجھے اس مینار سے پہلے ہی کافی واقفیت تھی، آج بھی اسے قطب الدین ایبک کی تعمیر مانا جاتا ہے۔ یہ سلطنت دہلی کا پہلا ترک سلطان ہے۔ 1193ءمیں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد اس وقت سلطان نے مینار کی تعمیر پر کام شروع کیا۔ دوران تحقیقات کرونالوجی آف انڈیا نامی ایک کتاب کا صفحہ نمبر 184، پر آکر میری نظریں جیسے جم کر رہ گئیں۔ میں خراج تحسین پیش کرتاہوں مس نیبل ڈف اور مسز ڈبلیو آر رکمرز کو ۔ صفحہ نمبر 184پر لکھا ہے 1235ءمیں بمطابق 633ھ ،24رجب المرجب کو 7دسمبر کو خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا یوم وفات تھا۔ صوفی بختیار کارکی کا شمار ملتان کے نامور صوفیاءکرام میں ہوتا ہے۔ ان کا زمانہ نصیر الدین طباچہ کا زمانہ تھا۔ وہ ایک مرتبہ جب دہلی میں قدم رنجہ فرمایا تو بادشاہ التمش نے انہیں شیخ الاسلام کا عہدہ عنایت کرنا چاہا مگر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے یہ دنیاوی نعمت ٹھکرا دی۔ قطب مینار ، دہلی ان کی اسی یاد میں تعمیر کیا گیا۔ مذکورہ کرانولوجی لندن میں 1899ءمیں شائع ہوئی۔ “

یہ بھی پڑھیں:  ہندوستان کامیڈیا اور کشمیر

تاریخ کے مطابق قطب الدین ایبک نے 1193میں دہلی پر اپنا قبضہ قائم کرنا شروع کیا اور وہ بھارت کے حقیقی وائسرائے بن گئے۔ انہوں نے اقتدار سلطان محمود غوری کو سونپ دیا ۔ دہلی کے 34مسلمان بادشاہوں میں قطب الدین ایبک انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ ظہیر الدین بابر کے بعد سے یعنی 1526ءکے بعد سے انڈیا پر مسلمانوں کی حاکمیت قائم ہو ئی۔ سلطنت غلاماں کے بادشاہ التمش کو عظیم ترین حکمران قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اپنی وفات کے وقت 1236ءمیں ان کی حکومت دہلی سے بنگال تک راجپوتانہ سے سندھ تک قائم تھی۔ وہ اس خطے کے بلا شرکت غیرے حکمران تھے۔ ان کی آزادی کو خلیفہ بغداد نے بھی تسلیم کیا۔کچھ عرصہ تاتاریوں کے پہ در پے حملوں نے انہیں کافی نقصان پہنچایا مگر وہ ہمت نہ ہارے اور اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے۔

عمومی طور پر بدھ مت کے ماننے والوں کو عظیم الشان میناروں کا معمار مانا جاتا ہے۔ ان کے جانشین جے مت نے بھی کئی مینار کھڑے کیے۔ انہوں نے بدھ مت کا طرز تعمیر اختیار کیااور اسی انداز میں جیا سٹمبا jaya Stambha تعمیر کیے۔ یہ ان کی شان و شوکت کا مظہرتھے۔ چینی بھی کسی سے کم نہ تھے۔ انہوں نے بھی عظیم الشان میناروں کے ذریعے اپنی عظمت کی نشانیاں قائم کیں اور مسلمان وہ کیونکر کسی سے پچھے رہتے انہوں نے میناروں کی تعمیر میں اپنے تمام پیشہ روﺅں کو مات دے دی ابتدائی زمانوں میں ان کا طرز تعمیر منفرد نوعیت کا تھا۔ تاریخ کے مطابق 3ہزار قبل از مسیح نے دہلی پر Yudisthira نامی قبیلے کی حکومت تھی۔ اس وقت یہاں پر عیسائیت کا نام و نشان نہ تھا۔ یوں دہلی کی تاریخ کم و بیش بیت المقدس جتنی قدیم ہے۔ تاہم اس کی تاریخی حیثیت اتنی پرانی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 11ویں صدی عیسوی میں راجپوتوں نے یہاں تاریخی عمارات کی شکل میں اپنا ورثہ چھوڑا۔ اننگ پالہ نامی راجپوت بھی یہاںحکمران رہا۔ اس کا تعلق طومالہ سلطنت (Tomara Dynasty) سے تھا۔ 1060ءمیں لال قلعہ یعنی ریڈ فورڈ بھی انہی کے جانشینوں نے بنایا۔
ہندوستان مسلمانوں کے دور حکومت میں تاریخی ورثے سے مالا مال ہوا، عظیم الشان عمارات ہندوستان کی عظمت کی گواہ بنیں ۔ میکالے نے اسی لیے ہندوستان کو سیاحوں کیلئے پرکشش قرار دیا۔ قطب مینار تو ان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ بشپ ہربر نے بھی قطب مینار کو اپنی نوعیت کا عظیم الشان مینار قرار دیا تھا یہ سب مسلمانوں کی شان تھے۔

مصنف رستم جی منشی اس کے مختلف پہلوﺅں پر غور کر رہا تھا۔ مینار کی زمین پر چوڑائی 48فٹ 4انچ ڈائیا میٹر ہے۔ یہ قطر 1794ءکی پیمائش کے مطابق ہے اس کی بلندی 242فٹ ماپی گئی۔ دارالحکومت میں لوٹ مار ہو ئی ورنہ شاید اس کی اونچائی 10فٹ زیادہ ہوتی۔ اس کی چار عظیم الشان باالکونیاں الگ ہی منظر پیش کرتی ہیں پہلی بالکونی 90فٹ کی بلندی پر بنائی گئی ہے۔ دوسری 140، تیسری 180اور چوتھی 203فٹ کی بلندی پر ہے۔ انہیں خطاطی کے نمونوں سے سجایا گیا ہے۔ مگر اب اس کی اونچائی (رپورٹ کی تیاری کے وقت238فٹ رہ گئی تھی) جبکہ زمین پر اس کا ڈائیا میٹر بھی سکڑ کر 47فٹ 3انچ رہ گیا تھا جبکہ بالائی حصے کا ڈائیا میٹر 9فٹ تھا۔ آپ اسے 5منزلہ پرکشش مینار بھی کہہ سکتے ہیں۔ 1794ءمیں این سائن بلنٹ نامی ایک سیاح نے اس کی اونچائی 242فٹ 6انچ بتائی تھی ۔ جبکہ 839میں کنگم نے اس کی بلندی 238فٹ بتائی ۔ مختلف منزلوں کے درمیان بھی مختلف فاصلے تھے پہلی منزل 22فٹ 4انچ پر بنائی گئی تھی۔ دوسری 25فٹ 4انچ، تیسری 40فٹ 9انچ دوسری 50فٹ 9انچ پر بنائی گئی تھی۔ 1803ءمیں دہلی میں خوفناک زلزلے کی تباہ کاریوں میں قطب مینار کو بھی نقصان پہنچایا اور اس کا کچھ حصہ گر کر نیست و نابود ہو گیا۔ گورنر جنرل نے فوری طور پر انجینئر میجر رابرٹ کو 17ہزار روپے دئیے۔ 1828ءمیں اس کی مرمت کر دی گئی ملبہ ہٹانے پر 5ہزار روپے الگ خرچ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ ہیرو میجر رابرٹ راجرز

اپنے زمانے میں قطب مینار دنیا کی بلند ترین عمارتوں میںشمار ہو تا تھا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ یہ رائے پتھورا یہ پرتھوی راج کی تعمیر کا ایک حصہ ہے۔ اس کی بیٹی قطب مینار کی بالائی منزلوں سے دریائے جمنا کے نظارے کیا کرتی تھی۔ ایک اور رائے کے مطابق یہ دریائے گنگا کے نظارے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر سوال یہ اٹھا کہ اس کا مالک ہے کون۔ ابہام سرسید احمد ، دہلی کے منصف کی تصنیف ، آثار سنادیب سے پیدا ہوا۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ بعض تحریروں کے مطابق مینار کی ابتدائی تعمیرات ہندوﺅں نے کی۔ ان کے دلائل اس طرح سے تھے۔ مسلمان ہمیشہ کم از کم دو میناروں کی مسجد بناتے ہیں۔ لیکن یہاں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ بھارتی مصنف کے بقول سر سید احمد کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین سو برسوں میں مسلمانوں نے اس طرح کی کئی اور بھی تعمیرات بھی کیں۔ انہوںنے سنگل ٹاور کی عمارات بھی بنائیں۔ 11ویں صدی عیسوی میں غزنی کے مینار بھی اسی نوعیت کے تھے۔ یہ دونوں مینار قطب مینار کی تعمیر سے 180برس قبل تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح 1254ءمیں مسلما ن بادشاہ قطلک خان نے نصیر الدین محمد کے دور میں کوئیل مینار بنایا۔ مسلمانوں کا یہ طرز تعمیر 13ویں صدی عیسوی کے آخر تک جاری رہا۔

سر سید احمد کی دوسری دلیل بھی بے بنیاد تھی۔ جس میں انہوں نے اس کے دروازوں پر بات کی۔ دلیل کے مطابق ہندو ﺅں کی عبادت خواہوں کے دروازے عمومی طور پر شمال کی جانب بنائے جاتے ہیں جبکہ مسلمان اپنی عبادت گاہوں کا رخ مشرق کی جانب رکھتے ہیں۔ سر سید احمد کے اس اعتراض پر کوئیل مینار کی دلیل دی جاسکتی ہے جس کا دروازہ شمال کی جانب ہے۔ عین قطب مینار کی طرح۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ قطب مینار التمش نے بنایا اور کوئیل مینار اس کے بیٹے نصیر الدین کی تعمیر ہے۔ دونوں کا ایک رخ اور سٹائل تو بنتا ہے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ سر سید کی تحقیق کے عین مطابق مسلمان مساجد میں داخلے کے تمام دروازے مشرق کی جانب ہی بنائیں۔ ہاں سلطان التمش کی آخری آرام گاہ کا دروازہ مشرق کی جانب کھلتاہے۔ہم بہاﺅالدین ذکریا اور شاہ رکن الدین عالم کے مزارات کا جائزہ لیں تو ان کے دروازے سر سید کی تحقیق کی نفی کرتے ہیں ۔ تاج محل کی انٹری بھی جنوب سے ہوتی ہے، مشرق سے نہیں۔ سر سید احمد کو بقول انکوائری افسر کوئی غلط فہمی ہوئی۔ کنگم میں جب 50منزلوں کا جائزہ لیا تو 38کے دروازے مشرق کی جانب کھلتے تھے۔ 10مغرب اور صرف 2شمال کی جانب بنائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور انڈیا کی ترقی کا راز

اس دوران حسن نظامی کی تحریر کابھی جائزہ لیا گیا جو قطب الدین ایبک کے زمانے کے معروف مورخ تھے۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب تاج المعصر میں کہیں بھی قطب مینا ر کا تذکرہ نہیں ملتا ۔ قطب الدین ایبک کے قریب ترین ہونے کے باوجود انہوں نے جہاں قطب الدین کی ہر بات کا ذکر کیا وہاں انہوں نے قطب مینار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ قطب الدین ایبک کا اپنے نام سے منسوب مینار سے کوئی تعلق نہیں۔ حسن نظامی نے جامع مسجد کا ذ کر کیا۔ جامع مسجد انہوں نے ہی بنائی۔ تاہم اسی طرح اسی زمانے میں ابن اثر نے کامل التواریخ یا تاریخ کامل کے نام سے فارسی کتاب لکھی۔ غوری اور غزنوی خاندان کی تعمیرات اور کامیابیاں اس میں پڑی جاسکتی ہیں۔ ان میں بھی قطب مینار کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح تاریخ فیروز شاہی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سلطان شمس الدین التمش اور ان کی تعمیرات کا ذکر ملتا ہے۔ فتوحات فیروز شاہی میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ ابن بطوطہ کے نسخوں میں قطب مینار کا کوئی ذکر نہیں۔ یعنی یہ سلطان قطب الدین ایبک کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ ابن بطوطہ نے ہندوستان کو مساجد اور میناروں کا عظیم ترین ملک قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک دہلی اس کی عظمت کی ایک نشانی تھا۔ اسی طرح طبقات نصیری میں بھی ہندوستان کے بادشاہوں کا ذکر ہے۔ لیکن قطب مینار کا ذکر نہیں۔ البتہ انہوں نے قطب الدین ایبک کے زمانے کی دوسری چیزوں کا ذکر کیا ہے۔

سر سید احمد خان نے یہ بھی دلیل دی کہ ہندو اپنی عمارات میں پلیٹ فارم نہیں بناتے جبکہ مسلمان اپنی عبادت خواہوں میں داخلے کے وقت ٹیرف یا پلیٹ فارم بناتے ہیں انہوں نے علاﺅالدین خلجی کے نامکمل مینار کی بھی مثال دی، کنگم نے اسے بھی غلط قراردیا۔ انہوںنے بتایا کہ بدھ مت نے کئی مندروں میں مسلمانوں کی طرح پلیٹ فارم بنائے جیسا کہ قلعہ گوالیار میں دو بڑے مندروں میں پلیٹ فارم موجود ہیں۔ قلعہ چھتار میں بھی ایسا ہی ہے۔ کشمیر میں بھی پلیٹ فارم دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ غزنی کے دونوں مینار بھی سر سید کی دلیل کی نفی کرتے ہیں۔ جہاں کوئی پلیٹ فارم قائم نہیں چنانچہ قطب مینار کو ہندوﺅں کی عمارت قرار دینا ٹھیک نہیں ، تقریباً تمام انگریز مصنفین ، محققین نے قطب مینار کو بادشاہ التمش کی طرز تعمیر کا نادر نمونہ قرار دیا۔

اس کا ہندو راجہ پرتھوی سے کوئی تعلق نہیں جس کے نام پر بھارت میں کئی میزائل بنائے جو منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی ٹھس ہو گئے۔