Middle_East_Dubai

جب سب کچھ صاف نظرآرہا ہو تو پھر آپ اچھے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں

EjazNews

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھتے ہوئے یہ تعلقات پوری عرب دنیا اور مسلمہ امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات وہ پہلی عرب مملکت ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ ابھی تعلقات قائم نہیں ہوئے ہیں لیکن پہلی دفعہ اسرائیلی طیارے سعودی فضائوں سے گزر کر متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں اور یہ اسرائیل سے پہلی پرواز ہے جو متحدہ عرب امارات پہنچی ہے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو حتمی شکل دینے کیلئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داما د جیرڈ کشنر جو بذات خود بھی یہودی ہیں کی سربراہی میں اسرائیلی وفد عرب امارات پہنچا ہے۔

سعودی عرب نے اپنی فضائیں اسرائیل کو کیوں استعمال کرنے دیں اس کا جواب تو ابھی فی الحال ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کشنر نے ضرور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے اور یہ کشنر موجودہ ولی عہد کے کلاس فیلو بھی رہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں ایک دن میں 50ہزار کرونا کیسز سامنے آگئے
coshnar
اسرائیلی وفد کی متحدہ عرب امارات میں جاتے ہوئے جہاز کی خوشگوار موڈ کی تصویر

امن کے نام سے ہونے والا یہ آغاز نا جانے کیا رنگ لائے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہوتا ہے یا پھر فلسطینیوں کوزندہ رہنے کیلئے کوئی ٹکڑا ملتا ہے ۔
عرب نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کے ذریعے سیاحت، صحت، تجارت، توانائی، سکیورٹی اور ہوا بازی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
یہاں پر سب سے اہم نکتہ سکیورٹی کا ہے کیونکہ عرب امارات کی جیسی تیسی فوج ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے ۔

اس معاہدے کے بعد خطے کی سیاست میں خاطر خواہ تبدیلی آنے والی ہے اور یہ سب پر واضح ہو گا کہ کون کہاں پر کھڑا ہے۔
اگر ٹیکنالوجی کے حسا ب سے دیکھا جائے تو اسرائیل اور عرب امارات کا کوئی مقابلہ نہیں ہے شاید قریب ترین کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات کے پاس پیسے ضرور ہیں لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی اس کے پاس نہیں ہے ۔اور شاید اس کو استعمال کرنے والے دماغ بھی نہیں ہیں۔ اس کے لیے وہ خارجیوں پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خوش نصیب طالبہ نے 10کروڑ امریکی ڈالر جیت لئے

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدہ میں ہر صورت اسرائیل کا فائدہ ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد وہ ان تمام عرب ممالک جن کی حیثیت ثانوی ہے ان سے باآسانی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس کے بعد اس خطے میں کیا صورتحال پیدا ہو گی اس کا قیاس کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ بہت سے دماغ اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے ۔ لیکن اتنا میں ضرور کہنا چاہوں گا اچھا گمان ضرور رکھنا چاہئے لیکن جب سب کو کچھ صاف نظر آرہا ہو تو پھر آپ اچھے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں۔